☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
قابلیت نہیں ادب

قابلیت نہیں ادب

تحریر : محمد ارسلان رحمانی

12-08-2019

آج اتوار تھا، معمول کے مطابق اساتذہ کی قیمتی نصیحتیں سننے گھر سے صبح صبح ہی نکل پڑا۔ تقریباََ 10 منٹ کی مسافت پر مرکزی شاہراہ ہے، اسی درمیان ایک بازار بھی پڑتا ہے، روڈ کی طرف جاتے ہوئے اپنے خیالوں میں گم سم بازار سے گزررہا تھا، اتنے میں محسوس ہوا کہ پیچھے سے کوئی موٹرسائیکل والا ہارن کے ساتھ ساتھ مجھے آوازیں بھی دے رہا ہے۔

مڑ کر دیکھا تو دنگ ہی رہ گیا۔ میلے اور پھٹے کپڑے، خستہ حال یہ عبداللہ تھا۔ ار ے آپ؟ یہ کیا حال بنارکھا ہے؟ کہاں سے آرہے ہیں؟ میں نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے ایک ساتھ پوچھا۔ حالت دیکھ کر سلام کرنا بھی یاد نہیں رہا اور سوالات کی بھرمار کردی۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ بیٹھایا اور پھر کئی باتیں ہوئیں ۔عبداللہ میرا کلاس فیلو تھا ، جس کا شمار ذہن طلبہ میں ہوتا تھا، کئی امتحانات میں عبداللہ پوزیشن ہولڈر بھی رہا۔ مجھے یاد ہے کہ جس کتاب کو ہم 10 بار پڑھ لینے کے بعد بھی یاد نہ کر پاتے عبداللہ صرف ایک بار ہی پڑھتا اور اس کو یاد ہوجاتی۔ ایسے ہونہار ذہین طالبعلم کو اس حال میں دیکھ کر تو کوئی بھی حیران ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔ وہ وجہ کیا تھی جو عبداللہ کو یہاں تک لائی۔

ہم دوران درس اپنے اساتذہ سے 2 باتیں بہت سنتے آئے تھے کہ دین میں قابلیت نہیں، قبولیت شرط ہے اور کامیابی ادب کے بنا ممکن نہیں۔ اس وقت یہ بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ بھلا ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ذہین طالبعلم، تمام علوم و فنون میں مہارت رکھنے والا بھی کبھی ضائع ہوجائے گا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک دن کلاس میں استاد محترم سبق پڑھا رہے تھے۔ چھٹی کا وقت ہوگیا، سبق کچھ لمبا تھا تو چند منٹ اوپر ہوگئے۔ سبق ابھی جاری ہی تھا کہ ایک زوردار دھماکے کی آواز گونجی (ایک طالبعلم نے ڈیسک پر زوردار ہاتھ مارکر کہا) بس کردیں استاد جی! ٹائم اوپر ہوگیا ہے۔ استاد جی نے کتاب بند کی اور کچھ کہے بنا خاموشی سے باہر نکل گئے۔ آج میرے سامنے کھڑا یہ وہی طالبعلم تھا جس نے یہ بے ادبی کی تھی۔ شاید یہ ساری حالت و محرومی اس بے ادبی کا نتیجہ تھا۔ 

عبداللہ کو دیکھ کر مجھے اساتذہ کی ان باتوں پر یقین ہوگیا تھا دین میں قابلیت و ذہین ہونا شرط نہیں ہے، اللہ کے ہاں قبولیت شرط ہے اور یہ قبولیت تب حاصل ہوگی جب استاد کا ادب و احترام ہوگا، واقعی سوفیصد سچ کہا گیا تھا۔ 

 

 

مزید پڑھیں

گائوں میں دادی کا کچن قریب قریب چوبیس گھنٹے آباد رہتا تھا۔ سُکی بیر کے عقب میں تھوڑا بائیں طرف موجود یہ کچن کچی اینٹوں سے بنا ہوا تھا جس ...

مزید پڑھیں

معزز علاقہ کے بیٹے کی شادی تھی۔ سرائیکی وسیب کے افراد بڑی تعداد میں جمع تھے۔ ’’سرائیکی جھومر‘‘ (ڈانس) کا وقت ہونے والا تھا۔ گا ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پاکستانی ثقافت میں چائے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ چائے تمام مشروبات کی’’ مرشد ‘‘ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکست ...

مزید پڑھیں

ڈیلفی کا مندر جس کو انگریزی ادب میں ORACLE OF DELPHI کے الفاظ میں مرکوز کیا گیا ہے کو یونانی ادب ، تاریخ اور مذہب میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس مندر ...

مزید پڑھیں

’’ماں !مجھے معاف کرنا۔ میں تمہیں چھوڑکر جارہا ہوں لیکن کیا کروں زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے ‘‘۔ یہ لبنان میں زیر تعلیم میڈیکل اسٹو ...

مزید پڑھیں