☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) غور و طلب(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() متفرق(عبدالماجد قریشی) رپورٹ(محمد شاہنواز خان) کھیل(طیب رضا عابدی ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) خواتین() خواتین() خواتین() خواتین() دنیا کی رائے(محمد ارسلان رحمانی) دنیا کی رائے(عارف رمضان جتوئی) دنیا کی رائے(وقار احمد ملک)
’’ممی ڈیڈی‘‘ گندم سے سبز انقلاب ممکن نہیں !

’’ممی ڈیڈی‘‘ گندم سے سبز انقلاب ممکن نہیں !

تحریر : ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم

12-08-2019

ممی ڈیڈی گندم

ہم من حیث القوم دراصل اتنے سست ہیں کہ ممی ڈیڈی بچوں والی شکل اختیار کر چکے ہیں،

یہ ممی ڈیڈی کیا ہے ؟

" بھئی ہم بہت مصروف ہیں ۔۔۔ہمارے پاس ٹائم نہیں ہے ۔۔۔ ہم نے ابھی یہ کام کرنا ہے ۔۔۔ وہ کام کرنا ہے ۔۔۔" 

چلتے پھرتے برگر کھا لیا ۔۔۔ بھوک مٹ گئی ۔۔ ۔ آتے جاتے سوفٹ ڈرنک پی لی۔۔۔ پیاس بجھ گئی۔ یہی حال کاشتکار بھائیو ۔۔۔ آپ کا ہے ۔۔۔ادھر چاول کاٹے ۔۔۔ ادھر گندم بیج لی ۔۔۔یا ادھر سے کپاس اٹھائی اور ادھر سے گندم کاشت کر لی ۔۔۔یعنی جس طرح برگر کھانے والوں کا مقصد بھی صرف پیٹ بھرنا ہے ، صحت کی انہیں فکر نہیں ۔۔۔ اوربرگر کھانے والا بچہ جلد تھک جاتا ہے، صحت بھی قابل رشک نہیں رہتی۔یہی حال زمین کا ہے ۔۔۔فصل پہ فصل لینے سے وہ بھی جلد تھک جاتی ہے ۔زمین کی صحت برقرار نہیں رہتی ، اور جس زمین کی صحت ٹھیک نہ ہو، وہاں سے زیادہ پیداوار لینا خام خیالی ہے ۔

وقفہ ضروری ہے 

کمزور ماں کی صحت کا اندازہ ہر کوئی بآسانی لگاسکتا ہے،یعنی وہ نحیف، کمزور، اور لاغر سی ہو گی ۔۔۔ا یک طرف تو اس ماں کی صحت کا حال ہے ۔۔۔ تو دوسری جانب دھرتی ماں کی صحت ہے ۔سال میں 4/5 فصلیں اور وہ بھی مسلسل حاصل کرنے والی زمین کی صحت کا عالم بھی، اس کی صحت بھی نحیف ، لاغر اور کمزور سی ہو گی۔ اگر یہی دھرتی ماں دو فصلوں میں کچھ وقفہ ڈال لے تو ا س کی اپنی اور اس کے بچوں (فصلوں)کی صحت دونوں قابل رشک ہو گی ۔ زمین کی زرخیزی بحال ہوتی رہے گی اور گندم کی پیداوار بھی بھرپور ملتی رہے گی ۔

