☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا حافظ زبیر حسن اشرفی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(فاطمہ خان) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) طنزومزاح(حسین احمد شیرازی) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
Dunya Magazine

منتخب شاعری

2019-07-07

بگڑی شراب

اگر کسی سے کچھ مانگنا ہے تو محبت مانگو۔۔۔ محبت مل جائے تو سب کچھ مل جاتاہے ۔۔۔محبت کے بغیر ہر چیز ایسے ملتی ہے جیسے مرنے کے بعد کفن ملتاہے ۔۔۔ مگر میر ی مانو تو۔۔۔محبت بھی نہ مانگو۔۔۔ کیونکہ مانگی ہوئی محبت کا مزہ بگڑی ہوئی شراب جیساہوتاہے۔(بانوقدسیہ)

راستے

جب انسان سوچتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی راستے بنا دیتا ہے اور مشکلیں آسان کر دیتا ہے۔تمہارا رب جس چیز کو تمہارے قریب کر دے،اس میں حکمت تلاش کرو،اور جس چیز کو تم سے دور کر دے اس پرصبر کرو۔اللہ کے فیصلوں کو سمجھنا انسان کی عقل سے بالا ترہے۔

محبت

پتا ہے کہ محبت کیا ہے؟

وہ سارا دن ہمارے گناہ دیکھتا رہتا ہے،اور ہماری نافرمانیوں کو بھی نظر انداز کرتا رہتا ہے۔اور صبح صبح اپنے فرشتوں کے ذریعے ہمیں رزق بھجوا دیتا ہے۔اسے کہتے ہیں محبت۔

مٹی کی کہانی

مٹی سے بنا تھا،مٹی ہی بن جائوں گا،اس سے آگے کچھ ناکرپایا،نہ کر پائوں گا۔روتا ہوا آیا تھا روتا ہوا جائوںگا، رلاتا ہوا آیا تھا رلاتا ہوا جائوں گا۔پیروں کی دھول ہوں ہوا میں بکھر جائوں گا۔جب دنیا تیری چھوڑ کر یہاںسے جائوں گا۔دیکھ لینا بھئی،میں جیسا بھی ہوں تم کو بہت یاد آئوں گا۔

بڑا ڈاکو

سکندر کے سامنے ایک ڈاکو پیش کیا گیا۔ سکندر نے کہا’’تمہیں ڈاکو کا پیشہ اختیار کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہوتی‘ اور رحم نہیں آتا۔‘‘ ڈاکو نے جواب دیا’’ سنئے ‘ میں جو کام چھوٹے پیمانے پر کرتا ہوں آپ اسے وسیع پیمانے پر سر انجام دیتے ہیں۔ میر ے ساتھیوں کی تعدادگنتی کی ہوتی ہے‘ اس لیے ہمیں ڈاکو کا خطاب ملتا ہے‘ آپ کے ہمراہ ٹڈی دل لشکر ہوتا ہے۔ وہ شاہی فوج کہلاتا ہے۔ میرے کام کو ڈاکہ زنی اور آپ کے کام کو فتوحات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ میں ایک آدھ گائوں کو لوٹتا ہوں۔ لیکن آپ کی تاخت و تاراج اور لوٹ کھسوٹ کا نشانہ تو سینکڑوں سلطنتیں بن چکی ہیں اور بننے والی ہیں۔ اس لیے آپ بڑے ڈاکو ہیں اور میں چھوٹا ڈاکو۔‘‘

حاضر جوابی

بادشاہ نے ایک ماہی گیر کو آٹھ ہزار اشرفی انعام دیں۔ اشرفیوں کے بھاری وزن کو اٹھا کر جب وہ چلنے لگا تو ایک اشرفی گر گئی۔ جس کو اس نے پشت پر زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے بڑی مشکل سے اٹھایا۔ بادشاہ نے یہ دیکھ کر نہایت خفا ہو کر کہا کہ آٹھ ہزار اشرفیوں کا گراں قدر انعام پا لینے کے بعد ایک اشرفی کے لالچ میں اس قدر تکلیف اٹھا رہے ہو۔ ماہی گیر نے عرض کیا’’ جہاں پناہ! اشرفی کا لالچ نہیں‘ بلکہ اشرفی پر حضور کے نام مبارک کی وجہ سے اس کی بے ادبی کا خیال ہے کہ پائوں کے نیچے نہ روندا جائے۔ ‘‘ بادشاہ نے انعام مزید سے سرفراز اور زرفراز کیا۔

