☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) متفرق(خالد نجیب خان) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(عبدالحفیظ ظفر) کچن کی دنیا خواتین(نجف زہرا تقوی)
پاکستان نہ بنتا تواس خطے میں بھی شہادتیں ہورہی ہوتیں۔۔

پاکستان نہ بنتا تواس خطے میں بھی شہادتیں ہورہی ہوتیں۔۔

تحریر : صہیب مرغوب

03-22-2020

 مودی ہندو ازم کی لہر لے کر اٹھے اب انتہا پسند ی ان کا سرمایہ ہے۔روزگار نہ ملنے سے ہندوئوں نوجوانوں کی بڑی تعداد ریڈیکل ہو چکی ہے۔یہی بے روز گار ہندو The Rashtriya Swayamsevak Sangh(آر ایس ایس )کا سرمایہ ہیں۔

 

نریندر مودی 8 برس کی عمر میں اس نیم عسکری تنظیم کے رکن بنے۔آر ایس ایس کے پیش نظر نازیوں کا ماڈل ہے۔نریندر مودی کی ایک ہی خواہش ہے ۔۔پورے ہندوستان کو’’‘مارشل ہجوم‘‘میں بدل دیاجائے۔دہلی کے واقعات اس کی ایک مثال ہیں۔کپل مشرا ء نریندر مودی کے رنگ میں رنگے ہوئے ایک نوجوا ن ہیں۔انہوں نے لفظوں کو تلوار بنا دیا ہے،خود کچھ نہیں کرتے صرف الفاظ سے تلوار کا کام لیتے ہیں۔دہلی میں جو کچھ ہوا وہ پولیس اور ریاستی مشنری کے بغیر ممکن نہ تھا۔یہ ایک سوچی سمجھی سکیم (pogrom) کا حصہ ہے۔دہلی ہی نہیں پورے بھارت میں یہی خدشات پائے جاتے ہیں۔ 
نریندر مودی کی حکومت وہی کچھ کر رہی ہے ۔1940 کی دہائی سے پہلے اور اس کے بعد جرمنی، اٹلی اور سپین میں بھی یہی کچھ ہو رہا تھا۔اسے ہلکا نہیں لیا جانا چاہیے۔نریندر مودی کے بھارت کا تعلق امریکہ سے فلپائن اورپولینڈ سے برازیل تک قوم پرستوں کے ابھار سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔لیکن مودی حکومت ان سب پر بھاری ہے۔ہٹلر اس مقام پر کئی برس کے بعد پہنچے تھے لیکن مودی نے تو آغاز ہی وہاں سے کیا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نریندر مودی ہٹلر سے کہیں مضبوط ہیں۔انہیں کئی حلقوں میں حمایت حاصل ہے یہی سب سے خطرناک بات ہے۔امریکی صد روزویلٹ نے ہٹلر کی مذمت کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔انہوں نے ہٹلر کے اقدامات سامنے آتے ہی اس کی مذمت کرتے ہوئے وقت ضائع کئے بغیر امریکی سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔لیکن اب ؟۔۔۔امریکی صدر نے نریندر مودی کی تعریف کرنے میں دیر نہیں لگائی،اور معاملے کو دو منٹ میں بھارت کا اندرونی معاملہ قرارد ے کر ختم کر دیا۔ سٹیزنز ترمیمی بل مودی حکومت کے ہاتھوں میں بڑا ہتھیار ہے جس کی مدد سے وہ مسلمانوں کو غیر ملکی شہری قرار دے کر قید کر سکتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی میں مسلمان دشمن مہم جموں و کشمیر میں بھی عیاں ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کی آخری ریاست کی خود مختاری چھین کر اسے لاک ڈائون کر دیا گیاہے۔مودی حکومت کا کی ابتدا ہی  فاش ازم سے ہوئی ۔