☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل دنیا اسپیشل عالمی امور صحت کیرئر پلاننگ خواتین کچن کی دنیا دین و دنیا فیشن انٹرویوز ادب
تحریک ِپاکستان کے مجاہد

تحریک ِپاکستان کے مجاہد

تحریر :

03-24-2019

ٹیپو سلطان

 6دسمبر1782کو حیدر علی کی وفات ہوئی۔ یہ افسوسناک خبر ٹیپو سلطان کو11دسمبر کو ملی۔ وہ اس وقت کالی کت سے چالیس میل دور انگریزوں سے برسر پیکار تھا۔ اسے اپنے والد کی موت کا بہت دکھ ہواکیونکہ وہ نہ صرف ٹیپو سلطان کے استاد تھے بلکہ دوست بھی تھے ،

انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر وقت ٹیپو کی تعلیم وتربیت کیلئے وقف کر رکھا تھا۔ ٹیپو سلطان سرنگا پٹم کی طرف دوڑا اور بیس دسمبر کو وہاں پہنچا ۔ اس نے وہاں دیکھا کہ تمام لوگ دکھ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ٹیپو سلطان کی پیدائش پر حیدر علی حد درجہ خوش تھے اور اس موقع پر شاندار تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ انہیں اپنے بیٹے ٹیپو سے بہت لگائو تھا۔ اور انہوں نے اپنے آپ کو بطور والد ٹیپو کیلئے وقف کررکھا تھا۔

مسلمان خاندانوں کی طرح ٹیپو سلطان کو ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی قرآن پاک کی تعلیم دلوائی گئی۔ ٹیپو سلطان کا ذوق مطالعہ تمام عمر قائم رہا۔ باوجود اس کے کہ زندگی کا زیادہ تر حصہ میدان جنگ میں گزراوہ ماہرین علم وہ فن کی بہت قدر کرتا تھااور کتابیں لکھنے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اس مقصد کیلئے انہیں ریاست کی طرف سے معاوضہ بھی دیا جاتا تھا۔

ٹیپو سلطان راسخ العقیدہ مسلمان تھا، اس نے مساجد کی تعمیر اور اسلام کی تبلیغ کیلئے کام کرنیوالوں پر دل کھول کر سرمایہ خرچ کیا۔ ٹیپو سلطان کی تربیت عسکری انداز میں ہوئی تھی ۔ ٹیپو سلطان ایسے کسی کام سے دور رہتا تھا جو اسلام کے تعلیمات کے خلاف ہو۔ وہ اپنی رعایا سے مساوی سلوک کرتا ، وہ ہندوبچاریوں اور پنڈتوں کی مالی معاونت کیا کرتا تھا۔ ٹیپو سلطان اس وقت سے انگریز وں کے خلاف برسرپیکار تھا جب اس کا والد زندہ تھا۔خود حکمران بننے کے بعد اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے جدید آلات سے لیس فرانسیسی افواج کی معاونت درکار ہوگی ۔ فرانس سے مسلسل اور پائیدار تعلقات کیلئے اس نے غلام علی خان اور اپنے دو قریبی مشیروں کو فرانس بھیجا۔ تاہم بدقسمتی سے تینوں افراد مئی 1789 کوخالی ہاتھ سرنگا پٹم پہنچے ۔ ٹیپو سلطان اسلام کی تاریخ میں انتہائی شاندار شخصیت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ دوسرے رہنمائوں کے برخلاف اس نے یورپی قوموں کے عروج کو بھانپ لیا تھا۔

مولانا محمد علی جوہر

 ’میں ایک آزاد ملک میں تو مرنا پسند کروں گا، لیکن غلام ملک میں واپس نہیں جاؤں گا‘ان الفاظ میں خلوص اور وطن پرستی صاف جھلکتی ہے ۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی محب وطن کے دل کو کسی بھی وقت گرما سکتے ہیں ۔

یہ الفاظ مولانا محمد علی جوہر19 نومبر1930 کو لندن میں ہونیوالی پہلی گول میز کانفرنس میں کہے تھے ۔ مولانا محمد علی جوہر کی تعلیم وتربیت اور وہ تجربات جن سے وہ گزرے ، نے ان کی سوچ ، ذہنی رویے اور کردار کو ایک مختلف رنگ دیا۔ وہ 1878 کو پیدا ہوئے ان کا تعلق رام پور ریاست کے ایک خوشحال اورسلجھے ہوئے گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی میں ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور تمام ذمہ داری والدہ کے کندھوں پر آن پڑی ۔

وہ ستائیس سال کی عمر میں بیوہ ہوگئیںتھیں۔ انہوں نے دوبارہ شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ وہ تعلیم یافتہ نہیں تھیں لیکن تعصبات اور تہمات کو اپنے قریب نہیں آنے دیتیں تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ بچوں کو وقت کے ساتھ چلنا چاہیے اس لئے انہوں نے انگریز ی تعلیم کے خلاف پائے جانیوالے تعصب کیخلاف بغاوت کی۔ انہوں نے اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے آراستہ کیا۔ جنگ بلقان کے دوران انہوں نے ترکی کی حمایت میں ایک کے بعد دوسرا اداریہ لکھا ، یہی وجہ تھی کہ اخبار کامریڈ کے دفتر میں بہت زیادہ فنڈز آنے لگے۔ انہوں نے ترکی میں ایک میڈیکل مشن بھی بھیجا ۔

