☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
Dunya Magazine

منتخب شاعری

2019-04-28

مرد کون؟

مردبہت بلند ہمت ہوتاہے ۔وہ اپنی ماں ،بہن بیٹی اوربیوی کے روپ میں عورت کے آنسو توصاف کرتاہے لیکن خود کبھی نہیں روتا ۔وہ اپنی بیوی بچوں کے لیے کچھ لاتاہے تواپنی ماں بہن کوکبھی نہیںبھولتا ۔مرد دھوپ میں سایہ،مشکلات میں پاسبان ،ضرورت میں مدددینے والا اوراپنوں کے لیے سب سے لڑنے والا ،آنسو پونچھنے والا غمخوار اوردکھ باٹنے والا ہوتاہے ۔مرد نے کبھی اپنے حصہ کے کام سے ہاتھ نہیں کھینچا ، اس نے اپنوں کو چھت دی ۔ان کے لیے پہاڑوں کو تراشا اورپانی کی تندوتیز موجوں سے لڑتا رہا۔حالات کے تلخ تھپیٹروں کا بھی سامناکیا مگر کبھی بھاگا نہیں اورساتھ چھوڑ ا نہیں ۔

عملی نمونہ
ہم بچے کو ایک زوردار تھپڑ لگاکرکہتے ہیں:تمہیں یاد نہیں ،کتنی بار کہا ہے دوسروں کو مت ماراکرو ۔ زورسے چلا کر کہتے ہیں :چیخامت کرو جھوٹ سے روکنے کے لیے کہتے ہیں جو جھوٹ بولتاہے اس کی زبان کالی ہوجاتی ہے اورخود دروازے پر آنے والے آدھے لوگوں سے جھوٹ بولنے کا کہتے ہیں۔ جو اخلاق ،عادات ،آپ اپنی اولاد میں پیدا کرنا چاہتے ہیں اس کا عملی نمونہ بن کر دکھائیے۔ بچے وہ ہی کریں گے جو آپ کو کرتا دیکھیں گے۔
تابوت میں افراد
بیان کیا جاتا ہے کہ شمر نام کا ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سمر قند کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن کافی عرصہ تک وہ شہرکو فتح کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اس نے اپنے پہرے داروں کے ساتھ شہر کا چکر لگایا۔ اس دوران شہر کا ایک باشندہ نظرآیا اسے پکڑ لیا۔ حیلے بہانے سے اس سے شہر کے حالات معلوم کئے۔ اس آدمی نے بتایا کہ بادشاہ (حاکم شہر) ایک احمق ترین شخص ہے، اسے کھانے پینے سے ہی فرصت نہیں۔ لیکن اس کی شہزادی بہت ذہین ہے، امور حکومت کو وہی بہ حسن و خوبی چلا رہی ہے۔ شمر نے اس کے پاس ایک تحفہ بھیجا اور لکھا میں مال و دولت کے لالچ میں نہیں آیا۔ میرے پاس سونے اور چاندی کے چار ہزار تابوت ہیں وہ میں تمہارے حوالے کر کے چین کی طرف جا رہا ہوں۔ اگر میںکامیاب لوٹا تو تم سے شادی کرلوں گا اور اگر میں واپس نہ آسکا تو مال تمہارا ہو گا۔ اس لڑکی نے منظور کرلیا اورمال بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ شمرنے چار ہزار تابوت لیے، ہر تابوت میں دو سپاہی تھے۔شمرنے ان کے مابین یہ علامت رکھی کہ جب ڈھول بجے تو سب باہر نکل آئیں۔ جب وہ شہر میں داخل ہو گئے تو ڈھول بجایا گیا اور سب باہر نکل آئے انہوں نے شہر کے دروازے سنبھال لیے۔شمران کی قیادت کر رہا تھا۔ اس نے شہر کے باشندوں کو قتل کیا اور مال واسباب لے کر چین چلا گیا۔ سبق: محنت کے بغیر دولت حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والے لوگ خسارے میں رہتے ہیں۔
مختصرپراثر

کہتے ہیں عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا حقیقت میں کوئی گھر ایسانہیں جو عورت کے بغیر جنت بن جائے وہ عورت ہی ہے جو کسی گھر کو مکان سے جنت میں بدل سکتی ہے ۔

عورتیں اپنا فیصلہ خود نہیں کرسکتیں ۔عورت اپنے پسند کا ماحول خود نہیں بنا سکتیں ۔عورت خود کو بے گناہ بھی ثابت نہیں کرسکتی۔ اسے تمام فیصلے اللہ تعالیٰ پر چھوڑنے پڑتے ہیں۔

