☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا خصوصی رپورٹ غور و طلب متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا کھیل شوبز دنیا اسپیشل رپورٹ گھریلو مشہورے روحانی مسائل
بابری مسجد کی شہادت ۔۔

بابری مسجد کی شہادت ۔۔

تحریر : صہیب مرغوب

11-03-2019

بابری مسجد کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے محفوظ کر لیا تھا ۔یہ فیصلہ اب 16نومبر سے پہلے ہی سنایا جائے گا کیونکہ چیف جسٹس ریٹائرڈ ہونے والے ہیں۔اس مسجد کی شہادت انتہائی المناک تھی۔ ’’کوبرا پوسٹ‘‘نامی ایک بھارتی ویب سائٹ نے یہ انکشاف کیا کہ دسمبر 1992ء بابری مسجد کی شہادت جذباتی مظاہرین کے اچانک حملے کا شاخشانہ نہیں تھا۔ بابری مسجد کی شہادت انتہاپسندہندوجماعتوںکی باقاعدہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی ۔

(سابق) وزیراعظم نرسما رائو بھی منصوبے سے باخبر تھے۔ یہ تہلکہ خیز رپورٹ سیکولر بھارتی حکمران طبقے کا حقیقی متعصب چہرہ سامنے لے آئی۔اس شہادت میں ہندو مت کے جنونی ہی شامل نہ تھے بلکہ میدان سیاست میں سرگرم بھارتی جنتا پارٹی بھی شامل تھی۔بابری مسجد کی شہادت کے لئے نکالے گئے جلوس کی قیادت ایل کے ایڈوانی کر رہے تھے،ان ہی کی قیادت میں شرکا ء ’’جے شری رام ‘‘۔۔’’جے شری رام‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسجد پر حملہ آور ہوئے۔ ایل کے ایڈوانی کے بعد ’’جے شری رام ‘ کاکام مختلف مذاہب کو مٹانے اور ان کی پیروی کرنے والوں کو دھماکانے کا ایک انداز بن گیا ہے۔ ہندوئوں سے الگ مذہبی رسومات ادا کرنے والوں کے لئے خوف کی علامت بن گیا ہے۔ اسی لئے ایک ہندو کارٹونسٹ نے اپنے کارٹون میں رام کو برہمن کے سامنے یہ کہتے ہوئے دکھایا کہ ’’میرے نام پر خون مت بہائو، یہ میں نے نہیں کہا‘‘۔نریندرمودی کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی تھی۔ 2014میں ہی انہیں 543کے ایوان میں 300نشستیں مل گئی تھیں ۔’’جے شری رام ‘‘کے نعرے پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر انتخابات میں کامیابی سمیٹ لی ہے۔ایک ہندو انتہا پسند تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ جس ٹیلے پہ یہ تعمیر ہوئی،رام نے بھی وہیںجنم لیا تھا۔رام مندر کو گرا کر مسجد بنائی گئی۔تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہاں بدھ مت سب سے پہلے آباد ہوئے۔ورنہ پورا علاقہ وسیع جنگل تھاجہاں بستیاںآباد ہی نہیں ہو سکتی تھیں۔

اس کیس کے کئی رخ ہیں۔ ایک پہلو قانونی ہے، دوسرایادداشت پر مبنی ہے اور تیسرے پہلو کا تعلق ایمان سے ہے۔مسلم وقف بورڈ نے مسجد کی بنیاد پر اپنا کیس لڑا۔مسلم وقف بورڈ نے کہا کہ تاریخی مسجد بابر ی دور میںبنتے وقت وہاں کوئی مندر واقع نہ تھا۔مسلم وقف بورڈ نے یہ موقف اختیار کیا کہ جب مسجد بن جائے تو اسے شہید نہیں کیا جا سکتا وہ اٹل سچائی بن جاتی ہے ۔مسلم وقف بورڈ نے بابری مسجد کا مقدمہ اس لئے بھی چلایا کہ اس مقدمے کی مدد سے وہ بھارت بھر میں اپنی مساجد کو ہندو انتہا پسندوں کے حملوں سے بچانا چاہتے تھے۔سپریم کورٹ سے حکم ملنے کے بعد ملک بھر میں مساجد کو تحفظ حاصل ہو جائے گا ،کیونکہ ہندو انتہا پسندوںنے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کر دیا تھا کہ مسلمانوںنے دوہزار مندروں کو گرا کر وہاں مساجد بنائی ہیں۔اس طرح یہ ایک نہیں ،بلکہ بھارت میں تمام مساجد کے تحفظ کا مقدمہ بن گیاہے۔مسلم وقف بورڈ نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کو ہندو ۔ مسلم تنازعے کے پس منظر میں دیکھنے کی بجائے قانون کے مطابق فیصلہ کریں۔ عدالت کو دھمکانے کے لئے لاتعداد ہندوانتہا پسندوں نے سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرنے کی دھمکی دی تھی بعد ازاں اسے واپس لے لیا گیا۔ 

