☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب

منتخب شاعری

2019-08-11

صرف ہم اور ہمارا اللہ

زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس پر آجاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے۔کوئی ماں باپ، کوئی بہن بھائی، کوئی دوست نہیں ہوتا۔پھر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے پیروں تلے زمین ہے نہ سر کے اوپرکوئی آسمان۔بس ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلاء میں بھی تھامے ہوئے ہے۔پھر پتہ چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ایک ڈھیر میںایک ذرے یا درخت پر لگے ایک پتے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔پھر پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے ، صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے۔کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کسی چیز پر فرق نہیں پڑتا۔

عزت

فارس کے کسی بادشاہ کی انگوٹھی میں ایک بیش قیمت نگینہ جڑا ہوا تھا۔ ایک دن اپنے خاص مصاحبوںکے ہمراہ وہ سیر و گردش کے لیے مصلائے شیراز کی طر ف جا نکلا۔ اُس نے حکم دیا کہ انگوٹھی کو گنبد عصہ پر نصب کر دیا جائے اور جس کا جی چاہے چاند ماری کرے۔ جس کا تیرانگوٹھی میں سے پار ہو جائے گا، انگوٹھی اسی کی ہو گی۔ شاہی ملازمت میں چار سو نامی گرامی تیر انداز تھے سب کے نشانے خطا گئے۔ کہیں آس پاس سرائے کی چھت سے ایک لڑکا کھلنڈرے پن میں اِدھر اُدھر تیر پھینک رہا تھا۔ بادِ صبا اس کے تیر کو انگوٹھی کے حلقے میں سے نکال لے گئی۔ انگوٹھی اسے بخش دی گئی علاوہ ازیں خلعت و انعام بھی ملا۔ اس کے بعد لڑکے نے تیر وکمان کو جلا دیا۔ پوچھا گیا میاں یہ کیا؟ کہنے لگا تاکہ پہلا ٹھاٹھ بحال رہے۔

سب ٹھیک ہو گیانا!

تم مجھے کہتے ہو کہ میں تھوڑا انتظار کروں سب ٹھیک ہو جائے گا!لیکن میں جانتی ہوں کہ کچھ بھی نہیں ٹھیک ہو گا،سب کچھ ویسا ہی رہے گا۔ہاں ، وقت گزرتے گزرتے میں اس کی عادی ہو جائوں گی۔اس ماحول کی،اس طرز زندگی کی۔پھر مجھے کچھ بھی برا نہیں لگے گا،اور پھر تم کہو گے۔۔۔۔دیکھا!سب ٹھیک ہو گیا نا!

صبر اور شکر

انسان پر دو طرح کے حالات آتے ہیں۔ایسے حالات جو طبیعت کے عین مطابق ہوں،اور خوش کن ہوں۔دوسرے حالات وہ جوطبیعت کے منافی ہوں اورناگوار ہوںتو ان حالات میں عبدیت یہ ہے کہ یوں سمجھئے کہ حق اللہ تعالیٰ مجھے قرب عطا فرمانا چاہتے ہیں۔خوشگوار حالات پر تو شکر بجا لائوں گا،اور ناگوار حالات پر صبر کروں گا۔(اشفاق احمد)

ایک بار سوچ لینا!

بیوی جب بہت تڑپوتی ہے تب بھی نہ روتی اور نہ ہی گلہ کرتی ہے۔کیونکہ وہ ڈرتی ہے کہیں تمہیں کھو نہ دے۔اس لئے اگر تمہاری زندگی میں کوئی خاص ہے،کوئی ایسی زندگی ہے جو تمہیں اپنا خاص سمجھتی ہے، ماں بہن ، بیٹی یا بیوی۔۔تو ۔۔۔ہر رات کو سونے سے پہلے ایک بار چوری چوری دیکھ لینا،وہ سکون سے سو رہی ہے،یا کسی غم سے رو رہی ہے۔

