☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
خطرے کی گھنٹی

خطرے کی گھنٹی

تحریر : محمد راحیل

06-14-2020

  کورونا وائرس کے آنے سے پہلے ہی ملکی معیشت ہچکولے کھا رہی تھی جس کو کورونا نے آکر ایک ہی دھکے میں گرا دیا ہے۔ہماری معیشت مزید کسی بھی دھچکے کی متحمل نہیں ہے۔کورونا وائرس نے معیشت کا جنازہ تو نکال دیا ہے مگر اس کی وجہ سے ہم غذائی قلت کا شکار ہونے سے ابھی تک بچے ہوئے تھے،لیکن ٹڈی دل کے اس نئے عذاب نے اس غذائی بحران کے پیدا ہونے کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔

یہ ہماری معیشت کے سر پر کورونا سے بھی بڑا خطرہ بن کر منڈلا رہی ہے۔ٹڈی دل کی یہ فوج مشرقی افریقہ سے ایران اور افغانستان کے رستے پاکستان میں داخل ہوئی۔ابھی یہ پاکستان کے صوبہ سندھ ، خیبرپختونخواہ ، بلوچستان اور پنجاب میں تباہی پھیلا رہی ہے۔صرف جنوبی پنجاب میں تیس ہزار ایکڑ سے زائد فصل کو تباہ کرچکی ہے۔ٹڈی دل 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور بہت تیزی سے افزائش نسل کرتی ہے۔اس کی مادہ دو سو سے بارہ سو تک بچے دیتی ہے۔بارشوں میں اس کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔اس وجہ سے مون سون میں اس کے زیادہ تباہی پھیلانے کے خدشات موجود ہیں۔اس جھنڈ کا نشانہ خریف کی فصلیں ہونگیں۔جن میں گنا، کپاس، چاول اور مکئی شامل ہیں۔اس کے ایک مربع کلومیٹر کے جھنڈ میں 80 کروڑ سے زائد بالغ کیڑے ہوتے ہیں۔یہ اس قدر تیزی سے تباہی لگاتے ہیں کہ کسان پاس کھڑا ہوکر دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور کچھ نہیں کرپاتا۔یہ جھنڈ ایک دن میں پینتیس ہزار انسانوں کے برابر خوراک کھاجاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے "فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن " کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا 38 فیصد علاقہ ٹڈی دل کا بریڈنگ گراونڈ بن چکا ہے۔وہاں پر وہ تیزی سے اپنی افزائش نسل میں مصروف ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے ایسا خطرہ ہے کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔رپورٹ کے مطابق اگر نقصان کو پچیس فیصد پر روک لیا گیا تو پاکستان کو ربیع کی فصل میں 353 بلین اور خریف کی فصل میں 440 بلین کا نقصان ہوگا۔یہ کل ملا کر 800 ارب روپے کا نقصان بن سکتا ہے۔اگر خدانخواستہ اس کو نا روکا گیا تو نقصان کے اعداد و شمار کیا ہوں گے اور غذائی قلت کی کون سی قیامت برپا ہوگی خدا جانے۔ارباب اختیار اس سے نمٹنے کے لیے اس قدر سنجیدہ ہیں کہ کل کابینہ کا اجلاس کورونا وائرس اور ٹڈی دل کے متعلق بلایا گیا۔اور اس میں اپوزیشن سے نمٹنے کے لیے بھرپور حکمت عملی طے کی گئی۔گوکہ حکومت اپوزیشن کو اپنے لیے ٹڈی دل اور کورونا سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتی ہے۔اس وقت دو طرفہ تباہی پھیل رہی ہے لیکن حکومتی وزراء کو نواز شریف کی لندن میں پی جانے والی کافی سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔تمام وزراء اس ایک تصویر پر اپنی اپنی تمام تر صلاحیات صرف کرتے نظر آرہے ہیں جیسے اس میں تمام ملکی مسائل کا حل پوشیدہ ہو۔

مزید پڑھیں

 ملک میں ٹڈی دل کے حملوں نے کسان کا برا حال کر دیا ہے جس سے فوڈ سکیورٹی کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے جس کی وجہ زراعت میں ناکام پالیسیاں نافذ کرنا ہے۔ زرعی سیکٹر کا جی ڈی پی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے تاہم ایگری کلچر سیکٹر اب بھی ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام حکومتوں نے زراعت کو نظر انداز کیا ہے اس کے ساتھ ساتھ موسمی تبدیلیاں اور حشرات کے حملوں نے کسانوں کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ریسرچ کا نہ ہونا آبپاشی کے نظام کو جدید تقاضوں پر آپریشنل نہ کرنا اور ناکام حکومتی پالیسیوں سے نہ تو روایتی فصلوں کی پیداوار بڑھی اور نہ ہی کسانوں کی توجہ دیگر غیر روایتی کیش کراپس کی جانب دلوائی گئی ہے۔

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 ویسے تو انسان خاک ہے مگر لفظوں میں آگ لیے پھرتا ہے،نمرود کی پوری بادشاہت کا ایک مچھر کے سامنے بے بس ہونا اور دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں کا ایک کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہونا رب کی قدرت کی نشانیاں ہیں،دنیا نمرود کو عبرت کا نشان بنانے والے مچھر پر حیران تھی آج اس مچھر سے حقیر وائر س نے پوری انسانیت کو نشان عبرت بنا دیا ہے۔    

مزید پڑھیں

غربت انسانی زندگی سے خوشیاں اور سکون کسی دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔    

مزید پڑھیں

 کھجور ایک قسم کا پھل ہے یہ زیادہ تر عرب ممالک اور گردونواح میں پائی جاتی ہے دنیا میں سب سے اعلی کھجورعجوہ ہے جو سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ اور مضافات میں پائی جاتی ہے۔  

مزید پڑھیں