کھیت کے لئے دیسی گھی اور پنجیری کا اہتمام

ماں کی طرح دھرتی ماں بھی دیسی گھی اور پنجیری مانگتی ہے مگر کسی کی اس طرف توجہ ہی نہیں جاتی۔سب مصنوعی کھادوں کی طرف بھاگتے رہتے ہیں۔سبز انقلاب سے قبل پاکستان میں کہاں کھادیںہوتی تھیں ۔۔۔!اس وقت تو روڑی اور گوبر سے کھادوں کا کام چلا لیا جاتا تھا۔ اگر بنظر عمیق سے دیکھاجائے تو زمین کی بڑھوتری اور نشو و نما کے لئے گوبر اور روڑی وغیرہ ہی کھیت کھلیان کا دیسی گھی ہے اور یہی اس کی پنجیری بھی ہے ۔اگر آج بھی کھادوں کی جگہ گوبر اور روڑی کا رواج عام ہو جائے تو آج بھی زمین نہ صرف اپنی صحت بحال رکھ سکتی ہے بلکہ پیداوار کے ساتھ گندم غذائیت بھی بڑھ سکتی ہے۔ دنیا بھر میں لوگ تو اب روڑی وغیرہ سے بجلی بنا رہے ہیں مگر ہم اسے اٹھا کر کھیت میں بھی ڈالنے سے کترا رہے ہیں ۔لہٰذا پیداوار اور غذائیت کو تحریک دینے کے لئے کھیت کو دیسی گھی اور پنجیری کی صورت کسان کے پاس 3چیزیں موجود ہیں ۔۔جن میںپریس مڈ یعنی گنے کی میل، مرغی کی بٹھیں (فضلات) اور گوبر و روڑی شامل ہیں۔ان سب میں زمین کی توانائی بڑھانے میں بھرپور قوت موجود ہے ۔جس سے زمین کے مسام ایسے نرم ہو جاتے ہیں کہ گندم کے پودوںکی جڑیں آسانی کے ساتھ زمین کے اندر دھنستی چلی جاتی ہیں۔جن کے اثرات پھر گندم کے خوشوں پر مرتب ہوتے ہیں اور جو زیادہ پیداوار کا موجب رہتے ہیں ۔۔۔

گندم کا موزوں وقت کاشت

کاشتکار بھائیو ۔۔۔

ہم جب بھی قدرت کے موافق چلیں گے ۔۔۔ہمیں زندگی میں آسانیاں ملتی رہیں گی ، گندم کا بھی یہی حال ہے ۔۔۔پچھلے 30 سال کی تحقیق سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ 

گندم کی کاشت کا موزوں ترین وقت 5تا15 نومبر کا دورانیہ ہی ہوتا ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظرہم ان میں 5 دن کی توسیع کر لیتے ہیں اور یوں 5 سے 20 نومبر کا دورانیہ کر لیتے ہیں ۔۔۔چنانچہ 5سے 20 نومبر کا دورانیہ ، گندم کی کاشت کے لئے قدرت کے عین موافق رہتا ہے ۔جس کے فائدے یہ ہیں کہ اس دوران کاشت کی جانے والی گندم کی فصل کو پانی کی ضرورت کم رہتی ہے ۔جڑی بوٹیاں کم اگتی ہیں، کیڑوں اور بیماری کے حملہ آور ہونے سے پہلے پہلے فصل اپنے پکنے کا عمل مکمل کر لیتی ہے ۔۔۔بعد ازاں کنگی اور ایفڈز(تیلہ) حملہ آور ہو بھی تو ان سے معاشی طور پر نقصان نہیں ہوتا ۔۔۔اور فصل بھرپور پیداوار دیتی ہے ۔۔۔