مقدر

ضروری نہیں کہ زندگی میں وہی سب کچھ ملے جس کی آپ تمنا کریں۔زندگی اسی طرح چلے جس طرح آپ چاہیں۔دنیا میں اربوں کھربوں خواہشات ایک دوسرے سے متصادم ہیں ،ایک انسان کی خواہش دوسرے کی تمنا کی ضد ہو سکتی ہے ۔اسی لئے کہتے ہیں، چاہ سے بڑھ کر بھی ایک اور چیز ہوتی ہے جسے مقدر کہا جاتا ہے۔یہ بدلتا نہیں بدل دیتا ہے۔

کام کی باتیں

شکایت مت کر :اپنی قسمت کی اور زمانہ کی۔اپنے ذاتی مکان کی تنگی کی۔اولاد کے سامنے اپنے بڑوں کی۔کبھی بھول کر بھی ماں ، باپ اور استاد کی۔غیر کے سامنے اپنے دوست کی۔بیوی کے سامنے اس کے میکے والوں کی۔ رخصت کرنے کے بعد اپنے مہمان کی۔

منتظر رہے :زیادہ کھانے والا بیماری کا۔اوباش یاروں والا بربادی کا۔چغل خوری کرنے والا ذلت و خواری کا۔ خسرو ساس سے برابر برتاؤ کرنے والا اپنے داماد کا۔ماں باپ کا نا فرمان اپنی اولاد کی نا فرمانی اور مفلسی کا۔ ظلم کرنے والا اپنی ہلاکت کا۔ پڑوسی کو تکلیف پہنچانے والا خدا کے قہر و عذاب کا۔

بہتر ہے:بد کار اور برے آدمی کی صحبت سے سانپ کی صحبت۔جھگڑا مول لینے سے غم کھانا۔ بے غیرتی کی زندگی سے عزت کی موت۔بے موقع بولنے کی عادت سے گونگا ہو جانا۔ چھچھورے آدمی کی مدد اور ہدیہ سے فاقہ۔ حرام مال کی مالداری سے مفلسی۔ خوف و ذلت کے حلوے سے آزادی کی خشک رو ٹی۔

غور طلب

بے نقاب:لوگ بدلتے نہیں، بس بے نقاب ہوتے ہیں۔اور ایک بار جب ان کی شخصیت کا حقیقی رنگ نظر آ جائے،تو کوشش کریں کہ اسے دوبارہ رنگنے کی زحمت نہ پڑے۔ آپ خود ہی کنارا کرلیں

خاموشی:میں خاموش ہوں تو صرف تمہاری خوشی کے لئے۔یہ مت سمجھنا میرا دل نہیں دکھتا۔

جب سے سب ہی کے الگ الگ مکان ہو گئے تو پورا بچپن ساتھ بتانے والے بہن بھائی بھی ایک دوسرے کے ہاں مہمان ہو گئے۔

نسخہ کیمیا:جب زمین تنگ ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھنا،سوال مت کرنا صرف اتنی دعا کرنا،اے میرے رب تو راضی تو میں بھی راضی۔پھر دیکھنا دنیا کیسے بدلتی ہے۔

جہل:جو سچ کہوں تو بھی برا لگے،جو دلیل دوں تو ذلیل سمجھے،دلیل تھی نہ کوئی حوالہ تھا،عجیب لوگ تھے بس اختلافات رکھتے تھے۔کچھ سماج جہل کی زد میں ہیں،وہاں بات کرنا حرام ہے۔

نا شکرا

شکر ادا نہ کرنا بھی ایک بیماری ہے۔ایسی بیماری جو ہمارے دل کو روزانہ ہی کشادگی سے تنگی کی جانب لے جاتی ہے۔جو ہماری زبان پر شکوہ کے علاوہ اور کچھ آنے ہی نہیں دیتی۔اگر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنے کی عادت نہ ہو تو ہمیں انسانوں کا شکریہ ادا کرنے کی عادت بھی نہیں پڑتی۔اگر ہمیں خالق کے احسانوں کو یاد کرنے کی بھی عادت نہ ہو تو ہم کسی مخلوق کا احسان ادا کرنے کی عادت کو بھی نہیں سیکھ سکتے۔(پیر کامل)

لفظوں کی مسکراہٹ

ایک جگہ زخمی کر دینے والے آلات کی مجلس جمی تھی۔چاقو ، چھری خنجر ،تلوار، تیر اور تفنگ سمیت سب ہی اپنے اپنے گھائو پر بات کر رہے تھے۔اچانک تلوارکو جوش آیااوراکڑ کے پوچھا۔۔۔کوئی بتائے گا کہ ہم میں سب سے گہرا گھائو کس کا ہوتا ہے،جس کے بعد آدمی چھلنی چھلنی ہو جاتا ہے؟ہر ایک نے اپنی اپنی بات کہی مگراسی مجلس میں ’’الفاظ‘‘ سب کی باتیں سن کر مسکرا تے تھے۔۔۔!

