☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب

منتخب شاعری

2019-05-12

حکایت شیخ سعدیؒ

ابو ادریس خولانی نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد بن ادریس شافعی ؒ کو ارشاد فرماتے سنا کہ کوئی موٹا شخص دنیا میںکامیاب نہیں ،ماسوائے محمد بن حسن کے۔ عرض کی گئی کیوں؟ فرمایا عقلمند دو خصلتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو اسے آخرت اور انجام کی فکر ہوتی ہے یا دنیا اور اپنی معیشت کا غم۔ غم کی حالت میں چربی جمع نہیں ہو سکتی۔

پھر فرمایا زمانہ قدیم میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کا جسم بہت ہی بھاری بھرکم تھا۔ موٹاپے کی وجہ سے بے چارہ حرکت کرنے سے قاصر تھا۔ اس نے حکماء کو جمع کیا اور کہا کوئی ایسا حیلہ کرو کہ میرا جسم تھوڑا پتلا ہو جائے۔ لیکن کوئی علاج کارگر نہ ہوا۔ اس دوران اس کے دربار میں ایک حاذق طبیب کو لایا گیا اس کے فن کا شہرہ دور دور تک تھا۔ اس نے بادشاہ کے جسم کا معائنہ کیا بادشاہ نے اسے وافر انعام و اکرام کا لالچ دیا۔ وہ طبیب کہنے لگا آپ کا اقبال سلامت رہے۔ میں حکمت و طب کے ساتھ ساتھ علم نجوم سے بھی واقفیت رکھتا ہوں آپ مجھے ایک رات کی مہلت دیں، میں آپ کی قسمت کا مشاہدہ کروں گا اور دیکھوں گا کہ کون سی دوا آپ کو موافق رہے گی۔

اگلے دن وہ بادشاہ کے پاس آیا اور دہائی دینے لگا امان! امان! بادشاہ سلامت نے کہا تمہیں امان ہے (تمہیںکچھ نہیں کہا جائے گا)۔ جان بخشی کے وعدہ پر اس حکیم نے بادشاہ سے گزارش کی کہ میںنے آپ کے زائچہ میں غوروفکر کیا تو پتہ چلا کہ آپ کی مبارک زندگی میں صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔ اگر آپ پسند فرمائیں تو کل میںآپ کا علاج کروں گا۔ اگرآپ کومیری بات پر اعتبار نہیںتو مجھے اپنے پاس روک لیجئے۔ اگرمیری بات سچی ہوئی تو مجھے رہا کر دیا جائے وگرنہ مجھ سے قصاص لیا جائے۔ بادشاہ نے اس کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ دوسری طرف خود بادشاہ ہر قسم کی عیش و عشرت چھوڑ چھاڑ کر گوشہ نشین ہو گیا۔ جوں جوں ایک ایک دن گزر رہا تھا اس کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ وہ بہت لاغر ہو گیا۔ اس کا گوشت کم ہو گیا۔ جب اٹھائیس دن گزرگئے تو اسے اپنے سامنے حاضر کرنے کا حکم دیا اور پوچھا اب بتائو میرا ستارہ کیا کہتا ہے؟ اس نے کہا میرے پاس غم کے سوا آپ کی بیماری کا کوئی علاج نہ تھا۔ میںاس بہانے کے سوا اور کسی طرح بھی آپ کو غمگین نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میںنے یہ عذر تراشا۔ اس طرح آپ کی فالتو چربی ختم ہو گئی۔ بادشاہ نے خوش ہو کر اسے انعام و اکرام سے نوازا۔

ایک خوبصورت واقعہ

ایک غلام تھا ،ایک دن وہ کام پر نہ گیا تو ا سکے مالک نے سوچا کہ مجھے اس کی تنخواہ میں کچھ اضافہ کردینا چاہئے تاکہ وہ اوردلجمعی سے کام کرے اور آئندہ غائب نہ ہو۔اگلے دن مالک نے اس کی تنخواہ سے زیادہ پیسے اسے دیے جو اس نے خاموشی سے رکھ لیے ، لیکن کچھ دنوں بعد وہ دوبارہ غیر حاضر ہوا تو اس کے مالک نے غصے میں آکر اس کی تنخواہ میں کیا گیا اضافہ ختم کردیا ۔ اس کو پہلے والی تنخواہ ہی دی ۔غلام نے اب بھی خاموشی اختیارکی ۔مالک نے کہا جب میں نے اضافہ کیا توتم خاموش رہے اوراب جب کمی کی تو پھر بھی خاموش ہوکیوں؟

