☰  
× صفحۂ اول (current) عالمی امور سنڈے سپیشل کھیل کچن کی دنیا خواتین فیشن فیچر متفرق دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ

منتخب شاعری

2019-06-09

فرمان رسول اللہ ﷺ

جس کام سے میں تمہیں منع کردوں اس سے اجتناب کرو اور جس کام کا تمہیں حکم دوں اسے بقد راستطاعت بجالاؤ ۔تم سے پہلے لوگوں کو ان کے سوالات کرنے اور انبیاؑ سے اختلاف رکھنے نے انہیں تباہ وبرباد کر دیا۔ (بخاری،مسلم)

’’عبداللہ احدعمر‘‘

یہ ڈاکٹر گیری ملر ہے ۔اس نے قرآ ن کو چیلنج کرکے کہاتھا کہ میں اس میں غلطیاں نکال کردونگا۔اسی مقصد کے لیے عربی زبان سیکھی اورایک لمبے عرصے تک قرآن کا مطالعہ کیا۔اورآج اس کا نام ’’عبداللہ احد عمر‘‘ ہے۔

ایک آنسو

خداتمہیں بیٹی دے گا،اورجب پہلی بارتم اسے گود میں لو گے تومیں تمہیں بہت یاد آؤں گی۔تب تمہاری آنکھ سے ایک آنسو نکل کر تمہارے رخسار پر پھیلے گا۔ و ہ ایک آنسو میری ساری زندگی کی ساری اذیتیں دھودے گا۔

کچھ دن مجھے دے دو

اُسے میں کیوں بتائوں،میں نے اس کو کتنا چاہاہے،بتایا جھوٹ جاتاہے کہ سچی بات کی خوشبوتو خود محسوس ہوتی ہے،میری باتیں میری سوچیں ،اسے خود جان جانے دو۔ابھی کچھ دن مجھے ،میری محبت آزمانے دو۔

بڑے لوگ بڑی باتیں

میں سچ کا ساتھ دے کر شیطان کہلایا جانازیادہ پسند کروں گا بجائے اس کے کہ جھوٹ کا ساتھ دے کر فرشتہ کہلایا جاؤں۔(فیورباخ)

جو آج مفت کی نصیحت قبول نہیں کریگا،کل اس سے مہنگے داموں افسوس خریدنا پڑیگا۔(افلاطون)

چنارکا خزاں رسیدہ پتاجب پاؤں کے نیچے آتاہے تو وہ چر چر اتاہے یادرکھو وہ کہتاہے ایک دن یہ خزاں تم پر بھی آئے گی۔(مستنصر حسین تارڈ)

انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جانے والی چیزوں کے ملال میں مبتلا رہتاہے ، آنے والی چیزوں کی خوشی اسے مسرور نہیں کرتی۔۔(عمیرہ احمد)

انسان اپنی ساری زندگی سیکھتارہتاہے اوراس دن مرجاتا ہے جب وہ سمجھتاہے میں سب کچھ سیکھ چکاہوں ۔ (نصرت فتح علی خان)

مختصر، پر اثر

کسی انسان کے کم ظرف ہونے کے لیے اتناہی کافی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے پر مجبورہو۔

حد میں رہنا اللہ تعالیٰ کی بہت بری نعمت ہے ،پانی حد سے بڑھ جائے توطوفان بن جاتاہے ، اورآدمی حد سے بڑھ جائے تو شیطان بن جاتاہے۔۔۔

اللہ کے خوف سے گرنے والا آنسو بے شک چھوٹا ہی کیوں نہ ہو لیکن اس میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ سمندر کے برابر گناہ مٹادیتاہے۔

تلوار کا زخم جسم پر ہوتاہے اوربری گفتگو کا روح پر۔اس لئے کسی کا دل اتنا مت دکھاؤ کہ وہ اللہ کے سامنے تمہارا نام لے کر روپڑے ۔کیونکہ ٹوٹے ہوئے دل سے نکلی آہ عرش تک جاتی ہے۔

وقت کے سمجھانے کا طریقہ سخت اورکربناک ہوتاہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ وقت کی سکھائی ہوئی بات حتمی ہوتی ہے ،اور ساری زندگی کے لیے سمجھ آجاتی ہے۔