انتہا پسند ہندو یہ مقدمہ خالص مذہبی بنیادوںپر لڑتے رہے ،مگر انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ مقدمہ تین فریقین کے مابین جائیداد کے تنازعے کے سوا کچھ نہیں۔یہ تینوں فریقین یعنی ’’مسلم وقف بورڈ‘‘، ’’نرموہی اکھارا‘‘ اور ’’رام لیلا ویراجمان ‘‘ اپنا اپنا حصہ چاہتے ہیں۔کیس میں ہندو انتہا پسند تنظیم ’’وشو اہندو پریشد ‘‘بھی ’’رام لیلا ویراجمان‘‘ کی حمایت کرتی رہی۔وشوا ہندو پریشد 1989ء میں بابری مسجد کیس میں فریق نہ تھی۔اس گروہ نے پہلی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ کے روبرو23اکتوبر 1989ء کو داخل کی تھی۔جس میں اس نے نیا مسئلہ کھڑا کر دیا تھا۔یہ گروہ ناصرف بابری مسجد کی جگہ کی ملکیت کا دعوے دار بن گیا، اس تنظیم نے ارد گرد کی تمام جائیداد پر ملکیت کا دعویٰ کیا۔دعوے کے مطابق وہ چونکہ ہندوئوں کی نمائندہ جماعت ہے لہٰذاتمام جائیداد اسے دے دی جائے۔اس نے کہا کہ ’’رام نے یہیں ایک چبوترے پر جنم لیا تھا ،یوں یہ جگہ ناقابل تقسیم ہے، عدالت کو ہندوئوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا چاہے ‘‘۔وکیل (C S Vaidyanathan) نے کہا کہ رام کی جائے پیدائش لوگوں کے لئے مقدس بن گئی۔1500ء میں بننے والی بابری مسجد ہندوئوں کاایمان متزلزل نہ کر سکی۔ہندوئوں نے کسی زمانے میں وہاں پوجا بند نہ کی ۔

یوںاس قانونی جنگ کے تین پہلو سامنے آئے ۔اول ، الہ آباد ہائی کورٹ نے بنا کسی ثبوت کے وشوا ہندو پریشد کو تمام ہندوئوں کی نمائندہ جماعت مان لیا ۔اس نے حکم دیا کہ بابری مسجد کیس میںمسلمان اور وشوا ہندو پریشد ہی فریق ہیں۔ہائی کورٹ نے وہاںرام مندر کی تعمیر کا مطالبہ بھی مان لیا۔البتہ جگہ اور سائز متنازعہ رہا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ جگہ تین حصوں میں برابر برابر(ہر ایک کو2.7ایکڑ) تقسیم کرنے کاحکم دیا تھا جسے مسلم وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔ الہٰ آباد ہائی کورٹ نے مسلمانوں کو 2.7ایکڑ دینے کے علاوہ یہ بات بھی مان لی تھی کہ وہاں رام مندر بھی ہوتا تھا جسے مسلم وقف بورڈ نے چیلنج کیا۔ جب مسلم بورڈ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ہندو بھی اپنا کیس لے آئے یہی کیس اب سپریم کورٹ میں فیصلے کا منتظر ہے۔

وشوا ہندو پریشد نے ایودھیہ کے مقام پر 2003ء میںبھارتی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ پیش کی ۔رپورٹ میں کہا تھا کہ دوران کھدائی بابری مسجد کی بنیادوں کے نیچے مندر کے آثار ملے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ سائنسی حقیقت بھی یہی ہے کہ اس جگہ پر مسلمانوں نے مندر گرا کر مسجد بنائی ۔ اس کے جواب میںمسلمانوں نے سپریم کورٹ میں 1991 ء میں جاری کردہ رپورٹ ’’Historians’ Report to the Nation‘‘ پیش کی ۔ محققین نے اس مقام پر رام مندر کی تعمیر کو محض قصہ کہانی قرار دیا تھا۔ چوٹی کے ماہرین نے رپورٹ میں تاریخی حوالوںسے ثابت کیا کہ وہاں مندر کبھی موجود تھانہ ہی اس کے آثار ملے ہیں، یہ سب کہانیاں ہیں ۔یہ رپورٹ ہندوئوں نے غائب کروا دی ۔اس پر بحث ہی نہ ہونے دی۔ 

اگر اس پر بحث ہوجاتی توہندو مت کی بنیادیں ہل جاتیں کیونکہ ہندوئوں کے بقول رام نے یہیں جنم لیا تھا ،یہ رام جنم بھومی ہے ۔لیکن اگر 1991ء اس تحقیق کو مد نظر رکھا جائے تو یہاں رام نہ کبھی تھا او رنہ ہی اس کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔ رام اگر پیدا ہی نہیں ہوئے تھے تو ہندو مت کی بنیادیں ہی دھڑام سے نیچے آجاتی ہیں لہٰذا ہندوئوں نے سپریم کورٹ کو ڈرانے دھمکانے کے لئے ہزاروں سادھو جمع کر لئے تھے۔ 

