☰  
× صفحۂ اول (current) سائنس کی دنیا(محمد فہد عباس) خصوصی رپورٹ(سید آصف عثمان گیلانی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) کھیل(طیب رضا عابدی ) آ ئی ٹی دنیا(رضوان عطا) سائنس کی دنیا(انجنیئررحمیٰ فیصل) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) رپورٹ(محمد حسن رضا) سپیشل رپورٹ(ڈاکٹر خالد عثمان) عالمی امور(سید سرمد حسین) عالمی منظر(اسماء نوید) رپورٹ(ایم آر ملک) شوبز(مرزا افتخاربیگ) سپیشل رپورٹ(نجف زہرا تقوی) صحت(ڈاکٹر سید فیصل عثمان) خصوصی رپورٹ(طاہرہ خالق) قومی منظر(محمد واسع جیلانی) رپورٹ(عبدالخالق خان) خواتین(نجف زہرا تقوی)
2019ء ۔۔سب کچھ پہلے جیسا شارٹ مارچ، لانگ مارچ ،اوردمادم مست قلندر کی باتیں

2019ء ۔۔سب کچھ پہلے جیسا شارٹ مارچ، لانگ مارچ ،اوردمادم مست قلندر کی باتیں

تحریر : صہیب مرغوب

01-05-2020

2019ء میں بھی کوئی نئی بات نہ تھی،سب کچھ پہلے جیسا تھا،وہی ہنگامہ آرائی وہی اختلاف رائے کی باتیں ،وہی جوڑ توڑ اور حکومت گرانے کے لئے کبھی اعتماد اور کبھی عدم اعتماد کی قرار دادیں۔وہی پہلے کی طرح اسمبلیوں کے اندر سپیکر کے ڈائس کا گھیرائو اور وہی پہلے کی طرح اسمبلیوں کے باہر بھی جلسے جلوس۔پہلے کی طرح لانگ مارچ اور دھرنے۔۔2019ء میں بھی تاریخ نے خوب دہرایا۔پہلے ہی دن پہلے کی طرح الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 645ارکان اسمبلی اور 43سینیٹرز کو نوٹسز جاری کر دئیے۔

قومی اسمبلی کے 187، پنجاب اسمبلی کے 258، سندھ اسمبلی کے 86، خیبر پختونخوا اسمبلی کے 80ارکان شامل تھے۔ بروقت گوشوارے جمع نہ کروانے پر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی لیڈر آف دی اپوزیشن خورشید شاہ ، وفاقی وزرا نورالحق قادری اور شہر یار آفریدی کی رکنیت بھی معطل رہی تھی ۔ لاء اینڈ جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں اپنا موقف بیان کرنے کے لئے خواجہ سعد رفیق کا چار روزہ راہداری ریمانڈ جاری کردیا گیا ۔ نیب ٹیم سعد رفیق کو اسلام آباد لے گئی ۔ایک بار انہیں ساس کے انتقال پر 3 دن کیلئے پیرول پر رہا کر دیا گیا ۔

 3جنوری:منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دھندے کرنے پر ایم کیو ایم سے وابستہ خدمت خلق فائونڈیشن کی 29جائیدادیں ضبط کر لی گئیں ۔ یہ جائیدادیں بھتے کے پیسوں سے بنائی گئیں ایف آئی اے نے سابق وزیر بابر غوری ، سینیٹر احمد علی اور سیاسی رہنما سہیل منصور کا نام بھی سہولت کاروں میں شامل کر لیا۔ جائیدادوں کی مالیت تین ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اسی روز مولانا سمیع الحق کے ڈرائیور کا پولی گرافک ٹیسٹ ہوا۔ فرانزک سائنس ایجنسی کے مطابق ٹیسٹ میں کافی پیش رفت ہوئی لیکن پولیس ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی۔ یاد رہے جمیعت علمائے اسلام (س)کے سربراہ سمیع الحق کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ بعد ازاںان قتل کیس کے ملزم احمد شاہ کو سول جج زیب شہزاد چیمہ نے شواہد پیش نہ ہونے پر رہا کر دیا ۔

6جنوری:آصف زرداری نے بدین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 50کیس بھی بنا دیں مقابلہ کروں گا۔

10جنوری:حکومت نے ایک مہینے بعد اعظم سواتی کے استعفے کی منظوری کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔اسی روزتحریک انصاف نے الیکشن کمیشن سے آصف زرداری کے خلاف نا اہلی کاریفرنس واپس لینے کے بعد 19جنوری کوخرم زماں اور عثمان ڈار نے ترمیم شدہ ریفرنس داخل کر دیا ۔

14جنوری:علیمہ خان نے کہا کہ جائیداد 20سالہ محنت سے بنائی ،وراثت سے بھی حصہ ملا، تمام الزمات بے بنیاد اور غلط ہیں۔ انہوں نے 73لاکھ کا ٹیکس ادا کر دیا۔یہ سن اس لئے بھی اہم تھا کہ اس دن قومی اسمبلی میں ججوں کی تعداد بارے بل پر رائے شماری ، اپوزیشن کو شکست ہو گئی۔ مریم اورنگزیب اور دیگر خواتین اپنی نشستوں پر بیٹھی رہیں۔ اپوزیشن رہنمائوں نے اسپیکر کا گھیرائو کر لیا۔حکومت نے کہا کہ یہ این آر او کیلئے دبائو ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔ 

17جنوری: صدر کی تنخواہ بڑھانے کیلئے 9لاکھ کی گرانٹ جاری۔ نیب کیلئے بھی 75کروڑ روپیہ منظور۔

17جنوری:پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت تنخواہیں بڑھانے پر یک زبان ہو گئیں۔ جس پر صوبے بھر میں شور مچ گیا۔ وزیر اعلیٰ نے اضافی تنخواہیں نہ لینے کا اعلان کیا،مگر گرما گرمی کے بعد وزیر اعظم نے بھی رپورٹ طلب کی۔ لیکن کچھ نہ ہو سکا آخر کار ارکان اسمبلی اپنی اضافی تنخواہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ 

17جنوری:پنجاب میں ق لیگ میں وزیر معدنیات عمار یاسر کے استعفے سے ہل چل مچ گئی ۔ انہوں نے استعفے میںلکھا کہ’’میرے پاس کوئی اختیار نہیں ‘‘۔ بعد ازاں یہ معاملہ ’’رفع دفع‘‘ کر دیا گیا۔

21جنوری: شہبازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مشاورت سے آگے بڑھنے پر اتفاق رائے کر لیا، اجلاس میں خورشید شاہ سمیت کئی دوسرے اہم ارکان نے بھی شرکت کی۔ 

21جنوری کو ہسپتال میں 5گھنٹے طویل طبی معائنہ کے دوران نواز شریف کے دل کا سائز بڑا نکلا، پٹھے اور والوو معمول سے زیادہ سخت تھے ،ایک شریان بھی بند ہونے کا خدشہ ،میڈیکل رپورٹ جاری۔

23جنوری: ارکان قومی اسمبلی نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایک دوسرے پر جملے کسنا شروع کردیئے۔ 

