☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خصوصی رپورٹ(سید عبداللہ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
مودی ہمارے گھر بیچے گا

مودی ہمارے گھر بیچے گا

تحریر : صہیب مرغوب

02-16-2020

 بھارتی حکومت کود رپیش مالی بحران روز بروز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے،سرمائے کی کمی ہر منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔

 

کمزور بجٹ پیش کرنے پر سابق وزیر اعظم کے بیٹے اور کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی بدنامی سے بچنے کے لئے تمام تر ذمہ داری وزیر خزانہ نرملا سدھا رامن (Nirmala Sitharaman) پر ڈال کر ان کی قربانی دے دیں۔ یوں وہ بجٹ کے بعد پیدا شدہ بحران سے بچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن نریندر مودی اور ان کے رفقائے کے مطابق نرملا سدھا رامن کے بے مثال بجٹ نے بھارت کی اگلی نسلوں کو بہتر اقتصادی ماحول مہیا کرنے کا انتظام کر دیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی اقتصادی بحران میں ہر بدلتے دن کے ساتھ شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے جسے روکنا مودی اور ان کے رفقائے کار کے بس کی بات نہیں۔ان کے پاس سرمائے کی کمی ہے ،ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، اس کی وجہ نریندر مودی کی وہ پالیسیاں ہیں جن کے باعث سرمایہ کار کسی پنچھی کی مانند اڑتے جا رہے ہیں۔ دہلی سے شمال تک اور شمال سے جنوب تک پورا بھارت جل رہا ہے۔ اندرونی حالات کے پیش نظر وہاں نئے منصوبوں کے لئے فنڈز میں کٹوتیاں اور تاخیر کا عمل جاری ہے۔ان مالی وسائل کی کمی کا حل بھارت نے خوب تلاش کیا ہے۔نرملا (واشنگ پوئوڈر نہیں) ہندوستان میں رہنے والے ان مسلمانوں کے محلات، باغات ، مکانات اور دوسری جاگیریں بیچ کر بجٹ کو خسارے کو پورا کریں گی جن کا کوئی نہ کوئی عزیز پاکستان آ چکا ہے، یا جس پر شک ہے کہ شائد وہ پاکستان آیا ہو۔ عام قوانین کے تحت ان جائیدادوں کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا بھارتی حکومت زمانہ جنگ کے ایمرجنسی قوانین کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کام کرے گی۔پاکستان آنے والے مہاجرین کی جائیدادیں بھی بیچ دی جائیں گی۔ 
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ چند برس پہلے ایک طرف توبھارتی حکومت مسلسل دبائو ڈال رہی تھی کہ پاکستان اسے ’’موسٹ فیور ڈنیشن‘‘ (MFN)کا درجہ عطا کرے۔بھارت عالمی فورموں پر بھی آواز بلند کر تا رہا ہے ، پسندیدہ ملک قرار نہ دینے پر ڈبلیوٹی او میں جانے کی دھمکیاں بھی ہندو ریڈیکل رہنمائوں کی زبانوں پر تھیں لیکن اسی دور میں نریندرمودی کے پیشرو پاکستانیوں کو اپنا دشمن قرار دینے میں لگے ہوئے تھے، جہاں ایک طرف پسندیدہ ملک قرار دینے کے لئے دبائو ڈالا جا رہا تھا وہیں دوسری طرف ہماری جائیدادوں پر قابض ہونے کے لئے اپنے قوانین میں ہمیں ’’دشمن‘‘ لکھا جا رہا تھا، ہم اور دنیا اس سے بے خبر تھی۔ اس ضمن میں قانون بھی بنا لیا گیا ہے ۔آنجہانی ارون جیٹلے ایسے کالے قوانین سازی میں ید طولہ رکھتے تھے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی کو فنڈز دلوانے کے لئے ’’الیکشن بانڈز ‘‘ان کے ہی ذہن کی اختراع تھے۔ان بانڈوں سے بھارتیہ جتناپارٹی کو 1450 کروڑ روپے مل گئے تھے ، ان کی ’’بانڈ ایجاد‘‘ کے تحت 99.9فیصد بانڈز ایک ایک کروڑ روپے کے تھے ، ان میں سے 97فیصد بھارتیہ جنتاپارٹی کو ملے ۔ایف اے ٹی ایف کی انکوائری کے لئے اس میں کافی مواد موجود ہے۔
بطور وزیر خزانہ ارون جیٹلے نے 20232مسلمانوں کی ملکیت میں996کمپنیوں اور 6.5076 کروڑحصص کا ’’سراغ‘‘ لگا لیا تھا۔فہرست میں شامل 588کمپنیاں اب بھی بزنس کر رہی ہیں۔ 139 لسٹڈ کمپنیاں ان کے علاوہ ہیں۔ بھارت نے ان جائیدادوں کو ’’دشمن کی جائیدادیں‘‘ (Enemy Properties) قرار دے کر ’’ایکٹ برائے فروخت دشمن کی جائیداد‘‘کے ایکٹ کے تحت بیچنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔یہ ایکٹ راجیہ سبھا نے سب سے پہلے1968میں منظور کیا تھا،دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے بھارتی حکومت نے قانون میں 1962،1965اور 1971ء کی جنگوں کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ اس قانون کا اطلاق صرف اور صرف ان علاقوں پر ہو گا جن پر دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت ) نے قبضہ کیا ہے۔لیکن ترامیم کے بعد اس کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے ۔ 2010 ء میں ایک خبر شائع ہوئی،متن تھا۔۔’’دشمنوں کی جائیدادوں کے ایکٹ میں ترمیم لانے کا فیصلہ‘‘ ۔ یونائیٹڈ پروگریس الائنس(UPA) کی حکومت کا پیش کردہ ترمیمی بل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے منظور کر لیا۔ترمیم کے بعد راجہ آف محمود فیملی کا ایک ایک انچ دوبارہ چھین لیا گیا۔ ترمیم کے بعد یہ شق بھی شامل کر دی گئی تھی کہ ’’دشمن کی جائیدادوں کے قانون کا اطلاق پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والوں کے وارثان پر بھی ہو گا۔وارثان خوا ہ بھارتی شہری ہی کیوں نہ ہوں انہیں یہ جائیداد نہیں دی جائے گی۔ ترمیم کے تحت بھارت میں موجود مسلمان خاندانوں کی پشتینی جائیدادیں بھی چھین لی گئی ہیں ۔ریڈیکل ، مودی نے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو املاک سے محروم کرنے کے لئے کیا خوب ترمیم کی۔۔۔’’دشمن کی املاک میں وہ جائیدادیں بھی شامل ہوں گی خواہ انہیں کوئی دوسرا ہی کیوں نہ دیکھ رہا ہو،خواہ اس کا وارث ہندوستان کا رہنے والا ہی کیوں نہ ہو، یااختیار کسی کے پاس بھی ہو ، حکومت اسے اپنے کنٹرول میں لے لے گی۔اس کا اطلاق کمپنیوں پر بھی ہو گا‘‘۔
