☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)
تیل کی ایک اور جنگ چھڑ گئی!

تیل کی ایک اور جنگ چھڑ گئی!

تحریر : صہیب مرغوب

03-15-2020

کورونا وائرس کی وباء سے عالمی منڈیوں میں ہو کا عالم ہے۔ چین کی ’’ووہان منڈی‘‘ میں کبھی تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی تھی اب کئی ہفتوں سے یہ ویران پڑی ہے۔ چینی صدر ژی ژن پنگ نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کورونا وائرس سے گھبرانے کی بجائے صنعتوں اور زرعی شعبے میں دوبارہ متحرک ہو جائیں۔
 

 

انہوں نے چند احتیاطیں تدابیر اختیار کرنے کے بعد پہلے جیسی گہما گہمی شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا ،یوں بھی فصلوں کی کاشت کاوقت نکلا جا رہا ہے۔ تاخیر اخراجات میں اضافے اور پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے ۔بعد ازاں چندچینی صنعت کاروں نے پاکستانی بزنس پارٹنرز کے ساتھ رابطہ کر کے ٹیکسٹائل مصنوعات کی ڈیمانڈ پوری کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مجموعی طور پر اب بھی کام بند ہے۔مال سے بھرے کنٹینرز چینی بندرگاہوں پر رکے ہوئے ہیں،جیسے اپوزیشن کا دھرنا روکنے کے لئے رکھے گئے ہوں۔کورونا وائرس کی وجہ سے بندرگاہوں پر لیبر دستیاب نہیں ہے ،زیادہ تر لیبر ’’ لاک ڈائون‘‘ ہیں ۔
کورونا وائرس کا تازہ ترین حملہ آئل انڈسٹری پر ہوا ہے ۔پہلے مرحلے میں سعودی عرب نے خام تیل کی قیمت میں6تا8ڈالر کی کمی کر کے دنیا کو چونکا دیا۔بعد ازاں سعودی عرب نے تیل کی مانگ برقرار رکھنے کی خاطر قیمت میں اچانک مزید کمی کا اعلان کردیا ۔ سعودی عرب نے خام تیل سستا کرکے ہمیں تو خوش کر دیا۔لیکن اس کا اصل مقصد اپنی مانگ کو برقرار رکھنا تھا۔ سعودی فیصلے کے بعد خام تیل کی فی بیرل قیمت 41 ڈالر پر آگئی تھی جس سے پٹرولیم انڈسٹری کریش کر گئی ہے ۔سعودی عرب اور اوپیک ممالک کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ تیل کی پیداوار میں کتنی کمی کریں۔اس لئے انہوں نے قیمت کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ صرف ایک دن (سوموار) کی صبح کو برینٹ آئل منڈی میں خام تیل کی قیمت 11.44ڈالرفی بیرل (25.3فیصد )تک گر گئی۔برینٹ منڈی میں خام تیل 34ڈالر فی بیرل پر بکا۔گزشتہ جمعہ کے بعد امریکی پٹرولیم منڈی میں قیمتیں 12.2فیصد تک نیچے آ گئیں۔لندن میں الیٹرانک ٹریڈنگ کی منڈی میں 33فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ،امریکی منڈی میں بھی کام تیل کی قیمتوں میں کمی 30فیصد تک رہی ۔10فیصد کمی تو کئی روز پہلے ہی ہو چکی تھی۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں1991کے بعد کم ترین سطح پر آرہی ہیں۔ہو سکتا ہے ا ن سطور کے منظر عام پر آنے تک عالمی منڈیوں میں قیمت اس سے بھی نیچے گر گئی ہو۔عالمی منڈیوں کو 2014 ء میں بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جب امریکی خام تیل کا مقابلہ کرنے کے لئے اوپیک نے اپنی تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی کر دی تھی ۔تیل کی سیاست کی بدولت ہی مانگ میں کمی ہوئی تھی جس سے قیمتیں100ڈالر فی بیرل سے گر کر 2015میں 40ڈالر فی بیرل پر آگئی تھیں۔