غلام نے جواب دیا:جب میں پہلے دن غیر حاضر تھا تواس کی وجہ بچے کی پیدائش تھی اورآپ کی طرف سے تنخواہ میں اضافے کو میں وہ رزق خیال کیا جو وہ اپنے ساتھ لے کر آیا ،جب میں دوسری مرتبہ غیر حاضر تھا تواس کی وجہ میری ماں کی وفات تھی اور آپ کی طرف سے تنخواہ میں کمی کو میں نے وہ رزق خیال کیا جو ماں اپنے ساتھ واپس لے گئی ۔ پھر میں اس رزق کی خاطر کیوں پریشان ہوں جس کا ذمہ خود اللہ نے اٹھایا ہوا ہے !

حکمران ہنسا موسیٰ کی دولت
ہنسا موسیٰ سلطنت مالی کا مشہور اورنیک حکمران رہاہے ۔1312ء سے 1337ء تک حکمرانی کی، آپ کو یہ بات جان کر حیرانگی ہوگی کہ ہنسا موسیٰ دنیا کی تاریخ کا سب سے امیر آدمی تھا جس کی مالیت کے اثاثے تقریبا700سال پہلے 400بلین ڈالر یعنی 56000ارب روپے تھے ۔ ہنسا موسیٰ کو دنیا بھر میںسفر حج کے بعد شہرت تب ملی ۔ یہ سفر دنیا کی تاریخ کا اس قدر حیرت انگیز سفر تھا کہ جو آج تک کسی نے نہ کیا ہو۔ہنسا موسیٰ نے دوران سفراللہ کی راہ میں اس قدر سونا خرچ کیا کہ مصر میں کئی سال تک سونے کی قیمتیں گری رہیں۔وہ مالی سے مکہ معظمہ تک سونا ہی سونالوٹاتاچلاگیا۔ لیکن افسوس آج ہم بل گیٹس کی مثالیں دے دے کر نہیں تھکتے جس کے اثاثے صرف 67بلین ڈالر ہیں اورایک نیک نامی حکمران کی دریادلی تاریخ کے اوراق میں دب گئی۔
فیصلہ ہمارے اختیار میں

فرض کیجئے، آپ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے کھڑے ہیں اورکوئی آپ کو دھکا دے دیتاہے ، توکیا ہوتاہے، آپ کے کپ سے چائے چھلک جاتی ہے۔ اگرآپ سے پوچھاجائے کہ آپ کے کپ سے چائے کیوں چھلکی توآپ کا جواب ہوگا کیونکہ فلاں نے مجھے دھکا دیا۔ غلط جواب۔ درست جواب یہ ہے کہ آپ کے کپ میں چائے تھی اس لیے چھلکی ۔آپ کے کپ سے وہی چھلکے گا جو اس میں ہے۔اسی طرح جب زندگی میں ہمیں دھکے لگتے ہیں لوگوں کے رویوں سے تو اس وقت ہماری اصلیت ہی چھلکتی ہے۔ آپ کا اصل اس وقت تک سامنے نہیں آتا جب تک آپ کو دھکانہ لگے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب آپ کو دھکا لگاتو کیا چھلکا؛ صبر، خاموشی،شکرگزاری،رواداری،سکون ،انسانیت، وقار یا غصہ ،کڑواہٹ،جنون، حسد،نفرت یا حقارت میں سے کسی بات کو چن لیجئے کہ ہمیں اپنے کردار کو کس چیز سے بھرناہے۔ فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے ۔

سورج کو گالی کی سزا موت!

انڈیا:حنومان شری کرشنا کو گالی کی سزا صرف

موت نیپال:سورج کو گالی کی سزا صرف موت

یورپ:کرسچن مذہب کی بے حرمتی کی سزا صرف موت

اسرائیل:یہودی مذہب کی بے حرمتی کی سزا صرف موت

پاکستان :نبی آخر الزمان ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو۔۔۔۔ مغرب کہے غلط قانون ہے ۔موت کی سزا نہیں ہونی چاہئے۔ اب بتائیں پاکستان کا مطلب کیا؟

ایک رات

ایک رات میں اپنے کمرے میں سورہاتھا کہ آہٹ سے میری آنکھ کھل گئی ۔سامنے موت کا فرشتہ کھڑا تھا میں نے گھبراکے پوچھا کہ یہاں کیسے۔؟