اچھا ساتھی وہ ہے جسے دیکھنا تمہیں خدا کی یاد میں مصروف کردے جس کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اورجس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔۔

اگر تم ہارو گے نہیں تو تم کبھی بھی جیت کا مزہ نہیں لے سکتے ۔

عشق الٰہی

مولانا رومی ؒ ایک دن خریدوفروخت کے سلسلے میں بازار تشریف لے گئے ۔ ایک دکان پر جاکر رک گئے، دیکھا کہ ایک عورت کچھ سودا سلف خرید رہی ہے ۔ سودا خریدنے کے بعد اس عورت نے جب رقم ادا کرنا چاہی تو دکان دار نے کہا‘‘۔عشق میں پیسے کہاںہوتے ہیں چھوڑ وپیسے اورجاؤ‘‘۔اصل میں یہ دونوں عاشق اورمعشوق تھے۔ مولانا رومی ؒ یہ سن کر غش کھاکر گر پڑے ۔ دکاندار سخت گھبراگیا اس دوران میں وہ عورت بھی وہاںسے چلی گئی ۔ خاصی دیر بعد جب مولانا رومیؒ کو ہوش آیا تو دکاندار نے پوچھا۔ مولانا آپ کیوں بے ہوش ہوئے؟مولانا رومیؒ نے جواب دیا۔ میں اس بات پر بے ہوش ہواکہ تم میں اوراس عورت میں عشق اتنا قوی اورمضبوط ہے کہ دونوں میں کوئی حساب کتاب نہیں،جبکہ اللہ کے ساتھ میرا عشق اتنا کمزور ہے کہ میں تسبیح گن کرکرتاہوں۔

میری ماں ’’جھوٹی‘‘ تھی!

6سالہ بچے کی ماں فوت ہوگئی ۔اس کے باپ نے دوسری شادی کرلی ۔ ایک دن باپ نے اس سے پوچھا ۔تمہیں پہلے والی ماں اور نئی ماں میںکیا فرق لگا ۔بیٹا معصومیت سے بولا،پہلے والی ماں جھوٹی تھی اور نئی والی سچی ہے۔باپ حیرانگی سے بولا،بیٹا وہ کیسے ؟بیٹے نے کہا ،پہلے جب میں مستی کرتا تھا تو ماں کہتی تھی تو مستیوں سے باز نہ آیا تو تجھے کھانا نہیں دونگی۔ میںپھر بھی مستی کرتا تھا۔ اوروہ مجھے پورے گاؤں سے ڈھونڈ کے لے آتی اورکھانا کھلاتی ۔۔لیکن اب جب میں مستی کرتاہوں تو نئی والی ماں کہتی ہے ۔ اگر مستی سے باز نہ آیا تو کھانا نہیں دونگی۔۔ آج میں دودن سے بھوکا ہوں!

ماں

بچھڑتے وقت کہاتھا ،اُس نے ،،نہ رو!میں تو تجھی میں ہوں توجہاں جائے گی میں ساتھ رہونگی تیرے میرے ہو نٹوں کی دعا سایہ کرے گی تجھ پر توکہیں جائے مگر جان لے میری بیٹی ایک رشتہ ہے جو بس تیرا ہے ۔تیرا ہی ہے،آج جب تو بھی نہیں آس کی ڈور وہی تھا مے ہوئے زندگی کی !سنگلاخ راہوں پر بس چلے جاتی چلے جاتی ہوں !!!

بیٹے کی جیب خالی

میں نے آخری بار ممتاکو تب دیکھا جب اس کی موت میں چند ساعتیں باقی تھیں۔وہ سرکاری ہسپتال کے بیڈ پہ پڑی تھی۔ سانپ نے کاٹا تھا، زہر چڑھنے سے دانت گرچکے تھے۔ ڈاکٹر آیا تو اسے قریب ہونے کا اشارہ کیا، ڈاکٹر نے کان قریب کیا توکہنے لگی ،سستاٹیکہ لگانا میرے بیٹے کی جیب خالی ہے ۔۔۔

ڈاکٹر اور حافظ

جب بیٹا ڈاکٹر ،پروفیسر یا بڑا افسر بن جاتاہے تووالدین بہت احتیاط سے بات کرتے ہیں کہ کہیں بیٹا ناراض نہ ہو جائے ۔اور جب بیٹا ،حافظ ،عالم یامفتی بن جاتاہے توپھر بیٹا بات کرنے میں احتیاط کرتاہے کہ کہیں والدین ناراض نہ ہوجائیں۔یہ فرق ہے تعلیم اور تربیت کا۔

کالج سے چھٹی!