معافی نامہ

عید کی خوشیاں گزر چکی ہیں،کچھ پریشان ہیں ۔حقیقی خوشی ان کو ملی، جنہوں نے دوسروں کو بھی گلے لگایا،اپنوں کو بھی یاد کیا مگر غیروں کو بھی نہیں بھولے۔تو سنو!آج میں تم سے ایک اور بات کہتا ہوں۔کچھ وعدے کیے اور نہ نبھائے ہوں تو معاف کرنا۔کچھ باتیں جو ہم دونوں کے بیچ ہوئیں، ان مین کچھ برا بھالا کہاہو تو معاف کرنا۔جب کبھی میں نے تم کو ستایا ہو، رلا ہو،ان سب غلطیوں کو میری نادانی سمجھ کر معاف کرنا ۔پتہ نہیں کیوں دل ڈوب سا رہا ہے،لگتا ہے زندگی کی رات ہونے والی ہے،مجھے دل سے معاف کرنا اور ہو سکے تو دعائوں میں یاد رکھنا ۔

خاموشی کیا ہے؟

جانتے ہوخاموشی کیا ہے؟خاموشی ایک زبان ہے۔جسے ہر کوئی اپنے ڈھنگ سے بولتا ہے۔خاموشی بولتی ہی نہیں چیختی بھی ہے۔پکارتی اور لتاڑتی بھی ہے۔۔محبوبہ خامو ش رہے توناراضی۔۔۔محبوب خاموش رہے تو بزدلی۔والدین خاموش رہیں تو مجبوری،اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی ،قوم خاموش رہے تو مظلومیت،حکمران خاموش رہیں تو سیاست۔۔۔یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔جب بھی رائج ہوتی ہے تو کسی کو بیچ دیتی ہے یا کسی کو خرید لیتی ہے۔لیکن یہ ہمیشہ رائج نہیں رہتی۔خاص مواقعوں پر ہی استعمال ہو تی ہے۔اسی لئے کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقلمند کہا جاتا ہے۔

لفظوں کی مسکراہٹ

ایک جگہ زخمی کر دینے والے آلات کی مجلس جمی تھی۔چاقو ، چھری خنجر ،تلوار، تیر اور تفنگ سمیت سب ہی اپنے اپنے گھائو پر بات کر رہے تھے۔اچانک تلوارکو جوش آیااوراکڑ کے پوچھا۔۔۔کوئی بتائے گا کہ ہم میں سب سے گہرا گھائو کس کا ہوتا ہے،جس کے بعد آدمی چھلنی چھلنی ہو جاتا ہے؟ہر ایک نے اپنی اپنی بات کہی مگراسی مجلس میں ’’الفاظ‘‘ سب کی باتیں سن کر مسکرا رتے تھے۔۔۔!

حسین انسان

ہر انسان حسین ہے اگر وہ اپنا ایمان تازہ رکھے تو سورج کی کرنوں سے بھی زیادہ روشن نظر آتا ہے۔اگر پیارے نبیؐ کی سنت پر عمل کرے تو اس کے اندر سے مشک سے بھی دلفریب خوشبو پھوٹتی ہے۔اللہ کے خوف سے آنکھیں بھیگ جائیں تو یہ اس بارش سے بہتر ہیں جو زمین کو زرخیز بناتی ہیں۔خود کو تقویٰ کے لباس میں ملبوس کریںاور دیکھیں آپ ہی دنیا کے بہترین انسانوں کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔

ایمان

دیکھو، مجھے نظر تو نہیں آتا مگر ایمان ہے۔اس کمرے میںریڈیو کی لہریں بھری پڑی ہیں۔ٹی وی کی لہریں ناچ رہی ہیں اور میں ریڈیو پر،یا ٹی وی پر اپنی پسند کا سگنل پکڑ سکتا ہوں۔اس طرح سے میرا ایمان ہے،کہ یہاں خدا کی آواز اور خدا کے احکامات موجود ہیں۔اور میں اپنی ذات کے ریڈیو پر ان سگنلز کو پکڑ سکتا ہوں۔لیکن اس کے لئے مجھے اپنی ذات کو ٹیون کرناپڑے گا۔(اشفاق احمد)

