☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) دنیا اسپیشل(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(طاہر محمود) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) عالمی امور(محمد ندیم بھٹی) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(محمدریحان ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
ہمارے ہمسائے میں کوروناوائرس کی دستک

ہمارے ہمسائے میں کوروناوائرس کی دستک

تحریر : ڈاکٹر فراز

03-01-2020

کورونا وائرس 29ممالک اور خطوں سے ہوتا ہوا ہمارے ہمسائے افغانستان اور ایران میں بھی پہنچ گیا ہے۔ مین لینڈ چائنا سے باہر کم از کم 1000کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ مین لینڈ چائنامیں اس پر قابو پالیا گیاہے وہاں نئے کیسز کی تعداد ایک ہزار سے گر کر 500کے قریب رہ گئی ہے۔ دوسرے ممالک میں انتظامات نہ ہونے کے باعث چین سے باہر زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے ۔
 

 

21فروری کو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد 74 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 2121 تھی۔ 24فروری کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس 79140 کیسز سامنے آئے جن میں سے 23094صحت یاب ہو کر گھر چلے گئے جبکہ 2468اپنے اہل خانہ کو دوبارہ نہ مل سکے ان میں ووہان وائرس کی نشاندہی کرنے والا پہلا چینی ڈاکٹر بھی شامل ہے ۔چینی رپورٹ کے مطابق کم و بیش300 ڈاکٹر کورونا وائرس کا نشانہ بنے لیکن ہمت نہیں ہاری دوسروں کو بھی صحت یاب کیا اور خود بھی وائرس سے لڑ رہے ہیں ۔مرنے والوں میں 5ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ ایک تہائی تعد ادخود بخود صحت مند ہو گئی۔ ان اعداد و شمار کی عالمی ادارہ صحت نے بھی تصدیق کی ہے۔علاوہ ازیں مریضوں کی بڑی تعداد سے دنیاواقف نہیں ہے ،یہ بیمار انسانوں کے ذریعے کئی ممالک میں درآمد ہوا ہے لیکن اب تک سراغ نہیں لگایا جا سکا۔چین کے صدر ژی ژن پنگ نے کورونا وائرس کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پراطمینان کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ وائرس انتہائی پیچیدہ ہے روک تھام کیلئے مزید اقدامات کرنا ہونگے انہوں نے صنعتی نظام کو بحال کرنے اور کاروبار زندگی معمول پر لانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کاشتکاروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق گھبرانے کی ضرورت نہیں ،ہمیں خود کو ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کر لینا چاہیے ، گھبرانے سے معاملہ خراب ہو سکتا ہے۔ہیجان خیزی بھی مرض میں پھلایائو اور مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے ۔عالمی ادرہ صحت نے تسلی دلائی ہے کہ ایک ملک میں کورونا وائرس کی دوا بنا لی گئی ہے ، دواکا نام منظر عام پر آتے ہی اس کی پیداورار میں کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ ہم دوا کا نام درج کرنے سے گریزاں ہیں ، ہمارے سٹاکسٹ کے پاس اگر یہ دوا موجود ہے تو کہیں وہ ذخیرہ نہ کرلیں۔دوا کی تیاری کی خوشخبری نے چین نے بھی سنائی ہے ۔روسی خبر رساں ادارے’’ تاس ‘‘نے بھی چین میں وائرس کی دواکی کی تیاری کی تصدیق کر دی ہے۔