والدہ سے ایک بار بلند آواز سے بات کی تو ابا جی نے ایک جملہ کہا،اس کے بعد سے میری آواز گلے میںہی کہیں دب گئی۔کہنے لگے:بیٹا اگر اتنا پڑھ لکھ کر بھی یہ نہ سیکھ پائے کہ بزرگوں سے بات کیسے کرنی ہے توکل سے کالج نہ جانا جو تعلیم اچھا انسان نہ بنا پائے اس کا مقصد ہی کیاہے؟۔ کمائی تو سنیارے کی دکان کے باہر گندی نالی سے کیچڑ چھاننے والاان پڑھ بھی بہت سے پڑھے لکھوں سے زیادہ کرلیتا ہے‘‘۔

حلب میں ’’گل مکئی‘‘ کی ڈائری

جنہیں سوات سے گل مکئی (ملالہ) کی ڈائری ملی انہیں حلب سے کسی ’’گل مکئی ‘‘ جیسی لڑکی کی ڈائری نہیں ملی؟جس میں بمباری کے قصے ہوں،جس میں بھوک سے بلکتے بچوں کی داستان ہو،جس میں اجڑی ہوئی ماں کی سسکتی آہ ہو،جس میں اجڑے شام کا ذکر ہو؟

اباجی کی نشانی

ایک بادشاہ کے گھر بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے خوشی میں سارے قیدی رہا کردیئے۔اچانک اسے ایک انتہائی عمررسیدہ شخص نظر آیا۔بادشاہ نے اس قید ی کو بلاکر پوچھا: کب سے قید ہو ؟ بزرگ نے جواب دیا: آپ کے ابا کے دور سے۔ یہ سن کر بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس نے سپاہیوں کو حکم دیا: دوبارہ قید کردو۔اباجی کی نشانی ہے۔

حادثاتی شادیاں

لڑکیوں کی شادیاں عموماً حادثوں کی وجہ سے ہی وقوع پذیر ہوتی ہیں مثلاََ

حادثاتی طورپر گول روٹی بن گئی توشادی کردو!

فیل ہوگئی توشادی کردو!

اچانک سے اچھا رشتہ آگیا توشادی کردو!

اگر لڑکی منگنی شدہ ہے تولڑکے کابھائی سعودیہ سے آرہاہے توشادی کردو!

خاندان میں کوئی بیمار ہوجائے توشادی کردو!

گویا لڑکی نہ ہوئی کوئی لکی کمیٹی ہوگئی جب نکل آئے شادی کردو!

حکایت مولانا رومیؒ( سقّے کا گدھا)

 

ایک دن میرے والد مکرّم (حضرت مولانا محمد بہاء الدین قدس سرہ‘) نے بطورِ نصیحت ایک حکایت مجھے سنائی۔ فرمایا ،ایک سقے کے پاس گدھا تھا۔ سارا دن اس گدھے پر پانی کی بھاری بھاری مشکیں لاد کرضرورت مندوں کو پانی پہنچاتا۔ برسوں بوجھ ڈھوتے ڈھوتے گدھے کی حالت ابتر ہوگئی۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا اور کام چوبیس گھنٹے میں سے بیس گھنٹے کا۔ پیٹھ زخموں سے بھری ہوئی اور جابجا لوہے کی سلاخ سے کمر پر گھائو کے گہرے نشان الگ۔ بے چارہ ہر وقت اپنی موت کو یاد کرتا لیکن موت کہاں آتی تھی۔