راجوں ، نوابوں اورمختلف ریاستوں کے حکمرانوں بھی سڑکوں پر پھینکنے کی کوشش کی ہے، اسے آپ مالی این آر سی(NRC) بھی کہہ سکتے ہیں او رمالی سٹیزنز بل (CAB) کا نام بھی دیا جا سکتا ہے حالانکہ 1966میں ہونے والے معاہدہ تاشقند میں دونوں ممالک میں ایک دوسرے کی جائیدادوں کے تحفظ کی شق بھی شامل تھی ۔ معاہدہ تاشقند میں ان جائیدادوں کو ہتھیانے کی ممانعت کی گئی تھی، کہ وہ ایک دوسرے کی جائیدادوں پر ہاتھ صاف نہیں کریں گے، اس لئے دونوں ممالک میں متروکہ املاک بورڈ بنائے گئے تھے، ہندو اوقاف کی زمین اس ادارے کے ماتحت کر دی گئی، یہ جائیدادیں لیز پر تو دی جا سکتی ہیں لیکن بیچی نہیں جاسکتیں،لیکن بھارت اس کے برعکس کھیل کھیلتا رہا۔ اسی دور میں سابق بھارتی حکمران ان جائیدادوں پر قبضہ کرنے اور بیچنے سے متعلق قوانین سازی میں مصروف تھے جو کہ معاہدہ تاشقند کی بھی صریحاََخلاف ورزی ہے۔بھارت نے پاکستان کو دھوکے میں رکھاہواہے۔ یہ ہے سب سے بڑی جمہوریت ،جو پشتینی جائیدادوں کو ہتھیانے کے لئے ایمرجنسی قوانین کا سہارا لے رہی ہے۔قانون سازی کرتے وقت ریڈیکل ہندوئوں نے کان کو پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ان کی اس حرکت کے پیچھے خوفناک عزائم کو نہ سمجھ لے۔انڈیا میں مسلمانوں کی زیادہ تر جائیدادیں پشتینی ہیں ، شہریت چھینے بغیر ان پر قبضہ ناممکن ہے اسی لئے شہریت چھینے کاعمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔پرانے خاندانوں کو پشتینی جائیدادوں سے محروم کرنے کیلئے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کا چہرہ آپ نے دیکھ لیا ہے۔
 ریڈیکل حکومت کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی جائیدادیں بیچے بغیر حالیہ مالی بحران سے چھٹکارا ممکن نہیں۔اس کے پیش نظر بھارتی کابینہ نے مسلمانوں کی جائیدادیں بیچنے کا بڑا پلان 2018 میں بنایا تھا۔ لیکن تاریخ دینے کے باوجود نیلامی ملتوی کر دی گئی تھی۔اس کے بعد راجیہ سبھا سے ایک اور ترمیم منظور کرائی گئی ہے۔یہ تمام ترامیم بھارتی آئین کے آرٹیکل14کی کھلی خلاف ورزی ہے لیکن بھارتی آئین موم کی ناک ہے،اس کے زیر سایہ مارشل لاء سے بدتر قوانین بنائے جاتے رہے ہیں جنہیں عدالتی تحفظ بھی حاصل رہا ہے۔ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370کی تنسیخ کو بھی بھارتی سپریم کورٹ نے تحفظ دیا ۔
کسی بھی خاندان کے ایک شہری کے پاکستان آ جانے پر پورے خاندان کو اس کے حق سے محروم کرکے اور اسے ملک دشمن قرار نہیں دیا جا سکتا ۔کسی کو ملک دشمن کے شہری کا عزیز قرار دے کر 
پاکستانی جائیدادیں
اپنے ہی ملک کے شہری کی جائیدادوں کو ہڑپ کرنے کا یہ عمل ہر طرح سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ 
مودی حکومت نے ’’ڈیپارٹمنٹ آف انوسٹمنٹ اینڈ پبلک ایسٹس مینجمنٹ(DIPAM) ‘‘کو خصوصی اختیارات تفویض کر دیئے ہیں، اسے حکم دیا گیا ہے کہ پاکستان یا چین چلے جانے والے تمام مہاجرین کی جائیدادوں کا ریکارڈ جلد از جلد جمع کر کے انہیں بیچنے کا انتظام کیا جائے۔فہرست سازی کے وقت ان لوگوں کی بھی پرواہ نہ کی جائے جن کے خاندان کے سارے لوگ بھارت میں ہی موجود ہیں لیکن ان کے خاندان کا ایک بھی فرد قیام پاکستان کے بعد پاکستان منتقل ہو گیا ہو،ان کی جائیدادوں کی فہرست بھی بنا لی جاے ،کسی کو معاف نہ کیا جائے۔حکم کے مطابق بھارت ہندوئوں کا ہے وہاں ایک بھی ایسے شخص کو جائیداد نہیں دی جائے گی جس کا کوئی فردپاکستان آ گیا ہو۔
