☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا حافظ زبیر حسن اشرفی) احوال معیشت(محمد ندیم بھٹی) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(عبدالماجد قریشی) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(ایم آر ملک) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) خواتین(نجف زہرا تقوی) غور و طلب( محمدشاہنوازخان) غور و طلب(عرفان طالب) فیچر(پروفیسر عثمان سرور انصاری) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا کی رائے(ارشاد احمد ارشد) دنیا کی رائے(مریم صدیقی)
خطے میں کشیدگی اور بڑی جنگ کا اندیشہ

خطے میں کشیدگی اور بڑی جنگ کا اندیشہ

تحریر : صہیب مرغوب

01-12-2020

امریکہ اور ایران میں متوقع جنگی تصادم کی خبروں پر دنیاپریشان ہے۔ ٹاپ کے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پرامریکی حملے کے بعد سے دونوں ممالک میں کشیدگی انتہا پر پہنچ چکی ہے، جنگی حکمت عملی کے ماہرین اسے تیسری جنگ عظیم کا نکتہ آغاز قراردیتے ہوئے نہیں تھکتے ،ان کے خیال میں دوسری جنگ عظیم اسی قسم کے حالات میں شروع ہوئی تھی۔

میری رائے میں عالمی جنگ کا کوئی اندیشہ نہیں، ایران امریکہ پر براہ راست حملہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، امریکہ ایسا کر سکتا ہے مگر اسکے کئی نقصانات ہوں گے،امریکہ کو پہلے حملے میں اپنے ملک میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ اس نے سپیکر نینسی پلوسی سمیت ان شخصیات کو اعتماد میں نہیں لیا جنہیںقانون کے مطابق اعتماد میں لینا ضروری ہوتا ہے۔امریکی صدر نے 8میں سے دوشخصیات کو حملے سے آگاہ نہیں کیا۔ اسی لئے کانگریس کی جانب سے سپیکر نینسی پلوسی نے بھی حملے کی رپورٹ اور جواز مانگ لیا ہے۔ کانگریس کو اعتماد میں نہ لینا آئین کی خلاف ورزی سمجھا جا رہا ہے۔امریکی صدر ٹرمپ کانگریس کے فوری ردعمل کو مزید نظرانداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔کانگریس نے جنگ کی حمایت نہیں مخالفت کی ہے جس سے امریکہ کے ہاتھ کسی حد تک بندھ گئے ہیں۔ویسے ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں ہی ایران کے ساتھ کئے جانے والے ایٹمی ڈیل سے نکلنے کی بات کی تھی۔ یہ انتخابی مہم کا بھی حصہ تھا۔ ایران کو اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنایا گیااس سے کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہاتھا جو اب انتہا پر ہے۔یاد رہے،یکم جنوری کو علی الصبح کئے جانے والے امریکی حملے میں قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس جاں بحق ہوئے تھے۔

ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور جنرل ابو مہدی ہی وہ عسکری لیڈر جنگی رہنما تھے جن کی موجودگی میںامریکی جنرل (ر)جم میٹس اور جنرل (ر)ڈیوڈ پٹریاس سمیت دیگر جنرلز عراق میں اپنے ’’مقاصد‘‘ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے، امریکہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور جنرل ابو مہدی کی وجہ سے ہی اسے عراق میں حقیقی کامیابی نہ مل سکی۔ ناکامی کاسبب دو شخصیات تھیں۔جنرل قاسم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر ایران نہ ہوتا تو امریکہ خطے میں خون کی ندیاں بہا دیتا۔