24جنوری:سینیٹ میں وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن نے ایک بار پھر احتجاج اور واک آئوٹ کیا،کورم باربار ٹوٹتا رہا۔نجی کارروائی کے دوران وفاقی وزیر مراد سعید کو فلور دینے پر ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا ہنگامہ ۔ اسپیکر کے ڈائس کے گرد گھیرا ڈال کر شور شرابہ، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں ۔

 جنوری: وزراء کی غیر حاضری پر چیئر مین سینیٹ بھی برہم ، وزیر اعظم عمران خان سے کارروائی کرنے کا مطالبہ۔

25جنوری:کراچی میں ووٹرز لسٹوں کی تیاری کے عمل میں فوج کو شامل نہ کرنے پر بعض سیاسی جماعتوں نے دھرنا دے دیا۔’’ فہرستیں درست نہ کروانے پرالیکشن کمیشن کا دامن داغدار ہو گا‘‘۔ان جماعتوں کا الزام۔اسی دن راجہ پرویز اشرف پیپلز پارٹی پارلمینٹیرین کے سیکرٹری جنرل منتخب ہو گئے ۔

27جنوری: عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب لیڈر بھی عوام کو جوابدہ ہو گا، حکمرانوں سے مال کا حساب پوچھنے سے جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی۔ ایک آمر نے بھٹو کو وزیر خارجہ اور دوسرے نے نواز شریف کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ باپ بیٹا کاغذ پنسل پکڑ کر کہتے ہیں کہ پارٹی وراثت میں ملی۔

28جنوری:قومی اسمبلی کے اجلاس کو پرامن طور پر چلانے کیلئے اسپیکر اسد قیصر نے وزیر اعظم عمران خان، قائد حزب اختلاف شہباز شریف ، سابق صدر آصف علی زرداری،وفاقی وزیر شیخ رشید ، طارق بشیر چیمہ ، خالد مقبول ، اختر مینگل ، شاہ زین بگٹی ، اسد محمود، امیر حیدر ہوتی اور خالد حسین مگسی پر مشتمل کمیٹی بنا دی۔مسلم لیگ ن کے شہباز شریف بیرون ملک ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی بیرون ملک جانے کیلئے پر تول رہے ہیں اس لئے کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہ ہو سکا۔

29جنوری:بلاول بھٹو نے آٹھویں ترمیم بچانے کیلئے آخری حد تک جانے اور لانگ مارچ کرنے کی دھمکی دے دی ۔انہوں نے عمران خان کو تاریخ پڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب سکندر مرزا اور ایوب خان کی کابینہ میں میرٹ پر شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ پی ٹی آئی گمبٹ جیسا میڈیکل کالج بنا کر دکھائے ۔

29جنوری:پنجاب میں 37پارلیمانی سیکرٹریوں کا تقرر کر دیا گیا ،ملک تیور ، شکیل شاہد ،یاور کمال ، غضنفر عباس، نذیر چوہان، مہندر پال سنگھ بھی شامل ہیں ۔پارلیمانی سیکرٹریوں میں کوئی خاتون شامل نہیں۔

29جنوری:سندھ اسمبلی میں قیدیوں کی خراب حالت زار پر رکن اسمبلی کے آنسو نکل آئے ،خرم شیر اور علیم حلیم عادل کے خلاف بھی تحریک مذمت منظور کر لی گئی ۔

2فروری :سانحہ12 مئی کیس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے میئر کراچی وسیم اختر سمیت اکیس ملزموں پر ترمیم شدہ فرد جرم عائد کردی۔

2فروری :نواز شریف کے کئی ٹیسٹ ہوئے ،سی ٹی سکین میں بائیں گردے میں چھوٹی سی پتھری نکل آئی ، لیتھو ٹراپسی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

3فروری :حمزہ شہباز لندن روانہ ہو گئے۔

6فروری :علیم خان کو نیب نے گرفتار کر لیاوزارت سے مستعفی ہو گئے۔

8فروری : اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم کا مسئلہ سال بھر زیر بحث رہا۔پیپلز پارٹی کو یہ وہم ہو گیا کہ یہ ترمیم ختم ہونے والی ہے۔اس کے حق اورمخالفت میںبیانات آتے رہے۔آصف زرداری نے کہا کہ اس ترمیم پر ڈاکہ پڑتا نظر آ رہا ہے ہم اپنے حق کیلئے لڑیںگے ، تمام صوبے ہمارے ساتھ ہیں ،کوئی نیا بنگلا دیش نہیں بننے دیں گے۔

10فروری : وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ شفاف اور جواب دہ حکومت تھی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے ملک کو اوپر لے جانا چاہتا ہوں مگر اصلاحات میں مشکل کا سامنا ہے سابقہ حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے عوام ٹیکس نہیں دیتے ۔

11فروری:پرخے خان نے کہا کہ’’ منظور پشتین ، محسن دراوڑ اور علی وزیر نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کروایا ہے۔ میرے گھر کو بم سے اڑانے کی کوشش کی گئی،میرے بھائی کو قتل کیا گیا ‘‘۔ تحصیلدار میر علی نے تحقیقاتی رپورٹ بھجوا دی۔

11فروری:شہباز شریف نے نیب کورٹ کو بنچ بدلنے کی درخواست دے ڈالی ۔چیف جسٹس ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کر دی اور حکم دیا کہ نیب پر پہلے ہی بہت الزامات لگ رہے ہیں اب مرضی کے بنچ بنوائیں گے؟۔ آشیانہ کیس میں شہباز شریف کے وکیل نے اپنے دلائل مکمل کر لئے۔

14فروری : تحریک انصاف کے ایم این اے عبد المجید خان اشتہاری قرار دے دیئے گئے۔ 

13فروری :نیب نے اپنے اعلی سطحی اجلاس میں چوہدری شجاعت حسین ، پرویز الہٰی ، صدیق الفاروق اور غلام ربانی کھر سمیت تیرہ افراد کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔

18فروری:طالبان نے پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان اور دیگر رہنمائوں سے ملاقات منسوخ کر دی ان کی آمد بھی تا اطلاع ثانی ملتوی کر دی گئی۔

20فروری: اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گرفتاری سے سندھ بھر میں بھونچال آ گیا ،آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں نیب نے انہیں گھر سے گرفتار کر کے راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد منتقل کر دیاگیا۔نیب کے مطابق انہوں نے 11 افراد کے نام پربے نامی جائیدادیں بنا رکھی ہیں ، خواتین بھی شریک جرم ہیں ۔پیپلز پارٹی نے کہا کہ ’’حکومت آگ سے کھیل رہی ہے ،آغا سراج درانی کی گرفتاری اور اسلام آباد منتقلی سیاسی نظام کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ‘‘۔ان کی گرفتاری قومی اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کا سبب بن گئی ۔اپوزیشن رہنمائوں نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کر تے ہوئے انہیں دھمکانے کی کوشش کی ۔’’یہ وقت ان پر بھی آ سکتا ہے‘‘۔ اپوزیشن کا دھمکی آمیز لہجہ دیکھ کر وہ اپنے چیمبر میں چلے گئے۔سندھ اسمبلی نے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے ۔

20فروری:پی ٹی وی کے معاملے پر وفاقی وزیر فواد چوہدری اور وزیر اعظم کے ایک اور قابل اعتماد ساتھی نعیم الحق میں ٹھن گئی ،دونوں کے مابین ٹوئٹر وار بھی ہوئی ۔نعیم الحق نے کہا کہ نئے آنے والوں کو عمران خان کے فلسفے پر چلنا ہو گا ورنہ پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں ۔