ایک دن اس گدھے کو شاہی اصطبل کے داروغہ نے دیکھا تو اس کی حالت پر بڑا رحم آیا۔ سقے سے کہا ’’تمہارا گدھا قریب المرگ ہو رہا ہے اسے کچھ دن آرام کرنے دو اور پیٹ بھر کر کھانے کو دیا کرو۔‘‘ سقے نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ’’مائی باپ ! گدھے کو کہاں سے کھانے کے لیے دوں؟ خود میری روٹیوں کے لالے پڑے ہیں ، دن رات محنت کرنے کے باوجود بال بچوں کو دو وقت پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیں ہوتی۔‘‘

یہ سن کر داروغہ کو اور ترس آیا، کہنے لگا ’’میاں بہشتی ، تم چند روز کے لیے اپنے گدھے کو میرے حوالے کر دو، میں اسے شاہی اصطبل میں رکھوں گا۔ وہ تروتازہ گھاس، چنے اور جو کا دانہ کھا کھا کر دنوں میں پھول کرموٹا تازہ ہو جائے گا۔‘‘

سقے نے داروغہ کو بہت دعائیں دیں اور اپنا مریل گدھا اس کے سپرد کر دیا۔ داروغہ نے اسے لے جا کر شاہی اصطبل میں باندھ دیا۔ وہاں جاکر گدھے کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہر طرف ترکی اور عربی گھوڑے نہایت قیمتی ساز و سامان کے ساتھ اپنے اپنے تھان پر بندھے ہوئے تھے۔ ہر گھوڑے کا بدن خوب فربہ تھا اور اس کی کھال آئینے کی طرح چمک رہی تھی۔ چار چار آدمی ایک ایک گھوڑے کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ کوئی کھریرا کر رہا تھا ، کوئی مالش ، کوئی دانہ کھلا رہا تھا ، کوئی پیٹھ پر محبت سے تھپکیاں دینے میں مصروف تھا۔ پھر گدھے نے یہ بھی دیکھا کہ گھوڑوں کے تھان نہایت صاف ستھرے ہیں۔ لید کا نام و نشان نہیں۔ زمین پر پانی کا چھڑکائو ہے۔ لوہے کی بڑی بڑی ناندوں میں ہری ہری گھاس ، جو اور چنا بھیگا ہوا ہے۔یہ ماجرا دیکھ کرگدھے نے اپنی تھوتھنی اٹھائی اور خدا سے فریاد کی ’’یا الٰہی! یہ کیا تماشا ہے ، بے شک میں گدھا ہوں لیکن کس جرم کی پاداش میں میرا برا حال ہے اور کس لیے میری پیٹھ زخموں سے پُر ہے؟ کیا میں تیری مخلوق نہیں ہوں؟ کیا تو نے مجھے پیدا نہ فرمایا اور کیا تو میرا رب نہیں ہے؟ پھر کیا سبب ہے کہ یہ گھوڑے اتنی شان و شوکت سے رہیں ، دنیا کی بہترین نعمتیں ان کے لیے ہمہ وقت حاضر ہوں اور میں دن بھر بوجھ ڈھوئوں اور اپنے آقا کے جوتے کھائوں؟ میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ اس آفت میں پھنسا رہوں؟‘‘