اوپیک ممالک نے پیداوار میں اتار چڑھائو کے ذریعے اپنی خراب ہوتی ہوئی معیشت کو سہارا نہ دیاتو صورتحال بے قابو بھی ہو سکتی ہے۔قیمتوں میں ایک ہی دن میں 40 فیصد کمی نے اسلامی ممالک کی معیشت کو خطرناک دوراہے پر لا کھڑاکیا ہے۔سعودی عرب کی جانب سے قیمتوں میں غیر معمولی رد و بدل عالمی معیشت سمیت ہمارے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے ۔کیونکہ سرمائے کی کمی مشرق وسطیٰ میں موجودہماری لیبر پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ 26لاکھ پاکستانیوں کے روزگار کا ذریعہ اورہماری مصنوعات کا بڑا خریدار یہی ملک یعنی سعودی عرب ہی تو ہے۔ چنانچہ اوپیک ممالک میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں آنے والے بحران کو ہلکا لینے کی بجائے اس کے ہر پہلو پر غور و فکر وقت کا تقاضا ہے۔یہ اپنے اندر کئی اندیشے سمیٹے ہوئے ہے ،ہمیں ان سے خبردار رہنا چاہیے۔ 
’’پیٹرو وار‘‘ کا نشانہ کون؟
کوئی کہتا ہے کہ روس اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والا تنازعہ اس جنگ کا سبب بنا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ نہیں ،اس کے پیچھے امریکہ ہے۔دراصل امریکہ میں شیل آئل کی ترقی روس کو ایک آنکھ نہیں بھاتی، اسے نقصان پہنچانے کے لئے ہی روس نے نئی پٹرولیم پالیسی اپنائی تھی لیکن امریکی صدر ٹرمپ نے عرب ممالک کے رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے سے گریز کریں ، اس سے عالمی معیشت تباہ ہو سکتی ہے اسی لئے اوپیک نے پیداوار گھٹانے کا روسی منصوبہ ماننے کی بجائے قیمت میں کمی کا امریکی پلان مان لیا۔ غیر ملکی مصنف نے اپنے مضمون ’’تیل کی جنگ کا صل نشانہ امریکہ ہے‘‘ میں یہی نکتہ اٹھایا ہے۔اس کے بقول یہ جنگ ناگزیر تھی کیونکہ چین میں لاک ڈائون کے بعد روس بچا تھا، اسے بھی شکنجے میں لینا ضروری تھا۔قیمتوں میں کمی کے بعد خام تیل کے خریدار مشرق وسطیٰ کا رخ کرنے والے ہیں۔ روسی تیل کی مانگ میں کمی سے اس کی معیشت بیٹھ جائے گی ۔مصنف نے لکھا کہے کہ پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان شخصی تصادم کا یہ اہم ترین نتیجہ نکلا ہے، اس تبدیلی نے تو شطرنج کی بازی کوبھی مات دے دی ہے۔ سستا ترین تیل امریکہ کی فتح ہے،امریکہ مشرق وسطیٰ کے ذخائر کو خالی کرکے وہ اپنے ذخائر کو محفوظ کر لے گا۔روس نے پیداوار میں کمی کا فیصلہ امریکی معیشت کو ڈانواں ڈول کرنے کے لئے ہی کیا تھا،لیکن امریکہ ے 1967کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دوست ممالک کی مدد سے روسی منصوبہ ناکام بنا دیا۔حالانکہ 1967میں عرب ممالک نے پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ کر کے امریکہ کو سبق سکھایا تھا اب وہ روس قیمتوں میں کمی کے ذریعے روس کو مزہ چکھا رہے ہیں۔
سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پہلے ہی معلوم ہے کہ امریکہ کا شیل آئل کامنصوبہ ناکام ہوگیا ہے، امریکہ میں ایٹمی توانائی کی انڈسٹری اس قدر مضبوط نہیں کہ امریکی معیشت کا سہارا بن سکے۔اس لئے یہ اوپیک کی جانب سے امریکہ کے لئے بہترین تحفہ ہے جو ان ممالک نے اپنی معیشت کو خطرے میں ڈال کردیا ہے۔امریکہ میں تیل کی صنعت سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ دو ممالک کی جنگ کا یہ بدترین نتیجہ ہے جس سے آئل انڈسٹری خود بھی تباہ ہو سکتی ہے ،کیونکہ اتنی کم آمدنی کے بعد تیل کی انڈسٹری میں نئی سرمایہ کاری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔جنگ کا آغاز اس وقت ہواجب روس نے جون تک کے لئے تیل کی پیداوار  5لاکھ بیرل یومیہ کمی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔جنوری 2017سے اب تک روس کے ایما پرخام تیل کی پیداوارمیں پہلے ہی1.7کروڑ بیرل کی کمی کی جا چکی ہے۔
قیمتوں میں کمی سے کیافرق پڑے گا؟
خام تیل کی قیمت میں اب تک کی گئی8ڈالر فی بیرل کی کمی سے سعودی خام تیل کی مانگ میں کئی لاکھ بیرل کا اضافہ متوقع ہے، پٹرول کی منڈی روس سے مشرق وسطیٰ منتقل ہوجائے گی۔خیال ہے یومیہ مانگ 97 لاکھ بیرل سے بڑھ کر1.2کروڑ بیرل تک پہنچ جائے گی۔کچھ کے نزدیک 2کروڑ بیرل یومیہ تک بھی پہنچنے کا امکان ہے۔روسی خام تیل کی مانگ میں یومیہ کئی لاکھ بیرل کی کمی سے روسی معیشت کو لگنے ولا جھٹکا ناقابل برداشت ہو گا۔ کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس وقت امریکہ کے پاس شیل آئل نکالنے کے لئے سرمایہ کم پڑ گیا ہے ،پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں سے شیل آئل انڈسٹری بھی تباہ ہو جائے گی۔نیو یارک میں کام کرنے والے ایک معاشی ادارے (Macro Risk Advisors) نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ خام تیل کی قیمت میں مزید کمی کے بعد 23ڈالر فی بیرل ہونے کا امکان ہے۔
ایڈم جانسن نے خبردار کیا ہے کہ آرامکو دنیا میں سب سے کم منافع پر کام کر رہی ہے اس کا فی بیرل منافع5سے 6ڈالر تک ہے،قیمتوں کے نئے ڈھانچے سے آئل انڈسٹری خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔
کس کو فائدہ اور کس کو نقصان ہو گا؟
پیداوار میں کمی بڑی وجہ تو مانگ میں کمی ہونا ہے، کئی ممالک میں صنعتیں بند پڑی ہیں، مزدوروں کو رخصت پر بھیجا جا رہا ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی مشرق وسطیٰ ، چین اور روسی معیشت کے لئے نازک ہے وہیں توانائی کی درآمدات پر انحصار کرنے والے پاکستان ،جاپان اور جنوبی کوریاجیسے ممالک کے لئے اس میں رحمت ہی رحمت ہے۔ یہ ممالک توانائی کی عالمی منڈی میں گراوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ میں کم لا سکتے ہیں۔ ان ممالک کے درآمدی بل میں 30فیصد سے آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک جیسے اداروں کی ’’تلوار‘‘ سے سر کو بچایاجا سکتا ہے۔سالانہ ریلیف کا اندازہ کئی ارب ڈالر ہو سکتا ہے ۔اس سے عالمی ترقی کا تناسب 2.9 فیصد سے گرکر2.4 پر آ سکتا ہے۔امریکہ میں بجٹ کا خسارہ بلند ترین سطح پر ہے۔وہاں40فیصد تک کساد بازاری آسکتی ہے۔یورپ میں بدستور ملٹی نیشنل کمپنیاں گومگو کی کیفیت میں ہیں، چینی معیشت کا پہیہ پہلے سے جام ہے۔ یورپ میں بھی کساد بازاری جنم لینے والی ہے،امریکہ اور چین کے اقدامات کی وجہ سے ہی منڈیوں میں سرمایہ کاردستیاب تھا ، یہ رگوں میں دوڑتے خون کی طرح فعال کردار دار کرنے لگا تھا۔