نرموہی اکھارا نے کہا کہ یہ جگہ کبھی بھی مسلمانوں کی ملکیت نہ تھی ۔نرموہی اکھارا نے وشوا ہندو پریشد پر اعتراض اٹھایا کہ اس نے رام کو بھی مقدمے میں الجھا کر ان کی بے عزتی کاسامان پیدا کر دیا ہے۔ یعنی مقدمے سے رام کا وجود ہی متنازعہ بن گیا ہے۔انہوں نے دلائل کی بنیاد تین نکات پر رکھی۔اول، وہاں آنے والے تمام لوگ رام کے پکے پجاری ہیں۔اس لئے جائیداد اور وراثت پربھی ان کا حق ہے۔ دوم، وہاں ہونے والی ہر پوجا کا انتظام نرموہی اکھارا تنظیم 1934ء سے کر رہی ہے ۔یعنی اگر وہی پوجا کروا رہی ہے توجائیداد پر بھی اس کا حق تسلیم کیا جائے۔ ان کی یہ دلیل رام لیلا ویراجمان نے مسترد کر دی ۔ اس نے کہا کہ نرموہی اکھارا نے بابری مسجد کی جگہ پر اپنا حق جتانے کیلئے پوجا کا سہارا لیا ہے جبکہ ہندو مت میںیہی مکمل اور حتمی سچ نہیں ہے۔وشنو کے پیروکاروں نے جلد ہی اپنی جنگجو تنظیمیں(اکھاڑے)بنا لیں۔ایسی پہلی تنظیم ’’نرموہی اکھاڑہ‘‘تھی جس کی بنیاد 1720ء میں رکھی گئی۔اِن لڑاکا تنظیموں نے جلد ہی شیوا کے پرستاروں کو ایودھیا سے مار بھگایا اور اُن کے مندروں پہ قبضہ کر لیا۔اسی دوران 1724ء میں علاقے(اودھ)کے مغل صوبے دار،سعادت علی خان نے نوابان ِاودھ کی حکومت قائم کر لی۔

 رام لیاویراجمان کے دلائل 

نر موہی اکھارا نے دلیل دینے کی بجائے یادداشت پر بھروسہ کیا۔ اس نے بار بار یہی کہا کہ ’’ یادداشت کے مطابق ہمارے بڑے یہیں پوجا کرتے تھے، ہم اس کی تقسیم کے مخالف ہیں‘‘۔ نرموہی اکھارا کا موقف خالصتاً جائیداد کے حوالے سے تھا،اس کی دلچسپی سوادوایکڑ زمین میں ہے۔ نرموہی اکھارا نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ دیوتا کومو ت نہیں آتی ،لہٰذا اس کی جائیداد کی تقسیم بھی ممکن نہیں۔ان کے وکیل نے کہا کہ 1856-57 تک مسلمان بھی وہیں نماز ادا کرتے رہے۔ بعداز اں انہوں نے یہ خالی کردی۔ رام یا دیوتا کی جائیداد میں سے مسلمانوں کو 2.77ایکڑ زمین نہیں دی جاسکتی۔اسے زمین کا ٹکڑا سمجھنے کی بجائے دیوتا کا حصہ مانا جائے ۔ اس کے تین حصے کرنا دیوتا کو ’’توڑنے ‘‘کے مترادف ہے۔ جس کی ہندو مت میں گنجائش نہیں ہے۔ مسلمانوںکو وہاں عبادت کرنے سے روکنے سے متعلق چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگروہاں مسلمان اور ہندو اپنے اپنے حصے کی زمین پر عبادت کریں گے تو کوئی مسلمانوں کو کس طرح نکال سکتا ہے؟ رام لیلا نے دلیل دی کہ ’’جب جائیدا د خود ہی دیوتا ہو، تو اسے توتقسیم نہیں کیا جا سکتا۔جائیداد کے حصے بخرے کرنا دیوتا کوتقسیم کرنے کا عمل تصور ہو گا۔ اگر کسی زمانے میں وہاں ایک مسجد بن گئی تو اس سے دیوتا کاتقدس ختم نہیں ہوجاتا، وہ برقرار رہا۔سپریم کورٹ نے کماد گری (Kamadgiri) مندر کی مثال دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ رام نے ٹیلے پر جنم لیا اور وہیں رہائش اختیار کی؟

وکیل نے کہا کہ ایودھیہ ہندوئوں کے لئے ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوںکے لئے ان کے مقامات مقدسہ۔انہوں نے تسلیم کیا کہ مسلمان وہاں1850ء سے قیام پاکستان کے بعد تک عبادت کر تے رہے ۔ انہوں نے نرموہی اکھارا کو دی جانے والی2.77ایکڑ زمین کو چیلنج کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔انہوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سخت قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ ایودھیہ کا رام کی جائے پیدائش ہونا ہی اسے مقدس بنادیتا ہے لہٰذا تقسیم ناممکن ہے۔