تم مرد ہومگر عورت صرف ایک سائبان ایک شوہر رکھ سکتی ہے۔ اسے نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں ۔

جن کے دل نرم ہوتے ہیں زندگی ان کے ساتھ اتناہی سختی سے پیش آتی ہے ۔ رشتے دل سے بنتے ہیں ،باتوں سے نہیں ،کچھ لوگ ہزاروں باتوں کے بعد بھی اپنے نہیں ہوتے اورکچھ خاموشی سے اپنے ہوجاتے ہیں کبھی کسی سے بدلا لینے کا سوچنا بھی مت۔

اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہئے جنہوں نے آپ کے لیے کنواں کھودا وہ خود اس کنویں میں گر یں گے اور اگر وقت نے آپ سے وفاکی تو آپ ان لوگوں کو کنویں میں گرتا بھی دیکھیں گے۔

وہ ایسی ہی تو تھی ۔۔۔
وہ ایسی ہی تو تھی ایک وقت میں بہت کچھ ۔سب کا خیال رکھنے والی بھی اور لاپرواہ بھی۔ سیانی بھی اور بے وقوف بھی ۔کبھی چھوٹی سی بات پر آنکھیں بھر لاتی اورکبھی کسی نقصان پر محض کندھے اچکا دیتی ۔کبھی کبھی بے حد خوش کبھی بے وجہ اداس ۔ کبھی کسی اجنبی کی مدد کو تیار تو کبھی اپنوں سے بھی بیزار۔جب کوئی پوچھتا کہ تم حقیقت میں کیا ہو؟ تو دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پر آکر رک جاتی اوربہت پرسکون سا جواب ملتا۔میں خود کو بہت زیادہ نہیں جانتی ،اورپوچھنے والا مزید الجھ جاتا۔
نایاب محبت
عورت مرد کی محبت کا معیار اس کی غیرت کو بناتی ہے دولت کو نہیں۔ وہ اس میں اپنا محافظ ڈھونڈتی ہے جبکہ اصل مرد، عورت کی محبت کو اسکی حیاء اورسیرت کی کسوٹی پر پرکھتاہے ۔صرف خوبصورتی اس کے لیے کافی نہیں ہوتی، وہ اس عورت میں اپنی آنے والی اولاد اپنی بیٹیوں کا عکس دیکھتاہے اور ایسی عورت کو پانے کی خاطر وہ اپنی انا اپنی دولت ،سب داؤپر لگانے پر تیار ہوجاتاہے۔مگر ایسے لوگ اتنی آسانی سے تو نہیں مل جاتے نا، ان کو کھوجنا پڑتاہے ،خود کو ان کے قابل بنانا پڑتاہے۔
مکافات عمل

ایک شخص نے پچاس سال قبل اونٹ والے قافلے کے ہمراہ اپنے والد کیساتھ حج کیا ۔جب وہ عفیف کے علاقے سے گزرے تو والد کو واش روم جانے کی ضرورت محسوس ہوئی۔والدنے باپ کو اونٹ سے اتارا ۔ اسے اپنے ساتھ لے گیا تاہم باپ نے بیٹے سے کہاکہ’’ تم قافلے کے ہمراہ آگے بڑھو میں آجاؤں گا‘‘۔قافلہ تھوڑی دیر میں بہت دورنکل چکاتھا ۔والد کو قریب نہ پاکر بیٹے کو پریشانی ہوئی۔ واپس پلٹا۔باپ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور قافلے کی سمت دوڑنے لگا ۔بیٹے کا بیان ہے اس دوران اس کے چہرے پر آنسو گرنا شروع ہوئے ۔اس نے باپ سے کہا ’’ اللہ کی قسم! آپ تو میرے لیے ایک ریشہ سے بھی ہلکے ہیں‘‘۔ باپ نے کہا ،’’میں اس لیے بھی روتاہوں کہ اس جگہ میں نے اپنے والد کو کندھوں پر اٹھایا تھا‘‘۔