وائرس کی وجہ سے جاپان کے علاوہ 19یورپی ممالک کی کرنسیاں خطرے میں ہیں۔چینی جی ڈی پی میں 2فیصد اور شرح ترقی میں 7فیصد کمی کا اندیشہ ہے۔ شرح نمو9فیصد سے کم ہو کر 2فیصد ہونے کاا مکان ہے۔ ٹریول انڈسٹری نہ ہونے کے برابر بچی ہے۔بڑے ہوٹلوں میں کبھی کبھی ایک گاہک بھی نظر نہیں آتا جہاں تل دھرنے کے جگہ نہیں ملتی تھی وہاں بھولے سے بھی کوئی نہیں جاتا۔اکثر ہوٹلوں میں 90فیصد مسافر غائب ہیں۔اور تو اور، چپس،برگر اور فاسٹ فوڈ کی عالمی کمپنیاں بھی بحران سے نہیں بچ سکیں۔ان کی مانگ کو گرہن لگ چکا ہے۔کارگو اور مسافروں میں کمی کے باعث بڑے طیارے گرائونڈ کر دیئے گئے ہیں۔بوئنگ 737بھی زمین پر آگیا ہے۔ جرمن فضائی کمپنی کی پروازیں نصف رہ گئی ہیں۔ برطانیہ کی فضائی کمپنیFlybeتو بند ہی ہو گئی۔ فرانس اور سیکنڈینوین ممالک کی فضائی کمپنیوں نے بھرتی کے لئے دیئے گئے اشتہارواپس لے کر کارکنوں کو بغیر تنخواہ کے لمبی چھٹیوں پر جانے کا مشورہ دیا ہے۔جنیوا کا عالمی آٹو شو ہو یااورلینڈو کی عالمی ہیلتھ کانفرنس،سب مل بیٹھنے کے مواقع منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ آسٹن میں ہونے والا فلم، میوزک اور ٹیکنالوجی فیسٹیول بھی نہیں بچا۔پارکس ،Six Flags اور SeaWorld Entertainment جیسے تھیم پارک اور سیر گاہوں میں بھی کوئی آتا جاتا نہیں۔شنگھائی اور ہانگ کانگ کے ڈزنی لینڈ بھی نہیں کھل سکے۔ بچوں کے کھلونے بناے والی کمپنی نے بھی 10فیصد کارکنوں کو گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا ہے،کھلونوں کی مانگ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ہانگ کانگ میں سرشام ہی سڑکیں رش سے بھر جاتی تھیں اب وہاں بھی ہو کا عالم ہے۔
عالمی منڈیاں کتنی تباہ ہوتی ہیں ؟اس کا ابھی پتہ چلے گا،ماہرین اندازہ لگانے میں ناکام رہے ہیں کہ کورونا وائرس کا پھیلائو کس قدر ہو سکتا ہے اور یہ کہ یہ عالمی منڈیوں اور صنعتوں پر کیسے اثرانداز ہو گا،سر دست امریکہ میں جاب منڈی محفوظ اور مستحکم ہے۔ ڈالر کی شرح تبادلہ بھی برقرار ہے، ہم جیسے ممالک ڈالر کو ’’سربلند ‘‘رکھنے کے لئے ہیں نا۔تاہم امریکی منڈیوں میں غیر ملکی مصنوعات کی مانگ بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ 
 ماہرین کے ایک گروپ کے مطابق کورونا وائرس نے دنیا کو تقسیم کر دیا ہے۔ یہ تقسیم معیشت کو بھی قومیت کے سانچے میں ڈھالنے سے متعلق ہے۔ ’’اپنی اپنی معیشت ‘‘ کے نعرے کی گونج سے پہلے ہی ہر ملک پریشان تھا مگر وائرس سے اس سوچ کو راستہ مل گیا ہے۔کئی ممالک دوسرے ممالک کی مصنوعات کو ہاتھ لگانے کو تیار نہیں۔ اس وائرس نے چین سے اٹلی اور وہاں سے ایران تک انسانی المیوں کو جنم دیا ہے۔ یورپ کی سرحدیں بند ہیں۔ان ممالک کو لاک ڈائون کر کے دنیا سے الگ تھلگ کر دیا ہے۔چین میں مریضوں کی تعداد میں کمی کے باوجود لاک ڈائون کم نہیں ہوا۔ انسان قیدی بن چکے ہیں لیکن سرمایہ دوسرے ممالک کی جانب پرواز کر رہا ہے۔وائرس لگنے سے اٹلی کا پیسہ محفوظ ممالک کی جانب پرواز کر رہا ہے، جرمنی کی منی مارکیٹ اس سرمائے کا سب سے بڑا ٹھکانہ ہے۔ 
امریکی صدر نے کیا مشورہ دیا؟
