☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
حکومت ٹڈل دل کا تدارک کرے وگرنہ ؟

حکومت ٹڈل دل کا تدارک کرے وگرنہ ؟

تحریر : فرحان شوکت ہنجرا

06-14-2020

 ملک میں ٹڈی دل کے حملوں نے کسان کا برا حال کر دیا ہے جس سے فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے جس کی وجہ زراعت میں ناکام پالیسیاں نافذ کرنا ہے۔ زرعی سیکٹر کا جی ڈی پی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاہم ایگری کلچر سیکٹر اب بھی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام حکومتوں نے زراعت کو نظر انداز کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیاں اور حشرات کے حملوں نے کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں ریسرچ کا نہ ہونا آبپاشی کے نظام کو جدید تقاضوں پر آپریشنل نہ کرنا اور ناکام حکومتی پالیسیوں سے نہ تو روایتی فصلوں کی پیداوار بڑھی اور نہ ہی کسانوں کی توجہ دیگر غیر روایتی کیش کراپس کی جانب دلوائی گئی ہے۔


اس وقت کورونا سے بھی بڑا عذاب ٹڈی دل کی صورت میں ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت پر حملہ آور ہو چکا ہے چونکہ ٹڈی دل صرف کھیتوں کھلیانوں اور دیہاتوں میں تباہی مچا رہا ہے شاید اس لیے یہ مسئلہ ہمیں قومی ذرائع ابلاغ پر اس طرح نظر نہیں آ رہا جیسے کہ آنا چاہیے۔ پنجاب کے کم و بیش تمام اضلاع سے جو اطلاعات آ رہی ہیں وہ خوفناک ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے 154اضلاع میں سے 61اس وقت ٹڈی دل کے نشانے پر ہیں اور مزید اضلاع پر ٹڈی دل کے حملے بڑھنے کا امکان ہے۔ کیوںکہ افریقہ سے ٹڈیوں کے مزید غول پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان کے جون جولائی تک یہاں پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ اسی طرح پہلے سے موجود ٹڈی دل کے ساتھ جب یہ غول بھی مل جائیں گے تو زرعی پیداوار اور سبزے کے لیے غیر معمولی تباہی لا سکتے ہیں۔
خوراک کے تحفظ، مویشیوں کی بقا اور سماج کے کمزور طبقات کے لیے یہ صورت حال تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے رواں ماہ کے شروع میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ جاری سال میں پاکستان میں ٹڈی دل کی وجہ سے ربیع اور خریف کی فصلوں کا مجموعی نقصان کا مجموعی مالیت کے 15فیصد کے برابر 205ارب روپے کے قریب جبکہ خریف کی فصلوں کے نقصان کا تخمینہ 25فیصد 464ارب روپے لگایا گیا ہے۔ صوبہ سندھ پنجاب میں کپاس کی بوائی اور اسی طرح سنٹرل پنجاب کے اضلاع میں چاول کی بوائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان اضلاع میں فی الوقت ٹڈی دل کے حملے کا فی الحال تو خطرہ نہیں ہے لیکن جولائی کے بعد جب کپاس، چاول کی فصل بڑھوتری کی طرف بڑھے گی اور اکتوبر، نومبر میں جب ان فصلوں کی تیاری ہو گی تو تصور کریں کہ ٹڈل دل ان فصلوں کو ملیا میٹ نہیں کرے گی؟بلکہ پاکستان کی معیشت اور زرمبادلہ کی آمدن کو ملیا میٹ کر کے رکھ دے گی۔ لہٰذا حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتیں ہوش کے ناخن لیں اور ٹڈل دل کے حملے کی روک تھام اور تدارک کے لیے جنگی بنیادوں پر پلان ترتیب دیں۔
وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں کورونا وباء پر روزانہ معمول کے مطابق اجلاس کر رہی ہیں، فیصلے صادر ہو رہے ہیں، عوام کو آگاہی دی جا رہی ہے، لیکن آنے والے وقت میں ٹڈل دل کے حملے در حملے میں فوڈ سکیورٹی کے خطرات سے بالکل عاری نظر آ رہی ہیں۔