مالک الموت نے کہا کہ تیری ماں کو لینے آیاہوں۔میں اک دم گھبراگیا ۔دل ڈوبا ،آنکھ نم ہوگئی ۔ میں نے کہا ایک سوداکرتے ہیں، مجھے لے جاؤ میری ماں کی زندگی بخش دو۔

اس پر مالک الموت مسکرایااورکہا کہ لینے تو تجھے ہی آیا تھا پر تجھ سے پہلے تیری ماں نے سودا کرلیاہے۔

ہزار کا نوٹ

کل ایک سگنل پر ہٹے کٹے فقیر نے ہاتھ پھیلایا ۔میں نے جیب ٹٹولی ،اتفاق سے صرف ایک نوٹ تھا،ہزار روپے کا ۔میں نے وہی نوٹ دے دیا۔کیونکہ باباجان کہتے تھے ،ــکبھی کسی فقیر کو خالی ہاتھ مت لوٹانا۔

جب میں کہتا،بعض ہٹے کٹے بھکاری حق دار نہیں ہوتے ۔توباباجان حضرت علی ؓ کا قول سناتے کہ خدانے ہمیں بھی اتنا کچھ عطاکیاہے ۔جس کے ہم حقدار نہیں۔اگلے دن مجھے دوبارہ اسی سگنل پر رکناپڑا۔میں نے دیکھا ،ایک دن پہلے کا بھکاری ،سرپر ٹوکری رکھے،تازہ ناریل بیچ رہاتھا۔

ہروقت ہرجگہ

ہمارے بابا جی کہتے ہیں کہ بندے کے خلاف کیا گیا گناہ بہت بڑا اورسخت ہوتاہے۔ اگر آپ کسی انسان کو تکلیف پہنچاتے ہیں ، اور اس کی ناخوشی کا موجب بنتے ہیں پھر جب کبھی آپ کو ہوش آتاہے اورآپ معافی مانگنے کے موڈ میںہوتے ہیں تو اس آدمی کا کوئی سراغ ہی نہیں ملتا کہ کدھر سے آیا تھا اور کدھر گیا ۔لیکن اگرآپ خدا کا کوئی قصورکرتے ہیں کوئی اللہ کا گنا آپ سے سرزد ہوتاہے تواللہ سے بڑی آسانی سے معافی مانگ لیتے ہیں کہ وہ ہر وقت موجود ہے اور ہر جگہ موجود ہے۔(اشفاق احمد)

بڑے لوگ بڑی باتیں

جہاں لوگ ڈاکٹر کو زیادہ محترم مانیں وہ بیمار ذہنیت کے ہیں۔جہاں لوگ پہلوانوں کو زیادہ محترم مانیں وہ شدت پسند ہیں،اورجہاں کے لوگ سب سے زیادہ استاد کو محترم مانیں وہی حقیقی تہذیب یافتہ ہیں(افلاطون)

جن لوگوں نے مشکلات کا بیان لوگوں کے سامنے کیا دراصل انہوں نے اپنی مشکلات میں اضافہ کیا۔(واصف علی واصف) صرف دوچیزیں ایسی ہیں جن کی وسعت کاکوئی اندازہ نہیں۔۔۔ایک کائنات اوردوسری انسان کی حماقت۔ (آئن سٹائن)

وہ سانپ جو اپنی قینچلی بدلنے سے قاصر ہو مرجاتاہے ۔ اسی طرح وہ دماغ جن کو اپنی رائے بدلنے سے روک دیاگیا ہو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔(فریڈرک نطثے)

پنجرے میں پیداہونے والے پرندوں کو لگتاہے کہ اُڑنا ایک بیماری ہے(ایلی جوڈاروجوڈوروسکی)

دوسے شروع ایک پر ختم!