 امریکی صدر نے اس بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حصص مارکیٹ میں پیسہ لگانے کا مشورہ دے ڈالا ہے۔دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹیں 2008کے بعد بدترین بحران سے گزر رہی ہیں۔تمام ہی بڑی سٹاک مارکیٹوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔امریکی صدر ایک طرف تودیواریں بنا کر ملک کو دوسرے ممالک کے لئے دروازے بند کر رہے ہیں لیکن دوسری طرف وہ دوسرے ممالک کے حصص خرید کر اپنی قوم پرستی کو جلا بخشنا چاہتے ہیں ۔ صدر ٹرمپ کا مشورہ ہے منڈیوں اورسٹاک مارکیٹوں کا بحران جلد ی ختم ہونے والا ہے،حالات معمول پر آتے ہی دنیا بھر کا پیسہ وال سٹریٹ کے ذریعے ا مریکہ منتقل ہو جائے گا۔ وہ کہتے ہیں’’ امریکہ پر اچھا وقت آیا ہوا ہے‘‘۔امریکی سرمایہ کا ر کے ردعمل کا اس بات پر منحصر ہے کہ وہاں کے سرمایہ کار صدر ٹرمپ کے اقدامات پر کتنا اعتبار کرتے ہیں ۔ ذہن نشین کرنے کی بات یہ ہے کہ بند ہونے والی سرحدیں آسانی سے نہیں کھلتیں ۔چین اور امریکہ لاکھ جتن کر لیں سرحد وقت آنے پر ہی کھلے گی۔ یہ تجربہ ہم ماضی قریب میں یورپ میں کر چکے ہیں۔ آسڑیا نے مہاجرین کی آمد کو روکنے کی خاطر اٹلی سے ملحقہ سرحد 2015میں بند کر دی تھی۔ عارضی ہونے کے باوجود یہ سرحد تاحال نہیں کھل سکی۔ مہاجرین کی آمد کب کی بند ہو چکی ہے۔مغربی بلقان کے ممالک کی مثال بھی نظر میں رکھنا چاہیے ۔
 یورپ میں بھی حالات سنبھل نہیں رہے۔ یورپی سرمایہ کاروں کے نزدیک ناصرف مالی منڈیوں میں عدم استحکام ہے بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بزنس کو بھی دھچکا لگا ہے۔ کوئی بڑی کمپنی اپنی بساط کے مطابق کام شروع نہیں کرپائی۔پیداوار نہ ہونے سے ان ممالک میں حصص کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ وائرس چین میں کمزور پڑ گیا لیکن یورپ میں طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ یورپ میں مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اچھی خبر نہیں۔اس طرح ’’لاک ڈائون ‘‘نے یورپ اور مشرق وسطیٰ کا رخ کر لیا ہے۔یہ یقیناََ گھبرانے کی بات ہے ۔ایران کا بھی یہی حال ہے۔وائرس کی وجہ سے اٹلانٹک اوشن کے دونوں اطراف کے ممالک کی حکومتیں بے بس اور پریشان ہیں۔ گزشتہ سوموار کی صبح تک مریضوں کی تعدادایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ،اٹلی کی ایک تہائی آبادی ’’لاک ڈائون ‘‘ ہو چکی ہے۔ سعودی عرب میں 11کیسز سامنے آنے کے بعد القطیف کو بھی لاک ڈائون کر دیا گیا ہے۔ 
 یورپ بھی مالیاتی بحران کا شکار ہے۔یورپی ممالک کے سنٹرل بینک بھی بحران سے نکلنے کی حکمت عملی بنانے سے قاصر ہیں۔کئی ممالک کے مرکزی بینک شرح سود تاریخ کی کم ترین سطح پر لے آئے ہیں، جبکہ جاپان نے بھی شرح سود میں کمی کر دی ہے اور کئی ٹیکسوں میں مزید کمی پر غور کیا جا رہاہے۔کئی ممالک میں مالیاتی اداروں نے نجی اور نیم سرکاری قرضوں کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنے والے اقدامات کئے ہیں۔لیکن کیا یہ اقدامات کورونا وائرس کا شکار معیشتوں کی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ؟اس سوال کا جواب نہیں مل رہا۔وائرس کے دورانیے اور پھیلائو سے لاعلم ماہرین معاشیات پالیسی بنانے سے قاصر ہیں ۔