دو زندگیاں

ہر شخص کو دو زندگیاں بسر کرنا پڑتی ہیں۔ایک اپنے لئے اور ایک دوسروں کے لئے۔آنسو بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔قہقہے بھی دو قسم کے۔ایک وہ آنسو جو زبردستی آنکھوں سے نکالنا پڑتے ہیں۔اور ایک وہ جو خود بخود نکلتے ہیں۔ایک قہقہہ وہ ہے جو تنہائی میں بلند کیا جا سکتا ہے۔دوسرا وہ جو خاص آداب اور خاص اصولوں کے ماتحت حلق سے بلند کرنا پڑتاہے۔ (سعادت حسن منٹو۔بلا عنوان)

مقدر

ضروری نہیں کہ زندگی میں وہی سب کچھ ملے جس کی آپ تمنا کریں۔زندگی اسی طرح چلے جس طرح آپ چاہیں۔دنیا میں اربوں کھربوں خواہشات ایک دوسرے سے متصادم ہیں ،ایک انسان کی خواہش دوسرے کی تمنا کی ضد ہو سکتی ہے ۔اسی لئے کہتے ہیں، چاہ سے بڑھ کر بھی ایک اور چیز ہوتی ہے جسے مقدر کہا جاتا ہے۔یہ بدلتا نہیں بدل دیتا ہے۔

نور ہی نور

انسان کیا کرے کہ آسمانوں اورزمیں جتنا نور مل جائے،اسے اتنا نور مل جائے کہ اس کی ساری زندگی روشن ہو جائے۔دل کو مارے بغیر نور نہیں ملتا۔دل کو مارنا ہی پڑتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ٹھوکر بھی کھائی جائے۔ انسان ٹھوکر کھائے بغیر،زخم کھائے بغیر،خود کو جلائے بغیربات کیوں نہیں مانتا؟پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا،پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا ہی انتظار کیوں رہتا ہے۔

(نمرہ احمد)

کڑواہٹ

حکایت مولانا رومیؒ

حضرت لقمانؒ کی قدرو منزلت ان کے آقا کے دل میں بیٹھ گئی۔ بادشاہ پر حضرت لقمان ؒکی خوبیاں واضح ہوگئی تھیں۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ حرص و ہوا سے پاک صاف ہے اس کے دل میں کھوٹ نہیں اور اس کی زبان پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ بظاہر وہ بادشاہ حضرت لقمانؒ کا آقا تھا لیکن حقیقت میں وہ ان کا غلام ہوگیا تھا۔ اسے حضرت لقمانؒ سے یہاں تک تعلق ہو گیا تھا کہ جب اس کے نوکر چاکر اس کے لیے کھانا لے کر آتے تو وہ سب سے پہلے حضرت لقمانؒ کی خدمت میں پیش کرتا تاکہ وہ کھائیں اور جو کھانا ان کے کھانے سے بچ جاتا وہ خوش ہو کر کھاتا تھا۔ اگر کبھی حضرت لقمان ؒ کھانا نہ کھاتے تو بادشاہ بھی نہ کھاتا۔

ایک دفعہ بادشاہ کے کسی دوست نے اپنے باغ میں سے ایک بڑا ہی خوش رنگ خربوزہ اس کو تحفے میں بھیجا۔ بادشاہ نے ایک غلام سے کہا کہ جائو اور میرے بیٹے لقمان ؒکو بلا لائو۔ بادشاہ کا حکم پاتے ہی حضرت لقمان ؒآئے اور ادب سے بادشاہ کے سامنے بیٹھ گئے۔ بادشاہ نے ہاتھ میں چھری پکڑی اور خربوزہ کاٹ کر ایک قاش حضرت لقمانؒ کو پیش کی۔ انہوں نے مزے سے وہ قاش کھائی۔ بادشاہ نے دوسری قاش کاٹ کر انہیں دی۔ وہ بھی حضرت لقمانؒ نے نہایت رغبت سے کھائی۔ پھر اس نے تیسری قاش کاٹی۔ پھر چوتھی یہاںتک کہ بادشاہ نے سترہ قاشیں حضرت لقمان ؒکو کاٹ کر دیں اور انہوں نے ہر قاش بڑی رغبت سے کھائی۔ آخر میں جب ایک قاش باقی رہ گئی۔ بادشاہ نے کہا ’’جی چاہتا ہے یہ قاش میں خود کھائوں۔ لگتا ہے خربوزہ بہت میٹھا ہے جبھی آپ نے سترہ قاشیں اتنے مزے لے لے کر کھائی ہیں۔‘‘