نور ہی نور

انسان کیا کرے کہ آسمانوں اورزمین جتنا نور مل جائے، اتنا نور مل جائے کہ اس کی ساری زندگی روشن ہو جائے۔دل کو مارے بغیر نور نہیں ملتا۔دل کو مارنا ہی پڑتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ٹھوکر بھی کھائی جائے۔ انسان ٹھوکر کھائے بغیر،زخم کھائے بغیر،خود کو جلائے بغیربات کیوں نہیں مانتا؟پہلی دفعہ میں ہاں کیوں نہیں کہتا،پہلے حکم پر سر کیوں نہیں جھکاتا؟ہم سب کو آخر منہ کے بل گرنے کا ہی انتظار کیوں رہتا ہے۔ (نمرہ احمد )

مٹی کی کہانی

مٹی سے بنا تھا،مٹی ہی بن جائوں گا،اس سے آگے کچھ ناکرپایا،نہ کر پائوں گا۔روتا ہوا آیا تھا روتا ہوا جائوںگا،روتا ہوا آیا تھا رلاتا ہوا جائوں گا۔پیروں کی دھول ہوں ہوامیں بکھر جائوں گا۔جب دنیا تیری چھوڑ کر یہاںسے جائوں گا۔دیکھ لینا بھئی،میں جیسا بھی ہوں تم کو بہت یاد آئوں گا۔

معافی

زبان سے معاف کرنے میں کوئی وقت نہیں لگتا ۔لوگ ایک منٹ میں سوری یا معاف کیا کہہ دیتے ہیں ۔مگر دلوں میں ایسی خلش پال رکھی ہوتی ہے جو کئی نسلوں کو تباہ کر دیتی ہے۔حقیقی معافی میں عمریں بیت جاتی ہیں

خاموشی

میں خاموش ہوں تو صرف تمہاری خوشی کے لئے۔یہ مت سمجھنا میرا دل نہیں دکھتا۔ جب سے سب ہی کے الگ الگ مکان ہو گئے تو پورا بچپن ساتھ بتانے والے بہن بھائی بھی ایک دوسرے کے ہاں مہمان ہو گئے۔

سراپا رحم

کیسی ہے یہ بے چینی۔کیسی ہے فکر اور پریشانی،حالانکہ اس کی رضا میں ہماری خیر ہی خیر ہے۔ہماری خیر اس کے کن سے ہے،اس کا کن اس کی حکمت سے ہے۔اور اس کی حکمت میں اس کی محبت ہے۔اور محبت کبھی ظالم نہیں ہوتی،محبت تو سراپا رحم ہے۔

شیخ سعدی شیرازیؒ نے کہا

زندگی کی درازی کا راز صبر میں ہے۔

اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا نام باقی رہے تو اولاد کو اچھی باتیں سکھائو۔

اگرچہ انسان کو مقدر سے زیادہ رزق نہیں ملتا،لیکن رزق کی تلاش میں کسی کو سستی نہیں کرناچاہیے۔

شیر سے پنجہ آزمائی کرنا او رتلوار پر مکا مارنا عقل مندی نہیں۔

موتی اگر کیچڑ میں بھی گر جائے تو بھی قیمتی ہے اور گرد اگر آسمان پر بھی چھلکی جائے تو بھی بے قیمت ہے۔

جو شخص دوسروں کے غم سے بے غم ہے، وہ آدمی کہلانے کا مستحق نہیں۔

کڑوا سچ

ماں کے سوا کوئی ہمیشہ وفادار نہیں رہتا۔

غریب کا کوئی حقیقی دوست نہیں ہوتا۔

اب اکثر لوگ اچھی سیرت پر اچھی صورت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