امریکی حملہ اچانک نہیں تھا۔ فیصلہ پہلے سے تیار تھا ،کئی روز سے وائٹ ہائوس میں اجلاس جاری تھے پھر صدر کے کلب میں بھی اجلاس منعقد ہوئے ۔اتوار کی شام کو کلب میں ایک طویل میٹنگ ہوئی ،سب سر جوڑ کر بیٹھے۔وزیر دفاع سپنسر، وزیر خارجہ مائیک پومپیواور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک میلے بھی وہاں موجود تھے۔حملے سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے فوجیوں کے ساتھ وڈیو کال بھی کی۔ وہاں موجود اپنے اعلیٰ فوجی مشیروں سے رائے لی،کئی ایک تو پہلے سے ہی کہہ رہے تھے کہ جنرل قاسم پر حملہ کر دیا جائے لیکن ٹرمپ راستے کی دیوار بنے ہوئے تھے ۔ جنرل قاسم پرحملہ کرنے کامشورہ کئی مہینوں سے دیا جا رہا تھا۔اسی لئے انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں یہ حملہ پہلے کر دینا چاہیے تھا۔اتوار کے اجلاس میںسب اس فیصلے پر پہنچ گئے کہ اب جنرل قاسم پر نظر رکھی جائے اورعراق پہنچتے ہی حملہ کر دیا جائے۔ اس وقت جنرل قاسم سلیمانی دمشق میں تھے ، امریکی حکام ان کے عراق پہنچنے کے منتظر تھے۔ٹرمپ نے اسی پلان پر سینیٹر لنزے کو بھی اعتماد میں لیا۔بعض دوسرے رہنمائوں سے بھی بات چیت کی،اس وقت صدر ٹرمپ کی آواز میں کافی رعب، دبدبہ اور اعتماد تھا۔حملے کے وقت اور اس کے بعد بھی امریکی صدر پرسکون رہے۔پھرنئے سال جشن مناتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ’’ہمارے فوجیوں نے امریکی سفارت خانے میں لوگوں کی جانیں بچائیں، ہمارے عظیم ترین فوجی نہایت سرعت سے سفارت خانے پہنچے‘‘۔

امریکی صدر نے حملے کا یہ جواز پیش کیا کہ ایرانی جنرل امریکی تنصیبات پر حملے کی تیاریاں کر رہے تھے،ان پر حملہ کر کے امریکہ نے جنگ کو روک دیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ حملہ نہ کرتا تو وہ کئی درجن یا شائد سو سے زائد امریکی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ۔امریکی حکام نے اس الزام کا اپنی کانگریس کو بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔امریکی صدر نے اپنی کانگریس کو چپ کرانے کے لئے یاد دلایا کہ جن پر حملہ کیا گیا ہے ان دونوں شخصیات کو امریکی حکومت دہشت گرد قرار دے چکی ہے لہٰذاان پر حملہ کرنا غلط نہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ قدم ہر طرح سے امریکی آئین کے اندر رہ کر اٹھایا گیا ہے۔ امریکی صدر نے دوٹوک الفاظ میں ایران کے ساتھ مکمل جنگ کی تردید کی ، انہوں نے کہا کہ جنگ روکنے کا یہی آخری حربہ تھا جسے اختیار کیا گیا۔ حملے کے فوراََ بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے کئی ممالک کے رہنمائوں سے رابطہ کر کے انہیں خطے کی صورتحال اور امریکی حکمت عملی سے متعلق اعتماد میں لیا ۔دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے چین اور دوسرے ممالک کے ہم منصب سے رابطے کئے ہیں، چین اور روس نے اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے ،روس نے بھی امریکی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ حملے سے چین کی اربوں ڈالر کی تجارت اور تجارتی راستہ متاثر ہو سکتا ہے ۔وہ کسی قیمت پر خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا۔ یہ بھی مت بھولیے، امریکی شہر چین کے ایٹم بموں کے نشانے پر ہیں لیکن چین براہ راست جنگ میں حصہ بننے کو تیار نہیں، وہ اقتصادی جنگ لڑ سکتا ہے ،اس کی فوج دفاعی مقاصد کے لئے ہے۔اس موقع پر نیشنل سکیورٹی کونسل کے مشیر رابرٹ اور امریکی نائب صدر مائیک پنس کی پریس میٹنگ دل چسپی سے خالی نہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ سلیمانی سے کیا خطرہ تھا تو انہوں نے حیرا ن کر دینے والی بات کی۔ مائیک سپنسر نے کہا کہ میں اتناجانتا ہوں کہ نائن الیون کی دہشت گردی میں ان کا ہاتھ تھا۔

 امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے بارے میں پینٹاگان میں اختلاف رائے تھا،جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کے بارے میں مختلف آراء کے حامل ہیں، کسی کے خیال میں اس حملے کا فائدہ ہو سکتا ہے جبکہ اکثر متفق نہیں۔امریکی ایوان صدر میں اس وقت ہاکس بیٹھے ہیں جو کہیں نہ کہیں جنگ چاہتے ہیں۔اگرچہ جنگ پسندمشیر جان بولٹن صدر ٹرمپ کے کان میں ’’جنگ، جنگ ‘‘کی گردان کے لئے وائٹ ہائوس میں موجود نہیں ، لیکن ان کے پیروکار رابرٹ او برائن(Robert O’Brien) بھی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں،بولٹن کی جگہ مشیر برائے نیشنل سکیورٹی کونسل کا عہدہ سنبھالنے والے رابرٹ برائون کا شمار بھی جنگ پسند مشیروں میں کیا جاتا ہے۔وہ کسی طرح سے جان بولٹن سے کم نہیں۔سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ خصوصی برائے ایران برائن ہک (Brian Hook)بھی کسی سے کم نہیں،وہ بھی ایران کو ’’کھینچ کر رکھنے‘‘ کے حامی ہیں۔وہ ایران اقتصادی پابندیاں لگوانے میں بھی پیش پیش تھے اورزیادہ سے زیادہ سیاسی دبائو ڈالنے کے بھی حامی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوایران پر دبائو کے حوالے سے ان تینوں سے کہیں آگے ہیں۔وہ ایران پر بمباری کرنے کا ذکر بھی کر چکے ہیں۔جان بولٹن یہ تصور بھی فروخت کرتے رہے ہیں کہ عراق نے بہت شور کیا ہوا تھا لیکن کیا نکلا؟کچھ بھی نہیں۔ امریکی ٹینکوں نے منٹوں میں عراق پر فتح حاصل کر لی تھی جس کے بعد وہاں حکومت بدل گئی تھی۔ بولٹن یہ بھی کہتے رہے کہ جنرل قاسم کی شہادت ایران میں حکومت کی تبدیلی کی جانب پہلا قدم ہو سکتا ہے، کیونکہ ایران میں قیام امن میں ان کی خدمات ناقابل تردید ہیں۔جان بولٹن ایران میں مظاہرین کی مدد کرنے کے لئے ایرانی پولیس پر براہ راست بمباری کی تجویز بھی پیش کرچکے تھے ۔وہ اپنے دور میں ایرانی پولیس اہل کاروں پر براہ راست حملہ کرنے سے متعلق فائلیں تھامے وائٹ ہائوس کی راہداریوں میں پھرتے نظر آتے تھے ۔ ان کے نکتہ نظر کو امریکہ میں حمایت نہیں ملی کیونکہ صدر ٹرمپ حکومت کی تبدیلی کا امکان بھی رد کر چکے ہیں۔ان تمام صاحبان کی سوچ کو ملا کر دیکھا جائے تو امریکی پالیسی کچھ اس طرح بنتی ہے کہ’’ ایران پر حملہ کر دیا جائے، اس کے بہتر نتائج نکلیں گے، جنگ مختصر دورانیے کی ہو گی اور امریکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا،یہ مشکل کام نہیں‘‘۔

دوسری اور حقیقی طور پر درست رائے یہ ہے کہ ایران عراق سے بلحاظ رقبہ تین گنا اور بلحاظ آبادی دوگنا ہے۔اس پر قبضے کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ایران پہلے ہی یمن، عراق اور لبنان میں مضبوط ہو چکا ہے، پیچھے کرنا ممکن نہیں،یہ بات امریکی بھی جانتے ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر سید علی حسین خامنہ ای امریکہ سے اس نقصان کا بدلہ لینے کے لئے تیار ہیں ،وہ پرجوش ہیں، امریکہ میں انہیں ایک زیرک رہنما کے بطور پر پہچانا جاتا ہے۔امریکہ جانتا ہے کہ ایرانی رہنما بھرپور حکمت عملی کے ساتھ جواب دیں گے،وہ کوئی ایسا کام نہیںکریں گے جو ا ن کے دوستوں کا امتحان بن جائے ۔ان وجوہات کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور ایران میں کسی بڑی جنگ کا خدشہ نہیں۔ایران کی جنگ براہ راست امریکہ کے ہی خلاف ہو گی اور امریکہ ہی اس کا نشانہ بنے گا۔جوابی ایرانی کارروائی کے پیش نظر امریکہ نے 3500فوجی دستے عراق روانہ کر دیئے ہیں شائد ان سطور کے منظر عام پر آنے تک وہ وہاں پہنچ چکے ہوں۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ ایران امریکہ پر سائبر حملہ کرسکتا ہے ،یہ حملہ کر دیا گیا ہے۔ ہیکرز نے ایک اہم امریکی ویب سائٹ ہیک کر کے وہاں ایرانی جنرل اور اعلیٰ ترین منصب پر فائز سپریم لیڈر سید حسین علی خامنہ ای کی تصاویر لگادیں۔ایران کو حملہ کرنے کے متعدد مواقع مل سکتے ہیں ۔35مقامات کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ان میں امریکی بحری بیٹرے ، جہاز ، فوجی اور دیگر اڈے بھی شامل ہیں ۔پہلے تیل کی سپلائی لائن پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیاجا رہا تھا لیکن اسے ایران نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ وہ صرف فوجی مراکز کو نشانہ بنائے گا ، یہ حملے بھی امریکہ یا اسرائیل پرہوں گے،کسی اور پر نہیں۔سپلائی لائن پر حملوں سے دوسرے عرب اور غیر عرب ممالک ناراض ہو سکتے تھے۔ امریکہ نے اپنے سفارت خانوں پر حملوںکا ذکر کیا ہے ، اس کا امکان کم ہے ، کسی بھی ملک میں امریکی مشن پر حملہ میزبان ملک کے لئے پریشان کن ہو سکتا ہے ،ایران اس کی تردید کر چکا ہے۔ یہ بھی دیکھیے ،عراق میں 27دسمبر کے بعد دوبارہ امریکی سفارت خانے کا گھیرائو نہیں کیا گیا، امریکی صدر ٹرمپ نے 27 دسمبر کو اپنے سفارت خانے کے گھیرائو کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد عراقی صدربرھم صالح نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ’’عراق میں امریکی سفارت خانے کے تمام عملے کا تحفظ کرنا ان کی ذمہ داری ہے،وی آنا کنونشن کے تحت ان کی حفاظت کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔‘‘ اس ایک فون کال کے بعد امریکی شخصیات اور مراکز محفوظ ہو گئے ۔