بانوقدسیہ نے کہا
میں نے اشفاق احمد صاحب کو کہا : مجھے نہیں رہنا آپ کیساتھ، آپ غصہ ہوتے ہو۔بس میں چلی جاؤںگی ۔وہ بیٹھے مسکراتے رہے ۔میں نے کچھ اورسنائیں ،وہ پھر سے مسکرانے لگے۔میں سناتی رہی وہ مسکراتے رہے ۔وہ ہربات پر مجھ سے پیارسے کہتے : ’’جب دل کرے، غصہ کرلیاکرو ۔آپ نے غصہ مجھ پر ہی نکالنا ہے ،کسی اور پر تھوڑی نکالیں گی ‘‘۔تب میں ان مردوں کا سوچنے لگی جو چھوٹی چھوٹی سی بات پر عورت کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کی زندگی خراب ہوجاتی ہے ۔دراصل ان لوگوں کو اپنی بیوی سے پیار نہیں ہوتا ورنہ شوہر ایک دفعہ پیارکرے تو وہ تذلیل کرا کربھی اپنے عہد پر قائم رہتاہے ۔میں خوش نصیب ہوں ،اور میں ایسی ہی عورتوں میں سے ایک ہوں ۔
دونصیحتیں
کچھ لوگ محبت کے اہل نہیں ہوتے ۔انہیں اپنی ذہانت پر اس قدرمان ہوتاہے کہ وہ دوسروں میں کیڑے نکال کر ، کسی اور کا قد چھوٹا کرکے ،کسی دوسرے کی خوبیوں میں خرابی کا پہلو نکال کر اپنی عظمت کی کلا جگاتے ہیں ۔ اکثر اوقات سچ کڑوا نہیں ہوتا ،سچ بولنے کا انداز کڑوا ہوتاہے۔ہم سچ بولنے کیساتھ ساتھ دراصل دوسرے کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں اورتوقع رکھتے ہیں کہ ہماری ذلیل کرنے کی حرکت کو صرف سچ ہی سمجھا جائے۔
پھنے خاں
آپ داماد بنتے ہیں تو پلیز داماد ہی رہئے۔ پھنے خاں نہ بنئے ۔سسرال کے لیے مستقل دردسرنہ بنئے ،کہ اُگلا جائے نہ نگلاجائے ۔آج کسی کو اتنا ہی تنگ کیجئے جتنا کل خود تنگ ہونا برداشت کر سکو ۔آج تم کسی کی سسکیاں نکال رہے ہو تو،یادرکھنا، کل کوئی تمہاری بھی چیخیں نکلواسکتاہے ۔ماہ وسال گزرتے دیر نہیں لگتی اوراگر تمہیں بھی تم جیسا داماد مل گیا توپھر کیا ہوگا؟
کہا میرے بابا نے
میرے بابا جان کہتے ہیں ،کبھی کسی کو بددعا مت دینا ۔ اگر کوئی بہت زیادہ دل دکھائے تو اللہ تعالیٰ سے صبر مانگ لینا ۔اگر کسی کو تم نے بددعا دی اوراس کے ساتھ تمہاری بددعا کی وجہ سے بہت برا ہوا تو کیا کبھی تم خود کو معاف کرپاؤ گے ؟ اپنی نظر میں گرنا کسی پہاڑ سے گرنے سے بھی بد تر ہوتاہے ۔
چھوڑنے کا ڈر
یہ جو تم ڈرتے ہو کہ وہ تمہیںچھوڑدے گا۔اس خوف سے نکل آئو۔فرض کرو کہ اس نے چھوڑ دیا ہے۔اب نقصان کس کا ہوا ؟اس نے ایک آپ جیسا انسان کھو دیا جو اس کے لیے اپنی جان بھی دے سکتاہے۔ توپھر اس کو چھوڑنے دو۔دیکھتے ہیں کہ تم جیسا کہاں سے ملے گا ۔دربدر بھٹکے گا۔ دن رات تڑپے گا۔ اس لیے چھوڑنے کا ڈر چھوڑ کر اُسے بھی آزما کر دیکھو۔
مجھے نفرت ہے!