گند م کی کاشت میں ایک ایک دن کی اہمیت

تحقیق کی مطابق گندم کی کاشت کے لئے 5تا20 نومبر کا وقت موزوں ترین وقت ہوتا ہے۔مگر اکثر کسان اپنی اپنی سہولت کے پیش نظر تاخیری حربے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی لاپرواہی اور انجانے پن میں گندم کی کاشت کو 20 نومبرکے بعد لے جاتے ہیں ۔۔۔یاد رہے کہ گندم کی کاشت کے لئے نومبر کے مہینے کا ایک ایک دن بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔گنے کی کاشت تو سارا مہینہ چلتی رہے تو گنے کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب نہیںہوتے مگر گندم کی فصل کو ایک دن کی تاخیر سے کاشت کرنے سے 20 کلو گرام فی ایکڑ فی دن پیداوار گرتی جاتی ہے ۔۔۔بالفرض ہم کہتے ہیں کہ گندم کی کاشت20 نومبر تک کمل کر لی جائے ، اور اگراب کوئی 21 نومبر کو کاشت کرے گا تو اس کی پیداوار 20 کلو فی ایکڑ فی دن کے حساب سے کم ہوتی جائے گی اور 22 نومبر کو جبکہ ابھی اس نے گندم کاشت نہیں کی مگر کسان کی 1 من فی ایکڑ پیداوار کم ہو گئی۔۔۔ یوں اس حساب سے ایک کاشتکار اگر اپنی گندم 5دسمبر کو کاشت کرے گا تو 5 دسمبر کو ابھی اس کی گندم کاشت نہیںہوئی اور اس کی پیداوار پہلے ہی 300 کلو گرام یعنی 7 من فی ایکڑ کے حساب سے کم ہو گئی ۔کاشتکار اب اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں کی اس کی پیداوار 60 من آنی تھی وہا اس کی پیداوار 50 من کے لگ بھگ رہ گئی ۔۔۔

کھڑی فصل میں گندم کی پیداوار معلوم کرنے کا طریقہ

اگیتی ، درمیانی اور پچھیتی کاشت کی جانیوالی گندم کی کھڑی فصل کے خوشوں کو دیکھ کر واضح نظر آجاتاہے کہ کون سی فصل کب کاشت کی گئی ہے ۔۔۔ لیکن یہ تینوں اقسام کی گندم چونکہ یک دم پکتی ہیںلہٰذا عام کاشتکار اس کی پہچان کا ادراک نہیں کرپاتا ۔۔۔مگر پلانٹ بریڈر اسے پہچان لیتا ہے لہذا گندم کی فصل کوئی بھی ہو،اس کھڑی فصل کے درمیان میں جاکر ایک سٹہ توڑ لیںاور باہر لا کر اسے میز پر رکھ کر احتیاط سے اس کے دانوں کی گنتی کریں ۔جتنے دانے ہوں گے ۔۔ کم و بیش اتنے ہی من فی ایکڑ اس کھیت کی پیداوار ہو گی ،اس بار آزما کر دیکھ لیں ۔۔۔

کلام الٰہی کے مطابق گندم کی پیداوار

سورہ البقرہ کی آیت نمبر261- میں ارشاد ربانی ہے کہ 

ایک دانے سے نکلیں 7 بالیاں ، اور ہر بالی میں لگے 100 دانے یا اس سے بھی زائد

یوں اس آیت میں ایک دانے سے 700 دانے یا اس سے بھی زائد دانوں کی نوید ہے ۔۔۔جبکہ ہماری تحقیق کہاں تک پہنچی ہے ۔۔۔اور ایک دانے سے کتنے دانوں تک ہم پہنچ چکے ہیں ۔۔۔تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ایک دانے سے اگنے والے گندم کے پودے پر اوسطاََ پونے دو بالیاں (خوشے یا سٹے) کے ذریعے ہمیں 70 دانے تک مل جاتے ہیںجبکہ قرآن پاک کی رو سے 700 دانے یا اس سے بھی زیادہ دانے ملنے ہیں۔یوں ہماری ریسرچ ابھی 630 مزید دانوں کے حصول کی جانب گامزن ہے ۔اور دانوں کی اتنی تعداد ہمارا ایمان ہے کہ ضرور آئے گی۔۔۔ یعنی ایک دانے سے 700 دانے یا اس سے بھی زائد دانے ضرور ملیں گے ۔۔۔

