☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا شخصیت عالمی امور سنڈے سپیشل یوم عاشور کچن کی دنیا صحت تحقیق غور و طلب تاریخ

منتخب شاعری

2019-09-08

شام ِ غریباں

سید طالب علی بخاری

شام ِ غریباں شام سے پہلے ہی آ گئی

میدانِ کربلا میں قیامت اُٹھا گئی

خیمے جلے رسول ؐ کی مسند جلا گئی

اولادِ مصطفیٰؐ کو لہو میں سُلا گئی

ظالم کے ظلم و جور کے سب راز فاش ہیں

اِک کیا بہتروں (72) کے بدن پاش پاش ہیں

ڈوبا ہُوا لہو میں ہے میدانِ کربلا

دِل کٹ رہا ہے پیاس سے اَور خشک ہے گلا

منظر نہ کوئی دیتا ہے منظر کو بھی صدا

بچے ہراساں زینب ؓو کلثومؓ بے ردا

کِس کِس ستم کا ذکر کروں حوصلہ نہیں

ایسا عجب لہو کا کوئی مرحلہ نہیں

دم گھُٹ رہا ہے سانس بھی لینا محال ہے

ڈالا ہُوا یزید کی فوجوں نے جال ہے

گردش میں آج صبر و ستم کا کمال ہے

سیدؓ کا آج پورا گھرانہ نڈھال ہے

وہ گھُپ اندھیری رات کا سناٹا ، بے بسی

شامِ غریباں کیا ہے عجب تیری منظری

مجبور ہر بشر کا یہاں فکر و غور ہے

بدلا ہُوا شعور ہے ظالم کا دور ہے

شام ِ غریباں تیرا بھی کیا خوب طور ہے

بچے بھی رو نہ سکتے تھے وہ ظلم وجور ہ

مشکیں کسی ہوئی ہیں صغیر و کبیر کی

معراج ہے یزید کے مُردہ ضمیر کی

شام ِ غریباں تُو نے بھی کیا دِن دکھائے ہیں

سید انیوں کو ظلم کے کوڑے لگائے ہیں

گِن کر دئیے لہو کے بہتر (72)جلائے ہیں

بچوں کی سسکیوں پہ بھی پہرے بٹھائے ہیں

زینب ؓکسی بھی غم کو نہ کُھل کر بتا سکی

آنسو بھی بھائی کے نہ لہو میں مِلا سکی

زینب ؓہے درمیان میں لاشیں ہیں چار سُو

بھائی ، بھتیجے اَور ہیں بیٹے لہو لہو

وہ کربلا وہ خونِ علی ؓو نبی ؐ کی بُو

سیدانیوں کو رکھنا پڑی حق کی آبرو

میدانِ ہست و بود میں صفدرؓکی لاڈلی

شیرانہ وار ڈٹ گئی حیدر ؓکی لاڈلی

سہمے ہوئوں کو سینے سے اپنے لگا لیا

کرنا جو اِس گھڑی تھا ضروری وہی کیا

خونِ جگر پیا کبھی صبر و نمو پیا

زینب ؓنے حوصلہ علی ؓجیسا دِکھا دیا

ظلم و ستم کے آخری ساماں سلام لے

اے سر زمین ِ شام ِ غریباں سلام لے

خوشبو تجھی سے آتی ہے خلقِ رسولؐ کی

خونِ علی ؓکی شیرِ جنابِ بتولؓ کی

گنجِ شہیداں ، منظرِ یزداں سلام لے

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے 

ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے 

سب ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے 

شمشیر بکف دیکھ کے حیدر ؓکے پسر کو 

جبریلؑ لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو 

خود فتنہ و شر پڑھ رہے ہیں فاتحۂ خیر 

کہتے ہیں انالعبد لرز کر صنم دیر 

جاں غیر ہے تن غیر مکیں غیر مکاں غیر 

نے چرخ کا ہے دور نہ سیاروں کی ہے سیر 

سکتے میں فلک خوف سے مانند زیں ہے 

جز بخت یزید اب کوئی گردش میں نہیں ہے 

یوسف ہے یہ کنعاں میں سلیماں ہے سبا میں 

