☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
سانحۂ کانپورسے قیام پاکستان تک

سانحۂ کانپورسے قیام پاکستان تک

تحریر : شریف المجاہد

03-24-2019

شریف المجاہد ہم تحریک پاکستان کے اہم پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں، جنگ بلقان ابھی جاری تھی کہ 1913میں مچھلی بازار کانپور کی مسجد کے بیرونی حصے کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات بُری طرح مجروح ہوئے اور ان میں یہ احساس تقویت پکڑ گیا کہ برطانوی حکومت نے اندرون ہنداوربیرون ہند مسلمانوں کو پامال کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے

چنانچہ سانحہ کانپور ایک ایسا تاریخی موڑ قرار پایا جہاں سے ،اسلامیان ہند کی سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ سانحہ کانپور دراصل مسلمانان ہند کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا۔اس واقعہ سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف ایک ہلچل مچ گئی ۔مولانا محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خان،مولانا ابوالکلام آزاد ،جنہوں نے بالترتیب دہلی سے کا مریڈ ،لاہور سے زمیندار اورکلکتہ سے الہلا ل نامی اخبارات جاری کئے تھے سمیت دیگر مسلم زعماء مثلا ًمولانا عبدالباری فرنگی ،محلی،مولانا آزاد سبحانی ، مولانا شوکت علی،وغیرہ نے انگریزوں کی مسلم دشمن پالیسی پر سخت نکتہ چینی کی خصوصا ًمسلمانوں پر فائرنگ اورمسلم رہنماؤں کی گرفتاریوں پر شدید احتجاج کیا جس سے مسلمانوں میں ملی بیداری اورعملی سیاست میںحصہ لینے کے جذبے کو مزید تقویت پہنچی۔

 

دہلی تجاویز

 

1922سے شروع ہونے ولاعشرہ برصغیر کی تاریخ میں نہ صرف ایک خونچکاں عشرہ ہے بلکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل بھی ہے کیونکہ اسی عشرہ میں ہندو مسلم فسادات کی تاریخ میںایک نئے اور سنگین باب کا اضافہ ہوا اورہندو مسلم مصالحت کے لیے ماضی میں کی جانے والی تمام کوششوں پر پانی پھرگیا ۔اس عشرہ میں ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان ایک ایسی خلیج حائل ہوگئی جس کو عبور کرنامحمد علی جناح ؒجیسے ہندو مسلم اتحادکے سفیر کے لیئے بھی ناممکن ہوگیا ۔اسی عشرہ میں کئی اتحاد کانفرنسیں بھی طلب کی گئی اورہندو مسلم مفاہمت کے لیے کئی تجاویز سامنے آئیں جن میںدہلی تجاویز اہم ترین تھیں اورجوقائداعظم ؒکے ایما پر 1937میںمسلم زعماء کے ایک اجلاس نے دہلی میں مرتب کی تھیں۔ آل انڈیا نیشنل کانگریس نے گاندھی جی اور نہرو کی سرگردگی میں ان مطالبات پر غورکیا اور اپنے ابتدائی اجلاس میں ان مطالبات کو تسلیم بھی کرلیا لیکن بعد میں چند متعصب ہندو عناصر کے زیر اثرمسلمانوں کے کچھ مطالبات کورد کردیاگیا۔

 