مسلم وقف بورڈ کے دلائل

مسلم وقف بورڈ نے دلائل میں ثابت کیا کہ بابری مسجد 1835میں نہیں بلکہ1538ء میں بنی تھی ا ور مسلمان اس جگہ پر عبادت کرتے رہے ۔ جغرافیائی تبدیلیوں ،سیلاب اور قدرتی آفات کے بعد بھی یہ جگہ کبھی خالی نہیں کی گئی ۔بعدا زاں ہندوئوں نے طاقت کے بل بوتے پر مسجد کو شہید کر کے وہاں پوجا شروع کر دی مگر مسلمان بھی ا پنے حصے پر عبادت کرتے رہے ۔ کیونکہ جب مسجد بن جائے وہ شہادت کے بعد بھی قائم رہتی ہے ، مقدس رہتی ہے۔انہوں نے اپنا مقدمہ ضمیر یا مذہب کی بجائے قانون کے مطابق لڑا۔مسلمانوںنے وید کا سہارا بھی نہیں لیا۔کیونکہ یہ قانون یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے ۔ان کے سنیئر وکیل راجیو دھوون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان محض 2.77ایکڑ رقے کا مطالبہ نہیں کررہے بلکہ اس جگہ کو مانگ رہے ہیں جہاں بابری مسجد قائم تھی ۔دھوون کہا کہ وہ تاریخی حوالوں سے 1538ء میں بابری مسجد کا وجود ثابت کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسجد کی عمارت سب سے پہلے 1934میں شہید کی گئی جبکہ1949میں وہاں قبضہ کر لیا گیا۔1992میں بابری مسجد دوبارہ شہید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ہندوئوں کے دو گروہوں کو 2.77اور مسلمانوںکو2.77ایکڑ دے کر قانون کا قتل کیا۔اب یہ کیس کل رقبے یعنی 67ایکڑ اراضی کے لئے لڑا جا رہا ہے جس میں مسجد کی چار دیواری سمیت دیگر حصے بھی شامل ہیں۔

بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے عدالت میں 2003کی ایک رپورٹ پیش کی ۔رپورٹ کے مطابق ایودھیہ کاپہلا سروے اے ای کنگھم(A.E. Cunningham) نے 1862-3میں کیا تھا۔دوسرا سروے 1889-91میں پروفیسر اے کے نارائن اور تیسرای سروے رپورٹ پروفسیر بی بی لال نے 1969-70اور 1975-76کے درمیانی عرصے میں کیا۔کنکگھم نے اس جگہ کو بدھ مت کی سائٹ قرار دیا ۔ انہوں کہا کہ ایودھیہ رامائن کے زمانے سے قائم ہے۔ انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہاایودھیہ،ساکیتا(Saketa) اور وساخا (Visakha)ایک ہی شہر کے تین نام ہیں۔دوسری رپورٹ اسی کا تسلسل ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 11ویں اور 12 صدی میں ایودھیہ میںراجپوت موجودتھے۔انہوں نے کہا کہ ایودھیہ میں ملنے والی تانبے کی تین پلیٹیں راجپوتوں کی وہاں سرگرمیوں کا ثبوت ہیں ۔لیکن جب عدالت میں ان سے تفصیلات معلوم کی گئیں تو ہندوئوں نے کہا کہ ان تینوں پلیٹوں کا کوئی سراغ نہیں مل رہا۔یہ کہیں گم ہو چکی ہیں۔نارائن نے یہ دلیل دی کہ ایودھیہ کے مقام پر 5ویں صدی قبل ا ز مسیح کے بھی ملے ہیں۔ انہوں نے (Indian Archaeology 1969-70 - A Review)کے حوالے سے اس شہر کو بدھ متوں کا شہر قرار دیا۔جہاں بدھ مت ساتویں صدی قبل از مسیح میں آباد تھے۔انہوں نے لکھا کہ ابتدائی زمانے میں مٹی کی اشیا اور اس کے بعد پکی اینٹوں کا دور شروع ہوا۔جنم بھومی کے مقام پر پکی انیٹوں سے دیوار کی علامات ملتی ہیں۔یہ اسی نوعیت کی ہیں جیسی کہ قلعوں کے باہر بنائی جانے والی حفاظتی دیواروں سے ملتی جلتی ہے۔وہ ایودھیہ کو ایک بڑا صنعتی شہر بھی قرار دیتے ہیں۔مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اگر دور وہاں زبردست معاشی سرگرمیاں جاری تھیں تو وہ بعد میں وہ کہاں گم ہو گئیںاور تاریخ میں اس کا ذکر کیوں نہیں ملتا۔محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کے مطابق وہاں1300 قبل از مسیح میںسے16ء صدی تک انسانی تہذیب ناپید رہی ۔ گپتا دور سے قبل از مغل اور بعد از مغل کے آثار مٹ چکے ہیں۔ بس اتنا پتہ چلتا ہے کہ برہمن سماج کے ابھار میں بدھ مت کہیں ڈوب گیا۔