چوہدری رحمت علی

’’1857میں ہندوستان میں مسلمانوں کا اقتدار ختم ہوگیا۔ مسلمانوں کی سرزمین پاکستان تھی جن میں پنجاب ، شمال مغربی سرحدی صوبہ، کشمیر، سندھ اور بلوچستان شامل تھے ۔میں نے ان پانچ صوبوں سے پاکستان کا نام اخذ کیا۔ مسلمان ان علاقوں میں سال سے زائد ایک قوم کی حیثیت سے رہ رہے تھے اور ان کی اپنی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت ہے۔پاکستان میں مسلمان اپنی قومی سرزمین پر ہیں ۔ مسلمان ہندوستان میں فاتح کی حیثیت سے آئے تھے۔ اس لئے ہندوستان مسلمان سلطنت تھی‘‘۔ یہ چوہدری رحمت علی کا موقف تھا۔ چوہدری رحمت علی کچھ عرصے کیلئے چیف کالج لاہور میں لیکچر ر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم مسلمانوں کو انڈین فیڈریشن میں شامل کرلیا جاتا ہے تو ہم اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے ۔

ان کا موقف تھا کہ پاکستان کے حصول کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا طرز حیات ہندوئوں سے بالکل مختلف ہے اور وہ ہر لحاظ سے ہندوئوں سے الگ قوم ہیں ۔ یہی دو قومی نظریہ ہے اور اگر پاکستان کی شکل میں مسلمانوں کو الگ ملک نہ دیا گیا تو یہ دو قومی نظریے کی نفی ہوگی ۔ ہم خود کو ہندو قوم پرستی کی بھینٹ نہیں چڑھاسکتے۔ اب یا تو رہیں گے یا نہیں ۔ اب ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں ‘‘۔ اس وقت انگلستان میں جو طلبا تھے اور جو چوہدری رحمت علی سے رابطے میں تھے ،

انہوں نے اس مشکل دور میں چوہدری رحمت علی کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا ’’رحمت علی کی مقنا طیسی شخصیت نے انگلستان کے نوجوان مسلمانوں کو بہت متاثر کیا۔ چوہدری رحمت علی اپنے مضامین اور پمفلٹس کے ذریعے قیام پاکستان کی بھرپور وکالت کرتے رہے ۔ ان کے دلائل اتنے متاثر کن ہوتے تھے کہ مخالفین کے لئے ان کا جواب دینا مشکل ہوجاتا تھا۔ اس بات پر خاصی دیر تک بحث ہوتی رہی کہ پاکستان کا لفظ کس کے ذہن کی اخترا ع تھی ۔

آخری نتیجہ یہ نکلا کہ یہ لفظ چوہدری رحمت علی نے ہی ایجاد کیا تھا وہ یہ لفظ1933 سے پہلے ہی منظر عام پر لے آئے تھے ۔ اس کے بعد انہوں نے ایک مشن کے تحت پاکستان کی سکیم کے حوالے سے پروپیگنڈا شروع کیا۔ جب چوہدری رحمت علی سے ترکی کی ادیبہ ہیلڈی ایڈب نے پوچھا کہ کیا پاکستان معاشی طور پر کامیاب ہوگا تو چوہدری رحمت علی نے کہا ’’کیوں نہیں‘‘۔

پاکستان کے پاس بہت وسائل ہیں اور برطانوی تسلط اور ہندو سرمایہ داری کے بعد ہم یقینی طور پر اپنا راستہ بنائیں گے ۔ہندو قوم اپنی برتری کی خواہاں ہے جبکہ مسلمانوں کیلئے یہ بقا کا مسئلہ ہے ۔ 1945میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا اب ہمیں اپنے حق کیلئے کھڑا ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے باہمی اختلافات کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں لیکن ایک الگ قوم کے حوالے سے ہماری آواز ایک ہونی چاہیے۔

ہم کسی بھی صورت دو قومی نظریے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ اگست 1947میں پاکستان وجود میں آگیا اور 1948 میں چوہدری رحمت علی پاکستان آئے ۔ انہوں نے لاہور میں ڈاکٹر یار محمد خان کے گھر قیام کیا۔ ان کی زندگی ایک صوفی کی زندگی تھی۔ پاکستان کیلئے ان کی خدمات کبھی نہیں بھلائی جاسکتیں۔

مزید پڑھیں

شریف المجاہد ہم تحریک پاکستان کے اہم پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہیں، جنگ بلقان ابھی جاری تھی کہ 1913میں مچھلی بازار کانپور کی مسجد کے بیرونی حص ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ممی ڈیڈی گندم

ہم من حیث القوم دراصل اتنے سست ہیں کہ ممی ڈیڈی بچوں والی شکل اختیار کر چکے ہیں،

...

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ سورہ نسا میں ارشاد فرماتا ہے کہ،

...

مزید پڑھیں

پچھلے دنوں کئی واقعا ت میں قاتل ڈور نے متعدد افراد کی جان لے لی، کراچی سے لاہور تک ان کے قاتل کہیں چھپے ہوئے ہیں، جنہیں اب تک پکڑا نہیں جا ...

مزید پڑھیں