20فروری: وفاقی کابینہ نے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی توثیق کر دی ۔

22فروری: ارکان پارلیمنٹ ، کابینہ اور وزیر اعظم کے ٹیکسوں کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی وزیر اعظم عمران خان نے ایک لاکھ تین ہزار روپے نواز شریف نے 2لاکھ 63ہزار روپے ، فریال تالپور نے 28لاکھ ، مراد علی شاہ نے 80لاکھ ، پرویز خٹک نے 9لاکھ ، خورشید شاہ نے 2لاکھ 56ہزار ، شیخ رشید نے 7لاکھ ، شاہد خاقان عباسی نے 37لاکھ اور اسد عمر نے 48لاکھ ٹیکس دیا ایک کروڑ سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں شہباز شریف (1.02کروڑ)، فروغ نسیم نے (دو کروڑ) اور جہانگیر ترین نے (9.73کروڑ )روپے کا ٹیکس دیا۔

20فروری:پنجاب اسمبلی کے رکن یاور عباس نے خاتون رکن اسمبلی کو شٹ اپ کہہ دیا جس پر شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ ہوا، اپوزیشن نے واک آئوٹ کیا ،جسکے بعد رکن اسمبلی نے معافی مانگ لی۔

یکم مارچ: اسپیکر نے سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے انکار کر دیاجس پر قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ ہوا ۔

2مارچ:او آئی سی نے اپنے اجلاس میں پاکستان اور کشمیریوں کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی قرار داد منظور کر لی۔پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بھی شدید افسوس کا اظہار کیا۔

3مارچ: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 26فروری کو ہونے والی بھارتی جارحیت کے خلاف 178ممالک کی پارلیمان کو خصوصی خط لکھ دیئے انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

7مارچ: اسی روزفردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی میں اسپیکر آغا سراج درانی پر دولت اور سونا چھپانے کا الزام عائد کر دیا۔جس پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے عبد الرشید کو حفاظت کے حصار میں لے لیا ۔

10مارچ:منی لانڈرنگ کیس کا ایک اور ملزم عمیر ایسوسی ایٹس کا مالک عمیر دبئی سے گرفتار ملزم کے خلاف کئی کیسز درج کیے گئے ہیں۔

6مارچ:قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شور و غل ، شور شرابے اور ہنگامے میں ضمنی بجٹ منظور کر لیا،مولانا اسد محمود نے قرار داد مذمت پیش کرنے کی کوشش کی مگر اجازت نہ ملنے پر ایک بار پھر اپوزیشن ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کر لیا ،ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اچھالیں ،پھر حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔قومی اسمبلی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسپیکر کے ڈائس کے سامنے باجماعت نماز مغرب ادا کی گئی امامت مولانا فضل الرحمن کے ساتھی نے کی۔ ’’اپوزیشن ارکان نے نماز کی ادائیگی کے وقت قبلہ کے رخ کا خیال نہیں کیا‘‘ یہ کہتے ہوئے ان کے خلاف قرار داد جمع کروا دی گئی ۔

9مارچ: وزیر اعظم عمران خان ایک مرتبہ پھر اپوزیشن پر برس پڑے بلاول کی انگریزی سمجھ نہیں آتی ن لیگ اور جے یو آئی والوں کی بھی سمجھ نہیں آئی وہ اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ غلط سمت میں منہ کر کے نماز پڑھ لی۔

 12مارچ:مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی آغا علی حیدر کے بل کی منظوری کے بعد وزیر اعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات چار لاکھ روپے ہو گی ۔لاہور میں گھر نہ ہونے پر وزیر اعلی کو تاحیات رہائشی سہولت ملے گی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو بھی ڈپلومیٹک پاسپورٹ ملیں گے۔یہ بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔سرکاری اور اپوزیشن ارکان نے ڈیسک بجا کر تنخواہوں میں اضافے پر مسرت کا اظہار کیا۔ اب انہیں 83 ہزار کی جگہ دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملے گی ۔

13مارچ :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے آئین کے مطابق ملک فلاحی ریاست بنانے کیلئے اپنی تجاویز کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ ملک میں کروڑوں روپے ضائع کیے جا رہے ہیں۔ ایک سمری کی فوٹو کاپی پر70 ہزار روپے خرچ ہوئے ۔

19مارچ: اسلام آباد میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی نیب میں پیشی پر کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں، متعدد گرفتار۔ پی پی پی کے کارکن رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے نیب آفس پہنچے اور شدید پتھرائو کیا ،جیالوں نے وفاقی وزیر عامر کیانی کی گاڑی پر مکے برسائے ۔ دونوں رہنمائوں سے 3مقدمات کے بارے میں تقریباً دو گھنٹے تفتیش ہوئی۔

19مارچ:جماعت اسلامی نے متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی اختیار کر لی ۔21مارچ کو سراج الحق جماعت اسلامی کے دوبارہ امیر منتخب ہو گئے ۔15اپریل کوجماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوری کے اسی ارکان کا انتخاب مکمل ہو گیادس خواتین بھی منتخب ہو گئیں ۔

26مارچ:بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ شروع ہو گیاجگہ جگہ استقبال ، جیالوں کے بھنگڑے ، لانگ مارچ شروع کیا تولگ پتہ جائے گابلاول بھٹو کی حکومت کو دھمکی۔

30مارچ:’’دہشت گردوں کے پہلے تین وزیر ساتھی تھے، اب ایک اور آ گیا ہے،کئی ثبوتوں کے باوجود ایک وزیر کو گرفتار نہیں کیا جا رہا۔ ریڈ لائین عبور کی تو برداشت نہیں کریں گے ‘‘بلاول کی دھمکی۔

4اپریل:آصف زرداری نے حکمرانوں کونکال باہر پھینکنے کیلئے کارکنوں کو مرکزی دارالحکومت پہنچنے کی ہدایت جاری کردی۔’’ میں جیل میں رہوں یا باہر، حکمرانوںکو نکال کر ہی دم لیں گے‘‘، آصف زرداری نے سیاسی ایکشن پلان کا اعلان کردیا ۔بلاول بھٹو بھی میدان میں آ گئے، کہتے ہیں، ’’ 18ویں ترمیم کو چھیڑا تو لات مار کر حکومت ختم کردیں گے ،دوبارہ ون یونٹ نہیں بننے دیں گے ‘‘۔بھٹو کی برسی پر باپ بیٹے کی تقریریں ۔

4اپریل:عمران خان نے صوفی یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر دیا،ساتھ ہی ایم کیو ایم کے سنگ اگلا الیکشن لڑنے کی بات بھی کر دی نظریات ملتے ہیں لگتا ہے کہ اگلا الیکشن ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔انہوں نے 5اپریل کو کہا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی صرف زرداری جا رہے ہیں اور وہ بھی جیل میں باپ بیٹا دھرنا دینے آئے تو کنٹینر اور کھانا بھی دوں گا فضل الرحمن کلین بولڈ ہو چکے شریف خاندان بے گناہ ہے تو لندن کیوں بھاگتا ہے۔عمران خان