حضرت لقمان ؒنے وہ آخری قاش بھی کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن بادشاہ نے نہ دی اور اپنے منہ میں رکھ لی۔ قاش کے منہ میں رکھنے کی دیر تھی کہ سارا منہ حلق تک کڑوا ہوگیا۔ اس نے جلدی سے وہ قاش تھوک دی اور پانی منگا کر خوب کلیاں کیں لیکن دیر تک اس کی کڑواہٹ نہ مٹی اور منہ کا سارا مزا خراب ہوگیا۔ اس نے نہایت تعجب سے حضرت لقمانؒ کی طرف دیکھا اور کہا :’’اے عزیز فرزند! تو نے کمال کیا کہ یہ زہریلا خربوزہ اتنے شوق و رغبت سے کھا گئے اور اپنے چہرے سے ذرا ناگواری ظاہر نہ ہونے دی کہ اس کی خوش رنگی اور خوش نمائی محض فریب ہے۔ کیا یہ بھی برداشت کی کوئی نرالی قسم ہے؟ حیرت ہے کہ تو نے کوئی حیلہ اس کڑوے خربوزے سے محفوظ رہنے کا نہ پیش کیا۔ اتنا ہی اشارہ کر دیا ہوتا کہ یہ ناپسندیدہ ہے اور میں اس کے کھانے سے معذور ہوں۔‘‘

حضرت لقمان نے بہت ہی ادب سے جواب دیا۔ ’’اے آقا کیا عرض کروں کچھ کہتے ہوئے حیا آتی ہے۔ میں نے ہمیشہ تیرے نعمت بخشنے والے ہاتھ سے اتنا کھایا ہے کہ مارے شرم کے گردن نہیں اٹھا سکتا۔ یہ سوچ کر کڑوی قاشیں کھائیں کہ جب تمام عمر اس ہاتھ سے طرح طرح کی لذیذ نعمتیں کھاتا رہا ہوں تو افسوس ہے مجھ پر کہ صرف ایک کڑوا خربوزہ کھا کر اُودھم مچانے لگوں اور ناشکری کا اظہار کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے میٹھے ہاتھ نے اس خربوزے میں کڑواہٹ چھوڑی ہی کہاں تھی کہ میں شکایت اپنی زبان پر لاتا۔‘‘

مختصر، پراثر

سننے والا سن کر، دیکھنے والا دیکھ کر اور سہنے والا سہ کر جب خاموش ہو جائے تو سمجھ لینا کہ اب اس کا معاملہ اللہ کی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔

ہنسی کے پیچھے چھپا ہوا درد ،غصے کے پیچھے ان دیکھا پیار اور خاموشی کی گہرائی ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

زندگی میں خود کو کبھی کسی کا عادی نہ بنانا کیونکہ بہت سے لوگ خود غرض ہوتے ہیں۔

جب آپ کو پسند کرتے ہیں تو آپ کی ہر برائی بھول جاتے ہیں ۔اور نفرت میں ہر اچھائی کو فراموش کر دیتے ہیں۔

رلانا ہر کسی کوآتاہے ہنسانا بھی ہر کسی کو آتاہے رلاکے جو منالے ،وہ بابا ہے اور جو رلاکے خود بھی روپڑے ،وہ ماں ہے۔!

اصمعی کا قول ہے کہ میں نے ایک بچے سے پوچھا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہارے پاس لاکھوں روپے ہوں اور تم کم عقل ہو۔ وہ کہنے لگا نہیں۔ مجھے خدشہ ہے کہ میں بوجہ حماقت سارا مال ضائع کر بیٹھوں گا لیکن بیوقوفی پھر بھی میرے ساتھ رہے گی۔

ہارون الرشید کے پاس ایک چار سالہ بچہ لایا گیا۔ ہارون الرشید نے اس سے پوچھا بتائو تمہیں کیا تحفہ دوں؟ ’’اپنی دوراندیشی‘‘ بچے نے جواب دیا۔

جس ہاتھ کو تھام کر تم اپنے پیروں پر کھڑے ہوئے ہو اس ہاتھ پر جھریاں آجانے کے بعد اسے چھوڑ مت دینا۔

