☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) سپیشل رپورٹ(طاہر محمود) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) ثقافت(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() دلچسپ و عجیب(انجنیئررحمیٰ فیصل) صحت(سید عبداللہ) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک) دنیا کی رائے(راحیلہ سلطان)
چائے کی چاہ

چائے کی چاہ

تحریر : راحیلہ سلطان

01-19-2020

پاکستانی ثقافت میں چائے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ چائے تمام مشروبات کی’’ مرشد ‘‘ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہی ہے۔

یہ بھی اہم بات ہے کہ خود پاکستان میں چائے کی پیداوار نہیں مگر چائے کی چاہ کا یہ عالم کہ دنیا میں چائے درآمد کرنے میں تیسرا درجہ جاصل ہے اور استعمال کرنے میں ساتواں درجہ رکھتا ہے۔

ملک کے ہر علاقے میں چائے کا رنگ خوشبو اور ذائقہ جداگانہ ہے گویا ہر علاقے کی ثقافت نے چائے میں رس گھول دیا ہے۔ کراچی میں کالی ، مسالہ چائے اور ہر دلعزیز پٹھان ہوٹل کی گاڑھی دودھ پتی۔ پنجاب میں گاڑھی دودھ کی چائے جس میں اخلاقاً چائے کی پتی چھڑک دی جاتی ہے۔ شمالی، مغربی علاقے خیبر پختو نخوا اور بلوچستان میں قہوہ۔ کشمیر میں کشمیری گلابی چائے ، چترال بلتستان اور بلوچستان میں نمکین مکھنی طرز کی چائے جو وسطی ایشیا ء کی پیداوار ہے۔

ہمارے ہاں چائے خانے سماجی رابطوں،سیاسی مباحثوں ملکی و غیر ملکی معاملات پر گرما گرم اظہار خیال، نوجوانوں کی دلداریوں اور رازونیاز کا مرکزہیں۔ سیاست میں چائے کے ایک کپ پر بڑے بڑے اندرونی و بیرونی معاملات حل ہوجاتے ہیں اور اسی کپ پر نئے رشتے بھی استوار کرلیے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں لاہور کا’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ادیبوں اور دانشوروں کا مرکز سمجھا جاتا تھا جہاں ادب اور سیاست پر جلتی سگریٹوں اور گرم چائے کے کپ سے نکلنے والے دھوئیں کی طرح گرم جوشی سے بحث کی جاتی تھی۔ریڈیو پر دھیمی آواز میں چلنے والے فرمائشی نغمے اور سیر حاصل مباحثے اس ٹی ہاؤس کو زندگی بخشتے تھے۔ آج کراچی میں اسی ٹی ہاؤس کے نقش قدم پر بے شمار جدید چائے خانے بن چکے ہیں مگر یہاں ادیبوں کی محفل نہیں سجتی بلکہ حلقۂ یاراں خوش گپیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں کلام کی آمد یا مکرر کے نعروں کی جگہ مارکیٹ میں آنے والے نئے موبائل اور گاڑیوں کی بات ہوتی ہے۔

کراچی کی ثقافت میں چائے بنیادی حیثیت رکھتی ہے سورج ڈھلتے ہی نوجوان ہوں یا پکی عمر کے مرد کچھ چائے کے طالب اورکچھ حق دوستی نبھانے کی خاطر چائے خانوں کو آباد کردیتے ہیں۔گلی محلوں کے چھوٹے چھوٹے پٹھان ہوٹلوں سے لیکر فائیو سٹار ہوٹلوں تک چائے کی پیالی گفتگو اور سیاسی ومعاشی بحث و مباحثے کا مرکز سمجھی جاتی ہے۔

70 ء کی دھائی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی آزاد خیالی نے ملک میں قدم جمائے اس وقت کراچی کی راتیں بھی جاگتی تھیں۔ نپیئر روڈ میں اشرافیہ اور سیاستدانوں کی محفلیں لگتی تھیں لیکن اس وقت بھی کراچی کے متوسط و غریب طبقے نے چائے خانوں کو آباد رکھا تھا۔ 80ء کی دھائی میں جنرل ضیاء الحق نے دیگر محفلوں کو تو ویران کردیا مگر چائے خانوں کی محفلیں آباد رہیں۔

کہتے ہیں کہ کراچی کی راتیں جاگتی ہیں یہاں کے لوگ اپنا ایک منفرد مزاج رکھتے ہیں۔ مزاج میں چائے کی طرح گرم، اخلاق میں چائے کی طرح خوش ذائقہ اور خلوص و محبت میں چائے کی طرح خوشبو دار ہوتے ہیں۔ اب شہر کراچی میں جدید چائے خانوں کا فیشن بھی چل پڑا ہے جہاں گرم گرم بھاپ اڑاتی منفرد مٹکا چائے، تندوری چائے، کوئلہ چائے اور ساتھ ہی لائیو میوزکمحفل کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کراچی کے چائے خانے نصف شب اور بعض فجر تک کھلے رہتے ہیں۔ جہاں دن بھر کے تھکے ہارے لوگ کچھ سمے کے لیے چائے کے دھوئیں کے ساتھ اپنی فکر و پریشانی کو اڑا کر ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ڈیلفی کا مندر جس کو انگریزی ادب میں ORACLE OF DELPHI کے الفاظ میں مرکوز کیا گیا ہے کو یونانی ادب ، تاریخ اور مذہب میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اس مندر ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔    

مزید پڑھیں

 کھجور ایک قسم کا پھل ہے یہ زیادہ تر عرب ممالک اور گردونواح میں پائی جاتی ہے دنیا میں سب سے اعلی کھجورعجوہ ہے جو سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔  

مزید پڑھیں

میں کچھ تکلیف دہ حالت سے بیدا رہوا، اپنے ارد گرد ہلکی ہلکی آوازیں میرے کانوں میں آ رہی تھیں، کچھ ملی جلی تھیں۔ کبھی بہنوں کی سسکیاں سنائی دیتی تو کبھی بیوی کی ہچکیوں کی اور کبھی والدہ کی سرد آہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں اس دنیا سے جا رہا ہوں اور سب مجھے رخصت کر رہے ہیں۔    

مزید پڑھیں