16اپریل:ملازمتوں میں ارکان اسمبلی کا کوٹہ ختم کردیا گیادو سابقہ حکومتوں کے ارکان بھی منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے ۔

16اپریل:ملک بھر میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے بحث چھڑ گئی سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کے ایک دوسرے پر الزامات ، آصف زرداری نے کہا کہ صدارتی نظام ملک کیلئے خطرناک ہے اسے روکیں گے ۔

22اپریل :قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی گو نیازی اور گو بلو کے نعرے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی گئیں بلاول نے وزیر اعظم پر سلیکٹڈ کا الزام لگایا تو عمر ایوب بلاول پر برس پڑے کہ ان کے نانا بھٹو ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ 

23اپریل: گیس کے بلوں پر ردو بدل پر عمران خان نے وزیر پٹرولیم کو ہٹایا ۔

26اپریل:پنجاب اسمبلی نے ہنگامہ آرائی پر ن لیگ کے تین ارکان اسمبلی پیر اشرف رسول، عظمی بخاری اور رانا عبدالرئوف کی رکنیت معطل کر دی گئی اپوزیشن کے واک آئوٹ کے باوجود کوئی سرکاری رکن منانے نہ آیا۔

29اپریل:قومی اسمبلی میں شاہد خاقان عباسی اور غلام سرور میں تکرار، اپوزیشن نے اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کر لیا ۔

30اپریل:طویل قیاس آرائیوں کے بعد بالآخر پنجاب اسمبلی نے نئے بلدیاتی نظام کا بل منظور کر لیا۔ اپوزیشن نے ایجنڈا پھاڑتے ہوئے عدالت میں جانے کا اعلان کیا۔ گورنر کی منظوری کے ساتھ ہی تمام بلدیاتی ادارے تحلیل ہو گئے ،ایک سال کے اندر اندر انتخابات کرانے کا اعلان ۔نئے اداروں کی مدت چار سال ہو گی۔ نوجوانوں کیلئے مخصوصی نشستیں ختم ، تحصیل اور میونسپل کی سطح پر جماعتی بنیادوں پر انتخاب ہوگا عدم اعتماد کی تحریک دوسرے اور تیسرے سال میں لائی جا سکے گی اپوزیشن نے بل کو شب خون قرار دے دیا۔

30اپریل: قومی اسمبلی میںکم عمر بچیوںکی شادی پر پابندی کا بل پیش کر دیا گیا، حکومتی وزراء آمنے سامنے آگئے ۔’’بل کی مخالفت کرتا ہوں، چاہے وزارت چلی جائے‘‘ علی محمد کا اعلان۔ وزیر مذہبی امور کی بھی مخالفت ہو گئے۔بل کے حق میں72 اور مخالفت میں50 ووٹ ڈالے گئے جس کے بعد بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

یکم مئی: بلاول بھٹو کا عید کے بعد سڑکوں پر آنے کا اعلان احتساب سب کا نہ ہوا تو دما دم مست قلندر ہو گا۔

1مئی:ملک میں نظام حکومت صدارتی یا پارلیمانی بحث میں شدت آنے پر صدر مملکت عارف علوی نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ساری بحث پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔

2مئی: شہباز شریف نے لندن میں اپنا قیام طویل کردیا ۔چیئرمین پی ایسی کا عہدہ چھوڑنے کیلئے خط لکھ دیا البتہ لیڈر آف دی اپوزیشن رہیں گے ۔

2مئی:اسفند یار ولی چھٹی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر منتخب ہو گئے ۔

3مئی:مسلم لیگ ن کے انتخابات میںشاہد خاقان عباسی سینئر نائب صدر اور مریم نواز نائب صدر منتخب ہو گئیں ۔احسن اقبال جنرل سیکرٹری رانا ثناء اللہ پنجاب کے صدر اور مریم اورنگزیب ترجمان منتخب ہو گئیں۔

6مئی:قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کی آمد پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اسپیکر بھی اپوزیشن کو منانے میں ناکام رہے ۔

6مئی:سینٹ میں وزیر خارجہ کی تقریرپر اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی رضا باقر اور شبر زیدی کی تعیناتی پر بھی تنقید ہمیں اپوزیشن سے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ،شاہ محمود قریشی

13مئی:قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن نے باہمی اتفاق رائے سے 26ویں آئینی ترمیم منظور کر لی۔ ترمیم کی منظوری کے بعد خیبر پختوانخوا میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 12 اور صوبائی اسمبلی کی 24ہو جائے گی۔

17مئی: قمر زمان کائرہ کا اٹھارہ سالہ بیٹا کار کے حادثے میں جاں بحق ہو گیا گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم کار چلا رہا تھا کہ لالہ موسی کے قریب کار بے قابو ہو کر درخت سے ٹکرا گئی ۔

17مئی:عشرت العباد کا بھائی عامر العباد گرفتار کر لیا گیا ۔

19مئی:اپوزیشن حکومت مخالف لائحہ عمل تیار کرنے پر متفق ہو گئی ۔بلاول کے افطار ڈنر میں بھی مشاورت۔ عید کے بعد حتمی فیصلہ ہو گا۔

24مئی:وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مزید دو مہینے مشکل ہونگے قوم برے وقت میں متحد ہوتی ہے اس لیے کوئی ڈالر نہ خریدے ۔

30مئی:ججز کے خلاف ریفرنس پر قومی اسمبلی میں ارکان آپس میں گتھم گتھا ہو گئے، سینیٹ میں بھی حزب اختلاف کی قرار داد مذمت منظور۔ کراچی کو پانی دو کے بھی نعرے جس پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے گوجرانوالہ میں ایک کالعدم تنظیم کے تین کارکنوں افتخار، اجمل اور بلال کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی ۔

2جون: تحریک انصاف کے 7عہدیداروں کے سوا تمام تنظیمیں توڑ کر اور عہدیدار فارغ کر دیئے گئے۔

3جون:زرتاج گل کی نا اہلی کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کروادی گئی۔ جو منظور نہ ہو سکی۔

8جون: معروف عالم دین علامہ عباس کمیلی انتقال کر گئے۔

10جون:آصف زرداری کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں ’’گو عمران گو‘‘ اور’’پروڈکشن آرڈر جاری کرو‘‘کے نعروں کی گونج میں اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری کی بھی افواہیں پھیل گئیں۔تاہم یہ قیاس آرائیاں نقش برآب ثابت ہوئیں۔

15جون:گرفتار اسپیکر سندھ اسمبلی کو کراچی منتقل کر دیا گیا، اسپیکر کا چیمبر سب جیل قرار کیونکہ رات گئے اسپیکر کو آنے جانے میں پریشانی کا سامنا تھا ۔

18جون: لاہور ہائی کورٹ نے خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ۔دل کی تکلیف پر سلمان رفیق ہسپتال منتقل کر دیئے گئے۔

19جون:سینٹ میں مولانا عطا الرحمن کی تقریر پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا، حکومتی اور پیپلز پارٹی کے ارکان ایک دوسرے کی جانب بڑھتے رہے تاہم سارجنٹ ایٹ آرمز نے درمیان میں آ کر بیچ بچائو کرایا۔ پنجاب اسمبلی میں بھی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی۔ چوہدری ظہیر الدین اور سمیع اللہ میں بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔

24جون:قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے وزیر اعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی عائد کر دی۔ انہوں نے کہا کہ’’ ہر ممبر ووٹ لے کر آیا ہے اس سے ووٹروں اور ایوان کی توہین ہوتی ہے‘‘ ۔ اس پر اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک لانے کا اعلان کر دیا تاہم یہ تحریک بعد ازاںنہ لائی جا سکی۔عمران خان نے کہا کہ سلیکٹڈ کہو یاایلیکٹڈ مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا جو مرضی کہتے رہو ۔

26جون:سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کیلئے پاکستان نے بھارت کی حمایت کردی ۔دو سالہ رکنیت کیلئے ایشیا پیسفک گروپ میں شامل 55ارکان میں سے چین ، بنگلا دیش اور سعودی عرب بھی بھارت کے حامی بن گئے۔

29جون:ن لیگ کے 15ارکان پنجاب اسمبلی کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات پر سیاسی ہل چل مچ گئی۔ بنی گالہ میں ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار بھی شریک تھے ۔حکومت نے مزید 35ارکان سے رابطوں کے دعوے کیے ۔

1جولائی :رانا ثناء اللہ کو 15کلو منشیات رکھنے پر گرفتار کر لیا گیا۔5 گارڈز اور فیصل آباد سے 20کارکن بھی گرفتار کئے گئے تھے ۔3جولائی کو انہیں14 روزہ ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ انہیںرانا اثنا اللہ کو عدالت عالیہ نے 25دسمبر کو رہا کر دیا۔

1جولائی :راجہ پرویز اشرف اور سینیٹر روبینہ خالد کے خلاف بھی کیسز دائر کر دیئے گئے راجہ پرویز اشرف پر ریشماں رینٹل پاور میں 38کروڑ اور گلف پاور میں 39کروڑ روپے کے گھپلے کا الزام ۔ روبینہ خالد نے لوک ورثہ میں کرپشن کی نیب کا الزام۔

31جون: جماعت اسلامی نے آئی ایم ایف کے پیش کردہ بجٹ کے خلاف کراچی میں عوامی مارچ کیا عوام کو بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ۔

3جولائی :اعظم سواتی امیر ترین اور انور لعل غریب ترین سینیٹر نکلے اعظم سواتی 1.85ارب ، تاج آفریدی 1.3ارب ، صادق سنجرانی 10کروڑ، شیری رحمن 25کروڑ ، شبلی فراز 23کروڑ، سلیم مانڈوی والا 26کروڑ اور سراج الحق 31لاکھ روپے کے مالک نکلے۔

3جولائی :عمران خان نے بنی گالہ کی زمین کو تحفہ ظاہر کیا دس کروڑ کے مالک ہیں بلاول کے اثاثے ڈیڑھ ارب روپے کے نکلے آصف زرداری کے بعد ایک کروڑ کے گھوڑے اور دیگر جانور بھی ہیں شہباز شریف نے لندن فلیٹ بھی اثاثوں میں ظاہر کر دیا ۔

5جولائی :چیئرمین سینٹ کے خلاف 9 جولائی کو قرار داد پیش کرنے کا امکان۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے 25جولائی کو یوم سیاہ منانے اور ملک بھر میں جلسے کرنے کا پلان جاری کر دیا۔

5جولائی :وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف بزدل ہیں انہوں نے کہا کہ بے نامی کی نشاندہی پر انعام کی رقم تین فیصد سے بڑھا کر دس فیصد کرنے کا حکم جاری کیا اور ساتھ ہی شہباز شریف کے بیانات کا بھی جواب دیا شہباز شریف نے کہا تھا کہ اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو عمران خان نے کہا کہ میں موت کو بھی برداشت کر سکتا ہوں ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے والے اپنا لاہور میں علاج نہیں کراتے ۔

9جولائی :آصف زرداری نے 134اور نواز شریف نے 92غیر ملکی دورے کئے صدر زرداری نے دوروں پر 142کروڑ اور نواز شریف نے 183کروڑ روپے خرچ کئے ۔

30جولائی :عرفان صدیقی چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیئے گئے۔

23اگست:چیف الیکشن کمشنر اور صدر مملکت کے نامزد کر دہ دو ارکان کے خلاف معاملہ شدت اختیار کر گیا چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان سے حلف لینے سے انکار کردیا۔ 

11ستمبر: وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے بیان پر حکومت اور اپوزیشن میں ٹھن گئی فروغ نسیم نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کو وفاق سے کنٹرول کرنے کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 149کے تحت کر سکتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ میری بات کا سیاق و سباق سے ہٹ کر مطلب لیا گیا ہے۔

15ستمبر:ایک ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں وزیر اعظم عمران خان، مولانا طارق جمیل،ڈاکٹر عطاء الرحمن ، مفتی تقی عثمانی، الیاس قادری ، طاہر القادری اور عمر سیف کو بھی پانچ سو بااثر ترین مسلمان شخصیات میں شامل کر لیا گیا۔

20ستمبر:گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر قومی اسمبلی کے اندر اور باہر ہنگامہ اسمبلی کے باہر ’’ سیاسی قیدی برائے تاوان‘‘ کے بینرز آویزاں کر دیئے گئے۔

25ستمبر:نواز شریف اور حمزہ شہباز کے بعد مریم نواز بھی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دی گئیں ۔

 7اکتوبر:سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو ڈی سیٹ کرنے سے متعلق فیصلے کو معطل کرتے ہوئے انکی رکنیت بحال کر دی ۔

 15اکتوبر:وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے بیان سے عوام حیران و پریشان رہ گئے انہوں نے چار سو محکمے ختم کرنے کا اعلان کرکے قوم کو حیران کردیا انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوکریوں کیلئے حکومت کی طرف نہیں دیکھا جا سکتا تاہم فواد چوہدری نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حیران ہوں کہ کس طرح سے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے۔ 

17اکتوبر:عمران خان نے کہا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ۔

22اکتوبر:کیپٹن صفدر کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر یل بھجوا دیا ۔

27اکتوبر:آزادی مارچ کراچی سے شروع ہو کر سکھر پہنچ گیا ہزاروں افراد کی شرکت۔ اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں سابق ایم پی اے مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کر لیا گیا تاہم بعد میں انہیں رہائی مل گئی۔

27اکتوبر:عالمی شہرت یافتہ نعت خواںیوسف میمن مختصر علالت کے بعد ساٹھ برس کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ پسماندگان میں بیٹی بیوہ اور دو بیٹے چھوڑے ۔

29اکتوبر: نادرا نے جمعیت علمائے اسلام کے رکن اسمبلی حافظ حمد اللہ کا شناختی کارڈ منسوخ کر دیا تھا جسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بحال کرتے ہوئے ان کی شہریت بحال کر دی ۔

31اکتوبر: صدر نے نیب آرڈیننس میں ترمیم سمیت آٹھ آرڈیننس جاری کر دیئے جن میں کرپشن کی نشان دہی کرنے والے کے تحفظ کا ترمیمی بل ، حقوق خواتین ، وراثتی سرٹیفکیٹ اور لیگ اینڈ جسٹس اتھارٹی کے قیام کے بل شامل ہیں ۔