اسماعیل میرٹھی

آغازِ عشق عمر کا انجام ہو گیا

ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو گیا

تم روز و شب جو دست بدستِ عدو پھرے

میں پائمالِ گردشِ ایام ہو گیا

میرا نشاں مٹا تو مٹا پر یہ رشک ہے

وردِ زبانِ خلق ترا نام ہو گیا

اب اور ڈھونڈیے کوئی جولاں گہہِ جنوں

صحرا بقدر وسعتِ یک گام ہو گیا

اللہ رے بوسۂ لبِ مے گوں کی آرزو

میں خاک ہو کے دردِ تہہ جام ہو گیا

اب تک بھی ہے نظر طرفِ بامِ ماہ وش

میں گرچہ آفتابِ لبِ بام ہو گیا

اب حرفِ ناسزا میں بھی ان کو دریغ ہے

کیوں مجھ کو ذوقِ لذتِ دشنام ہو گیا

احسان دانش

جب جوانی کی دھوپ ڈھلتی ہے

خودسری سر جھکا کے چلتی ہے

یاس میں اُن کے لطف کی اُمید

ظلمتوںمیں کرن مچلتی ہے

دل سلگتا نہ ہو بہاروں کا

اشکِ شبنم سے لو نکلتی ہے

تجربہ ہے کہ دشمنی اکثر

دوستی کے لہو سے پلتی ہے

ہوشیار اے وفا کے دیوانے

یہ وفا آنسوئوں میں ڈھلتی ہے

تھک گیا چاند سو گئے تارے

اب تو آئو کہ رات ڈھلتی ہے

شامِ غم میں خیال ہے اُن کا

اور جنگل میں آگ جلتی ہے

دورِ حاضر کی دوستی احساںؔ

کس قدر جلد رُخ بدلتی ہے

تابش دہلوی

کیا تماشا ہو کامیاب کہیں

تو کہیں جلوہ ہے، حجاب کہیں

نسبتِ نور پھر بھی قائم ہے

کہیں ذرّہ ہے آفتاب کہیں

دل تسلی سے خوش تو ہے لیکن

یہ سکوں ہو نہ اضطراب کہیں

گم ہو جلووں میں اے نگاہِ شوق

ڈال لیں پھر نہ وہ نقاب کہیں

پہلے قیدِ نظر تو اُٹھ جائے

پھر اُٹھیں گے ترے حجاب کہیں

موت ہی پر سہی، غرض تابشؔ

ختم ہو عہدِ اضطراب کہیں

اسد بدایونی

ہم اپنے ہجر میں اپنے وصال میںگم ہیں

وہ سوچتا ہے کہ اس کے خیال میں گم ہیں

ہر ایک لمحۂ لذت حساب مانگتا ہے

سو ہم بھی سب کی طرح اک سوال میں گم ہیں

شفق کی آنکھ کسے رو رہی ہے مدت سے

دیار و دشت سبھی کس ملال میں گم ہیں

رُتوںکے دائرے کیوں آج تک سلامت ہیں

تمام سلسلے کیوںماہ و سال میں گم ہیں

یہ چاند جھیل کے پانی سے ہم کلام ہے کیوں

کنارے کس لیے رنج و ملال میں گم ہیں

جلی کٹی۔۔

ایک اہم پیشین گوئی’’کال کاٹ دی ہے پہنچنے ہی والا ہوگا‘‘

گلاس ٹونٹنے کے بعد بھی اگر گھر میں خاموشی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ گلاس امی یا ابو سے ٹوٹا ہے اور اس میں غلطی گلاس کی ہے

جب لڑکا 18سال کی عمر میں خود کو سمارٹ سمجھنے لگتا ہے تو نادرا والے اسے آئینہ دکھا دیتے ہیں

ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ رات کو پیازا کھانا ٹھیک نہیں، اب پیازا کو کیا پتہ کہ پیٹ کے باہردن ہے یا رات۔

 

کچھ کولوگوں کا تعلق مچھر فیملی سے ہوتا ہے۔۔بھائی بھائی کہہ کر جان کھاتے ہیں اور پھر وقت ملتے ہی ڈنگ مار دیتے ہیں۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