ایران امریکہ کیخلاف دیگر ممالک میں موجود اس کی فوجوں کے لئے مسلہ بن جائے گا۔ ایران عراق میں یہ فضا پیدا کرے گا کہ امریکہ نے ایرانی عسکری شخصیات کو عراق کی سرزمین پر نشانہ بنایا ہے اس لئے عراقی حکومت امریکی فوج کو اپنے ملک سے نکالے۔امریکہ کی وہاں موجودگی خطے کے لئے نازک صورتحال پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا ء کی بات بھی کر چکا ہے۔ عراقی پارلیمنٹ نے امریکی حکام سے یہ گلہ کیا ہے کہ ا ن کی سرزمین پر کسی کونشانہ بنانا عالمی قانون کے علاوہ عراق سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ عراقی پارلیمنٹ نے امریکہ سے اپنی فوجیں نکالنے کا مطالبہ بھی کیا ہے جو امریکہ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیاہے کہ ’’امریکہ نے عراق میںفوجی اڈے بنانے کے لئے اربوںڈالر خرچ کئے ہیں، عراق یہ اخراجات لوٹا دے ہم واپس چلے جائیں گے‘‘۔ عراق اربوں ڈالر واپس کرنے کی پوزیشن میںہے اور نہ ہی امریکہ وہاں سے نکلنا چاہتا ہے ۔اس لئے وہاں سٹیٹس کو ہی رہے گاتاہم امریکہ کو عراقی حکومت سے پہلے جیسا تعاون ملنے کی امید نہیں،بلکہ اسے عراقی پارلیمنٹ کے بیان پر بھی حیرت ہوئی ہے۔اس سے عراق میں امریکی کارروائیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔یہ بھی جان لیجئے کہ امریکہ انسداد دہشت گردی کے لئے ایرانی ملیشیا ء غیر اعلانیہ تعاون کر رہا تھا۔ میںآخر میں یہی کہوں گا کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود جس تیسری جنگ کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں اس کا کوئی امکان نہیں، حملے ہوں گے لیکن مخصوص مقامات کو ہی نشانہ بنایا جائے گا۔

کہاں کتنے امریکی فوجی ہیں؟

خطے میں امریکی فوج کی کمی نہیں، یہ کئی ممالک میں پھیلے ہوئے ہیںجس کی تفصیل ہم ذیل میں شائع کر رہے ہیں۔ 

عراق:6ہزار۔۔۔ ’’گرین زون‘‘ جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے، عراق کا انتہائی ’’اسلحہ زدہ‘‘ علاقہ ہے یہاں فوج ہی فوج دکھائی دیتی ہے ۔الاسد ایئر بیس اور ڈپلومیٹک ایریا زبھی قریب ہی واقع ہیں،حملے کی تصویر میںنظر آنے والی دیوار ڈپلومیٹک ایریا کو ہی محفوظ بنانے کے لئے ہے۔امریکی نائب صدر مائیک پنس نے اسی سال نومبرمیں وہاں کا دورہ کیا تھا۔امریکی حملے کے بعد وہاں بڑے پیمانے پر راکٹوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