کوروناوائرس کے حملے!:۔اٹلی کے شمالی شہر میں 50ہزار افراد کو لاک کر دیا گیا ہے ، ڈاکٹروں کے مطابق اٹلی کے 90 فیصد کیسز’’ لون بارڈے‘‘ نامی قصبے تک محدود ہیں۔مجموعی طور پر اٹلی محفوظ ہے۔ تمام علاقوں میں احتیاطی وارننگ جاری کرتے ہوئے تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں بند کر دی گئیں ہیں ۔جنوبی کوریا کے صدر مون جائے ان نے بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے تمام اداروں کو ریڈ الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ چھ سے زائد اموات کے بعد مریضوں کی تعداد 700سے زائد ہوگئی ہے ۔ جاپان میں 838مریضوں میں سے چار ، جنوبی کوریا میں 763مریضوں میں سے سات ، اٹلی میں 152مریضوں میں سے دو ، ہانگ کانگ میں 74مریضوں میں سے دو افراد نہ بچایا جاسکا۔میکائو میں دس ، کینیڈا اور برطانیہ میں 9 ، بھارت میں تین، اسپین اور روس میں دو،دو اور افغانستان میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔ افغان سرحد پر ہمارے پشتون بھائیوں کو بھی احتیاطی تدابیراختیار کرنا چاہیں۔ تھائی لینڈ میں 35، امریکہ میں 35اور سنگاپور میں 89مریضوں کو بچا لیا گیا۔ آسٹریلیا میں 23، ملائشیا میں دو ، جرمنی اور ویت نام میں 16سولہ مریض سامنے آ چکے ہیں ۔یہ سب کے سب صحت مندی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ فرانس میں 12میں سے ایک ، تائیوان میں 28میں سے ایک اور فلپائن میں 3میں سے ایک مریض کو بچانے میں ناکامی کا سامنا ہوا۔ یعنی فلپائن میں شرح اموات 33فیصد رہی ۔شرح اموات کے حوالے سے ایران ، فرانس اور فلپائن کی صورت حال خراب ہے ۔ ایران میں 24فروری تک 43میں سے 8افراد جا ں بحق ہوئے ۔ایران میں25فروری تک 61میں سے 12مریض جاں بحق ہوئے۔ وہاں شرح اموات 20فیصد کے قریب ہے ۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹوں کو نظر انداز کر دیا جائے تب بھی ایران میں شرح اموات چین اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ،یہ ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، اسی لیے بلوچستان حکومت نے بارڈر سیل کرتے ہوئے میڈیکل ٹیمیں اور ضروری سازو سامان بھجوا دیا ہے ۔
چین کی تحقیقاتی رپورٹ:۔چین نے تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے، عنوان ہے ۔The epledemiological Characteristics of an Outbreak of 2019 Noval Coronavirus Diseases (COVID-19) China 2020
چینی حکام لکھتے ہیں۔۔’’ چینی صوبہ ہبئی کی منڈی ووہان میں پھیلنے والا وائرس جلد ہی ملک بھر میں پھیل گیا، 11فروری تک سامنے آنے والے کیسز کا عمیق جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی گئی ہے جس میں چار بنیادی نکات کا خیال رکھا گیا ہے۔
1 ۔۔وائرس کے مریضوں کے جسم میں ہونے والی تبدیلیاں ۔
2۔۔وائرس کا شکار ہونے والوں میں عمر اور مرد و عورت کا تناسب ۔
3۔۔مختلف عمروں میں اموات کا جائزہ۔