آج کورونا کی وباء کے باوجود پاکستان میں کھانے پینے، اشیا خوردونوش، گندم چاول کے سٹاک کی بدولت وہ خطرنا ک صورت نہیں جو عالمی وباء کی شکل میں براعظم افریقہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ الحمدللہ خوراک کے حوالے سے اب تک تو خطرے کی حالت سے باہر ہے، لیکن جس انداز سے ٹڈل دل 61اضلاع تک پہنچ گئی ہے اگر یہ اسی سپیڈ سے بڑھتی رہی تو پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی جس سے سبزیاں، پھل، چاول، لائیوسٹاک، جانوروں کی خوراک میں کمی سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ناگزیر ہے کہ وزیراعظم پاکستان چاروں صوبائی حکومتوں کے وزرااعلیٰ جات، نیشنل پراونشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیز سمیت قومی سیاسی قیادت کا مشاورتی اجلاس بلائیں اور پاکستان کو مستقبل میں خوراک سمیت زرمبادلہ میں کمی کے ناقابل تلافی نقصان سے بچانے کے لیے قومی پلان ترتیب دیں۔ ’’وقت کم اور کام زیادہ ہے‘‘ ’’ویلے دی نماز تے کویلے دی ٹکراں‘‘ اگر اب اس ٹڈی دل آفت پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان شدید مالی اور خوراک کے بحران سے دوچار ہو جائے گا اور ایسا ناقابل تلافی نقصان ہو گا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
دوسری طرف ملک میں آٹے کے نرخوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس پر نانبائی ایسو سی ایشن نے بھی روٹی اور نان کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔ گندم کی امدادی قیمت 1400روپے فی من مقرر ہے جب کہ کیسی سستم ظریفی ہے کہ اوپن مارکیٹ میں 1800روپے فی من گندم کا ریٹ ہو گیا ہے یہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے، یہ کون سا مافیا ہے کہ حکومت کی آنکھ سے اوجھل ہے۔ کسانوں کو تو 1400روپے بھی فی من گندم کی قیمت مل نہیں سکی وہ مڈل مین آڑھتیوں کے ہاتھوں لٹ گئے۔ اب گندم کا ریٹ 1800روپے سن کر اوسان خطا ہو گئے ہیں کہ غریب اور متوسط طبقے کا کیا ہو گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں آٹا، چینی مافیا کا ہی راج ہے۔ چینی سکینڈل پر قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ آ چکی ہے، لیکن معلوم یہی ہو رہا ہے کہ ’’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑے بارہ آنے‘‘ والی صورت حال ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے قائدین ولیڈران کی شوگر ملیں ہیں اور روزانہ یہی طبقات ایک دوسرے پر چینی پر ناجائز سبسڈی لینے اورایک دوسرے پر الزامات داغتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ چور بھی کہے چور چور چوروں سے خبردار رہیے۔
چینی کی فی کلو قیمت 90روپے ہو گئی ہے جو کہ 55روپے کلوہونی چاہیے چینی پر ناجائز منافع کیا حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ملز مالکان قیادتوں کی جیبوں میں جا رہا ہے تو بتائیں کون سا احتساب اور کون سی ریکوری!
عوام کا مطالبہ ہے کہ کورونا میں عوام الناس کو ریلیف کے نام پر مختص کی گئی 1200ارب روپے کی رقم میں ٹڈل دل سے متاثرہ فصلوں کے کسانوں کے لیے بھی معقول رقم رکھی جائے کیوںکہ ٹڈل دل کے حملے سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ کسانوں کی داد رسی کرے ۔ عوام چاہتے ہیں کہ انہیں ریلیف ملے اور ان کی فصلوں کو اس وبا ء سے بچایا جائے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کرے۔

مزید پڑھیں

  کورونا وائرس کے آنے سے پہلے ہی ملکی معیشت ہچکولے کھا رہی تھی جس کو کورونا نے آکر ایک ہی دھکے میں گرا دیا ہے۔ہماری معیشت مزید کسی بھی دھچکے کی متحمل نہیں ہے۔کورونا وائرس نے معیشت کا جنازہ تو نکال دیا ہے مگر اس کی وجہ سے ہم غذائی قلت کا شکار ہونے سے ابھی تک بچے ہوئے تھے،لیکن ٹڈی دل کے اس نئے عذاب نے اس غذائی بحران کے پیدا ہونے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ویسے تو انسان خاک ہے مگر لفظوں میں آگ لیے پھرتا ہے،نمرود کی پوری بادشاہت کا ایک مچھر کے سامنے بے بس ہونا اور دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں کا ایک کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہونا رب کی قدرت کی نشانیاں ہیں،دنیا نمرود کو عبرت کا نشان بنانے والے مچھر پر حیران تھی آج اس مچھر سے حقیر وائر س نے پوری انسانیت کو نشان عبرت بنا دیا ہے۔    

مزید پڑھیں

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔    

مزید پڑھیں

 کھجور ایک قسم کا پھل ہے یہ زیادہ تر عرب ممالک اور گردونواح میں پائی جاتی ہے دنیا میں سب سے اعلی کھجورعجوہ ہے جو سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔  

مزید پڑھیں