14جولائی 1926کو ارونگ آباد میں جنم لینے والے حمایت علی شاعر نے اردو شاعری میں بہت نام کمایا۔انہوںنے فلموں کیلئے گیت بھی لکھے اور خود بھی ریڈیو پر ڈراموں میں کردار اداکئے ۔ قیام پاکستان کے بعد سندھ میں ہجرت کی اور جام شورو کو اپنا مسکن بنایا اور اردو یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔1956میں منظر عام پر آنے والے شاعری کے پہلے مجموعے ’’آگ میں پھول‘‘نے مقبولیت حاصل کی اور اسی مجموعے پر 1958میں صدارتی ایوارڈ مل بھی گیا۔ ان کا گیت ۔۔۔’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن ‘‘1965کی جنگ کی طرح آج بھی روح کو گرماتا ہے۔فلمی گیت ’’نہ چھڑ اسکو گے دامن ‘‘نے بھی مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔ گزشتہ برس 16جولائی کو ہم سے جدا ہونے والے حمایت علی شاعر کے کریڈٹ میں ’’مٹی کا قرض‘‘ ، تشنگی کا سفر اور ’’ہارون کی آواز‘‘ بھی شامل ہیں۔ ذیل میں نمونہ کلام شائع کیا جا رہا ہے۔ حضور آپؐ کی امت کا ایک فرد ہوں میں حضور آپﷺ کی امت کا ایک فرد ہوں میں مگر خود اپنی نگاہوں میں آج گرد ہوں میں میں کس زباں سے کروں ذکر اسوہ حسنہﷺ کہ اہل درک و بصیرت ،نہ اہل درد ہوں میں بزعم خود تو بہت منزل آشنا ہوں میں مگر جو راستے میں ہی اڑتی پھر ے وہ گرد ہوں میں عجیب ذوق سفر ہے کہ صورت پرکار جو اپنے گرد ہی گھومے وہ رہ نورد ہوں میں میں اپنی ذات میں ہوں اپنی قوم کی تصویر کہ بے عمل ہی نہیں ،جہل میں بھی فرد ہوں میں ٭٭٭ جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے جو کچھ بھی گزرنا ہے مرے دل پہ گزر جائے اترا ہوا چہرہ مری دھرتی کا نکھر جائے ہم بھی ہیں کسی کہف کے اصحاب کی مانند ایسا نہ ہو جب آنکھ کھلے وقت گزر جائے کشتی ہے مگر ہم میں کوئی نوحؑ نہیں ہے آیا ہوا طوفان خدا جانے کدھر جائے ایک شہر خدا سینے میں آباد ہے لیکن اے دوست جہاں تک بھی تری راہ گزر جائے میں کچھ نہ کہوں گا اور یہ چاہوں گا کہ مری بات خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے ٭٭٭ جب بھی اُسے دیکھوں، وہ نیا ہی نظر آئے ہر شخص سے وہ شخص جدا ہی نظر آئے ہاں ایک نظر تم بھی اُسے دیکھو تو شاید تم کو مری ناکردہ گناہی نظر آئے مرمر سے بدن پر وہ قبا آبِ رواں سی وہ حسن کہ آپ اپنی گواہی نظر آئے جلوت میں گزرتی رہی جس دل پہ قیامت خلوت میں اُسے کیوں نہ تباہی نظر آئے  

مزید پڑھیں

ورکر باس سے ، ’’میں دو منٹ میں آیا‘‘،’’بس آخری بار معاف کر دیں‘‘،’’آئندہ غلطی نہیں ہو گی ‘‘،’’آج ٹریفک بہت تھی‘‘۔ لڑکا منگیتر سے ،’’مجھے تمہاری بہت فکر ہے‘‘، ’’تم میری زندگی کی پہلی اور آخری پسند ہو‘‘،’’ہماری شادی ضرور ہوگی‘‘ ،’’ہر مشکل وقت میں مجھے اپنے ساتھ پائو گی،تم نہ ملیں تو کنوارہ رہ جائوں گا‘‘۔ شوہر بیگم سے ’’ میرا فون سائلنٹ پر تھا ،امی کی کال آئی ہوئی تھی‘‘ ۔’’نیا باس آیا ہوا ہے بہت سخت ہے‘‘۔  

مزید پڑھیں

لڑکیاں بڑی عجیب ہوتی ہیں،یہ مکمل اعتبار کرتی ہیں،آدھا اعتبار نہیں کرتی، یہ مکمل محبت کرتی ہیں ادھوری نہیں، ان کے ہاں دوسری محبت کا تصور نہیں ہوتا، مرد پہلی محبت میں بھی دوسری محبت کر لیتے ہیں مگر یہ لڑکیاں نازک مزا ج ہوتی ہیں ان کا احساس بہت کومل ہوتا ہے ان کی ادائوں کے ہزاروں رنگ ہیں جیسے جب شدید غصے میں ہوتی ہیں تو آنکھوں سے آنسو چمکنے لگتے ہیں۔یہ محبت کا خراج نہیں مانگتیں بلکہ اس کو کامل رکھتی ہیں۔  

مزید پڑھیں