1نومبر:بے نظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کے آٹھ بنک اکائونٹس چار جائیدادیں اور گاڑیاں بھی ضبط کرنے کا حکم ۔

4نومبر:صدر مملکت نے حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کی نامزدگی کیلئے دو ارکان کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کردیا اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن غیر فعال ہے لہذا اس معاملے کو قانون کے مطابق ہل کیا جائے ۔

9نومبر:قومی اسمبلی میں گرما گرمی ،ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی۔

15نومبر:اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے چلنے کیلئے حکومت کے ساتھ کئی معاملات پر اتفاق رائے کر لیا اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی جبکہ حکومت نے آرڈیننسوں کو واپس لے کر مجلس قائمہ کے حوالے کرنے پر اتفاق رائے کر لیا۔

24نومبر:فارن فنڈنگ کیس میں اپوزیشن نے تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سال کی آخری ششماہی میں یہ کیس پوری شدت سے اٹھا، الیکشن کمیشن نے انکوائری بھی شروع کی لیکن دو ممبرز تعیناتی میں رکاوٹوں کے باعث کیس دب گیا، الیکشن کمیشن نامکمل ہے جس پر اس کیس میں شنوائی مشکل ہو گئی ۔

28ستمبر:بلوچستان کے شہر چمن میں دھماکے سے جی یو آئی کے رہنما مولانا حنیف شہید ہو گئے 20افراد زخمی دھماکہ ان کے دفتر کے باہر کھڑی موٹر سائیکل میں ہوا ۔

10اکتوبر:بانی ایم کیو ایم کے خلاف دہشت گردی کیس میں فرد جرم عائد کر دی گئی 2016میں اشتعا ل انگیز تقریر کرنے پر اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے پاکستان کی درخواست پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا پہلے ان پر ٹیگ لگایا گیا اب بعد ازاں ان کو حراست میں لے لیا گیا ۔

30نومبر: چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے شہباز شریف نے سابق چیف سیکرٹری ناصر کھوسہ ، جلیل عباس اور اخلاق احمد طارق کے نام بھجوا دیئے جلیل عباس جیلانی یوسف رضا گیلانی کے قریبی عزیز ہیں ان ناموں پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔1دسمبر:تحریک انصاف نے حامد خان کی بنیادی رکنیت معطل کر دی ۔

2دسمبر:سابق صدر پرویز مشرف شدید علالت کے باعث ہسپتال منتقل ہو گئے۔

5دسمبر: اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ دس روز میں حل کرنے کا حکم جاری کیاحکومت نے بابر یعقوب ، فضل عباس اور عارف خان کے نام تجویز کیے ۔

6دسمبر: قومی اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر ہنگامہ آرائی اختر مینگل نے بھی اپوزیشن کے ساتھ بائیکاٹ کیا ۔حکومت ایوان کی کارروائی چلانے میں ناکام رہی کورم کی نشاندہی پر جب گنتی کی گئی تو کورم کم نکلاجس پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

9دسمبر:ن لیگ نے پی ٹی آئی سے ہر قسم کا تعاون اور رابطہ ختم کر دیا جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دو ارکان کا تقرر کھٹائی میں پڑ گیا آرمی چیف کی تقرری سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد بھی مشکل ہو گیا ۔

9دسمبر:قومی اسمبلی میں تمام جماعتوں نے طلباء یونین کی بحالی پر اتفاق کر لیا ۔بل کو مزید غور کیلئے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا رانا ثنا ء اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر ن لیگ کا واک آئوٹ پیپلز پارٹی نے ساتھ نہیں دیا۔

13دسمبر :وزیر اعظم کے بھانجے حسان نیازی کی گرفتاری میں پولیس ناکام ہو گئی کئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں مگر وہ ہاتھ نہ آئے ان کی گرفتاری کیلئے مارے گئے چھاپے ناکام رہے مگر حسان نیازی نے عدالت سے ضمانت کروانے کے بعد اعلان کیا کہ انہیں گرفتار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی پولیس اگر کہتی تو میں خود پیش ہو جاتا اس لیے چھاپے مارنے کی اطلاع غلط ہے ۔۔

15دسمبر:بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا ہے کہ نیب جھوٹے مقدمات میں انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے، بے نظیر بھٹو کے بیٹے کو ڈرانا ان کی بھول ہے پاکستان میں عوام کی مرضی چل سکتی ہے کسی امپائر کی انگلی نہیں انہوں نے نیب کے روبرو پیش ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دے چکے ہیں ۔

15دسمبر:معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کٹھ پتلی مرکزی حکومت نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ سندھ ہیں۔ سندھ میں بھٹو زندہ ہے مگر عوام کب کے مر چکے ہیں ۔

15دسمبر:وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کو ایک بار پھر بغاوت کا سامنا ۔یار محمد رند ، صالح بھوٹانی ، عمر جمالی، نسیم مری اور مبین خلجی سمیت کئی اہم شخصیات ناراض ہو گئیں ۔

22دسمبر:مسلم لیگ ن نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بیرونی طاقتوں کی فنڈنگ سے بنی ہے اور یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں وفاقی وزراء نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بحران سابقہ حکمرانوں کی نالائقی کا پیدا کردہ ہے ۔

کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مریم نواز کا نام ای سی ایل میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا ۔

23دسمبر:امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ اگر حکمران کشمیر کے حل کیلئے جہاد نہیں کر سکتے تو کرسی سے الگ ہو جائیں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا ۔

 

  نواز شریف کے پلیٹ لٹس اور دوسری بیماریاں

 11مارچ کو لاہور میں کوٹ لکھپت جیل میںبلاول بھٹو نے میاں نواز شریف سے ایک گھنٹہ ملاقات کے بعد کہا کہ’’ نواز شریف اسی کمرے میں قید ہیں جہاں آصف زرداری کو رکھا گیا تھا مگر ان کے حوصلے بلند ہیں ۔کافی بیمار لگتے ہیں ،لگتا نہیں کہ کسی ڈیل پر تیار ہوں۔ میرا مریم سے بھی ملاقات کا ارادہ ہے‘‘۔ بلاول بھٹو نے نواز شریف کو سندھ میں علاج کی پیشکش کر دی ۔یقینا اس پیشکش پر نواز شریف دل میں مسکرائے تو ہونگے۔11مارچ کونواز شریف کے 24گھنٹے علاج کیلئے 21ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم اور ایمبو لینس کوٹ لکھپت جیل کے باہر پہنچا دی گئی۔25اکتوبر کونواز شریف کے پلیٹ لیٹس صرف 7ہزار رہ گئے۔ انہیں 5میگا یونٹس لگائے جا چکے ہیں ۔عمران خان نے نواز شریف کو علاج کی ہر ممکن سہولتیں دینے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو حکم دے دیا ۔31اکتوبرکونواز شریف کے پلیٹ لیٹس پھر گر گئے 21ہزار رہ گئے، شوگر بڑھ گئی ، بون میرو کام کر رہا ہے لیکن آپریشن تھیٹر تیار کر لیا گیا ۔2نومبرکونواز شریف کے پلیٹ لیٹس پھر گرنے لگے ۔13نومبر:نواز شریف 7ارب روپے کی گارنٹی دے کر بیرون ملک جا سکتے ہیں ۔15نومبرکو انہوں نے کہا کہ سیاست اپنی جگہ ہے لیکن ہمیں نواز شریف کی جان عزیز ہے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے قانون میں لچک دکھائی ،پیسے نہیں مانگے ‘‘۔22نومبرکو وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ’’ اپنی کرسی بچانے کیلئے اقتدار میں نہیں آیا ۔میرا مقصد احتساب کر نا ہے سمجھ نہیں آئی کہ نواز شریف ٹھیک ٹھاک حالت میں طیارے میں کیسے سوار ہو گیا۔ رپورٹوں میں مریض کو 15بیماریاں بتائی گئی تھیں ،نئی چیز پلیٹ لیٹس بھی سامنے آئی ۔پتہ نہیں ان کو لندن کی ہوا لگنے سے صحتیابی ملی یا مریض جہاز کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہو گیا ‘‘۔ان کے اس بیان پر بلاول بھٹو ، مریم اورنگزیب سمیت سب نے تنقید کی ۔انہوں نے کہا کہ یہ تو اسکول میں پڑھایا جاتا ہے کہ پلیٹ لیٹس کیا ہوتے ہیں ۔

