☰  
× صفحۂ اول (current)

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ایک طرف دنیا کورونا جیسی منفرد بیماری سے لڑنے میں مصروف ہے اب تک لاکھوں جانیں اس آفت کی نذر ہو چکی ہیں اور وبا ء ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی نہیں پتہ کہ اس بیماری سے کب تک لڑنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایک بار ختم ہونے کے بعد یہ دوبارہ سے نہیں پھوٹے گی ۔ ایک ہفتہ قبل انہوں نے لاک ڈائون میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے قوم پر روز دیا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے ان تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بیماری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی طرف واپس جانا پڑے گا اور وہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے

مزید پڑھیں

پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں عام آدمی کے ذہن میں جو خوف اور خدشات موجود ہیں ،شاید دنیا کی کسی اور قوم کے لوگوں میں موجودنہ ہوں۔ہمارے ہاں پٹرول اور اِس سے متعلق دیگر مصنوعات کو سونے اور چاندی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

   یہ شاید فروری کے دوسرے ہفتے کی بات ہے جب پڑوس سے ایک آنٹی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئیں اور بتایا کہ اُن کے بیٹے کی منگنی ہو گئی ہے اور اُس نے گاڑی بھی خریدی ہے۔    

مزید پڑھیں