عیسیٰؑ ہے مسیحائی میں موسیٰ ؑہے دعا میں 

ایوبؑ ہے یہ صبر میں یحییٰؑ ہے بکا میں 

شبیرؓ ہے مظلومی میں حیدرؓ ہے وغا میں 

کیا غم جو نہ مادر نہ پدر رکھتے ہیں آدم ؑ

عباسؓ سا دنیا میں پسر رکھتے ہیں آدم ؑ

پنجے میں یداللہ ہے بازو میں ہے جعفر ؓ

طاعت میں ملک خو میں حسنؓ زور میں حیدر ؓ

اقبال میں ہاشم تو تواضع میں پیمبر 

اور طنطنہ و دبدبہ میں حمزۂ صفدر 

جوہر کے دکھانے میں یہ شمشیر خدا ہے 

اور سر کے کٹانے میں یہ شاہ شہدا ہے 

شاہوں کا چراغ آتے ہی گل کردیا ہم نے 

ہر جا عمل ختم رسل کر دیا ہم نے 

خندق پہ در قلعہ کو پل کر دیا ہم نے 

اک جزو تھا کلمہ اسے کل کر دیا ہم نے 

دھوکا نہ ہو یہ سب شرف شیر خدا ہیں 

پھر وہ نہ جدا ہم سے نہ ہم ان سے جدا ہیں 

خیمے میں قیامت ہوئی فریاد بکا سے 

سہمی ہوئی کہتی تھی سکینہؓ یہ خدا سے 

غارت ہو الٰہی جو لڑے میرے چچا سے 

وہ جیتے پھریں خیر میں مرجاؤں بلا سے 

صدقے کروں قربان کروں اہل جفا کو 

دو لاکھ نے گھیرا ہے مرے ایک چچا کو 

ہے ہے کہیں اس ظلم و ستم کا ہے ٹھکانا 

سقے پہ سنا ہے کہیں تلوار اٹھانا 

کوئی بھی روا رکھتا ہے سید کا ستانا 

جائز ہے کسی پیاسے سے پانی کا چھپانا 

ہفتم سے غذا کھائی ہے نے پانی پیا ہے 

بے رحموں نے کس دکھ میں ہمیں ڈال دیا ہے 

اچھی مری اماں مرے سقے کو بلاؤ 

کہہ دو کہ سکینہؓ ہوئی آخر ادھر آؤ 

اب پانی نہیں چاہیے تابوت منگاؤ 

کاندھے سے رکھو مشک جنازے کو اٹھاؤ 

ملنے مری تربت کے گلے آئیں گے عباسؓ 

یہ سنتے ہی گھبرا کے چلے آئیں گے عباسؓ

مرزا سلامت علی دبیر  

 

پہلی ایجاد

یہ غلط فہمی اکثر لوگوں کو ہے کہ دنیا کی پہلی ایجادپہیہ ہے ۔ پہیہ انسانی تاریخ کی اولین ایجادات میں سے ایک ضرور ہے، لیکن پہلی ایجاد نہیں ہے۔یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ زمین پر انسانی زندگی کے آغاز پر آدمی نے سب سے پہلے اپنی بھوک مٹانے کا سامان کیا۔ پھر خطرناک جنگلی جانوروں سے بچنے کے لئے اس نے آگ کا استعمال کیا ۔پس یہی مخصوص پتھر جن سے آگ جلائی گئی اور وہ ہتھیار جن سے جانوروں کا شکار کیا گیا،وہ انسان کی پہلی ایجاد ہیں۔ پہیہ قدرے بعد کی بات ہے۔(جاوید حیدر)

شرط

بسا اوقات لوگ ایسی شرط لگاتے ہیں جو انہیں سیدھا جہنم میں لے جا سکتی ہے ۔شرط لگاتے وقت خدا ، اسلام یا اس طرح کی کوئی اوربات کرنا غیر شرعی ہے۔حضور نبی کریم ؐ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کہا کہ ’’میں ایسا کروں یا ویسا کروں تو میں اسلام سے خارج ہو جائوں‘‘ یہ بات کہنے والا خواہ سچا بھی ہو تو وہ اسلام کی جانب صحیح سالم نہیںلوٹے گا ۔کیونکہ اس نے اسلا م کو اپنے آپ سے حقیر جانا اور اس کی شرط لگا لی، جس سے اسلام غیر اہم اور کوئی ایک ثانوی چیز بن کر رہ گیا۔ یہ شر ط گناہ ہے۔