 4 ۔۔چین کے وائرس زدہ علاقوں میں موسمیاتی صورت حال ۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصل تعداد جتنی بتائی جا رہی ہے اتنی نہیں ہے۔بہت سے مریضوں میں اس وائرس کی سرے سے تصدیق ہی نہیں ہو سکی لیکن ان میں سے بھی کچھ کو شامل کر لیا گیا ہے۔ 72314 مریضوں میں سے 44672(61.8فیصد )مریضوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ،جبکہ 16186(22.4فیصد) مریضوں کو مشکوک قرار دیا گیا۔یعنی وثوق سے نہیں کہاجا سکتا کہ انہیں کورونا وائرس ہی ہوا تھا یا کسی اور مرض میں مبتلا ہوئے تھے ۔ زیادہ تر مریض کی عمریں 30تا 79برس تھیں، ان کی تعداد 86.6فیصد تھیں ۔74.7فیصد مریض صوبہ ہبئی کے رہنے والے تھے ۔ کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 1023تھی ،یہ تناسب 2.3فیصد بنتا ہے ۔باقی ماندہ اموات کی کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوئی ۔ وائرس کے خلاف جنگ میں 1716ہیلتھ ورکرز بھی بیمار ہوئے جن میں سے پانچ صحت یاب نہ ہو سکے ،ہیلتھ ورکرز میں بیماری کے مقابلے میں اموات کا تناسب .3فیصد تھا ۔11فروری تک یہ وائرس تمام 31صوبوں کی 1386کائونٹیز میں پھیل چکا تھا، 23جنوری کے بعد مرض کی شدت میں کمی آئی ۔ 11فروری تک اس کا پھیلائو انتہائی کم ہو گیا۔31دسمبر کو ووہان میونسپل ہیلتھ کمیشن نے ریڈ الرٹ جاری کیا،بعدازاں چینی ماہرین ووہان پہنچ گئے، ووہان منڈی کو جراثیم کش ادویات چھڑکنے کے بعد یکم جنوری کوبند کر دیا گیا۔
چین کے اقدامات جو ہم بھی اپنا سکتے ہیں:۔20جنوری کو چین نے نیشنل انفیکشس ڈزیز لاء کے علاوہ دیگر قوانین میں تبدیلی کر دی۔ 23جنوری سے لوگوں کی نقل و حمل کو محدود ترین کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ ان سب کا مقصد محفوظ علاقوں کو محفوظ رکھنا تھا۔ ووہان کے رہائشی اور وہاں متواتر چکر لگانے والوں کا بغور جائزہ لیا گیا اور ان کی نقل و حمل کو مکمل طور پر روک دیا گیا، ووہاں میں رہنے یا کام کرنے والوں کے ملاقاتیوں کو بھی علاج کی مکمل سہولت مہیا کی گئی۔ ہر شخص کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیا گیا۔
علاج پر کتنے اخراجات ہوئے؟:۔چین میں کئی سو ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔امریکہ میں 35کیسز سامنے آنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈھائی ارب ڈالرمانگ لیے ہیں ۔یہ ہمارے پورے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے بھی زیادہ ہیں۔ ہمارے ہاں صحت کا بجٹ زیادہ تر تنخواہوں پر خرچ ہو رہا ہے ،طبی تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے ،ایک کٹ پاکستانی روپوں میں 3لاکھ روپے میں مل سکتی ہے لیکن ہمارے کچھ افسران اس طبی کٹ کی خریداری پر 3 لاکھ روپے سے زیادہ بھی خرچ کر سکتے ہیں ،کوئی پابندی تو ہے نہیں ۔محدود بجٹ کے باعث سرحدوں کو سیل کرکے وائرس کو سرحد پار روکنا ہی ہماری پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ 
کس عمر میں زیادہ احتیاط کرنا چاہیے ؟:۔رپورٹ سے پتہ چلا کہ 44672تصدیق شدہ مریضوں میں سے 416مریضوں کی عمریں نو سال سے کم تھی۔ 10 تا 19 برس کے مریضوں کی تعداد 549، 20 تا29 برس کے مریضوں کی تعداد 3619، 30 تا 39 برس کے مریضوں کی تعداد7600، 40 تا 49 برس کے مریضوں کی تعداد 8571، 50 تا59 برس کے مریضوں کی تعداد 10008، 60 تا69برس کے مریضوں کی تعداد 8583،70 تا 79 برس کے مریضوں کی تعداد 3918اور80 برس سے زائد کی تعداد 1408تھی ان میں سب سے زیادہ اموات 80برس سے زائد عمر کے افراد میں ہوئیں البتہ 29سال تک کی عمر تک شرح اموات کا تناسب .1 فیصد سے .7فیصد تک رہا ۔ 9سال تک کے سبھی بچے محفوظ رہے ۔ہلاک شدگان میں 22981مرد اور 2169خواتین شامل ہیں۔