اگلے مرحلے میں ان تمام جائیدادوں کو بھی بیچ دیاجائے گا جنہیں ریڈیکل مودی انتظامیہ مختلف حیلوں بہانوں سے ضبط کر رہی ہے ، ان لوگوں میں شہریت سے محروم ہونے والوں کی جائیدادیں بھی شامل ہیں ۔ آسام میں19لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کی املاک سے محروم کیا گیا ہے،کم سے کم قیمت بھی لگائی گئی تو بھی نریندر مودی کی ریڈیکل انتظامیہ کو ہزاروں کروڑ روپے مل جائیں گے۔کیونکہ شہریت سے محرومی کے بعد ان سب کو انڈیا میں مکان یا دکان خریدنے یا بزنس کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔بھارتی حکومت ، شہریت بل کے مخالفین کو بھی غدار قرار دے کر ان کی املاک ، گھر، زرعی زمین یا دفتر بھی ضبط کررہی ہے ۔نئے قوانین کے تحت ان کی قیمت بھی لگائی جائے گی۔ جائیداد ضبط کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو بے گھر کر کے چند علاقوں میں محصور کر دیا جائے۔اس کے لئے حکومت کو کشمیر کی طرح کرفیو لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔مسلمان خود بخود چندعلاقوں میں مقید ہو جائیں گے۔
سب سے زیادہ املاک یعنی 4991اتر پردیش میں تھیں ،وزیر اعلیٰ اتر پر دیش کے سینے پر اسی لئے سانپ بھی لوٹ رہے ہیں کہ ان کی ریاست مسلمان اتنے امیر کیوں تھے۔وہ مودی کے سر چڑھے اور کٹڑہندو ہیں، جنہیں Saffron Radical بھی کہا جاتا ہے۔اتر پردیش کے بعد مسلمان مغربی بنگال میں 2735 جائیدادیں چھوڑکے آئے تھے ۔ بھارت کے مرکزی دارلحکومت دہلی میں بھی مہاجرین کی املاک کم نہ تھیں۔ان کی تعداد487بتائی جا رہی ہے۔رواں برس بھارت نے پاکستان ہجرت کرنے والے 9434 پاکستانیوں کی 2444 جائیدادیں بیچ کر بجٹ کاخسارہ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پچھلے برس حکومت نے مسلمانوں 80کروڑ روپے کی جائیدادیں بیچی تھیں ۔ حکومت کا دائو لگ جاتا تو 2020ء کے پہلے مہینے میں 2350 کروڑ بھارتی روپوں کی جائیدادیں بیچی جاتیں لیکن یہ ہدف پورا نہ ہو سکا۔رواں سال اپریل تک کم از کم 1874 ہزاربھارتی روپے کی جائیدادیں بیچنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارتی قانون میں چین کو بھی اپنا دشمن لکھا گیا ہے ۔اس نے چینیوں کو دشمن قرار دے کر ان کی 126املاک بیچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کی زیادہ تر (57) املاک میگھالیہ میں ہیں ۔ چینیوں نے آسام اور دیگر ریاستوں میں بھی املاک چھوڑی تھیں۔اس لئے یہ نہ کہاجائے کہ ہندوستان سے صرف لٹے پٹے لوگ آئے تھے، پاکستان آنے والے بہت سے افراد کھاتے پیتے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے ،پاکستان آنے والے مہاجرین میں شاہی خاندان کے افرادبھی شامل تھے اوررئیس بھی ۔ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کی جاگیروں میں سورج دیر تک چمکتا تھا ۔ہزاروں مہاجرین نے بھارت میں جائیدادیں چھوڑیں ،جن میں محل بھی شامل تھے اورقلعے باغات اور ہوٹل بھی۔زرعی زمین بھی شامل تھی او رعالی شان مکانات بھی ۔ ان جائیدادوں کی فروخت سے ریڈیکل ہندوئوں کی اپنی پیدا کردہ مالی مشکلات میں کچھ کمی آ گئی۔ پاکستانیوں کی جائیدادوں کی آمدنی ان کی معیشت کا پہیہ رواں کردے گی۔
اس سلسلے میں گزشتہ برس مارچ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے مسلمانوں کی جائیدادوں کو ’’Custodian of Enemy Property for India‘‘ کے تحت قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔اس ایکٹ کا بنیادی مقصد ان املاک کو ہتھیاناتھا جو جنگ کے نتیجے میں قبضے میں چلی گئی تھیں، مگرا ن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔
بھارتی ریڈیکلز ہمارے بھائیوں کی جائیدادوں پر قابض ہونے کے لئے عشروں سے کوشش کر رہے تھے ۔ان کا خواب ریڈیکل مودی انتظامیہ ( Safforn Radicals )نے پورا کر دیا ہے ۔ جن خاندانوں کی جائیدادیں بیچی جا رہی ہیں ان میں شہنشاہ شاہ جہاں کی اہلیہ،حضرت قائد اعظمؒ، راجہ آف محمود آباد، نواب آف بھوپال ، پٹوڈی خاندان کی دادی ،پروفیسر مرغوب صدیقی(31جائیدادیں) ، نوابزادہ شیر علی خان اور صاحبزادہ یعقوب علی بھی شامل ہیں۔ نواب پٹودی خاندان سے تعلق رکھنے والے دونوں رہنما پاکستان میں وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ نوابزادہ شیر علی خان ایوب خان دور میں وزیر اطلاعات اور یعقوب علی خان خارجہ سمیت کئی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ممبئی میں ایک مہنگی ترین عمارت کی مالکہ حمیدہ کشوری تھیں، شیخ اللہ دتہ کشوری کی بیوہ ۔
راجہ آف محمود آباد کی جاگیریں بھی برائے فروخت ہیں ۔ اودھ پورکابڑا حصہ مسلمانوں کی ملکیت میں تھا ،سب سے بڑی جاگیر راجہ آف محمود آباد ،راجہ محمد امیر محمد خان کی تھی۔ان کے محل ،ہوٹل اور باغات وغیرہ اتر پردیش سے اتر کھنڈ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ لکھنئو،سیتا پور اور نینی تال کی خوبصورت ترین عمارات راجہ فیملی ہی ملکیت ہیں۔مشہور زمانہ بٹلر پلیس،محمود آباد مینشن،لکھنئو میں لوری بلڈنگ (Lawrie Building) اور حضرت گنج میں ایک محل شامل بھی ہے۔ان کی قیمتی کمرشل اراضی 2لاکھ مربع میٹر پر محیط ہے ۔ یہ جائیدادیں1677میں راجہ محمود خان نے بنائی تھیں۔ 
مسلمان نواب آ ف بھوپال کا کیا کچھ بکنے والا ہے؟