نہرورپورٹ

اسی طرح نہرورپورٹ میں بھی جو کانگریس نے ہندو ستان کے آئین کی حیثیت سے تیار کی تھی ،مسلم حقوق کوپامال کردیا گیا۔نہ صرف یہ بلکہ دسمبر1928اورجنوری1929میں جب نہرورپورٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے کلکتہ میں نیشنل کنونشن منعقد ہوا تواس میں بھی محمد علی جناحؒ کے تین بنیادی مطالبات کو مستردکردیا گیا۔ہندومسلم اتحاد کے داعی محمد علی جناحؒ کے لئے یہ ایک انتہائی مایوس کن اور چونکا دینے والی صورت حال تھی چنانچہ جب وہ کلکتہ سے بمبئی (ممبئی )روانہ ہورہے تھے تو انہوں نے اپنے ایک پارسی دوست جمشید نسروانجی سے کہاتھا ’’آج ہندوانڈیا اورمسلم انڈیا ایک دوسرے سے اس طرح جد اہوگئے ہیں کہ اب وہ کبھی متحد نہیں ہو سکیں گے ‘‘۔ نہرورپورٹ کا ایک مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان جو کئی گروہوں میں بٹے ہوئے تھے نہرورپورٹ کی صورت میں ظاہر ہونے والی کانگریس کی مسلم دشمنی کی بنا پر باہم متحد ہوگئے ۔جنوری 1929 میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس اسی اتحاد کی مظہر ہے اس کانفرنس کا اجلاس دہلی میں ہوا جس کی صدارت سرسلطان محمد آغا خان نے کی اس کانفرنس میں نہ صرف میاں محمد شفیع اورسرشفاعت احمد خان پیش پیش تھے بلکہ ترک موالات اورتحریک خلافت کے رہنما مولانا محمد علی جوہر ،مولانا شوکت علی اورمولاحسرت موہانی نے بھی اس میں اہم کردار اداکیا۔

محمد علی جناح ؒکے چودہ نکات

 

ان واقعات کی روشنی میں محمد علی جناحؒ نے مارچ 1929ء میںاپنے وہ مشہور چودہ نکات پیش کئے جنہیں برصغیر کی تاریخ میں اگلے گیارہ سال تک اسلامیا ن ہند کے منشور کی حیثیت حاصل رہی ۔ساتھ ہی ساتھ محمد علی جناحؒ نے مختلف مسلم جماعتوں میں اتحاد کے لیے بھی کوشش کی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ 1924ہی سے جب وہ تحریک خلافت کے بعد مسلم لیگ کی تنظیم نو کی جانب متوجہ ہوئے تھے وہ برابر مسلم اتحاد کے لیے کوشاں رہے۔ 1930سے 1932کے درمیانی عرصے میں لندن مین تین گول میز کونفرنسیں منعقد ہوئیں اورایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء مرتب کیا گیا ۔

 کانگریسی وزارتوں کا قیام

 

تصورپاکستان کی فوری مقبولیت کے جہاں چند مثبت پہلو تھے وہیں اس ے چند منفی پہلو بھی تھے جیسا کہ اس سے قبل واضح ہوچکاہے کہ 1906ء سے 1937-38ء تک ہندومسلم مفاہمت کے لیئے جتنی تجاویز پیش کی گئی وہ سب میثاق لکھنو کے سوا مسلمانوں کی ہی جانب سے تھیں۔ دوسری طرف ہندووں نے ان تجاویز اور مسلم مطالبات کا جواب ہمیشہ منفی اندازمیں ہی دیا ۔کانگریس اورہندووں کا یہ منفی رویہ 1937ء کے انتخابات کے بعد اور شدت اختیار کرگیا۔انتخابات سے قبل قوی امید تھی کہ انتخابات کے بعد کانگریس اورمسلم لیگ میں مفاہمت ہوجائے گی اوردونوں جماعتیں مل کرمخلوط وزارتیں قائم کریں گی۔ بہرحال انتخابات میں کانگریس کو غیر متوقع کامیابی حاصل ہوئی اور ہندوستان کے گیارہ صوبوں میں سے پانچ صوبوں میں اس کے ارکان اکثریت میں منتخب ہوئے جبکہ چھوٹے صوبے میں وہ سب سے بڑی پارتی تھی۔ اس غیر متوقع کامیابی کے نشے میں کانگریس نے سوچاکہ کیوں نہ دوسری تمام پارٹیوں کو اپنے اندر ضم کرلیاجائے اوراس طرح ہندوستان کی واحد سیاسی جماعت بن جائے ۔