دانے اور پودے فی ایکڑ

 تحقیق کے مطابق ایک کلو گندم میں 25ہزار دانے ہوتے ہیں۔یوں 40 کلو گندم میں 10 لاکھ دانے بنتے ہیں جو فی ایکڑ کھیت میں ڈالے جاتے ہیں۔اب دیکھا یہ گیا ہے کہ 10 لاکھ دانوں کی کاشت کے بعد 10 لاکھ ہی پودے اگنے چا ہئیں۔مگر اتنے نہیں بنتے کیونکہ کچھ دانے اگتے ہیں اور کچھ سردی کی وجہ سے نہیں اگتے۔۔ مگر اوسطاََ 8 لاکھ پودے فی ایکڑ ہونا ضروری ہے ۔جس سے بڑے آرام سے 50/60 من فی ایکڑ پیداوار آسکتی ہے لیکن اگر دانہ پچھیتی کاشت کا ہو تو ظاہر ہے کہ دانے کا سائز چھوٹا ہو گا باریک ہوگا جس سے پھر لامحالہ پیداوار 40 من تک گر بھی سکتی ہے ۔اور اگر دانہ موزوں وقت پر کاشت کی گئی فصل کا ہوگاتو ظاہر ہے کہ دانہ موٹا اور وزنی ہوگا ۔۔۔ جس سے پھر پیداوار 70 من سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

گندم کی فصل کے گرد سرسوں کی ایک قطار کاشت کرنے کا رواج

یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسان بھائی ، گندم کی بوائی کے وقت فصل کے ارد گرد سرسوں کی ایک قطار کاشت کر دیتے ہیں ۔۔ان کا کہنا ہے کہ سرسوں کے پودوں پر آنے والا تیلا aphids ، گندم کے پودے پر امڈنے والے تیلے aphids کو کھاجاتا ہے ۔اور یوں گندم کی فصل تیلے کے حملے سے بچ جاتی ہے۔لیکن یہ مفروضہ صرف ان کی خام خیالی ہی ہے ۔یاد رہے کہ گندم کے پودے پر آنے والا تیلے کی سپی شیز(جنس) سرسوں کے تیلے پر آنے والے تیلے کی سپی شیز سے مختلف ہے ۔کسانوں کی تیلے کو دور کرنے کی اس پریکٹس کا اگرچہ نقصان کوئی نہیں ہے مگر فائدہ بھی نہیں ہے ۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ جس جگہ پر سرسوں کاشت کرنا ہے وہاں گندم ہی کاشت کی جائے تاکہ اس جگہ سے بھی گندم کی پیداوار ہی لی جا سکے ۔

مونو کلچر سے اجتناب

کاشتکار جب یہ دیکھتے ہیں کہ گندم کی فلاں قسم نے بہتر پیداوار دی ہے ۔تو اگلے سال پھر اسی ایک ہی قسم کو بڑے رقبہ پر کاشت کر لیتے ہیںجو کہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے ۔اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اگر کوئی بیماری اس قسم پر امڈ پڑتی ہے ۔تو ایک ہی قسم ہونے کے ناطے دیکھتے ہی دیکھتے ساری فصل تباہ ہو جاتی ہے ۔ہاں اگر 3 یا 4 اقسام کاشت ہوں گی توایک قسم تو بیماری کی زد میں آجانے سے دوسری اقسام اپنے مختلف جینیٹک میک اپ Genetic makeup کی وجہ سے بچ جائیں گی ۔۔لہٰذا ایک قسم کی بجائے 3یا 4اقسام کاشت کی جائیں ۔۔۔ تاکہ پیش آمدہ خطرات سے بچ کر گندم کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔

گندم کی زیادہ پیداوار کے حصول میں چھپی سائنس

گندم کا مناسب ترین وقت کاشت 5تا 20 نومبر ہے۔لیکن اپنی اپنی مجبوری کے ہاتھوں کچھ کسان اگیتی گندم یعنی 25 اکتوبر تا 4 نومبر کو کاشت کر لیتے ہیں۔کچھ 5تا 20 نومبر کو اور کچھ کسان پچھیتی کاشت یعنی دسمبر میں کاشت کر لیتے ہیں۔یوں پاکستان میںکاشت ہونے والی گندم 3 حصوں میں بٹ جاتی ہے۔اب آپ ذراغور کریں کہ ان تینوں حصوں کی کاشتہ گندم کی فصل پر سٹے کب نکلیں گے ۔۔۔۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگیتی فصل میں سٹے 5تا 10 فروری کو فصل پر ظاہر ہوں گے۔درمیانی فصل پر یعنی موزوں ترین وقت پر کاشتہ فصل پر سٹے 15 تا 25فروری کو نکلیں گے اور پچھیتی کاشتہ فصل پر سٹے یا بالیاں یا خوشے 5 سے 15 مارچ تک ظاہر ہوں گے۔اب ذرا سوچئے کہ 5سے10 فروری کے دوران درجہ حرارت15ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے ہوگا ۔یعنی ٹھنڈ ہوگی اور سردی کی شدت زیادہ ہوگی جس سے سٹے کے اوپر والی گھنڈیاں یا فلوریٹ (Floret) یا دانے ۔سردی کی شدت میں نہ بن سکیں گے اور وہ کہر (Frost)کی نذر ہو جائیں گی ، جس سے اچھے بھلے دانے ضائع ہوجائیں گے۔جبکہ پچھیتی کاشتہ فصل پر سٹے نکلتے ہوئے جب درجہ حرارت پر نظر جاتی ہے، تو اس وقت 25سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ اور بعض اوقات 33سینٹی گریڈ تک بھی درجہ حرارت پہنچ جاتا ہے ۔۔۔جس سے Hasten maturity کے تحت سٹے spike پر بننے والے دانے جو ابھی اپنی پروڈکٹو فیز productive phaseکی دودھیا حالت میں ہی ہوتے ہیں۔۔۔ وہ بڑھتی گرمی کی وجہ سے پچک جائیں گے جس سے دانہShriveled ہوکر سکڑ جائے گا ، جس سے دانہ ہلکا رہ جائے گا یعنی کم وزنی ہوگا اور یوں اکائی رقبہ پر پیداوار کم رہ جائے گی ۔۔۔اسی طرح موزوں ترین وقت 5تا20 نومبرپر کاشت ہونے والی فصل پر اگنے والے سٹے جو 15تا25فروری کے درمیان نکلیں گے ۔۔۔اس وقت درجہ حرارت 22تا 26ڈگری سینٹی گریڈ ہوگا اور یہ وہ درجہ حرارت ہے جو گندم کے سٹے پر نکلنے والے دانوں کے لئے مثالی درجہ حرارت ہوتا ہے ۔۔ اور دانوں کو مکمل اور بھرپوربنتے ہوئے اسی دتجہ حرارت میں سات دن مل جاتے ہیں اور دانہ آہستہ آہستہ اپنی نشو ونما مکمل کر لیتا ہے جس سے دانہ بڑا اور وزنی ہو جاتا ہے جو اکائی رقبہ پر زیادہ پیداوار کا سبب بنتا ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

بکنگھم پیلس میں ہونے والے ساس بہو کے جھگڑے دنیا بھر میں اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں،برطانیہ کے شاہی محل میں رہنے والے دو شہزادوں پرنس ہی ...

مزید پڑھیں

امریکہ اور ایران میں متوقع جنگی تصادم کی خبروں پر دنیاپریشان ہے۔ ٹاپ کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پرامریکی حملے کے بعد سے دونوں ممالک میں ...

مزید پڑھیں

2019ء میں بھی کوئی نئی بات نہ تھی،سب کچھ پہلے جیسا تھا،وہی ہنگامہ آرائی وہی اختلاف رائے کی باتیں ،وہی جوڑ توڑ اور حکومت گرانے کے لئے کبھی ...

مزید پڑھیں