خاموشی کیا ہے؟

جانتے ہوخاموشی کیا ہے؟خاموشی ایک زبان ہے۔جسے ہر کوئی اپنے ڈھنگ سے بولتا ہے۔خاموشی بولتی ہی نہیں چیختی بھی ہے۔پکارتی اور لتاڑتی بھی ہے۔۔محبوبہ خامو ش رہے توناراضی۔۔۔محبوب خاموش رہے تو بزدلی۔والدین خاموش رہیں تو مجبوری،اولاد خاموش رہے تو سعادت مندی ،قوم خاموش رہے تو مظلومیت،حکمران خاموش رہیں تو سیاست۔۔۔یہ خاموشی سکہ رائج الوقت ہے۔جب بھی رائج ہوتی ہے تو کسی کو بیچ دیتی ہے یا کسی کو خرید لیتی ہے۔لیکن یہ ہمیشہ رائج نہیں رہتی۔خاص مواقعوں پر ہی استعمال ہو تی ہے۔اسی لئے کم بولنے اور زیادہ سننے والوں کو عقلمند کہا جاتا ہے۔

وقت کی طاقت

وقت کی طاقت کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔یہ بڑے سے بڑا زخم سی دیتا ہے،دوستوں کو دشمن اور دشمن کو دوست بنا دیتا ہے۔سگے رشتے داروں کو غیر اور غیروں کو سگے بھائی سے بڑھ کر حیثیت دلوا دیتا ہے۔مشکل سے مشکل وقت کو ایسے گزار دیتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔اس کو ہاتھ سے جانے نہ دیجئے، ورنہ یہ اس قدر رلاتا ہے پھر ہنسی ہونٹوں سے غائب ہو جاتی ہے۔

بچپن

مجھے آج بھی بچپن کی وہ ساری نمازیں یاد آتی ہیں اور سوچتے ہوئے دماغ مائوف ہو جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس بچپن میں مجھے میرا رب کتنا یاد تھا۔ اور آج میں اسے کس قدر بھولا ہوا ہوں ۔ اس وقت مجھے جب آیات قرآنی یادتھیں نہ نماز پوری طرح پڑھنا آتی تھی ۔ 2-3سال کا چھوٹا سا بچہ تھا مگر یہ علم تھا کہ میرا رب میری ساری باتیں سنتاہے۔

سب ٹھیک ہو گیانا!

تم مجھے کہتے ہو کہ میں تھوڑا انتظار کروں سب ٹھیک ہو جائے گا!لیکن میں جانتی ہوں کہ کچھ بھی نہیں ٹھیک ہو گا،سب کچھ ویسا ہی رہے گا۔ہاں ، وقت گزرتے گزرتے میں اس کی عادی ہو جائوں گی۔اس ماحول کی،اس طرز زندگی کی۔پھر مجھے کچھ بھی برا نہیں لگے گا،اور پھر تم کہو گے۔۔۔۔دیکھا!سب ٹھیک ہو گیا نا!

سویا ہوا انسان

ایک مرتبہ شاہ عبدالعزیز کی ایک عیسائی پادری سے نوک جھونک ہو رہی تھی۔ موضوع گفتگو مذہب تھا۔ دونوں ایک دوسرے پر بڑے شگفتہ اور مہذب انداز کی چوٹیں کر رہے تھے۔ پادری نے کہا، ایک بات تو بتائیے اگر ایک مسافر راستہ بھول جائے اور ایسی جگہ جا پہنچے جہاں ایک انسان سویا ہواہے اور ایک انسان بیٹھا ہوا جاگ رہا ہے تو مسافر راستہ کس سے پوچھے گا؟۔ شاہ عبدالعزیز نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ سوئے ہوئے آدمی کے پاس بیٹھا ہوا خوداس انتظار میں ہے کہ کب سویا ہوا انسان اٹھے اور اس سے راستہ پوچھے، لہٰذا دوسرے مسافر کو وہیں بیٹھ کر انتظار کرنا چاہیے، پادری اس جواب پرلاجواب ہو گیا۔

بہت آسان ہے بندہ بننا !