 مریضوں میں پائی جانے والی علامتیں :۔ابتدائی طور پر انفلوینزا ، ایوان انفلوینزا ، ایڈینو وائرس ، سارس، کورونا وائرس اور مڈل ایسٹ کورونا وائرس کا شبہ ہوا۔ ماہرین نے نئے وائرس کو ان سے سب مختلف پایا۔ یہ ماضی میں پھیلنے والے دونوں کورونا وائرس سے کافی مختلف ہے لیکن ان تینوں میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے ،اس کی شدت سارس اور مرز سے کافی کم ہے لیکن یہ بہت تیزی سے پھیلنے کے باعث زیادہ خطرناک ہے ۔7جنوری کو مریضوں میں خاص قسم کی پیتھوجن پروٹین پائی گئی۔مریضوں میں تین طرح کی علامتوں کا پتہ چلا ۔ ہلکی ، شدید اور سنگین ۔ ہلکی علامتوں میں نمونیا کی کوئی شکل موجود نہ تھی جبکہ شدید کیسوں میں سانس کی فریکوئنسی کچھ کم ہوئی اور فی منٹ تیس پائی گئی جبکہ مریضوں نے سانس رکنے کی بھی شکایت کی ، خون میں آکسیجن کی سپلائی میں رکاوٹ کی شکایت 93فیصد مریضوں نے کی ،50فیصد سے زیادہ مریضوں نے پھیپھڑوں میں سوزش کی بھی شکایت کی۔ یہ شکایت چوبیس سے اڑتایس گھنٹوں میں پیدا ہوئی ۔ سنگین صورتحال میں ان کیسوں کو شامل کیا گیا ہے جن کی فوری طور پر سانس بند ہو گئی۔ ایک یا ایک سے زائد اعضاء نے کام بند کر دیا ۔ انہوں نے (Septic Shock)کی شکایت کی۔ ان کی کثریت کو طبی سہولتیں مہیا نہ کی جا سکیں۔ جن کیسوں کو کنفرم کیسوں میں شامل کیا گیا ان میں وہ مریض شامل ہیں جن کے ٹیسٹوں میں نوول کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور ان میں Nucleic Acidٹیسٹ کے رزلٹ مثبت آئے ۔انہوں نے گلے میں سوزش کی شکایت کی تھی جبکہ کچھ ایسے مریض بھی تھے جن میں Nucleic Acidکے ٹیسٹ تو مثبت تھے لیکن ان میں کورونا وائرس کی 19علامتوں میں سے کوئی ایک علامت بھی نہیں پائی گئی جیسا کہ بخاریا خشک کھانسی ۔
وائرس کیسے حملہ کرتا ہے؟:۔چین کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جانوروں پر وائرس کے حملے کو اچھی طرح سٹڈی کیا گیا ہے،چینیوں نے کہا ہے کہ اس قسم کاوائرس جانوروں کے جسم میں داخل ہونے کے بعد کئی طرح سے حملہ کرتا ہے، وائرس کی کوشش ہوتی ہے کہ سانس کے راستے پھیپھڑوں اور اس کے ارد گرد کے حصوں میں براجمان ہو کر جسم کو آکسیجن کی فراہمی کو روک دے۔ انسان سانس لیتا رہتا ہے لیکن آکسیجن خون میں شامل نہیں ہوتی ۔وائرس آکسیجن کی فراہمی کا راستہ روک دیتا ہے۔ اس عمل سے مریض کی موت واقع ہونے میں دیر نہیں لگتی ۔ چونکہ وائرس کا حملہ کرتے وقت طاقت ور نہیں ہوتا ،اس لئے جڑ پکڑنے میں14دن تک لے سکتا ہے ۔
وائرس سے جسم میں ہونے تبدیلیاں :۔چین نے حالیہ تحقیق میں بتایا ہے کہ وائرس جانوروں کے جسم میں داخل ہونے کے فوراََ بعددوسرے وبائی امراض کی طرح مدافعتی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے،مدافعتی نظام خو د کوبچانے کے لئے کئی طرح کی تبدیلیاں لانے کی کوشش کرتا ہے ۔مدافعتی نظام کےT سیلزوائرس زدہ خلیے پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن ان خلیوں میں ہونے والی کچھ تبدیلیاں نقصان دہ بھی ہوسکتی ہیں ،بعض صورتوں میں مدافعتی نظام کے خلیے ہی جسم کو نقصان پہنچانے والے کام شروع کر دیتے ہیں۔