جارج ٹرنوراورجمیز پرنسپ نے اسی علاقے میں کچھ نئی دریافتیں کیں۔ٹر نور نے ایودھیہ کے مقام پر سیلون سے آنے والے بدھ متوں کی موجودگی کے بارے میں بتایا۔انہوں نے کہا کہ ایودھیہ میں ایک وقت ایسا بھی آیا تھا جب برہمن سماج کی ترقی روک دی گئی تھی۔موریہ دور کے (Vikramaditya) اورگپتا دور کے(Vikramaditya) کے رہن سہن اور میل ملاپ میں واضح فرق تھا۔ایشایٹک سوسائٹی آف بنگال نے راجپوتوں کی تاریخ یکجا کرتے ہوئے بھی 1885ء کی کئی تحریروں کو اکھٹا کیا ہے،جن کے مطابق شمالی بھارت میںراجپوتوں کی کئی سلطنتوں کا ظہور ہواتھا۔سلطنت کنوج راجپوت سلطنت تھی۔ جیسا کہ 1807میں تانبے کی ایک پلیٹ پر راجپوتوں کی ہی انسکرپشن پائی گئی تھی ۔بعد ازاں سوسائٹی کو اس قسم کی تانبے کی پلیٹوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔الفاظ یا تودھات کی پلیٹوں پر کندہ تھے یا پھرپتھروں پر ملے۔جن سے زمینوں کی الاٹ منٹ کی بھی تصدیق ہوگئی۔19صدی میںایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعدان کے زیر کنٹرول علاقہ پھیلتا چلا گیا۔لیکن مورخین نے ایسی کئی پلیٹوں کو بھی جعلی قرار دیا۔ایچ ٹی کول بروک نے بھی ایسی معلومات کوجعلی لکھا ۔

1881میں مزید دریافتوں کے بعد ہی سوسائٹی راجپوتوں کی تاریخ کی کھوج میں جٹ گئی۔تاریخ اکھٹی کرنے کا یہ عمل شمالی بھارت میں شروع کیا گیا۔محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ میں دانستہ طور پر راجپوت کا لفظ استعمال کیا گیا تاکہ اسے دوسری تہذ یبوں سے الگ کیا جا سکے ۔راجپوت سلطنت میں شرائن جیسی عمارات کو فوقیت حاصل تھی۔دسویں صدی عیسوی میں کلچوری (Kalchuris) دریائے ساریو کے کناروں پر آباد ہونا شروع ہوئے ۔امکان ہے کہ وادی گنگا جمنا میںپتھروں سے بنائے گئے مندر ان کی ہی یاد گار ہیں۔حیرت انگیز طور پر مورخین نے ایودھیہ کا تعلق کبھی راجپوتوں سے جوڑنے کی کوشش کی تو کبھی کنوج یا بنارس تہذینب کا تسلسل گردانا۔ ان دونوں کے حوالے سے کوئی ایسی دلیل پیش نہیںکی جس سے یہ ثابت ہوتا ہوکہ ان دونوں سلطنتوں کے حکمرنوں نے ایودھیہ میں تخت نشیں ہو کر سلطنت قائم کی۔ایودھیہ میں کلوچریوں کی آمد یا رہن سہن کے بھی آثار نہیں ملتے۔پرتاب گڑھ اور رائے بریلی میں کلوچریوں کے عمل دخل کی تاریخی حوالے سے تصدیق نہیں ہوتی۔یہاں ان کا اثر برائے نام تھا۔

فیض آباد اور ایودھیہ سے ان کا دور کا بھی تعلق نہ تھا۔کلوچری (Saivas) سایواس کہلاتے تھے اور شیوا کی پوجا کرتے تھے۔مندرانہوں نے ہی بنائے ۔اگر ہم انگریزوں کی دستاویزات کا جائزہ لیں تو ان کے مطابق ایودھیہ کی تاریخ 5صدی عیسوی تک کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔اس سے قبل کی تاریخ کا کسی دستاویز میں ذکر نہیں ملتا۔مقامی روایات کے مطابق یہاں راجپوت اور مسلما نوں نے بھی رہائش اختیار کی اگرچہ ان دونوں کو کمتر ذات کے (Bhars)،(Arakhs)اور (Pasis )نے یہاں رہنے کاموقع نہیں دیا جس پر مسلمان ہجرت کر گئے۔