انسان سے بندہ بننا کوئی مشکل نہیں۔دنیا میں خالی ہاتھ آئے تھے خالی ہی جانا ہے،جتنی ضرورت ہو اتنا ہی رکھو،جو مل جائے اس پر شکر کر لو،جو چھن جائے اس پر افسوس نہ کرو،جو مانگ لے اسے دے دو،جو بھول جائے اسے بھول جاؤ،ہجوم سے پرہیز کرو ،تنہائی کو ساتھ بناؤ،،جسے خدا نے ڈھیل دی ہو اس کا احتساب کبھی نہ کرو،کوئی پوچھے تو سچ بولو ورنہ چپ رہو،بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہیں چھوڑنا دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا،جو جارہا ہو اسے جانے دو لیکن اگر کوئی واپس آئے تو اس کے لئے دروازے کھلے رکھو۔

خوش گپیاں!

تمہاری نیندیں حرام کرنا چاہتی ہوں۔۔

۔مختصریہ کہ تمہاری بیوی بننا چاہتی ہوں۔

پاکستان میں خالص دودھ صرف گائے کا بچہ ہی پیتا ہے۔

سانس رک سی جاتی ہے تمہاری لائیک کسی اور کی پوسٹ پر دیکھ کر۔

بات بات پہ منہ پھلا لیتے ہو، پچھلے جنم میں غبارے تھے کیا!!

دل میں آنے کا رستہ ہے جانے کا نہیں۔ اس لئے جب کوئی نکلتا ہے تو دل توڑ کر ہی نکلتا ہے۔

آج کل لوگ اس لئے کچھ نیند لے لیتے ہیں کہ ان کا موبائل چارج ہو جائے۔

خوبصوت بات

زندگی میں خود کوکبھی کسی بات کا عادی نہ بنانا کیونکہ انسان بہت خود غرض ہے کیونکہ جب وہ آپ کو پسند کرتا ہے تو وہ آپ کی برائی بھول جاتا ہے اور جب وہ آپ سے نفرت کرتا ہے تو ہر اچھائی بھول جاتا ہے۔ ہم اس بدنصیب معاشرے کا حصہ ہیں جہاں حسن کا معیار گورا رنگ اور عقل کا معیار انگریزی زبان ہے۔ میری زندگی میں آنے والے تمام کمزور لوگوں کا شکریہ جن سے میں نے سیکھا کہ مجھے ان جیسا نہیں بننا۔ لوگ اچھا پڑھنے اور اچھا لکھنے والے کو قابل انسان سمجھتے ہیں حالانکہ اچھا وہ ہوتا ہے جو سوچے بھی اچھا اور بول بولے بھی اچھا۔

انفرادیت

ابھی تک ایسی گوندایجاد نہیں ہوئی جو انسان کو انسان سے مستقلََا جوڑ سکے۔انسان ہمیشہ اپنی انفرادیت قائم رکھنا چاہتاہے ۔کسی میں ضم ہوتاہے اورنہ کسی اور کو اپنے میں ضم ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ (بانو قدسیہ)

سچا راستہ

روحانیت کے راستے پر چلنا ہے تودل سے کینہ، حسد ، بغض،نفرت اور تکبر کو نکالنا پڑے گا۔اللہ کی مدد لینی ہے تو اس کے بندوں پر بھی مہربان ہوناپڑے گا۔عبادت سے پارسائی ملتی ہے، اور نیکیاں کرنے سے رب ملتا ہے۔

تین سوال

حکایت شیخ سعدیؒ

لو… وہ پھر آگیا… بازار سے گزرتے ہوئے ایک راہگیر نے دوسرے سے کہا اور جس کے بارے میں وہ کہہ رہا تھا وہ شخص ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گیا۔ ہے کوئی مسلمان جو میرے تین سوالوں کا جواب دے۔ اس نے یہ جملہ تین بار کہا مگر کوئی آگے نہ بڑھا پھر اس نے قہقہہ لگایا اور اتر کر واپس چلا گیا۔ آخر کب تک یہ تماشا ہوتا رہے گا۔ ایک دکاندار نے دوسرے سے کہا۔ کیا کریں بھائی وہ غیر مسلم ہو کر مسلمانوں کو للکار رہا ہے مگر ہم مسلمان اس کے سوالوں کا جواب نہیں دے پا رہے۔ پھر تھوڑی دیر بعد اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے۔ کوئی ایک مہینہ پہلے وہ شخص نمودار ہوا تھا۔ وہ پڑھا لکھا تھا، لیکن تھا غیرمسلم… اس نے آتے ہی تمام مسلمان علماء کو للکارنا شروع کردیا کہ کوئی اس کے تین سوالوں کا جواب دے لیکن سب ناکام رہے۔ وہ شخص ہر روز اپنا یہی جملہ دہراتا اور جب کوئی جواب نہ دے پاتا تو وہ اسلام کے خلاف باتیں کرتا۔ مگر کوئی اس کے سوالوں کا جواب نہ دے پاتا۔