مجھے نفرت ہے ،اپنے حساس ہونے سے ۔مجھے نفرت ہے لوگ مجھ سے باتیں کریں یہاں تک کہ مجھے ان کی عادت ہو جائے اور پھر وہ مجھے چھوڑ دیں۔

مجھے نفرت ہے کہ میں کسی کے بارے میں زیادہ سوچوں یہاں تک کہ پورا دن اس کی یاد میں گزر جائے۔

مجھے نفرت ہے اس احساس سے کہ کوئی مجھے اپنا کر مجھے نظر انداز کررہاہے ۔یہ انسان کی فطرت ہے کہ اسے کوئی بھی چیز مکمل مل جائے تو وہ اُکتانے لگتاہے ۔

بڑے لوگ بڑے قول

کامیابی کوئی حادثہ نہیں ہوتی ۔کامیابی محنت، مستقل مزاجی ،سیکھنے ،پڑھنے ،قربانی اور سب سے بڑھ کہ جو کام تم کررہے ہو اس سے پیار کرنے کا نام ہے ۔(بل گیٹس)

رسک لویا موقع گنوادو(آئن سٹائن)

نیکیاں کرتے جاؤ، دریا میں ڈالتے جاؤ۔جب کبھی زندگی میں کوئی طوفان آیا تو یہ ہی نیکیاں کشتی بن جائیں گی ۔(اشفاق احمد) کسی اور کی طرح بننے سے بہتر ہے کہ تم اپنی ایک پہچان بناؤ(سٹیوجابز)

ہرچیز مزاحیہ ہی دکھائی دیتی ہے جب تک وہ کسی دوسرے کے ساتھ ہورہی ہو(وِل راجرز)

ٹیچر
ایک انتہائی دبلی پتلی لڑکی کا تقرر بطورٹیچر ایک سکول میں ہوا۔۔ ایک دن اس نے بچوں سے پوچھاکہ زمین کیوں گھومتی ہے؟ شاگرد:مس جی، ناشتہ واشتہ کر کے آیاکریں،نہیں توزمین ایسے ہی گھومتی محسوس ہوگی۔
دل کو چھونے والی !

ایک چھوٹے سے بچے نے اپنی ماں سے معصومیت سے پوچھا:ماں!میں اتنا بڑا کب ہوجاؤں گاکہ آپ کو بنابتائے کہیں بھی جاسکوں؟

ماں نے دل کو چھولینے والا جواب دیا: بیٹا اتنابڑا تو تیرا ابا بھی نہیں ہوا۔

طوطا

ایک آدمی کی کارسے طوطا ٹکراکر بے ہوش ہوکرگرگیا۔ آدمی نے اسے اٹھایا اوراپنے گھر لے جا کر پنجرے میں بند کردیا۔اسے کھانابھی دیا۔۔۔

طوطا جب ہوش میں آیا توبولا:ہائے اللہ جیل ۔۔۔ لگتاہے کاروالا مرگیاہوگا۔۔

روزہ
ایک ہندو اورعیسائی صحرا میں بھٹک گئے ۔ دورایک مسجد نظر آئی ۔ ہندوبولا:دیکھو وہ مسجد ہے ، اگر ہم خود کو مسلمان ظاہر کریں گے تو وہاں سے ہمیں کھانے کو کچھ مل سکتاہے۔ میں اپنا نام احمد بتاؤں گا۔ مگر عیسائی نے خود کو مسلمان ظاہر کرنے سے انکارکردیا ۔ مسجد کے امام نے دونوں کاخوش دلی سے استقبال کیا اورنام پوچھا۔ ہندو: میرانام احمدہے۔ عیسائی : میرانام مائیکل ہے ۔ امام صاحب نے ایک شخص کو بلایا اورکہا : مائیکل کے لیے کچھ کھانے کو لاؤ۔پھر ہندو کی طرف مخاطب ہوئے اورکہا: اورسنائیں احمد صاحب!روزے کیسے گزر رہے ہیں۔۔۔۔
احمد راہی

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا

کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں

غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا

چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن

آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا

راگ میں آگ دبی ہے غمِ محرومی کی

راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا

زندگی چل کہ ذرا موت کے دم خم دیکھیں

ورنہ یہ جذبہ لحد تک ہمیں لے جائے گا

شکیب جلالی

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے

برا نہ مانئے لوگوں کی عیب جوئی کا

انھیں تو دن کو بھی سایا دکھائی دیتا ہے

یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے

تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ

ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے

آفتاب احمد شاہ

نعت رسول مقبولﷺ

 