شام:800۔۔۔امریکی حکام نے شام میں اپنے فوجی دستوں کے بارے میںہونٹ سی رکھے ہیں۔پہلے پہل یہاں 2ہزار امریکی فوجی تھے لیکن اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ٹرمپ دور میں نکالے جانے کے بعد شائد 800رہ گئے ہیں۔

قطر:13000۔۔قطر میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈاالعدیدقائم ہے۔قطر وہاں جدید ترین فوجی اڈیے کے قیام کے لئے 1.82ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

ترکی:2500،افغانستان:14000،کویت:13000،اردن:3000،سعودی عرب:3000،بحرین:7000، اومان : 600،متحدہ عرب امارات:5000

حملے کی وجہ عالمی عدالت کا فیصلہ تو نہیں؟

2015ء میںایران پر پابندیوں کے نفاذ کے بعدایران نے360ایرانیوں نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ امریکی پابندیوں کے بعد ادویات اور خوراک کی دستیابی ناممکن ہو گئی ہے، یہ پابندی غیر انسانی ہے اسے ختم کرایا جائے۔عالمی عدالت نے مکمل دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ امریکہ کے خلاف سنایا۔امریکہ نے کہا کہ ایران نے یہ فیصلہ دھونس دھاندلی کے ذریعے کرایا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو عالمی عدالت کا یہ فیصلہ مسترد کر دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے عدالت کا غلط استعمال کرکے یہ فیصلہ لیا۔امریکہ نہیں مانتا۔عالمی عدالت نے اس الزام کی بھی تردید کی۔ دوسرا فیصلہ عالمی عدالت انصاف نے فروری 2019میں سنایا۔جس میں تمام ججوں نے امریکی الزام کو مسترد کر دیا کہ ایران نے پہلا فیصلہ کسی(Abuse)کی وجہ سے دیا گیا تھا۔

18اکتوبر ایران کی تاریخ میں ایک اہم دن تھا،لوگ نہیں جانتے کہ اس روز کون سا اہم فیصلہ ہوا تھا۔اس روز عالمی عدالت انصاف نے ایران پر امریکی پابندیوں کوبلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف نے ان پابندیوں کوختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ ادویات،خوارک،ایوی ایشن اور انسانی خدمات تک رسائی نہ دینا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔امریکہ میں یہ سوچ فروغ پا رہی ہے کہ ایران میں ہونے والے مظاہروں کا ایک سبب امریکی پابندیاں ہیں۔پابندیوں کی وجہ سے اشیا کی فراہمی میںکمی آئی ہے اور لوگ حکومت کے خلاف ہو رہے ہیںلہٰذا امریکہ نے پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا۔عالمی عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی پرایران نے اپنے ملک پابندیوں سے پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلات جمع کیں اور امریکہ سے 130ارب ڈالر مانگنے کی تیار ی کر لی تھی۔کیاکہیں اچانک حملے کا ایک سبب تونہیں؟

جنرل اسمعٰیل قانی کی تربیت 

جنرل قاسم سلیمانی مرحوم جنگ عراق میں ہراول دستے میں شامل تھے ،انہیں 1998 میں اس فورس کا سربراہ بنایا گیا تھا ،وہ براہ راست سپریم کمانڈر کو جواب دہ تھے۔ماہرین کی نظروں میں جنرل قاسم سلیمانی ناگزیرتھے،ماہرین کہتے ہیں کہ ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ جنرل قاسم عراق اورلبنان کا دورہ کرتے رہتے تھے۔ ان کے ساتھ طویل عرصے تک بطور نائب فرائض سرانجام دینے والے جنرل اسمعٰیل قانی کو ان کا جانشین مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ قاسم سلیمانی کی آنکھ اور کان تھے، ان کو مکمل خفیہ معلومات مہیاکیا کرتے تھے۔سلیمانی مغربی سرحدوں کو دیکھ رہے تھے اوراسمعٰیل قانی کے پاس افغانستان کی سرحدتھی۔انہوں نے ایک مرتبہ کیا تھا کہ ’’ہم جنگ کے بیٹے ہیں ،جنگ میں ہی پرورش پائی اس کامقابلہ کیا،جنگ ہمارے خون میں رچی بسی ہے ۔ ان کی پہلی ذمہ داریوں میں امریکی حملے کا جواب دینا بھی شامل ہے۔