عزت صرف پیسے کی ہے، جو اپنی عزت سمجھتا ہے وہ غریب ہو کر دیکھ لے۔

انسان جس شخص سے مخلص ہوتا ہے اکثر اسی سے دھوکا بھی کھاتا ہے۔

آقا اور غلام

حکایت مولانا رومیؒ

 

کسی امیر کے پاس ایک نہایت محنتی ،دیانتدار متقی اور پرہیز گارغلام تھا، سنقر نام کا۔وہ اپنے ایمان اور خدا کی محبت میں جتنا پختہ تھا ، اس کا آقا اتنا ہی کمزور اور نافرمان تھا۔ ایک دفعہ آدھی رات کے قریب آقا نے سنقر کو آواز دی کہ بستر سے نکل، سفر کا سامان ساتھ لے اور میرے ہمراہ چل۔ سنقر نے آقا کی پہلی آواز ہی پر گرم گرم بستر چھوڑ دیا، جھٹ پٹ ضروری سامان ساتھ لیا اور آقا کے ہمراہ چل پڑا۔ راستے میں ایک مسجد سے اذانِ فجر کی آواز آئی سنقر نے آقا سے کہا :

’’حضور! آپ ذرا ایک طرف قیام فرمائیں، فجر کی نماز ادا کرلوں۔‘‘

آقا نے کہا ’’بہت اچھا ، لیکن جلدی آنا۔‘‘

غلام مسجد کے اندر گیا اور خدا سے غافل آقا باہر اس کا انتظار کرنے لگا۔ اس انتظار میں بہت دیر ہوگئی۔ ایک ایک کر کے سارے نمازی اور آخر میں امام مسجد بھی باہر آگیا لیکن سنقر دکھائی نہ دیا۔ تب آقا نے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی ’’سنقر! سنقر! باہر کیوں نہیں نکلتا؟‘‘ مسجد کے اندر سے سنقر نے جواب دیا ’’آقا! کیا بتائوں مجھے باہر نہیں آنے دیتے ۔ مجھے خبر ہے، آپ انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

غرض سات بار آقا نے مسجد کے دروازے پر جاکر غلام کو پکارا اور ہر مرتبہ اس نے اندر سے یہی جواب دیا کہ مجھے ابھی باہر نہیں آنے دیتے۔ ذرا ٹھہریے۔‘‘ آقا کو طیش آیا۔ کہنے لگا ’’ارے سنقر! نمازی اور امام تو سب نماز پڑھ پڑھ کر اپنے ٹھکانوں کو جا چکے اب تو اکیلا مسجد میں کیا کر رہا ہے؟ وہ کون ہے جو تجھے باہر نہیں آنے دیتا۔‘‘

سنقر کی آواز آئی ’’حضور! یہ وہی ہے جو آپ کو مسجد کے اندر نہیں آنے دیتا۔ اس نے مجھے باہر جانے سے روک رکھا ہے۔‘‘

اے فرزند عزیز! تو نے دیکھا کہ سمندر میں لاکھوں ،کروڑوں مچھلیاں ہوتی ہیں، لیکن وہ انہیں اپنے ارادے اور اجازت سے باہر نہیں نکلنے دیتا اور خشکی کے جانوروں کو اپنے اندر آنے نہیں دیتا۔ مچھلی کی اصل پانی اور چوپائے کی اصل مٹی ہے، اس لیے ان قوانین قدرت کے آگے کوئی حیلہ، کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی۔ اگر ایسا بھاری تالا کبھی پڑ جائے تو خدا کے کھولنے ہی سے کھل سکتا ہے۔ انسان کی کیا مجال جو اسے کھولے۔

 

نصیر احمد ناصرؔ

طاقِ ماضی میں جو رکھے تھے سجاکر چہرے

لے گئی تیز ہوا غم کی اُڑا کر چہرے

جن کے ہونٹوں پہ طرب خیز ہنسی ہوتی ہے

وہ بھی روتے ہیں کتابوں میں چھپا کر چہرے

کرب کی زرد تکونوں میں کئی ترچھے خطوط

کس قدر خوش تھا میں کاغذ پہ بنا کر چہرے

موقلم لے کے مرے شہر کی دیواروں پر

کس نے لکھا ہے ترا نام مٹاکر چہرے

لوگ پھرتے ہیں بھرے شہر کی تنہائی میں

سرد جسموں کی صلیبوں پہ اُٹھاکر چہرے

 