کرم کیجے ذرا سا، یامحمدﷺ

کوئی دیجے دلاسا، یامحمدﷺ

میں خالی ہاتھ ہوں، در پر کھڑا ہوں

کوئی زنبیل کاسہ، یامحمدﷺ

مجھے رستہ دکھائیں راستی کا

نہیں ہوں میں شناسا، یامحمدﷺ

تمہاری آل کا ہوں نام لیوا

یہی میرا اثاثہ، یامحمدﷺ

ہمیشہ کے لیے در پر بلا لیں

تمنا کا خلاصہ ،یامحمدﷺ

الحاج محمد یوسف اسماعیل

حمد باری تعالیٰ

توخالق کل ارض وسماں جن بشر ہے

ہر شے کو فنا صرف تیری ذات امر ہے

یہ عزت وصحت،یہ عطارزق مسلسل

لگتاہے کہ بس میری طرف تیری نظرہے

جس پر کیے اکرام چلاراہ انہی کی

منزل کاپتاہے نہ کوئی ز اد سفر ہے

تجھ میں تیرے محبوب میں ہے بات مساوی

دونوں کو پس حشر زمانے کی خبر ہے

جُذ مومن ُ وصابر وحقائق کے پیمبر

ولعصر یقیناً ہی خسارے میں بشر ہے

توکھینچ کے سورج کو اندھیروں سے نکالے

چمکائے جو جگنو کا بدن تیراہنر ہے

قرآن میں آذرؔکے بھتیجے کی دعا ہے

ویران ابھی تک میرے آنگن کاشجر ہے

جس حال میں یوسف ؔکورکھے شکرہے تیرا

بخشا ہواہر لمحہ تیرالعل وگوہر ہے

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

14جولائی 1926کو ارونگ آباد میں جنم لینے والے حمایت علی شاعر نے اردو شاعری میں بہت نام کمایا۔انہوںنے فلموں کیلئے گیت بھی لکھے اور خود بھی ریڈیو پر ڈراموں میں کردار اداکئے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہجرت کی اور جام شورو کو اپنا مسکن بنایا اور اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔1956میں منظر عام پر آنے والے شاعری کے پہلے مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘نے مقبولیت حاصل کی اور اسی مجموعے پر 1958میں صدارتی ایوارڈ مل بھی گیا۔ ان کا گیت ۔۔۔’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن ‘‘1965کی جنگ کی طرح آج بھی روح کو گرماتا ہے۔فلمی گیت ’’نہ چھڑ اسکو گے دامن ‘‘نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ گزشتہ برس 16جولائی کو ہم سے جدا ہونے والے حمایت علی شاعر کے کریڈٹ میں ’’مٹی کا قرض‘‘ ، تشنگی کا سفر اور ’’ہارون کی آواز‘‘ بھی شامل ہیں۔ ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور آپؐ کی امت کا ایک فرد ہوں میں حضور آپﷺ کی امت کا ایک فرد ہوں میں مگر خود اپنی نگاہوں میں آج گرد ہوں میں میں کس زباں سے کروں ذکر اسوہ حسنہﷺ کہ اہل درک و بصیرت ،نہ اہل درد ہوں میں بزعم خود تو بہت منزل آشنا ہوں میں مگر جو راستے میں ہی اڑتی پھر ے وہ گرد ہوں میں عجیب ذوق سفر ہے کہ صورت پرکار جو اپنے گرد ہی گھومے وہ رہ نورد ہوں میں میں اپنی ذات میں ہوں اپنی قوم کی تصویر کہ بے عمل ہی نہیں ،جہل میں بھی فرد ہوں میں ٭٭٭ جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوحؑ نہیں ہے آیا ہوا طوفان خدا جانے کدھر جائے ایک شہر خدا سینے میں آباد ہے لیکن اے دوست جہاں تک بھی تری راہ گزر جائے میں کچھ نہ کہوں گا اور یہ چاہوں گا کہ مری بات خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے ٭٭٭ جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے  

مزید پڑھیں

ورکر باس سے ، ’’میں دو منٹ میں آیا‘‘،’’بس آخری بار معاف کر دیں‘‘،’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی ‘‘،’’آج ٹریفک بہت تھی‘‘۔ لڑکا منگیتر سے ،’’مجھے تمہاری بہت فکر ہے‘‘، ’’تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو‘‘،’’ہماری شادی ضرور ہوگی‘‘ ،’’ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی،تم نہ ملیں تو کنوارہ رہ جائوں گا‘‘۔ شوہر بیگم سے ’’ میرا فون سائلنٹ پر تھا ،امی کی کال آئی ہوئی تھی‘‘ ۔’’نیا باس آیا ہوا ہے بہت سخت ہے‘‘۔  

مزید پڑھیں

لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں،یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، یہ مکمل محبت کرتی ہیں ادھوری نہیں، ان کے ہاں دوسری محبت کا تصور نہیں ہوتا، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔  

مزید پڑھیں