ایک دن اس نے اونچے ٹیلے پر چڑھ کر وہی جملہ دہرایا۔ وہ ڈینگیں مار رہا تھا کہ قریب سے جاتے ہوئے ایک بچے نعمان نے یہ سنا۔ اس سے برداشت نہ ہوا۔ اس نے اللہ کا نام لیا اور آگے بڑھا۔ میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا۔ بچے نے رعب دار آواز میں کہا۔ وہ ہنسا اور کہنے لگا، تم میرے سوالوں کا جواب دو گے؟ بچے نے کہا ہاں میں دوں گا۔ انشاء اللہ۔ وہ مضبوط لہجے میں کہنے لگا۔ بازار میں تمام موجود افراد معصوم لڑکے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس نے کہا ’’بتائو تمہارا پہلا سوال کیا ہے؟

کافر نے کہا ’’میرا پہلا سوال یہ ہے بتائو تمہارا خدا اس وقت کیا کر رہا ہے؟

مجمع خاموش تھا۔ لڑکا بولا جناب بتانے والے کا درجہ پوچھنے والے سے زیادہ ہوتا ہے۔ بس آپ اپنی جگہ سے نیچے آئیں میں اوپر جائوںگا اور آپ کے سوالوںکا جواب دوں گا۔ وہ شخص نیچے اتر آیا۔ وہ لڑکا اوپر چڑھ کر بولا۔ لوگو گواہ رہنا… اس وقت میرا خدا کافر کے مرتبہ کو گھٹا رہاہے اور مسلمان کے مرتبہ کو بڑھا رہا ہے۔ پورا مجمع یہ سن کرہنسنے لگا۔ کافر شرمندہ سا ہوا۔ بتائو تمہارا دوسرا سوال کیا ہے؟ بچے نے پوچھا۔ بتائو خداسے پہلے کیا تھا؟ کافر نے بچے سے کہا۔ بچے نے جواب دیا تم دس سے الٹی گنتی گنو۔ اس نے الٹی گنتی شروع کی دس، نو، آٹھ سات، چھ، پانچ، چار، تین، دو ایک اور پھر وہ چپ ہوگیا۔ بولو رک کیوں گئے؟ گنتی گنو۔ اس سے پہلے تو کچھ نہیں ہے۔ کافر بولا۔ بچے نے کہالوگو! گواہ رہنا اللہ ایک ہے اوراس سے پہلے کچھ نہ تھا۔ تیسرا سوال: اس دفعہ مجمع خوشی سے چلایا۔ کافر نے پوچھا، بتائو خدا کا منہ کس طرف ہے؟ بچے نے سوچ کر کہا موم بتی لائو۔ موم بتی لائی گئی بچے نے اس کو روشن کیا اور پوچھا اس کا منہ کس طرف ہے؟ کافر نے کہا چاروں طرف، بچے نے کہا لوگوں گواہ رہنا…خدا ایک نور ہے اور وہ بھی چاروں طرف پھیلا ہوا ہے۔ کافر کو شکست فاش ہوگئی اوراللہ نے ایک معصوم بچے سے کام لے کر تعلیم یافتہ کافر کو شکست دی۔ یہ بچہ بڑا ہو کر وقت کا سب سے بڑا امام بنا۔ جی ہاں! یہ حضرت امام ابوحنیفہؒ تھے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حکایت مولانا رومیؒ

اے فرزند عزیز! ایک حکایت دھیان سے سن کہ تو کبھی طاقت لسّانی اور ہنر کے فریب میں نہ آ۔ تین آدمیوں نے کسی مقصد کے لیے ...

مزید پڑھیں

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو

جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو

رسمیں اس اندھیر نگر کی نئی نہیں یہ پران ...

مزید پڑھیں

غنچے سے مسکرا کے اُسے زار کر چلے

نرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے

پھرتے ہو باغ میں تو پکارے ہے عندلیب

صبحِ بہار گل پہ شبِ تار ...

مزید پڑھیں