25جنوری: نواز شریف کے طبی معانئے کیلئے 6رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل ، بورڈ نے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم کا شو گر اور بلڈ پریشر بھی چیک کیا۔2فروری کو نواز شریف جیل سے ہسپتال منتقل ہو گئے ،کوئی ڈیل نہیں ہوئی ،سب کی خواہش ہے کہ لندن میں جن ڈاکٹروں نے ان کی سرجری کی وہی ان کا علاج کریں ۔سابق وزیر اعظم کے علاج کیلئے چوتھا میڈیکل بورڈ تشکیل ہسپتال کے کمرے کو سب جیل قرار دے کر دو بیڈ رومز اٹیچ باتھ اور فریج کی سہولت مل گئی ۔6فروری کونواز شریف ہسپتال سے جیل منتقل ہو گئے ۔والدہ نے بھی ان سے ملاقات کی۔ اہلخانہ نے بتایا کہ جیل میں نواز شریف کو سینے میں تکلیف ہوئی ،انہوں نے کئی آوازیں دیں مگر کوئی نہ آیا ۔13فروری کو جیل میں نواز شریف کو بخار ہو گیا ۔انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔15فروری کو میاں نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے علاج کیلئے جناح ہسپتال منتقل ہو گئے وی آئی پی بلاک میں کمرے مخصوص کر دیئے گئے۔ 7مارچکونواز شریف کو علاج کی سہولتیں نہ ملنے پر سینٹ میں اپوزیشن ارکان اپنے بنچوں پر کھڑے ہو کر بولتے رہے ،’’نواز شریف سے یہ سلوک منظور نہیں ‘‘راجہ ظفر الحق نے کارروائی کی دھمکی دے ڈالی۔حکومت نے کہا کہ سینیٹ قوانین بنائے ،ہم عمل درآمد کروائیں گے۔

نواز شریف کے علاج کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے ۔جس کے بعد30مارچ کونواز شریف کا طبی معائنہ دل کی بائیں شریان میں خرابی پیدا ہو گئی۔6مئی کونواز شریف ضمانت کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ قیدی بن گئے بڑے جلوس کے ساتھ رات بارہ بج کر پانچ منٹ پر کوٹ لکھپت جیل کے دروازے پر پہنچے ۔13ستمبرکومریم نواز کونواز شریف کے لئے گھر سے کھانا لانے پر پابندی لگا دی گئی۔25اکتوبرکو نواز شریف کی بیرون ملک علاج کی درخواست لاہور ہائی کورٹ نے منظور کر لی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ ان کی طبیعت خراب ہے لہٰذا انہیں بیرون ملک علاج کی اجازت دی جاتی ہے ۔29اکتوبرکوادویات سے نواز شریف کے گردے متاثر ہونے لگے بلڈ پریشر اور شوگر بھی قابو میں نہ رہی ۔حکومت نے واپسی کے لئے 7ارب روپے کے بانڈز مانگ لئے جسے مسلم لیگ ن نے غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا۔17نومبرکونواز شریف اور شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کیلئے لاہور ہائی کورٹ میں شورٹی بانڈ سے متعلق وفاقی کابینہ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پچاس 50روپے کے بیان حلفی پرچار ہفتوں کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔19نومبرکولیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن چلے گئے تھے ،ان کے نام ای سی ایل میں رہیں گے لیکن ایک بار جانے کیلئے انہیں ہوائی اڈے پر اجازت دے دی گئی حکومت نے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا۔22نومبرکولندن کے ہسپتال میں تین چار گھنٹے تک نواز شریف کا طبی معائنہ ہوا خون ،گردے اور دل کے ٹیسٹ ہوئے ۔ 4ہفتوں کی مدت ختم ہونے پر میاں نواز شریف کی جانب سے علاج میں توسیع کی درخواست متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی ۔

 

  قائمہ کمیٹیاں بھی متنازعہ ہو گئیں

 17جنوری کوقومی اسمبلی کی21قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی حکومت اور 19کی اپوزیشن کو دینے کا فارمولا طے ہو گیا۔6فروری کو قومی اسمبلی میں 5مہینے اور 22دن کے بعد بالآخر 36قائمہ کمیٹیاں بنا دی گئیں۔بلاول بھٹو انسانی حقوق کی کمیٹی کے چیئرمین ہونگے .یہ وزارت شیریں مزاری کے پاس ہے۔ ریلوے کی کمیٹی میں خواجہ سعد رفیق اور شیخ رشید کے بھانجے راشد شفیق بھی شامل ہیں۔ پرویز ملک کی اہلیہ اور بیٹا بھی رکن ہونگے ۔خواجہ آصف اور ان کی اہلیہ بھی مختلف کمیٹیوں کی رکن ہونگی ۔ کسی وزیر کو رکن نہیں بنایا گیا وہ وزیر ہاتھ ملتے رہ گئے ۔آصف زرداری ، راجہ پرویز اشرف ، شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور خورشید شاہ بھی کسی کمیٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ پبلک اکائوٹنس کمیٹی کا چیئرمین بننے پر شیخ رشید اور بعض دوسرے ارکان نے شہباز شریف پر شدید تنقید کی ۔ وفاقی کابینہ نے بھی کرپشن میں ملوث ہونے پر شہباز شریف سے پی اے سی کی چیئرمین شپ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ۔7فروری کو حکومت نیب قوانین میں ترامیم پر تیار ہو گئی۔9فروری کو وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ جمہوری تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی جیل سے آ کر پی اے سی کی چیئرمین شپ سنبھال لے اور نیب کو طلب کرنا شروع کر دے، اب کسی کرپٹ آدمی کو رعایت نہیں دیں گے۔ پارلیمنٹ چلانے کی جتنی کوشش کر لی تھی کر لی ، دو لیڈروں نے این آر او کے ذریعے ملک کو تباہ کیا ۔10فروری کواپوزیشن لیڈ ر شہباز شریف کی درخواست اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے تین قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت منسوخ کرنے کا حکم جاری کردیا۔ 

 