کورونا وائرس کے بعد عالمی مالیاتی اور پیداواری منڈیوں میں فوری بہتری کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ ماہرین اقتصادیات کے ایک گروپ نے حالیہ بحران سے نکلنے کے لئے 2008کے بحران میں اٹھائے گئے اقدامات دوبارہ اپنانے پر زور دیا ہے۔2008ء میں بھی تو سرمایہ دارانہ نظام کی ڈوبتی کشتی کو منجدھار سے نکال ہی لیا گیا تھا،اس وقت اٹھائے جانے والے اقدامات کیا تھے؟اس سوال کا جواب آج بھی معیشتوں کے لئے ٹانک بن سکتا ہے۔اس وقت مرکزی بینکوں نے لیکویڈیٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر پیسہ مہیا کیا تھا۔چین نے بھی لیکویڈیٹی کے مسائل حل کر دیئے تھے۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے 
سٹاک مارکیٹوں میں بھی بحران 
خام تیل کی قیمتوں یں کمی کا سعودی فیصلہ عالمی معیشت کو بھی ہضم نہیں ہو رہا۔ ڈائو سٹاک مارکیٹ گزشتہ سوموار کو 2000پوائنٹ گر گئی۔جاپان، جرمنی اور یورپی سٹاک مارکیٹوں کا بھی یہی حشر ہوا۔سرمایہ کاروں کے کئی سو ارب ڈالر اس بحران میں ڈوب گئے۔ جہاز سازی اورکمپیوٹر ٹیکنالوجی سمیت کئی بڑے اداروں نے اپنے بزنس میں نمایاں کمی کا اعلان کر کے سٹاک مارکیٹ کو ایک اور صدمے سے دوچار کر دیا۔ان مارکیٹوں کی فوری بحالی کا امکان کم دکھائی دے رہا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کے پاس پیسہ ختم ہو گیا ہے۔سرکاری ریلیف ناکافی ہیں اورتاخیر سے دیئے جانے کے باعث ان کے اثرات مرتب نہیں ہوسکے۔اسی لئے امریکی سٹاک مارکیٹوں کے کرتا دھرتا اس تجارتی جنگ کے خاتمے کی اپیلیں کر رہے ہیں۔کیونکہ اگر تجارتی جنگ بند نہ ہونے کی صورت میں سٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کرنا مشکل ہو جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ اس سے خودامریکہ کی معاشی حکمت عملی پر بھی فرق پڑے گا اور اسے کئی سو ارب ڈالر کے ریلیف دینا پڑ سکتے ہیں۔
امریکی سرمایہ کار نقصان میں تھے؟ 
امریکہ کی ایک نہیں ہزاروں بڑی کمپنیاں چین میں کام کرر ہی تھیں لیکن خوش کوئی بھی نہ تھی۔حالیہ سروے میں امریکی ایوان صنعت و تجارت کے 372کمپنیوں میں سے 40فیصدنے کہا کہ چین میں انکا بزنس نقصا ن میں تھا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پھر وہ چین گئے کیا لینے تھے ۔ چیمبر کے صدر گریگ گلیگن نے کہا کہ کورونا وائرس کے بعد بزنس کے فوری شروع ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔اعتما د سازی میں بھی وقت لگے گا۔بزنس کو منافع بخش بنانے کے اقدامات بھی زیر غور لائے جائیں گے۔ امریکہ نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں کمی کے لئے جنوری میں ہی ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کئے تھے۔یہ معاہدہ بھی اب فعال نہیں رہا۔امریکی چیمبر کے صدر نے تجارت کی فوری بحالی کے امکان کو رد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وائرس کی وجہ سے مانگ گھٹ گئی ہے، کچھ کمپنیاں 50فیصد اور کچھ80فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں اس صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
 ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ہم سعودی عرب سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں ریلیف لے رہے تھے ، پٹرولیم بل کی ادائیگی میں تاخیر بھی اس سہولت کا حصہ ہے۔ ہم قیمتوں میں کمی کا فائدہ اٹھا کر اس رعایت سے بھی بچ سکتے ہیں۔ 
ہمارے عوام یہ امید کر سکتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں گراوٹ کی مدد سے حکومت زیادہ پٹرول استعمال کرنے والی انڈسٹریز کو ان کے پیروں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ جیسا کہ انرجی سیکٹر ، پی آئی اے یا ریلوے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ان شعبوں کو اچھی طرح سنبھالاجا سکتا ہے۔اگر حکومت نے عوام کو پورا ریلیف نہیں دینا تو ان اداروں کو ہی ریلیف دے دے۔ وائرس سے سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگا ہے۔ٹریژری بانڈز کی منڈی الگ بحران سے دوچار ہے۔ڈالر بانڈز اور سکوک بانڈز کی خرید و فروخت میں پاکستان پیش پیش ہے، اب اس عمل میں کمی کردینا چاہیے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے حکومت کو پہلے ہی کافی ریلیف ملنے کی امید ہے۔ اندیشہ ظاہر یاجا رہا ہے کہ اگر خدانخواستہ عالمی منڈیاں کریش کر گئیں تو ہمارا ملک ڈالر بانڈز کی ادائیگیاں کیسے کرے گا؟۔ہمیں بھی خوب ذہن لڑانے کے بعد بہتر راستہ چن لینا چاہیے ۔ایک اور بات، صبر کیجئے، عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اتنی بڑی کمی کا ابھی ہماری حکومت کو پتہ نہیں چلا ، ہو سکتا ہے کہ اگلی مرتبہ بھی تیل کی قیمتوں میں آپ کو مناسب ریلیف نہ مل سکے۔ حکومت کو بھی تو ریلیف کی ضرورت ہے۔خود ’’ریلیف ‘‘ لینے کے بعد ہی وہ آپ کو ریلیف دے سکتی ہے ۔ لہٰذا خام تیل کی قیمتوں میں 30فیصد کمی عوام تک شائد نہ پہنچ سکے ۔
لیکن پاکستان کے لئے یہ اچھا موقع اس لئے ہے کہ امریکہ اور یورپ اس وقت بھارت کے ساتھ بھی تجارتی جنگ کی کیفیت میں ہیں۔ بھارت نے حال ہی میں امریکی مارکیٹوں تک رسائی کے لئے جی ایس پی ختم کرنے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اس نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ سٹیٹس بحال کیا جائے جسے امریکہ نے زیر غور لانے سے بھی انکار کر دیا ہے۔اسی طرح یورپ کے ساتھ بھی بھارت کی تجارتی جنگ عروج پر ہے ،کئی مصنوعات پر ڈمپنگ ڈیوٹی کے معاملات یورپی ممالک نے بھی ڈبلیو ٹی او میں چیلنج کر رکھے ہیں۔ امکان ہے کہ بھارت اپنا کیس ہار جائے گا۔ بھارت کے بنگلہ دیش کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہو گئے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے شہریت بل پر عمل کرتے ہوئے لاکھوں بنگلہ دیشیوں سے بھی شہریت چھین لی ہے ،اس سلسلے میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں بھی نریندر مودی کے خلاف ایک بڑا مظاہر ہ ہوا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے دبائو پر ہی نریندر مودی کو دی گئی دعوت منسوخ کر دی گئی ہے۔ بھارت۔ بنگلہ تعلقات نچلی ترین سطح پرہیں ۔ہمیں ان حالات کا فائدہ اٹھانے کے لئے حکمت عملی اختیار کرنا چاہیے۔ 
کئی اقوام کی صحت پہلے ہی خراب ہے!
