☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سپیشل رپورٹ(صہیب مرغوب) رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) عالمی امور(نصیر احمد ورک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین( محمدشاہنوازخان) خواتین(نجف زہرا تقوی) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) دنیا کی رائے(شکیلہ ناز) دنیا کی رائے(تحریم نیازی) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
مرد بے چارہ

مرد بے چارہ

تحریر : شکیلہ ناز

03-08-2020

میں کچھ تکلیف دہ حالت سے بیدا رہوا، اپنے ارد گرد ہلکی ہلکی آوازیں میرے کانوں میں آ رہی تھیں، کچھ ملی جلی تھیں۔ کبھی بہنوں کی سسکیاں سنائی دیتی تو کبھی بیوی کی ہچکیوں کی اور کبھی والدہ کی سرد آہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ میں اس دنیا سے جا رہا ہوں اور سب مجھے رخصت کر رہے ہیں۔
 

 

میں نے نقاہت سے آنکھیں بند کر لیں میں واپس نہیں آنا چاہتا تھا میں دکھی ہو کر جا رہا تھا میں ان سب سے محبت کرتا تھا میں سب کو بہت چاہتا تھا مگر کوئی میری حالت کو سمجھتا ہی نہ تھا۔ میں اس خواب کی حالت سے نکلنا نہ چاہتا تھا ۔ میری ماں جو مجھے بہت چاہتی تھیں۔ ہر وقت پیار بھری نظروں سے دیکھتیں تھیں۔ پال پوس کر بڑا کیا سہرا باندھنے کے ارمان میں گھر گھر چاند سی دلہن ڈھونڈتی پھرتیں تھیں۔ بہنیں جو مجھ پر واری و قربان جاتی تھیں وہ ماں کے ساتھ ہوتی تھیں اور خوش ہو ہو کر مجھے آ کر ساری باتیں بتاتی تھیں۔ وہ بھی بچپن میرے ساتھ گزارنے کی وجہ سے مجھ یبہت پیاری تھیں۔ خاص کر دو چھوٹی بہنیں۔ ابا ہمیشہ مجھے ہدایت اور نصیحتیں کرتے تھے۔ مگر انہوں نے میرا دل نہیں دکھایا۔ میں ان سب محبتوں کے بیچ خوش رہتا تھا اور آنے والے وقت کے اپنے ذہن میں سنہرے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ ماں کو چاند سی دلہن مل گئی۔ بہن واری واری جا رہی تھیں۔ ساری ساری رات میرے گیت گاتی، ڈھول بجاتی اور سارے ماحول کو خوش گوار بناتی تھیں میں بھی اپنے تصورات میں خوش۔ وہ وقت آ گیا کہ بھائیوں ، بھابھیوں اور بہنوں نے مجھے سجا سنوار کر دولہا بنایا اور بارات گئی اور دلہن آئی، دلہن واقعی بہت پیاری تھی۔ میں ماں کی پسند کا قائل ہوا۔ جیسا سوچتی تھی ویسا کیا۔ کچھ دن ملنے ملانے دعوتوں میں گزر گئے پھر اصل زندگی شروع۔ میں بیوی کے ناز اٹھانے میں خوش ہوتا۔ قدرت نے رزق وافر دیا تھا کمی کسی چیز کی تھی نہیں ۔بیگم کہنے لگی آج میں حلوہ پوری کا ناشتہ کروں گی۔ میں خوشی خوشی حلوہ پوری لے آیا۔ ادھر سب کو دے کر جب کمرے میں پہنچا اور بیوی کو لفافہ دیا تو اس کا منہ پھولا ہوا تھا موڈ سخت خراب تھا۔ پوچھا، بھئی کیا ہوا؟ کہنے لگی: میں نے صرف اپنے لئے حلوہ پوری منگوایا تھا۔ آپ سب کے لئے لے آئے۔ میں نے کہا: تو اس میں کیا حرج ہے؟ سب کھا لیں گے۔ 
کہنے لگی: واہ اس کا مطلب یہ جو میں کھائوں گی، کیا یہ سارے بھی وہی کچھ کھائیں گے تو میری کیا حیثیت ہو گئی؟
میں سب کے ساتھ عام ہی ہو گئی۔ میں تو تمہارے لئے کوئی خاص چیز نہ ہوئی نہ۔ ارے نہیں بھئی تم تو بڑی خاص چیز ہو۔ مگر وہ بھی تو میرے اپنے ہیں۔ تو پھر اپنی اپنوں کے ناز نخرے اٹھائو۔ یہ کہہ کر روٹھ گئی اور اس نے وہ ناشتہ نہ کیا میں حیران یہ تو ناراضگی والی بات ہی نہیں ہے۔ باہر نکلا، ہر فرد تعریف کر رہا تھا۔ لو آج تو دلہن نے ہمیں حلوہ پوری کھلوا دیا۔ میرا دل کڑھ رہا تھا ۔ مگر وہ تو خوش ہیں اور کچھ دنوں بعد میں اپنے کام پر جانے کے لئے تیار ہو کر باہر آیا۔ ساتھ بیگم بھی تھیں۔ چھوٹی بہنیں بھاگی بھاگی آئیں۔ بھیا ہمیں پیسے دو۔ کئی دنوں سے نہیں دیئے۔ آپ تو ہر روز ہمیں پیسے دے کر جایا کرتے تھے۔ ہم سکول میں چیزیں کھاتے تھے۔ اب کئی دن سے نہیں کھائیں۔ وہ دونوں میرے ساتھ لاڈ پیار کر رہیں تھیں اور میں جیب سے پیسے نکالنے ہی والا تھا کہ میری بیگم نے دونوں کو دکھیل کر پیچھے کردیا۔ بس کرو، بہترا کچھ کھا لیا۔ اب کسی اور کی بھی باری ہے۔بہنیں روہنسا ہو گئیں۔ امی حیران، انہوں نے بچیوں کو آواز دے کر بلا لیا۔ اب وہ بہنیں میرے پاس آنے سے کترانے لگیں۔ دور ہی سے دیکھا کرتی تھیں۔ میں زہر کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا۔ سارا دن کام میں دل نہ لگتا۔ کبھی بیگم کا خوبصورت چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا اور کبھی بہنوں کی ڈری ڈری سی صورتیں اور کبھی ماں کا مجبور سا چہرہ جو مجھے اتنا پیار کرتی تھیں کہ دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں۔ یا الہٰی میں کیا کروں۔ ہاتھ پیر کام کرنے کے قابل نہ رہتے۔ سوچتا پیار سے بیگم کو سمجھا لوں گا۔ مگر جو نہی پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا وہ جھٹک دیتی۔ بس بس دکھاوا رہنے دو۔ مجھے نہیں اچھی لگتیں تمہاری یہ ماں اور بہنیں۔ میں میکے چلی جائوں گی یا مجھے الگ گھر لے کر دو۔
 یااللہ میں کہاں ان بوڑھے ماں باپ کو چھوڑوں اور کہاں ان چھوٹی چھوٹی بہنوں کو اور بن بیاہی بہنوں کو چھوڑ کر جائوں؟ 
دل خوشیوں کی بجائے خجالت سے بھر جاتا۔ بے قصور ہوتے ہوئے بھی اپنے کو ہی مجرم سمجھتا۔ کیا کروں ؟ کیسے کروں ؟ میرے ماں باپ بہن بھائی مجھے اجنبی نظروں سے دیکھتے تھے۔ ایک دن میری چھوٹی بہن سمجھی میں ابھی گھر میں ہوں وہ میرے پاس اوپر کمرے میں آ گئی۔ شاید امی یا ابو نے بلوایا ہو گا۔ مگر میں نہ تھا میری بیگم اس پر جھپٹ پڑی تم ہمارے کمرے میں کیوں آئی ہو میں بھی کہوں میری چیزیں کہاں غائب ہو جاتی ہیں۔ تم چراتی ہو میری ماں نے سن لیا وہ بھی غصے سے باہر ہو گئیں۔ اس الزام پر میرے ابو بھی بولے تو کہنے لگی :ایک یہ بوڑھا سارا دن بیٹھا رہتا ہے کام پر نہیں جا سکتا۔ غرض خوب ماحول ناقابل برداشت ہو گیا۔ ہمارے گھر والے اس طرح کی لڑائی کے عادی نہ تھے۔ وہ سامان باندھ کر کہیں بھی جانے کے لئے تیار ہو گئے ۔ جب کام سے لوٹ کر آیا تو گھر کا نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا تو ہر کوئی ناقابل برداشت حد تک لڑ رہا تھا۔ میں غصے سے پاگل ہو گیا۔نیند کی گولیاں جو کبھی کبھی ٹینشن دور کرنے کیلئے کھا لیا کرتا تھا۔ پوری شیشی میں نے اپنے معدے میں انڈیل دی اور بستر پر جا گرا۔ کب کیا ہوا؟ مجھے نہیں معلوم، میں بہر حال دنیا سے جانا چاہتاتھا۔ سب کو چاہتا تھا مگر مجھے کوئی بھی نہیں چاہتا۔لیکن اللہ نے بچا یا تھا،یہ خواب تھا مگر حقیقت بھی تو اس سے ذرا مختلف نہیں۔