ہیپاٹائٹس بی اور سی ، خسرہ اور سانس کی دوسری بیماریوں کے وائرس حملے کی صورت میں بھی ایسا ہی ہوسکتا ہے۔دیگر بیماریوں میں کورونا اور سارس بھی شامل ہیں۔یوں مدافعتی نظام بیماری سے لڑنے کی کوشش میں اپنے ہی جسم کے لئے خطرہ بننے لگتا ہے۔آسان لفظوں میں یہ جاندار اور صحت مند ٹشوئوں کو بھی ہلاک کر دیتا ہے۔جس سے بیماری قابو سے باہر نکلنے لگتی ہے۔اس عمل کو(Immunopathological)کہا جاتا ہے۔ اس کی تین میں سے کوئی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے ۔اول، وائرل انفیکشن صحت مند ٹشوئوں کو بہت بڑی مقدار میں تباہ کر دے،دوم، یہ جسم کو صحت مند رکھنے کے ذمہ دار اس نظام پر حملہ کر دے ،اس میں خرابی پیدا کر دے ،اورلمبی مدت تک یا بہت زیادہ مقدار میں سوزش زدہChemokinesیا دوسرے Cytokines پیدا کر کے جسم کے مدافعتی نظام کو بے بس کر دے۔سارس کی صورت میں یہی ہوا تھا۔کورونا وائرس نے p3MAPK نامی پروٹین پیدا کر کے ہزاروں انسانوں کو بیمار کر دیا یاموت کے منہ میں دھکیل دیا ۔ یاد رکھیے،مدافعتی نظام میں گڑبڑ ہونے سے بھی اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ 
کیا وائرس چین کی پیداوار ہے؟ :۔ ’’سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ ‘‘ کے مطابق بالکل نہیں۔جریدے نے ’’چینی اکیڈیمی آف سائنسز اور چائنیز انسٹیٹیوٹ آف برین ریسرچ ‘‘کی نگرانی میں ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے لکھا ہے کہ وائرس کسی اور ملک سے چین میں درآمد ہوا ہے۔ مذکورہ ٹیم کی قیادت ڈاکٹر یو وین بن کر رہے ہیں۔12 ممالک کا ڈیٹا پرکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ووہان میں سمندری حیات کی منڈی میں پھیلنے والے وائرس سے پہلے بھی یہ مرض سامنے آیا ہے۔ 8دسمبر 2019اور 6جنوری 2020کو پھیلنے والے وائرس کا ووہان منڈی سے شائد تعلق نہیں تھا۔بعد ازاں یہ منڈی یکم جنوری کو بند کر دی گئی تھی۔ چینی ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ وائرس دسمبر میں نہیں بلکہ نومبر میں پھیلنا شروع ہوا لیکن چین نے اسے ووہان میں کنٹرول کرلیا تھا،جہاں اس کی شدت زیادہ تھی۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

 بھارت میں نریندر مودی نے صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر پورا ملک لاک ڈائون کر دیا ہے۔ ملک گیر کرفیو کے بعد سے دوسری ریاستوں میں کام کرنے والے کئی درجن لاکھ افراد کئی سو کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور ہو گے ہیں ۔    

مزید پڑھیں

 مودی ہندو ازم کی لہر لے کر اٹھے اب انتہا پسند ی ان کا سرمایہ ہے۔روزگار نہ ملنے سے ہندوئوں نوجوانوں کی بڑی تعداد ریڈیکل ہو چکی ہے۔یہی بے روز گار ہندو The Rashtriya Swayamsevak Sangh(آر ایس ایس )کا سرمایہ ہیں۔  

مزید پڑھیں

کورونا وائرس کی وباء سے عالمی منڈیوں میں ہو کا عالم ہے۔ چین کی ’’ووہان منڈی‘‘ میں کبھی تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی اب کئی ہفتوں سے یہ ویران پڑی ہے۔ چینی صدر ژی ژن پنگ نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کورونا وائرس سے گھبرانے کی بجائے صنعتوں اور زرعی شعبے میں دوبارہ متحرک ہو جائیں۔    

مزید پڑھیں