گیزیٹیئرز کے مطابق ایودھیہ کے مقام پر گھنا ویران جنگل ہوتا تھا۔یہاں چرند پرند کے سوا کوئی انسانوں کا مسکن نہ تھا ہاں البتہ کچھ صوفی اس جنگل میں ضروررہتے تھے۔ان کا زیادہ وقت عبادت اور مراقبہ میں ہی گزرتا تھا۔یہ جاگیر راجہ جودشتیر (Raja Judhishtir) کے پوتے ،پرک شت (Parikshit) کے بیٹے راجہ جانی جی(Raja Janimijai) نے انہیں اسی کام کے لئے بخشش میں دی تھی۔ 

ماریون (Marion)سے مندل رکھ(Mandal Rikh)،مہان سے موہان گرگوشن(Mohan Gir Goshain) تک جیگوار سے (JAgguar)جہگوار جیڑیرو (Jadgeo) رہن سہن سے بھی ان کی تصدیق ممکن ہے۔ 

مقامی یاداشت کے مطابق بھارز ان علاقوںمیں 12صدی تک حکمران رہے،انہوں نے جنوب میں دریائے سیائی تک سلطنت قائم کی ۔ انگریز ڈبلیو سی بینٹ کے ایڈٹ شدہ صوبائی گزٹ کے مطابق ان کی تہذیب کے مجموعی جائزے سے ایسا نہیںلگتاکہ وہ عوامی تعمیرات ہوں گی۔تاہم بھارز کی موجودگی کی تصدیق مٹی کی بنی ہوئی اینٹوں سے اور ٹیلوں سے ہوتی ہے۔جہاں تک پاسزالنسل باشندوں کا تعلق ہے تو ان کی تعداد زیادہ تعداد ہی ان کی آمد کی تصدیق کے لئے کافی ہے۔ 1871 میںان کی آبادی 7لاکھ کے لگ بھگ ہو گی۔ اور اودھ کے وسیع علاقے کے تن تنہا حکمران تھے۔ان کی سلطنت امیٹھی تک وسیع تھی۔ یہ علاقہ گنجر پلین(Ganjar Plain)یا (Plain of Iron)بھی کہلاتا ہے۔انہوں نے جنگی آلات بھی بنائے ۔ انہیں (Ganjaria)بھی کہا جاتا تھا۔پورے اودھ کو اسی نسبت سے گنجیریزا بھی کہا جاتا تھا۔

اس کے باوجود بھی کوئی جامع دستاویز نہیں ملتی جس سے 5ویں صدی سے12ویں صدی تک اودھ یاایودھیہ میں راجپوتوں کے سلطنت کے قیام کی تصدیق ہوتی ہو۔حتیٰ کہ آرکیالوجی محکمہ کی رپورت بھی خاموش ہے،اس میں بھی اودھ کی ٹوپوگرافیکل خصوصیات کے بارے میں ایک لفظ بھی جامع انداز میں نہیں لکھاگیا۔آرکیالوجی محکمہ نے متنازعہ علاقے کا ایک نقشہ ضرور پیش کیا ہے جو تحریری مواد سے مطابقت نہیں رکھتا۔مذکورہ رپورٹ میں ایودھیہ کے متنازعہ علاقے کی تاریخ پر ہی بحث کی گئی ہے۔رپورٹ اس کی تصدیق نہیں کی گئی کہ زمین کے اس ٹیلے پر بابری مسجد بنائی گئی تھی۔بلکہ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ مقامی لوگوں کی یادداشت کے مطابق بابری مسجد ایک اونچے ٹیلے پر بنائی گئی تھی کبیر ٹیلہ جو (Kubeer Teela) کہلاتا تھا۔کنگھن رپورٹ جرنل آف ایشیاٹک سوسائٹی 1865کے مطابق بابری مسجد کے عین جنوب میں واقع یہ کبیر ٹیلہ 28فٹ(8.53میٹر)بلند ہے۔آرکیالوجی محکمے نے اپنی رپورٹ میںاس بڑے ٹیلے پر غور ہی نہیں کیا جو بابری مسجدکے مغرب میں اسی مسجد کو دیوار کے پانی سے محفوظ بنانے کی غرض سے بنائی گئی تھی۔بابری مسجد کا کچھ حصہ دریا کے بیسن پر بھی تعمیر کیا گیا تھا۔یہی مغل تعمیرات کی خصوصیت ہے ۔مغلوں نے اپنی ہر تعمیر میں اسی انداز کو پیش نظر رکھا۔ مسجد کے گرد قلعہ نما یہ دیوارکافی گہرائی کی علامت ہے مگر یہ کسی عمارت کی دیوار معلوم نہیں ہوتی۔