مزید پڑھیں

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔
 

 

...

مزید پڑھیں

 کھجور ایک قسم کا پھل ہے یہ زیادہ تر عرب ممالک اور گردونواح میں پائی جاتی ہے دنیا میں سب سے اعلی کھجورعجوہ ہے جو سعودی عرب کے شہر مدینہ ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عورت اور مرد دونوں زندگی کے ساتھ اور گاڑی کے دو پہیے کہلاتے ہیں اور کسی ایک کے بغیر زندگی کا تصور بہت روکھا پھیکا سا لگتا ہے اور یہ بات بھی سو فیصد درست ہے کہ زندگی کو بڑھانے اور قائم رکھنے میں عورت کا بہت بڑا حصہ ہے    

مزید پڑھیں

پاکستان بنے چند سال ہوئے تھے، لاہور کی ایک گلی جو سراج بلڈنگ سے سوری بلڈنگ تک جاتی تھی نماز ظہر کے بعد ایک بابا جی مسجد میں سے نکلتے سفیدلباس ، سفید داڑھی اور سفید ہی سر کے بال، چہرے پر شرافت اور بزرگی سونے پر سہاگہ ۔    

مزید پڑھیں

پاکستانی ثقافت میں چائے کو مرکزی اہمیت حاصل ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ چائے تمام مشروبات کی’’ مرشد ‘‘ہے تو غلط نہ ہوگا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ پیا جانے والا مشروب چائے ہی ہے۔

مزید پڑھیں