اسمعٰیل قانی 1.25لاکھ جوانوں پر مشتمل پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قدس فورس (بیت المقدس فورس بھی کہاجاتا ہے)کے نئے سربراہ ہیں۔یہی فورس ایران کی تمام تباہ کن میزائل سسٹم کی نگران ہے۔ خلیج فارس میں ا س کی ایک ذیلی فورس بھی ہے۔ عراق کے ساتھ 8سالہ جنگ میں لاکھوں افرد جاں بحق ہوئے تھے ،زندہ بچنے والوں میں جنرل اسمعٰیل بھی شامل تھے۔ انہوں نے 8 اگست 1957ء کو مشہد میں آنکھ کھولی،بچپن میں شہنشاہ ایران کے خلاف مہم میں شریک ہوئے ،شہنشاہ ایران کے خلاف مہم میں وہ بھی پیش پیش تھے۔وہ 1979میں گارڈ زمیں شامل ہوئے اور اب اہم عہدے پر فائز ہیں۔ 

ایران پرحملے کا ذمہ دار بھارت بھی ہے

بھارت ایک طرف تو دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہے اور دوسری طرف اندر ہی اندر سازشیں کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی ایران کے ساتھ بھی ہوا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ جنرل سلیمانی بھارت میں سفارت کارپر حملے میں ملوث تھے۔اس غلط ٹوئٹ کے پیچھے بھارت ہی تو ہے اسی لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران پر امریکی حملے کے پیچھے بھارتی سوچ بھی کارفرما ہے۔ بھارت نے امریکہ کو ایران کے بارے میں کچھ غلط معلومات مہیا کی تھیں جن کا ذکرامریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں میں بھی کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ میں لکھا تھاکہ ’’جنرل قاسم سلیمانی دہلی حملے میںملوث تھے‘‘ ۔یہ گمراہ کن معلومات انہیں بھارت سے ملی تھیںورنہ حقیقت یہ ہے کہ کسی ایرانی شخصیت کا بھارت میں ہونے والے بم دھماکے سے کوئی تعلق نہ تھا۔یہ حملہ 12فروری 2012ء کو دہلی ایک سفارت کار کے کے ساتھ ہوا تھا۔بھارت کی تفتیش کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار ایک دہشت گرد نے کار کے ساتھ دھماکہ خیز مواد چپکا دیا تھا۔ دھماکے سے سفارت کار کے بچوں کو لانے والی کار میں سوار ایک غیر ملکی ملازمہ معمولی زخمی ہوئی تھی۔حملے کے بعد بھارت نے الزام عائد کیا کہ اس کے پیچھے ایران ہے۔چنانچہ بھارتی حکومت نے 7مارچ کوایرانی خبررساں ایجنسی کے رپورٹر محمد احمد کاظمی کو حراست میںلے لیا۔اور بے بنیاد الزام دھر دیا کہ تین دوسرے ایرانیوں کے ساتھ مل کر اس نے دھماکہ کیاہے۔ تنخواہ کو انہوں نے دہشت گردی کے لئے بھیجی گئی رقم قرارد ے دیا، اور کہا کہ دھماکے کے لئے 26ہزار ڈالر بھیجے گئے تھے۔جولائی 2012ء میںٹائمز آف انڈیا نے لکھا کہ ’’دھماکہ پاسداران انقلاب نے کرایا ہے ،دہشت گرد کا تعلق ایران کے فوجی ادارے سے ہے‘‘۔ایرانی ذرائع نے اسی وقت تردید کی۔ بھارتی افسران ہر دھماکے کے بارے میں اسی قسم کی گمراہ کن تفتیش کرتے ہیں۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بھارتی حکومت کود رپیش مالی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،سرمائے کی کمی ہر منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔  

مزید پڑھیں

بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے کو دوران دو عالمی جنگوں نے یورپ کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔ 

مزید پڑھیں

بکنگھم پیلس میں ہونے والے ساس بہو کے جھگڑے دنیا بھر میں اخبارات کی زینت بنے ہوئے ہیں،برطانیہ کے شاہی محل میں رہنے والے دو شہزادوں پرنس ہیری اور پرنس ولیم کی بیویوں کی معمولی سی تلخی کا انجام شاہی خاندان میں اس انتشار کی صورت میں نکلے گا،یہ برطانیہ کے کسی ستارہ شناس کے بھی علم میں نہ تھا ،

مزید پڑھیں