یہ دیو قامت دیوارسطح زمین سے مسجد سے16فیٹ سے 20فیٹ بلند ہے۔آرکیالوجی محکمے کی رپورٹ میں مسجد کے فرش کو مندر کی زمین قرار دینے کی غلطی کی گئی ہے۔حالانکہ یہ مسجد کافلورسی ہے۔جس حصے کو مندر قرار دیا جا رہا ہے وہ مسجدکے فرش سے1.5فیٹ نیچے واقع ہے۔یہ سطح سے17فیٹ بلند ی پر واقع ہے۔جبکہ آرکیالوجی محکمے نے اسے سطح سے صرف تین فیٹ کی بلندی پر قرار دیا ہے۔جو کہ غلط ہے۔اس بات کو درست مان لیا جائے تو اس کا یہ مطلب ہو اکہ مندر کا ڈھانچہ مسجد کے سی فلور فرش سے 4.5سے 5فٹ نیچے واقع ہے۔مسجد اور مندر کی تعمیر کے وقت دور میں قابل ذکر فرق نہیں۔ دونوں کم و پیش ایک ہی دور میں بنائے گئے ہیں لہٰذا کسی ایک کو گرا کر دوسرے کو بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس لئے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ مندرکسی مسجد کے عین نیچے ،مغرب میںبنایا گیا ہو۔بھارتی محکمے کی رپورٹ کو اسی لئے ناقص قرار دیا گیا ہے۔مندر جس دور میں بنانے کاذکر کیا گیا ہے اس دور میں وہاںمندر نام کی کوئی شے موجود نہ تھی۔ تحقیق کے مطابق مسجد اسی دور میں 28میٹر کی بلندی پر قائم تھی جس کی دیوار دریا کے بیسن کے اوپر بنائی گئی تھی ۔ رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوئوں کا کوئی مندر وہاں موجود نہ تھا۔

اب معاملہ رام کی پیدائش کا آ گیا ہے تو ہم مزید گہرائی میں چلتے ہیں۔آرکیالیوجی محکمے نے اپنی رپورٹ میں مسجد ہی کے تین حصوں کو مختلف قسم کی تعمیرات کا حصہ گرداننے کی ناکام کوشش کی ہے۔آرکیالوجی محکمے کا کہنا ہے کہ مسجد کے فرش کا تعمیراتی مٹیریل اور رنگ زیب دور کی تعمیرات میں فرق ہے۔ مسجد کی تعمیر میں دواقسام کی اینٹوں کااستعمال کیا گیا ہے،محکمے نے دو اقسام کی اینٹوں کودو مختلف تعمیرات سے قرار دیا ہے جو کہ غلط ہے ۔آرکیالوجی محکمے کے مطابق اینٹوں کو باہم جوڑنے کے لئے چونے کا مکسچر استعمال کیاگیا ۔پھر محکمے نے بغیر کسی دلیل کے یہ قرار دے دیا کہ یہی چونا دراصل مندر کی دیوار میں لگایاگیا تھا۔کیونکہ 10 صدی عیسوی میں بھارت میں اسی قسم کے میٹریل سے عمارات بنائی تھیں ۔لیکن تاریخ کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات عیاںہو جاتی ہے کہ دواینٹوں کو آپس میں جوڑنے کے لئے چونے کا ا ستعمال اسی دور میں عام ہو گیا تھا۔بعد کے زمانے میں اینٹوں اور چونے کے درمیان لوہے کی سلاخوں کے استعمال نے لے لی تھی ۔ 

بھارتی محکمہ آثار قدیمہ نے اس بات پر بھی غور نہیں کیا کہ 11ویں اور 12صدی میں مسلمانوں اورہندوئوں نے الگ الگ سائز کا تعمیراتی میٹریل کا استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔مندر اور مسجد میں استعمال کئے جانے والے پتھر اور اینٹوں کا سائز چھوٹا یا بڑ اہوتا تھا ایک جیسا سائز کہیں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ایودھیہ کے مقام پر مسجد اور مندر کے تعمیر کا دورانیہ کم و پیش ایک جیسا ہی ہے۔یعنی 11ویں یا 12ویں صدی۔ لیکن ایودھیہ کے مقام پر تعمیر ڈھانچے کو صرف مسجد کے پس منظر میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔جس مقام پر مسجد بنائی گئی تھی اسے دیکھ کر بھی اندزہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماہر تعمیرکیاچاہتاہے۔مسجد کی شہادت کے بعد

کھنڈرات کا بھی جائزہ لینے سے بھی اس موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔

جنوب سے مشرق کی جانب جانے والی دیواریںبیرون میں جھکی ہوئی تھیں۔مندر میں ایسی جھکی ہوئی دیواریں بنانے کا کوئی تصور نہیں ملتا ۔اس سے تصدیق ہوتی ہے مسجد کوپانی کی موجوں سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ دیوار بنائی گئی ہو۔ اسی طرح جنوب مشرق میں بھی دیواروں کو باہر کی جانب جھکا کر پانی کا دبائو کم کیا گیا ہے۔