گوہر ہوشیار پوری

زندگی کس سے وفا کرتی ہے

سانس بھی گن کے عطا کرتی ہے

عشق بھی کیا ہے کہ دھڑکن دھڑکن

دل کے لٹنے کی دُعا کرتی ہے

لفظ بھی کاٹ کے رکھ دیتا ہے

بات بھی حشر بپا کرتی ہے

بخش دیتا ہے خدا تو پھر بھی

دیکھ جو خلق خدا کرتی ہے

ذکر طاقت کے نشے کا آیا

عاشقی شکر اداکرتی ہے

اُس کے لہجے کی کرامت والو!

نقل پھر نقل ہوا کرتی ہے

محمد دین تاثیر

حسن کے رازِ نہاں شرحِ بیاں تک پہنچے

آنکھ سے دل میں گئے، دل سے زباں تک پہنچے

دل نے آنکھوں سے کہی، آنکھوں نے ان سے کہہ دی

بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے

عشق پہلے ہی قدم پر ہے یقیں سے واصل

انتہا عقل کی یہ ہے کہ گماں تک پہنچے

کعبہ و دیر میں تو لوگ ہیں آتے جاتے

وہ نہ لوٹے جو درِ پیرِ مغاں تک پہنچے

آنکھ سے آنکھ کہے دل سے ہوں دل کی باتیں

وائے وہ عرضِ تمنا جو زباں تک پہنچے

میرا جی

نگری نگری پھرا مسافر، گھر کا رستہ بھول گیا

کیا ہے تیرا، کیا ہے میرا، اپنا پرایا بھول گیا

کیا بھولا، کیسے بھولا، کیوں پوچھتے ہو بس یوں سمجھو

کارن دوش نہیں ہے کوئی، بھولا بھالا بھول گیا

کیسے دن تھے، کیسی راتیں، کیسی باتیں گھاتیں تھیں

من بالک ہے، پہلے پیار کا سندر سپنا بھول گیا

اندھیارے سے ایک کرن نے جھانک کے دیکھا شرمائی

دھندلی چھب تو یاد رہی، کیسا تھا چہرہ، بھول گیا

یاد کے پھیر میں آ کر دل پر ایسی کاری چوٹ لگی

دکھ میں سکھ ہے، سکھ میں دکھ ہے، بھید یہ نیارا بھول گیا

ایک نظر کی، ایک ہی پل کی بات ہے دوری سانسوں کی

ایک نظر کا نور مٹا جب اک پل بیتا، بھول گیا

سوجھ بوجھ کی بات نہیں ہے من موجی ہے مستانہ

لہر لہر سے جا سر پٹکا، ساگر گہرا بھول گیا

ہنسی ہنسی میں، کھیل کھیل میں، بات کی بات میں رنگ مٹا

دل بھی ہوتے ہوتے آخر گھائو کا رستا بھول گیا

اپنی بیتی جگ بیتی ہے جب سے دل نے جان لیا

ہنستے ہنستے جیون بیتا، رونا دھونا بھول گیا

کوئی کہے یہ کس نے کہا تھا، کہہ دو جو کچھ جی میں ہے

میراؔ جی کہہ کر پچھتایا اور پھر کہنا، بھول گیا

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

دل میں کیا سوچ کے ماں باپ نے پالے بچے

اور حالات نے کس رنگ میں ڈھالے بچے

آپ کھولیں تو سہی ان پہ درِ رزقِ حلال

پھر نہ توڑیں گے کب ...

مزید پڑھیں

ہنستے روز، مہکتی شب، سب بھول گئے

چھوڑ گئے وہ ہم کو کب، سب بھول گئے

کون ہے باعث مرنے کا کیوں یاد کریں

کون رہا جینے کا سبب، سب ب ...

مزید پڑھیں

آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گے

اتنے مانوس صیّاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گے

اور کچھ دن ی ...

مزید پڑھیں