اسی انداز فکر کے نتیجہ میں اس نے مخلوط وزارتوں کے بارے میں مسلم لیگ کی پیش کیش کو بھی ٹھکرادیا او رجن ہندواکثر یتی صوبوں میں کانگریس وزارتیں قائم ہوئیں وہاں مسلمانوں کو انکے حقوق سے بری طرح محروم کردیا۔نہ صرف یہ بلکہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت یکے بعد دیگرے مسلم کش اقدامات کئے ۔

ان میں سے چند یہ تھے

۔1بندے ماترم کو قومی ترانہ کی حیثیت دینا

۔2۔تمام سرکاری عمارتوں پر کانگریس کے پرچم کو قومی پرچم کی حیثیت سے لہرانا

۔3۔اردو کی جگہ ہندی زبان

۔4۔سی پی میں دویامندراسکیم کا اجرا ۔یہ اسکیم ہندو اساطیری اصولوں پر مبنی تھی

۔5۔گائے کے ذبح پر پابندی

۔6۔ملازمتوں میں مسلمانوں کو ان کے مخصوص اورمقررہ حقوق سے محروم کرنا

۔7۔ہندو مسلم فسادات میں ہندووں کی طرف داری اور عدالتوں میں مسلمانوں کے لیے انصاف کے حصول میں مداخلت ۔

بہرحال اسلامیان ہند اور قائداعظم ؒکی خوشی قسمتی تھی کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر کانگریس نے ہندو اکثریتی صوبوں میں ہر جگہ غیر کانگیریسی جماعتوں اورگروپوں کو اورخصوصا ًمسلم جماعتوں ،نیز مسلم لیگ کو دورکرنے اوراپنے اندر ضم کرنے کی پالیسی اختیارکی۔یہ حقیقت بھی اب ان پر عیاں ہوگئی تھی کہ مسلم اکثریتی صوبوں (یعنی پنجاب ،سرحد،سندھ،بنگال)میں تو مخلوط حکومتیں قائم کرانے کی کوششیں اس بہانے کی جارہی تھیں کہ ایسی حکومتوں کے قیام سے ملک کی کثیر القومی حیثیت نمایاں ہوسکتی ہے جبکہ اس کے برعکس ہندو اکثریتی صوبوں میں کانگریس ایک جماعتی حکومت بنانے پر مصر تھی حالانکہ اس کا یہ اصرار برصغیر کے سیاسی حقائق کے قطعی منافی تھا۔

مسلم لیگ کی مقبولیت

 

مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی عرض سے قائداعظم نے جن انتھک کوششوں کا آغاز 1934سے کیاتھا ۔ان کی کامیاب تکمیل ایک طرح سے مسلم لیگ کے اجلاس لکھنو 1937ء میں ہوئی اجلاس لکھنو نے مسلم ہند کو ایک ایسے جوش وجذبہ سے سرشارکردیا جس کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی اس اجلاس کے نتائج بھی فوری طور پر سامنے آئے صرف تین ماہ بعد ہی صوبہ جات متحدہ(یوپی)میں لیگ کی تقریباََنوے نئی شاخیں قائم ہوئیں اورایک لاکھ نئے رکن بنے ۔سرسکندر حیات خان نے لکھنؤ سے لاہور واپس پہنچنے پر قائداعظمؒ کو لکھا مسلم لیگ کی رکنیت سازی کی مہم تیزی سے جاری ہے اورہمیں توقع ہے کہ بہت جلد صوبہ بھر میں ضلعی شاخیں قائم ہوجائیں گی ۔

میں نے تمام مسلم یونینسٹ ارکان کوہدایت کردی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میںلیگ کی رکنیت سازی شروع کر دیں۔ محمد علی جناحؒ کی حکمت علی ،صبر وتحمل ،اولوالعزمی اورتحریک بالآخر کامیاب ہورہی تھی ان کی قیادت میں مسلم لیگ نے جو حیرت انگیز ترقی کی اسکا اندازہ 1937کے بعد اجلاسوں میں نہ صرف کثیرتعداد میں وفود کی شرکت بلکہ ارکان کی تعداد سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔1932