نیو یارک ٹائمز کے مطابق اٹلی میں دوسری بیماریوں کے فنڈز بھی کورونا پر قابو پانے کے لئے خرچ کئے جا رہے ہیں جس سے دوسرے امراض کے پھیلائو کا اندیشہ ہے۔’’گلوبل ہیلتھ سکیورٹی انڈکس‘‘ نے 195 ممالک کے جائزے کے بعد خبردار کیاتھا کہ دنیا میں صحت کانظام اچھا نہیں،یہ مجموعی طو ر پر کمزور ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ کورونا ترقی یافتہ ممالک میں ہی گھوم رہا ہے ورنہ صورتحال نازک ہو سکتی تھی۔طبی ماہرین نے خوف و ہراس میں یہ کہہ کر اضافہ ہی کیا ہے کہ ’’ موسم کی تبدیلی اور گرمی پر بھروسہ کرنے والے ممالک خبردار رہیں،وہ یہ نہ سوچیں کہ درجہ حرارت بڑھتے ہی وائرس ’’بے موت ‘‘ مارا جائے گا ۔درجہ حرارت میں تبدیلی کے اثرات بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔اندازہ کیاجا رہا ہے کہ وائرس شائد موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کر جائے کیونکہ اس نے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں درجہ حرارت پہلے ہی سے زیادہ ہے جیسا کہ سعودی عرب یا اٹلی۔وائرس پھیلتے وقت سعودی عرب کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 23ڈگری سنٹی گریڈ تھا۔ ایک رائے ہے کہ 40ڈگری سنٹی گریڈ کے بعد ہی اس میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ پچھلی مرتبہ یہ جس درجہ حرارت میں پھیلا تھا اب اس سے زیادہ میں بھی پھیل سکتا ہے۔سارس اور مرس بھی درجہ حرارت میں تبدیلی سے قابو میں نہیں آئے تھے۔ 
سوموا ر تک کورونا کے مریضوں کی تعداد
کل مریض:110087
کل اموات: 3830
کل بیمار :62283
فعال مریض:43974
کورونا میں مبتلا مریض:37997(86فیصد)
ہلکا مرض:5977(14فیصد)
علاج کے بعد گھر جا چکے:66113
شرح اموات:3.4فیصد(ڈبلیو ایچ او کے مطابق)
چین میں شرح اموات:3.8فیصد
ووہان میں شرح اموات:5.8فیصد
چین کے دیگر حصوں میں شرح اموات:0.7فیصد
عالمی سطح پر ممکنہ شرح اموات:3فیصد
ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح اموات:15فیصد
علامات کے ظاہر ہونے کے کتنے دن بعد موت واقع ہوئی:مجموعی طور پر14ایام
سارس میں شرح اموات:9.6فیصد
مرس میں شرح اموات:34فیصد
سوائن فلو میں شرح اموات:0.02فیصد
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں

 کس نے کہاں پیدا ہونا ہے اور اُس کی پرورش کس نے اور کیسے کرنی ہے یہ سب فیصلے اُس قادرِمطلق نے کر رکھے ہیں اور اُن کو کوئی تبدیل بھی نہیں کرسکتا جب تک وہ نہ چاہے  

مزید پڑھیں