حامد اللہ خان بھوپال کے آخری نواب تھے۔عابدہ سلطان اور ساجدہ سلطان ان کی دو بیٹیاں تھیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد نرینہ کی نعمت سے محروم رکھاتھا۔نوابوں کی روایات کے مطابق تمام جائیداد سب سے بڑی اولاد کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اسی قانون کے تحت یہ جائیدادیں بھی عابدہ سلطانہ کو مل گئیں۔1961میں عابدہ سلطانہ نے پاکستانی شہریت حاصل کر لی اور یہیں کی ہو رہیں۔ساجدہ سلطان بھارت میں ہی رہ گئیں۔انہوں نے جائیداد کو ترجیح دی لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ بھارت کی ریڈیکل حکومت بھی جائیداد کو ہی ترجیح دے گی۔ان کے قیمتی ہوٹلز،کمرشل جائیدادیں اور رہائش گاہیں بھی دشمن کی جائیدا دکے ایکٹ کے تحت ریڈیکل قیادت کے کنٹرول میں ہیں۔ ساجدہ سلطان اداکار سیف علی خان کی دادی ہیں۔
جناح ؒپیلس بھی برائے فروخت ہے
 ممبئی کے مرکزی حصے مالابار ہلز پر واقع ممبئی میں جناح پیلس کی اپنی ہی شان ہے۔محمد علی جناحؒ جب برطانیہ سے ہندوستان پہنچے تو انہیں وہاں ایک مستقل گھر کی ضرورت تھی۔ خوش گوارآب و ہوا اور اور صاف ستھرے ماحول میں یہ محل نما بنگلہ ان کے اعلیٰ تعمیراتی اور رہائشی ذوق کا عکاس ہے۔جنوبی ممبئی میں مالابار ہلز میں2بھائو صاحب(Bhausaheb Hirey Marg) پر واقع جناح ہائو س یہاں کا خوبصورت مگر مہنگا مقام ہے ۔انہوں نے 2.5 ایکڑ(10ہزار مربع میٹر ) پر محیط اس محل نما بنگلے کی تعمیر کا کام کسی ہندو کے سپرد کرنے کی بجائے انگریز ماہر تعمیر کی خدمات حاصل کیں۔کلاڈ بٹلے Claude Batley) کا شمار عالمی شہرت یافتہ ترین ماہرین میں ہوتا تھا۔ حضرت قائد اعظمؒ کے مزاج کے مطابق وہی بنگلہ بنا سکتے تھے۔یورپی انداز تعمیر سموئے ہوئے اس بنگلے کی ٹائلز اور لکڑی اٹلی سے منگوائی گئی ہیں۔ خالص اخروٹ کے درخت کی خوشبو دار لکڑی۔ سنگ ساز بھی اٹلی سے ہی آئے تھے۔ہندو سنگساز ان کے میعار پر پورے نہ اترے۔محمد علی جناح پوری دل جمعی سے دوران تعمیر بنگلے کی ایک ایک اینٹ کا معائنہ کرتے رہے۔ 1936میں اس کی تعمیر پر 2لاکھ بھارتی روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی تھی۔لوگ بتاتے تھے کہ بانی پاکستان کو اس بنگلے سے پیار تھا ،لگائو تھا، ایک ایک اینٹ ان کے سامنے ہی تو لگی تھی، ان کے ہاتھوں سے گزر کر۔اسی لئے قیام پاکستان کے بعد حضرت قائد اعظم نے سابق بھارتی وزیر اعظم نہرو سے خود بنگلے کاتحفظ کرنے کی اپیل کی تھی ۔
ہندوئوں نے یہ جھوٹی خبر بھی اڑائی تھی کہ حضرت قائد اعظمؒ نے یہ بنگلہ دالمیا کو 20لاکھ روپے میں بیچ دیا تھا،لیکن ا س کی تردید دالمیا نے بھی کی اور حضرت قائد اعظمؒ کی بیٹی دینا واڈیا نے بھی اسے ’’بدترین افواہ ‘‘ قرار دیا تھا ۔
 یہ بنگلہ اہم تاریخی واقعات کا گواہ ہے ،تحریک پاکستان کا عینی شاہد بھی ہے۔حضرت قائد اعظم ؒنے گاندھی کے ساتھ1944کے تاریخی مذاکرات اسی بنگلے میں کئے تھے،جہاں آپؒ نے ہندو رہنما گاندھی پر واضح کر دیا تھا کہ مسلمان پاکستان سے کم کسی سمجھوتے پر راضی نہیں ہوں گے۔آزادی سے ایک برس قبل 15اگست 1946کو قائد اعظمؒ اور نہرو میں مذاکرات بھی اسی بنگلے میں ہوئے تھے جس کے بعد ہی ہندوئوں نے اسے ہتھیانے کا فیصلہ کیا تھا۔