کا اجلاس کو رم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کرناپڑاتھا پھر 1931میںکورم کے لئے تعدادپچھتر سے کم کرکے پچاس کر دی گئی تھی لیکن اپریل 1932ء میں مندوبین کی تعداد دوسو ہوگئی ۔صرف اٹھارہ ماہ بعد اکتوبر 1937ء میں اجلاس لکھنؤ کے موقع پر یہ تعداد دوہزار تک پہنچ گئی۔لکھنؤ کے پنڈال میں پانچ ہزار نشستو ں کی گنجائش رکھی گئی تھی کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں منعقدہ اپریل1938ء میں پندرہزار اورلاہور 1940ء میں ساٹھ ہزار سے زیادہ نشستوں کا اہتمام کرناپڑا ۔جبکہ اس اجلا س میں توقع سے زیادہ لوگ شریک ہوئے ۔ٹائمز آف انڈیاکے نامہ نگار کے اندازہ کے مطابق اس اجلاس میں شریک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی ۔اس اجلاس کو اسلامیان ہند کا نمائندہ ترین اجلاس قراردیاگیا۔

اسی طرح مسلم لیگ کے ارکان کی مجموعی تعداد میں جو 1937ء میں 1333تھی۔ حیران کن اضافہ ہوامدراس میں جہاں مسلمانوں کی آبادی صرف چھ فیصد تھی 1941میںرکنیت ایک لاکھ بارہ ہزار اٹھہتر تک پہنچ گئی۔1944میں بنگال میں ارکان کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی ۔اس صوبہ میں کانگریس سمیت کسی بھی سیاسی جماعت کو اتنی تعداد کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی ۔

اسی سال 1943-44 ء سندھ میں مسلم لیگ کے ارکان کی تعداد تین لاکھ یعنی صوبہ کی بالغ مرد آبادی کا 25فیصد تھی ۔ اجلاس لکھنؤ کے بعد مسلم لیگ کی روزافزوں قوت اورمقبولیت کا اندازہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے بھی ہوتاہے ۔یکم جنوری 1938ء اور12ستمبر 1942ء کے درمیانی عرصے میں مسلم لیگ نے 56مسلم نشستوں میں 46نشستیں حاصل کیں یعنی 82 فیصد اس کے برعکس کانگریس نے صرف تین یعنی پانچ فیصد اور آزاد امیدواروںنے سات نشستیں حاصل کیں ۔مسلم لیگ کی قوت ومقبولیت کا ایک اورثبوت یہ ہے کہ قائداعظمؒ نے جب 22 دسمبر 1939ء کو یعنی کانگریس راج کے ظلم وجبر اوراستبداد سے چھٹکارا حاصل ہونے پر یوم نجات منانے کی اپیل کی تو پورے برصغیر میں مسلمانوں نے بڑے والہانہ انداز میں قائداعظمؒ کی آواز پر لبیک کہا۔

مسلم قومیت کا فروغ 1939

 

کے اواخر میں جب کانگریسی وزارتیں وائسرائے کے اعلان جنگ کے سوال پر مستعفی ہوگئیں تو مسلمانوں کو اپنے شعور ،فکر اوراذہان کو ٹٹولنے کا موقع ملا ،تاکہ وہ اپنی دیرینہ مگر خفیہ امنگوں کا ایک سیاسی پروگرام اورنصب العین کی شکل میںمرتب کرکے دوٹوک اور بے دھڑک اعلان کر سکیں۔ وہ نہ صرف مغوی اورلغوی اعتبار سے بلکہ بین الاقوامی اصولوں اورمعیار کے مطابق نہ صرف ایک الگ قوم کہلانے کے مستحق ہیں بلکہ درحقیقت وہ ایک قوم ہیں۔

یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ مسلمانوں میںنہ صرف ایک قوم کی حیثیت سے زندگی گزارنے کا عزم صمیم پیدا ہوچکا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ قدرت نے ان کو ایک ایسے خطے سے بھی نوازا تھا جسے وہ اپنا معاشرتی ،ثقافتی اورقومی وطن بناسکتے تھے اورجہاں وہ اپنے اصولوں کی بنیاد پر ایک حکومت قائم کرسکتے تھے ۔ ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی جانب سے علیحدہ قومیت کا یہ مثبت اوردوٹوک دعویٰ بہت موثر اوردیرپا ثابت ہوا وہ گر وہ جو کل تک خودکو ایک اقلیت تصور کرتاتھا اورکاغذی تحفظات کا طلب گار تھا ،

وہ اب ایک قومیت کی شکل اختیارکرگیا ۔ایک ایسی قومیت جو دوسروں سے منفرد تھی اورجو برصغیر میں اپنے لئے ایک خودمختار مملکت کے قیام کو اپنا حق سمجھتی تھی۔اس کو قائم کرنیکی بھرپور صلاحیت اورطاقت رکھتی تھی۔ حضرت قائداعظمؒ نے الگ مسلم قومی تشخص کی اس انداز میں توضیح اورتشریح کے بعد ،مسلم لیگ کو مسلم اکثریتی صوبوں میں ایک مسلم مملکت کے قیام پر رضامند کرلیا۔چنانچہ قائداعظمؒ کی زیرقیادت مسلم لیگ نے اجلاس لاہور منعقدہ 1940ء میں ایک علیحدہ مسلم ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین قراردیا اوریہی نصب العین بعد میں مطالبہ پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔

اجلاس لاہور میں علیحدہ وطن کے مطالبہ پرمبنی قرارداد بنگال کے وزیراعلیٰ اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی جبکہ اسکی تائید چوہدری خلیق الزمان ،مولانا ظفرعلی خان ،حاجی سرعبداللہ ہارون ،مولانا عبدالحامدبدایونی،قاضی محمد عیٰسی ،بیگم مولانا محمد علی جوہر،آئی آئی چند ریگر نے کی۔ قائد اعظمؒ نے کہا’’آج ہندوانڈیا اورمسلم انڈیا ایک دوسرے سے اس طرح جد اہوگئے ہیں کہ اب وہ کبھی متحد نہیں ہو سکیں گے‘‘۔

اگرچہ یہ پہلاموقع تھا جب اسلامیان ہند نے اتنے واضح اور مد لل انداز میں اپنی منفرد اور علیحدہ قومیت کا نہ صرف اعلان اوردعویٰ کیا بلکہ برصغیر میںایک علیحدہ مسلم وطن کی تشکیل پر بھی زوردیا ۔تاہم مسلم ہند کی تاریخ کا اگر بغور مطالبہ کیا جائے تویہ بات سامنے آتی ہے کہ علیحدہ مسلم قومیت کا تصور مسلم انداز فکر اورسوچ میںہمیشہ ایک مرکزی حیثیت کا حامل رہاہے ۔ محمد علی جناحؒ کا شدید ردعمل ان سب عوامل اورمحرکات کے پس پردہ داراصل مسلم تشخض اورجداگانہ قومیت کا ہی تصورکار فرماتھا۔ ٭٭٭٭

مزید پڑھیں

ٹیپو سلطان

 6دسمبر1782کو حیدر علی کی وفات ہوئی۔ یہ افسوسناک خبر ٹیپو سلط ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عالمی ممالک نے دنیا کی چونکا دینے والی تصویر پیش کی ہے، کہتے ہیں کہ2050ء میں دنیا کی آبادی9ارب ہوجائے گی، ہمارا ہمسایہ بھارت 2050ء میں ایک ا ...

مزید پڑھیں

میڈیکل پروفیشن کا ریگولیٹر اپنی موجودہ شکل میں آخری سانسیں لے رہاہے، موجودہ پی ایم ڈی سی کا آخری اجلاس 29اگست کو ہوگا۔ پی ایم ڈی سی آرڈ ...

مزید پڑھیں

ابھی حال ہی میں لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلا اجازت دوسری شادی کرنے پر بیگم کی درخواست پراس کے شوہر رشید کو 11مہینے کے لئے جیل بھجوا دیا ...

مزید پڑھیں