بابا جی کہنے لگے ،ایک کام کرو۔میں نے پوچھا : وہ کیا؟

کہنے لگے : جہاں تمہاری جیت اٹل ہو وہاں ہارجا۔

میں نے حیرانی سے پوچھا : بابا جی اس سے کیاہوگا ؟

باباجی بولے؟اس سے تمہارے اندر عشق کا پودا اگ آئے گا پھر اس کے سائے میں بیٹھ کر گنتی یاد کرنا۔جب تم ساری گنتی یاد کرلو گے تو تمہیں بابے کی باتوں کی ہی نہیں ساری کائنات کی سمجھ آجائے گی۔

میں نے کہا: باباجی یہ عشق کی گنتی کیا ہوتی ہے ؟

بابا جی مسکرائے اور کہا: بہت آسان ہے ، یہ دوسے شروع ہوتی ہے اورایک پر ختم ہوتی ہے۔

پہلی محبت

محبت ہمیشہ پہلی ہوتی ہے اوراگر کوئی کہے کہ اسے دوسری دفعہ محبت ہوئی تو ہوسکتاہے اسے پہلی دفعہ محبت ہوئی ہی نہ ہو ۔ انسان کے دورے دل پر ایک بارجو نام نقش ہوتاہے وہ تا عمر رہتاہے۔ ہم پہلی محبت کو بھلانے کے لیے بہت ساری محبتیں کرتے ہیں لیکن پہلی محبت کہیں نہ کہیں ہمارے دل میں موجود ہوتی ہے ۔دل کے کسی کونے میں پنپتی رہتی ہے ۔ ہاں بس ایک فرق آجاتاہے کہ ہمیں پانے کی چاہ نہیں رہتی نہ ہی اسے کھونے کا ڈر۔۔۔ ہم حاصل اورلاحاصل سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔۔۔!

دو ناول

عام ناول:لڑکے نے لڑکی کا ہاتھ پکڑا اور دونوں ہنسی خوشی اپنی منزل کی جانب چل دیئے ۔

عمیرہ احمد کے ناول : لڑکے نے وضو میں دھوئے ہوئے ہاتھوں سے ماہ مبارک میں چھٹکتی چاندنی جیسی دودھیا رنگت کی حامل لڑکی کا سیاہ دستانوں میں ملبوس گورا اجلا ہاتھ تھاما ،اور دونوں بآواز بلند نیکی کی تلقین کرتے ہوئے ننگے پیر ساحل سمندر کی پاک ریت پر دھیمے قدموں سے چلنے لگے ۔

انسان کے دو رخ

ہر شخص کو ایک زندگی اپنے لیے اورایک دوسروں کے لیے بسر کرناہوتی ہے ،آنسو بھی دوقسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ آنسو جو زبردستی آنکھوں سے نکالنے پڑتے ہیں ،اورایک وہ جو خودبخود نکلتے ہیں ۔ قہقہے بھی دو قسم کے ،ایک قہقہہ وہ ہے جو تنہائی ہی میں بلند کیا جاسکتاہے دوسرا وہ ہے جو خاص آداب اورخاص اصولوں کے ماتحت حلق سے بلند کرناپڑتاہے۔ (سعادت حسن منٹو)

11افراد نے ارب پتی بنا دیا!

میری بڑی کامیابی کے پیچھے کوئی بڑا راز نہیں بہت سادہ ہے۔ میں نے اپنا منصوبہ 1200لوگوں کو دکھایا ،900نے اسے رد کردیا،300نے دیکھنے کی زحمت گوارا کی، 85نے سنجیدہ لیا،30نے مدد کی حامی بھری لیکن آخر میں صرف11لوگ سرمایہ کاری پر آمادہ ہوئے ۔ میں انہی 11افراد کیوجہ سے ارب پتی ہوں ۔ (بل گیٹس)