ابھی گدھے کی یہ فریاد ناتمام ہی تھی کہ اصطبل میں ہل چل مچی۔ گھوڑوں کے نگہبان اور خدمت گار دوڑے دوڑے آئے ، ان پر زینیں کسیں اور ٹھیک ٹھاک کر کے باہر لے گئے۔ اتنے میں طبل جنگ بجنے کی آواز سنائی دی۔ معلوم ہوا کہ گھوڑوں کو ان کے فوجی سوار میدانِ جنگ میں لے گئے ہیں۔ شام کے وقت گھوڑے میدانِ جنگ سے اس حال میں واپس آئے کہ ان کے جسم زخموں سے چور اور لہو میں رنگین تھے۔ بعض گھوڑوں کے بدن تیروں سے چھلنی ہو رہے تھے اور تیر ابھی تک ان کے جسموں میں گڑے تھے۔ اپنے تھان پر واپس آتے ہی تمام گھوڑے لمبے لمبے لیٹ گئے اور ان کے پائوں مضبوط رسوں سے باندھ کر نعل بند قطاروں میں کھڑے ہوگئے۔ پھر گھوڑوں کے بدنوں میں پیوست تیر کھینچ کھینچ کر نکالے جانے لگے۔ جونہی کوئی تیر باہر آتا ، گھوڑے کے بدن سے خون کا فوارہ بلند ہوتا۔جب گدھے نے یہ تماشا دیکھا تو مارے ہیبت کے روح کھنچ کر حلق میں آگئی۔ بدن کا ایک ایک رونگٹا کانپنے لگا۔ خدا سے عرض کی کہ اے باری تعالیٰ! مجھے معاف کر دے میں نے اپنی جہالت اور بے خبری سے تیرے حضور میں گستاخی کی۔ میں اپنے اس حال میں خوش اور مطمئن ہوں۔ میں ایسی شان و شوکت اور ایسے کرّوفر سے باز آیا جس میں بدن زخموں سے چور چور ہو اور خون پانی کی طرح بہے۔

 

ادا جعفری

حال کھلتا نہیں جبینوں سے

رنج اُٹھائے ہیں جن قرینوں سے

رات آہستہ گام اُتری ہے

درد کے ماہتاب زینوں سے

ہم نے سوچا نہ اس نے جانا ہے

دل بھی ہوتے ہیں آبگینوں سے

کون لے گا شرارِ جاں کا حساب

دشتِ امروز کے دفینوں سے

تو نے مژگاں اُٹھا کے دیکھا بھی

شہر خالی نہ تھا مکینوں سے

آشنا آشنا پیام آئے

اجنبی اجنبی زمینوں سے

جن کو آرام آ گیا ہے اداؔ

کبھی طوفاں کبھی سفینوں سے

احمد ندیم قاسمی

جب ترا حکم ملا، ترک محبت کر دی

دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہارِ تمنا کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے

تیری اُلفت نے محبت مری عادت کر دی

پوچھ بیٹھاہوںمیںتجھ سے ترے کوچے کا پتا

تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی

کیا ترا جسم، ترے حسن کی حدّت میں جلا

راکھ، کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی

احمد راہی

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا

کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں

غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا

چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن

آج تاروں کا فسوں خاک نظر آئے گا

راگ میں آگ دبی ہے غمِ محرومی کی

راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا

وقت خاموش ہے روٹھے ہوئے یاروں کی طرح

کون لو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا

زندگی چل کہ ذرا موت کے دم خم دیکھیں

ورنہ یہ جذبہ لحد تک ہمیں لے جائے گا

کشفی ملتانی

 دل دل ہی رہے گا، گلِ تر ہو نہیں سکتا

خوں ہو کے بھی منظورِ نظر ہو نہیں سکتا

جو ظلم کیا، تو نے کیا بے جگری سے

ایسا تو کسی کا بھی جگر ہو نہیں سکتا

تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوں

گویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا

اظہارِ محبت مرے آنسو ہی کریں گے

اظہار بہ اندازِ دگر ہو نہیں سکتا

ہر بوند لہو کی کبھی بنتی نہیں آنسو

جیسے کہ ہر اک قطرہ گہر ہو نہیں سکتا

یہ عہدِ جوانی بھی ہے کچھ ایسا زمانہ

بے بادۂ سرجوش بسر ہو نہیں سکتا

جب تک تری رحمت کا ہے کشفیؔ کو سہارا

سچ یہ ہے گناہوں سے حذر ہو نہیں سکت

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حکایت مولانا رومیؒ

اے فرزند عزیز! ایک حکایت دھیان سے سن کہ تو کبھی طاقت لسّانی اور ہنر کے فریب میں نہ آ۔ تین آدمیوں نے کسی مقصد کے لیے ...

مزید پڑھیں

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پران ...

مزید پڑھیں

غنچے سے مسکرا کے اُسے زار کر چلے

نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے

پھرتے ہو باغ میں تو پکارے ہے عندلیب

صبحِ بہار گل پہ شبِ تار ...

مزید پڑھیں