آزادی مارچ نے کیا حاصل کیا؟ 

آزادی مارچ کے بارے میں مولانا فضل الرحمن 31مارچ کا پہلا بیا ن سامنے آیا جب انہوں نے 30لاکھ افراد کو اسلام آباد لے جانے کی دھمکی دے دی ۔انہوں نے کہا کہ ’’اسلام آباد کو جام کر دیں گے، دیکھیں گے کہ حکومت کیسے چلتی ہے جس سڑک کا افتتاح ہم نے ژوب میں کیا ،حکومت نے اسی سڑک کا افتتاح کوئٹہ میں کر دیا ‘‘۔لیکن اس وقت بلاول بھٹو کو ان پر اعتماد نہ تھا۔ انہوںنے کہا کہ’’ مولانا فٗضل الرحمن ہم سے ٹریننگ لے لیں تو اچھا ہے ‘‘۔19جون آزادی مارچ کی’’ہانڈی‘‘ پکنے لگی۔جے یو آئی کی مجلس شوری نے نیشنل ایکشن پلان کو ڈھکوسلا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا،اسی روزمولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کو لاک ڈائون کرنے کی دھمکی دے دی ۔24جون کومولانا فضل الرحمن نے حکومت ہٹانے کیلئے شہباز شریف ، آصف زرداری اور بلاول سے بھی رابطے کر لیے، مریم نواز اور دوسرے رہنمائوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔11ستمبرکوپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ میں اسلام آباد تک جانے سے معذرت کر لی۔انہوں نے تاریخ میں تبدیلی کی تجاویز پیش کیں۔3اکتوبرکومولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر سے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کا استعفیٰ لے کر ہی واپس لوٹیں گے ۔22اکتوبرکوحکومت نے آزادی مارچ روکنے کیلئے اسلام آباد میں 400کنٹینرز منگوا لیے گئے ۔ان کی ریہرسل بھی کئی گئی۔لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ حکومت آنے جانے کے راستے بند نہیں کر سکتی اس نے کنٹینرز ہٹانے کا حکم دے دیا۔26اکتوبرکو ڈی چوک میں جلسہ نہ کرنے اور آزادی مارچ کے اپنے لئے مخصوص ایریا میں رہنے سے متعلق انتظامیہ اورمولانا فضل الرحمن کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ۔29اکتوبرکوآزادی مارچ کے قافلے آج لاہور پہنچ گئے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم جانے والا ہے ،31اکتوبرکوآزادی مارچ دیکھنے کے خواہشمند 5 شہری کھنہ پل سے گر گئے ،دو جاں بحق ہو گئے ۔1نومبرکو مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کے دھرنے میں وزیر اعظم کو دو دن میں استعفے دینے کی مہلت دے دی ۔آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھجوائیں گے ،شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی کا دماغ خالی ہے۔2نومبرکوفضل الرحمن نے اسلام آباد کے دھرنے میں وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کا ذکر کر کے بغاوت کا ارتکاب کیا ۔حکومت کی جانب سے فضل الرحمن کے خلاف عدالت میں جانے کاذکر ، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے وزیر اعظم کے استعفے اور نئے الیکشن کے مطالبات مسترد کر دیئے ۔مائنس ون فارمولا بھی مسترد۔ وزیر اعظم کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی۔7نومبر کو آزادی مارچ اور حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے ارکان نے متوقع تجاویز پر غور کیا سرکاری ٹیم نے مولانا فضل الرحمن کی مرضی کا کوئی بھی حلقہ کھولنے کی پیشکش کر دی جسے مولانا صاحب مسترد کر تے ہوئے کہا کہ انہیں صرف عمران خان کا استعفیٰ چاہیے بارہ ربیع الاول کو انہوں نے دھرنے کو سیرت النبی ﷺکانفرنس میں بدل دیا ۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اجتماعی استعفے دینے ملک گیر ہڑتالیں کرنے اور سڑکیں بند کرنے کی دھمکی دے دی۔ فضل الرحمن نے کہا کہ سخت فیصلے کر سکتے ہیں پرویز الہٰی مذاکرات کیلئے بیچ میں آگئے حکومت نے بھی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی جس کی قیادت پرویز خٹک کے پاس تھی مذاکرات کے بارے میں متزاد باتیں منظر عام پر آتیں رہی۔

13نومبرکواسلام آباد میں 14روزہ دھرنے کے بعد مولانا فضل الرحمن نے کارکنوں کو دھرنا ختم کرکے سڑکیں بند کرنے کی ہدایت کر دی اب ملک کے تمام حصوں میں گلی کوچوں میں احتجاج ہو گا حکومت کی جڑیں کاٹ دیں گے مولانا فضل الرحمن کی دھرنے کے آخری دن خطاب میں دھمکی۔جس کے بعد ملک کے بڑے شہروں میںپلان بی پر عمل کی ہدایت جاری کی گئیں۔19نومبرکوجمعیت علمائے اسلام نے پلان بی کے تحت سڑکوں پر دئیے جانے والے دھرنے بھی ختم کر دیئے۔ اکرم درانی کے مطابق اب اے پی سی میں فیصلے ہونگے جبکہ ضلعی سطح پر بھی جلسے کیے جائیں گے ۔18نومبرکو’’مولانا فضل الرحمن بک جاتے ہیں ، بلاول لبرلی کرپٹ ہیں ۔کابینہ کی اکثریت نواز شریف اور شہباز شریف کو باہر بھیجنے کی مخالف تھی مگر مجھے رحم آ گیا‘‘۔ عمران خان کے بیان پر ملک بھر میں اپوزیشن ارکان برس پڑے ۔بلاول بھٹونے خود کو لبرلی ڈیموکریٹس قرار دیتے ہوئے عمران خان پر شدید تنقید کے نشتر برسائے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان 70 سال کے بوڑھے ہیں اور20 سال سے سلیکٹڈ پالیٹکس کر رہے ہیں ۔22نومبرکومولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہوں نے دھرنا یونہی ختم نہیں کیا انہیں چیئرمین سینٹ ، بلوچستان حکومت اور گورنر کے عہدوں کی بھی پیشکش ہوئی تھی۔تاہم انہوں نے قومی مفاد کی خاطر یہ پیشکش قبول نہیں کی ۔ان کے اس بیان کی تردید کر دی گئی۔29نومبرکومولانا فضل الرحمن پی ٹی آئی پر برس پڑے کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ جعلی ہے سپریم کورٹ کے حکم پر بھی حساس معاملات پر قانون سازی کرنے کی مجاز نہیں ۔لوگ آج بھی پوچھتے ہیں کہ دھرنے سے کیا حاصل ہوا۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بھارتی حکومت کود رپیش مالی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،سرمائے کی کمی ہر منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔  

مزید پڑھیں

بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے کو دوران دو عالمی جنگوں نے یورپ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔ 

مزید پڑھیں

بکنگھم پیلس میں ہونے والے ساس بہو کے جھگڑے دنیا بھر میں اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں،برطانیہ کے شاہی محل میں رہنے والے دو شہزادوں پرنس ہیری اور پرنس ولیم کی بیویوں کی معمولی سی تلخی کا انجام شاہی خاندان میں اس انتشار کی صورت میں نکلے گا،یہ برطانیہ کے کسی ستارہ شناس کے بھی علم میں نہ تھا ،

مزید پڑھیں