اختر ہوشیار پوری

منزلوں کے فاصلے دیوار و در میں رہ گئے

کیا سفر تھا میرے سارے خواب گھر میں رہ گئے

اب کوئی تصویر بھی اپنی جگہ قائم نہیں

اب ہوا کے رنگ ہی میری نظر میں رہ گئے

جتنے منظر تھے مرے ہمراہ گھر تک آئے ہیں

اور پسِ منظر سوادِ رہ گزر میں رہ گئے

اپنے قدموں کے نشاں بھی بند کمروں میں رہے

طاقچوں پر بھی دیے خالی نگر کے رہ گئے

کر گئی ہے نام سے غافل ہمیں اپنی شناخت

صرف آوازوں کے سائے ہی خبر میں رہ گئے

ناخدائوں نے پلٹ کر جانے کیوں دیکھا نہیں

کشتیوں کے تو کئی تختے بھنور میں رہ گئے

کیا ہجومِ رنگ اخترؔ کیا فروغِ بوئے گل

موسموں کے ذائقے بوڑھے شجر میں رہ گئے

اثر لکھنوی

رہے جو ہوش تو وہ جانِ جاں نہیں ملتا

بغیر کھوئے ہوئے کچھ یہاں نہیں ملتا

ہزار جلوۂ رنگیں، ہزار ذوقِ نظر

بیانِ حسن کو حسنِ بیاں نہیں ملتا

مذاقِ دید کی تکمیل ہو تو کیوں کر ہو

کہ وہ ملے تو پھر اپنا نشاں نہیں ملتا

وہ اشک جس سے جھپک جائے آنکھ تاروں کی

بغیر لذتِ سوزِ نہاں نہیں ملتا

تری تلاش میں طے کی ہیں بارہا میں نے

وہ منزلیں کہ جنھیںکارواں نہیں ملتا

پئے سجود ہیں مجھ کو وہ رفعتیں درکار

زمیں تو کیسی جہاں آسماں نہیں ملتا

نجانے کب سے ہوں سرگشتہ جستجو میں اثرؔ

بتائے جو مجھے میرا نشاں نہیں ملتا

مضطر خیر آبادی

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں

میں نہیں ہوں نغمۂ جانفزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا

میں بڑے بروگ کی ہوں صدا کسی دل جلے کی پکار ہوں

مرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا بخت مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اُجڑ گیا میں اسی کی فصلِ بہار ہوں

پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی مجھ پہ پھول چڑھائے کیوں

کوئی شمع آ کے جلائے کیوں کہ میں بے کسی کا مزار ہوں

نہ میں مضطرؔ اُن کا حبیب ہوں نہ میں مضطر اُن کا رقیب ہوں

جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں جو اُجڑ گیا وہ دیار ہوں

یاس یگانہ چنگیزی

کس کی آواز کان میں آئی

دور کی بات دھیان میں آئی

ایسی آزاد روح اس تن میں

کیوں پرائے مکان میں آئی

ہائے کیا کیا نگاہ بھٹکی ہے

جب کبھی امتحان میں آئی

یہ کنارہ چلا کہ نائو چلی

کہیے کیا بات دھیان میں آئی

علم کیا علم کی حقیقت کیا

جیسی جس کے گمان میں آئی

حسن کیا خواب سے ہوا بیدار

جانِ تازہ جہان میں آئی

میں پیمبر نہیں یگانہؔ سہی

اس سے کیا کسر شان میں آئی

مختصرپراثر

جو میرے نبی ﷺ کو قبول ہو، کاش وہی میرے اصول ہوں، وہ صبرہو وہ گفتگو ہو، وہی سادگی وہی عاجزی۔

آپ راشی ،زانی اورشرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق،ملنسار اور میٹھا پائیں گے اس واسطے کہ وہ نخوت،سخت گیری اوربدمزاجی افورڈ کر ہی نہیں سکتا۔

حیااور وفا جس عورت میںہو اس عورت سے بڑھ کر کوئی عورت خوبصورت نہیں ہوسکتی۔

ضمیر اورتدبیر جس مرد کے پاس ہو اس سے بڑھ کر کوئی مرد بہترین نہیں ہوسکتا!

دواصول کبھی نہ بھولیں ۔۔۔ایک اپنی ذات کی قدر کبھی کسی بھی حال میں کم نہ ہونے دیں اوردوسروں کی عزت کا خیال ہر صورت رکھیں۔

کبھی کبھی ہم اس لیے خاموش ہوجاتے ہیں کہ ۔۔ دوسرے انسان کو ہمارا احساس ہو۔۔وہ خود ہم سے بات کرے۔۔لیکن ایسانہیں ہوتاکیونکہ۔۔مان تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لیے ہیں۔

رشتوں کو نبھانے کے لیے دوچیزیں بہت ضروری ہیں ،،پیار اوربرداشت،،جس شخص میں دونوں چیزیں پائی جاتی ہیں وہ شخص کبھی بھی تنہا نہیں ہوسکتا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں

ہم اُن میں اور وہ ہم میں سمائے جاتے ہیں

شروعِ راہِ محبت، ارے معاذ اللہ

یہ حال ہے کہ قدم ڈگم ...

مزید پڑھیں

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آ گیا

تم کیوں اُداس ہو گئے کیا یاد آ گیا

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر

کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد ...

مزید پڑھیں

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو

جہاں اُمید ہو اس کی وہاں نہی ...

مزید پڑھیں