حضرت قائد اعظم اس محل میں لگ بھگ 19سال رہے، پاکستان بننے کے بعد 1947سے انہوں نے مستقل رہائش اختیار کر لی، پھر ممبئی پلیس کبھی نہیں گئے۔بھارتی حکومت کی اس پر گہری نظر ہے، کئی بار اسے ہتھیانے کی کوشش کر چکی ہے ، ہندوئوں کے سینے پر سانپ اس لئے لوٹ رہے ہیں کہ مہاراشڑا میں ریڈیکل جماعت شیو سینا کے وزیر اعلیٰ اودھے ٹھاکرے کی رہائش گاہ بھی اس کے برابر میں واقع ہے۔وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان بنانے والے کا گھر وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قرب میں واقع ہو۔حکومت پاکستان نے کئی مرتبہ یہ ہائوس اپنے قونصل خانے کے لئے بھی مانگا، ریڈیکل بھارتی حکومت کی جانب سے ہر بار انکار ہی ملا۔حضرت قائد اعظم کا ایک گھر دہلی میں بھی تھا۔اعلیٰ ذوق کا عکاس یہ بنگلہ ارونگ زیب روڈ پر واقع ہے۔ اورنگ زیب روڈ اب آپ کو یہاں نہیں ملے گی۔ ریڈیکل ہندو حکومت نے سڑک کا نام بدل کر کلام روڈ رکھ دیا ہے۔یہ عمارت ہالینڈ کو دے دی گئی جہاں قونصل خانہ قائم ہے۔ 
حضرت قائد اعظم کی بیٹی دینا واڈیا نے ایک ہندوستانی سے ہی شادی کی تھی، لیکن ہندوریڈیکلز نے قائد اعظمؒ  کی جائیداد بھی دشمن کی جائیدا دکے ایکٹ کے تحت چھین لی ۔ اس وقت یہ بھی برائے فروخت ہے۔ 
انہیں معلوم تھا کہ حکومت اس پر قبضہ کر لے گی اسی لئے انہوں نے بنگلہ کسی یورپی کو دینے کی درخواست کی ۔کہا جاتا ہے کہ نہرو نے اس وقت بنگلے کے لئے 3ہزار بھارتی روپے کے عوض معاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بانی پاکستان کے انتقال کے بعد یہ ممکن نہ ہو سکا۔نہرو نے بانی پاکستان کی جائیدا دکو دشمن کی جائیداد قرار دینے سے گریز کیا۔
 آپ نے پوری زندگی پروقارانداز میں گزاری تھی اور نہرو میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اتنے انسان دوست کو بھارت دشمن قرار دے سکے۔ یہ بنگلہ ابتدامیں ہندوئوں کے تسلط سے بچا رہا بلکہ 1955 میں انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں جائیداد پاکستان کو واپس کرنے کی بھی منظوری دے دی تھی۔اس بارے میں نہرو کی مختصر مگر جامع تقریر کابینہ کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔لیکن کابینہ میں اکثریت اس رائے کے خلاف تھی، بنہرو نے بھی معاملے کا فیصلہ خود کرنے کی بجائے حالات پر چھوڑ دیا تھا۔بعد ازاں انڈین ہائی کمیشن اور وزیر خارجہ نے بھی 1956میں یہ بنگلہ پاکستان کو دینے کی تجویز دی۔چنانچہ 1948میں بھارتی حکومت نے یہ بنگلہ برٹش ہائی کمیشن کو دے دیا ،ڈپٹی ہائی کمشنر اسی بنگلے میں1948سے 1983تک مقیم رہے۔پہلی منزل پر چند ایک عملے کے ارکان کو الاٹ کی گئی تھی۔1983سے 2003تک یہ بنگلہ خالی رہا۔جب اس کا ایک حصہ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کو دے دیا گیا۔ مارچ2005میں پاکستان کے خلاف دن رات بولنے والے بھارتی سٹیٹ منسٹربرائے خارجہ نے اسے بھی اپنا دفتر بنا لیا۔ 