ہندوئوں نے یہ دلیل دی کہ جہاں رام نے جنم لیا ۔وہاں مسلمانوںنے تین مساجد بنائیں ۔جن میںبابری مسجد کے علاوہ (Swargadwar) اور (Treta-ke-Thakur) نام کی مساجد شامل ہیں۔ باقی دونوں مساجد اورنگ زیب عالم گیر کی شبانہ روزمحنت کی نشانی ہیں۔یہ بات بھی پیش نظر رکھی جائے کہ بابری مسجد اور باقی دونوں مساجد کے مابین ایک صدی کا وقفہ ہے۔6دسمبر1992کو بابری مسجد قائم تھی جبکہ باقی دونوں مساجد1877ء میںشہید ہو گئی تھیں۔یہ تینوں مساجد دریا کے بیسن پر بنائی گئی تھیں یا پھر دریا کے کنارے پر۔یہ بات بلا شک و شبہ کہی جا سکتی ہے کہ بابری مسجد مغرب میں دریائے کے قوی بیڈ پر ہی بنائی گئی تھی۔تحقیقی کے مطابق اس مسجد کی تعمیر بھی جان جوکھوں کا ہی کام ہوگا۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے،ماہر تعمیر نے اسی جگہ کا انتخاب کیوں کیا ؟یہ مقام اتنا ہی پرکشش اور اہم تھا تو پھر بابری مسجد وہاںکیوں نہ بنائی گئی۔یہ جگہ اونچی بھی تھی مستحکم بھی۔بھارتی محکمے نے بھی عجیب منطق دی ۔اس کے مطابق مسلمانوں نے بابری مسجد کی پہلے ایک ہی منزل تعمیر کی۔بعد ازاں دوسری اور پھر تیسری منزلیں بنائی گئیں۔انہوں نے خود ہی دلیل دی کہ شائد بابری مسجد کی پہلی منزل کی شہادت کے بعد اسی ڈھانچے پر دو منزلہ مسجد بنائی گئی ہوکیونکہ مون سون سیزن میں مسجد کے زیریں منزل میں پانی کا جمع ہونا معمول ہو گا۔چنانچہ مسجد کی پہلی منزل 13ویں صدی میں ہی بنائی گئی تھی۔مگر پانی کے دبائو اور مون سون سیزن میں یہ منزل شہید ہو گئی ہو گی۔جس کے بعد ہی باقی دونوں منزلوں کو سہارا دینے کے لئے ستونوں کا ستعمال کیا گیا ہو جنہیں اب مندر کا ستون کہا جا رہا ہے۔پہلی منزل کی تعمیرکے وقت ستونوں کی ضرورت ہی نہ تھی۔جنوب اور مغرب میں ستونوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بھی اس نکتے کی تصدیق ہوتی ہے۔ کیونکہ اس علاقے میں مون سون سیزن میں ہواکا دبائو بے حد بڑھ جاتا ہو گا۔بارش کے پانی کا دبائوبھی مسجد میں جنوب مشرق سے ہی داخل ہوا ہوگا اسی لئے اس حصے میںستونوں کا سہار ادیا گیاتھا۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتی آرکیالوجی محکمے نے پتھروں کے کالمز اور ستونوں کو ہندو طرز تعمیر سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے یہ دلیل دی کہ ا سلامی طرز تعمیر میں ستون نہیں بنائے جاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ستونوں کا استعمال بدھ مت، جین مت، اور ہندو میت میں ہی دیکھنے میں آیا۔یہ دلیل بوگس اور بغیر کسی ثبوت کے تھی ۔یہ ابہام 19ویں صدی میں وہاں آنے والے گورے محقق جیمز فرگوسنب نے پیدا کیاتھا۔اس نے کہا کہ ایودھیہ کے مقام پر مسلمانوں نے مندرو گرا کر مسجد بنائی تھی ۔اس نے یہ دلیل دی کہ مسلمانوں نے ہندوئوں کا تعمیراتی ساز و سامان ہی اپنی مساجد بنانے میں استعما ل کیا جس کے باعث ان میں مماثلت پائی گئی۔لیکن وہ یہ بھول گیا کہ مندر کا میٹیریل اور چوری شدہ میٹیریل سے مسجد کی تعمیر حرام ہے یہ ممکن ہی نہیں۔ مندر کی ہر اینٹ مسلمانوں پرحرام ہے ۔وہ ایسا کام کر ہی نہیں سکتے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بابری مسجد کی کہانی شروع ہوتی ہے1949میں۔جب کئی صدیوں پر محیط مغل باشاہت اور برطانوی حکومت کے بعد خطے میں آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہے،ان بی ...

مزید پڑھیں

موت کو روکا نہیں جا سکتا، یہ برحق ہے ،مگر ناگہانی موت سے بچنے کا بھی حکم ہے۔آگ بھی ایک خوفناک حقیقت ہے ،دنیا بھر میں ہر سال آتشزدگی کے ل ...

مزید پڑھیں

’’15سو شمسی سال کی دوری پر کوئی نہ کوئی رہتا ہے۔ کوئی نہ کوئی ہے جو مسلسل ہم سے رابطے کی کوشش کررہا ہے اورہم اگلے 30سال میں ا س مخلوق تک ...

مزید پڑھیں