1979سے پاکستان بھارت سے بار بار کہہ رہاہے کہ یا تو یہ بنگلہ پاکستان کے حوالے کر دیا جائے تاکہ ہم یہاں قونصل خانہ بنا سکیں ،پاکستان نے لیز ادا کرنے کی بھی پیش کش کی۔1980میں سابق وزیر خارجہ نرسہمارائو پاکستان کی تجویز سے متفق ہونے کے باوجود اپنے فیصلے پرعمل درآمد نہ کرا سکے۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے اٹل بہاری واجپائی کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔انہیں یہاں پاکستان کا قونصل خانہ بنانے کی تجویز منظور کرنے کو کہا تھا۔جون 2004میں مذاکرات کافی آگے تک چلے گئے تھے،دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ میں بھی مذاکرات کے رائونڈ منعقد ہوئے تھے،لیکن یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔مئی 2005میں ممبئی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو کئی عمارات دکھائی گئیں لیکن ریڈیکل ہندو افسر نے یہ بنگلہ دکھانے سے ہی گریز کیا۔
 مسلمانوں کی جائیدادوں کی مالیت اور تفصیل
اتر پردیش میں 4991 جائیدادیں۔مالیت82441کروڑ روپے 
آندھرا پردیش میں 159 جائیدادیں ۔مالیت 11641 کروڑ روپے 
مدھیہ پردیش میں88جائیدادیں۔ مالیت1797کروڑ روپے
تامل ناڈو میں34جائیدادیں۔ مالیت1774کروڑ روپے
کیرالہ میں60جائیدادیں۔مالیت 1375کروڑ روپے
ارونچل پردیش میں 928 کروڑ روپے کی جائیدادیں،
مغربی بنگال میں 2735جائیدادیں۔مالیت878کروڑ روپے
گجرات میں146جائیدادیں۔مالیت 845کروڑ روپے
دہلی میں 487جائیدادیں۔مالیت817کروڑ روپے
دیگر ریاستوں اور ٹیریٹریز میں 487جائیدادیں1724کروڑ روپے میں بیچی جائیں گی ۔ آسام میں6،تلنگانہ میں، 158، چھتیس گڑھ میں78،گوا میں263 ،راجھستان میں22،کرناٹک میں 20، اتر کھنڈ میں 50، ہریانہ میں9،مہاراشڑا میں 48، دیوو (Diu) میں4،انڈامان (Andaman) میں 1 اوربہار 79 میں جائیدادیں واقع ہیں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بھارت میں نریندر مودی نے صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر پورا ملک لاک ڈائون کر دیا ہے۔ ملک گیر کرفیو کے بعد سے دوسری ریاستوں میں کام کرنے والے کئی درجن لاکھ افراد کئی سو کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہو گے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 مودی ہندو ازم کی لہر لے کر اٹھے اب انتہا پسند ی ان کا سرمایہ ہے۔روزگار نہ ملنے سے ہندوئوں نوجوانوں کی بڑی تعداد ریڈیکل ہو چکی ہے۔یہی بے روز گار ہندو The Rashtriya Swayamsevak Sangh(آر ایس ایس )کا سرمایہ ہیں۔  

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء سے عالمی منڈیوں میں ہو کا عالم ہے۔ چین کی ’’ووہان منڈی‘‘ میں کبھی تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی اب کئی ہفتوں سے یہ ویران پڑی ہے۔ چینی صدر ژی ژن پنگ نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کورونا وائرس سے گھبرانے کی بجائے صنعتوں اور زرعی شعبے میں دوبارہ متحرک ہو جائیں۔    

مزید پڑھیں