ان کا ایجنڈا یہی ہے کہ  20کروڑ مسلمانوں کو مارجن لائز کیا جائے تاکہ وہ سیاست میں کوئی قابل ذکر کردار ادا نہ کر سکیں،ان سے ووٹ کا حق بھی چھین لیا جائے تاکہ اپنی آواز بلند کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی فورم ہی نہ بچے۔دیگر ممالک نے بھارت میں حالات کی نزاکت کو سمجھنے میں کافی دیر کر دی ہے۔ نریندر مودی نے بھارت کے سکیولرتشخص کے خاتمے اور ہندو ریاست کی تشکیل کی پر تشدد بنیادیں رکھ دی ہیں۔وہ ایک ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں رہنے والے گائے کے گوشت کو ہاتھ بھی نہ لگائے۔ہر مرض کا علاج سمجھ کر اس کا فضلہ بھی پیے،اور رام رام کہتا رہے۔اگر کوئی یہ بات نہیں مانتا تو وہ بھارت سے نکل سکتا ہے۔
 نریندر مودی نے ایک نہیں، بے شمار نفرت انگیز تقریروں سے صرف نظر کیاہے۔کپل مشرا ء اکیلے نہیں ہیں۔ان کے وزرائے اعلیٰ اور وزراء بھی ایسی باتیں کرتے ہوئے شرمائے یاڈرتے نہیں ہیں۔موی خود بھی کم نہیں۔ان کی زبان خنجر جیسی ہے۔فروری 2002میں مسلم کش فسادات کے بعد نریندر مودی نے کہا تھا۔۔۔’’مسلمانوں کے علاقے بچے پیدا کرنے والی فیکٹریاں ہیں‘‘۔ادیتیا چوہدری نے ’’دی گارجین ‘‘ میں 7اپریل 2014ء کو اپنے مضمون ’’ Narendra Modi, a man with a massacre on his hands, is not the reasonable choice for India ‘‘میں لکھا کہ ’’افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مودی کا وزیر اعظم بننا 2002ء انصاف کے منہ پر طمانچہ اور حقائق کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہو گا۔مضمون نگار نے 2002میں دو لاکھ مسلمانوں کو بے گھر کرنے اور بچیوں کو ریپ اور مسلمانوں کے قتل کی ذمہ داری نریندر مودی پر بھی عائد کی۔اس سنگین واقعے کے بعد بھی وہ ہندو مسلم کشیدگی کو غیر اہم سمجھتے ہوئے اسے بڑھاوا دیتے رہے۔27فروری کو ہندو پجاریوں کو لے جانے والی ایک ٹرین نے گوڈرا سٹیشن کے قریب آگ پکڑ لی۔55پجاری مارے گئے۔نرریندر مودی نے کچھ بھی سوچے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا۔مودی نے تین روزہ ہڑتال کی حمایت کر دی۔حالات کو خراب کرنے کے لئے احمد آباد میں ’’لاش بردار جلوس‘‘ نکالنے کی حمایت کی۔نتیجہ لازمی طور پر وہی نکالا جو نکلنا چاہیے تھا۔سرکاری اطلاعات کے مطابق 1ہزار اور درست مگر غیر سرکاری اطلااعات کے مطابق 2سے 3 ہزارمسلمان شہید ہوئے ۔ہجوم نے خواتین اور بچیوں کو گھروں سے کھینچ کر باہر نکالا اور سرعام ریپ کیا ۔2007میں ’’تہلکہ‘‘ نے ایک رنگ لیڈر بابو بجرنگ کے بارے میں رپورٹ دی کہ’ ’کس طرح انہوں نے ایک حاملہ عورت کا پیٹ چاک کر کے بچے کو باہر نکال لیا تھا۔ اس کے برعکس مودی نے کہا ،’’ میں نے اس وقت بھی درد محسوس کیا تھا جب ایک کتا کار کے نیچے آ کر ہلاک ہو گیا تھا‘‘۔ان کی وزیر برائے امور خواتین نے قتل کے جرم میں28سال کی سزا سنائی گئی تھی‘‘ ۔اس کے برعکس  2002میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعدوہ ہندوئوں کی ہر دل عزیز لیڈر بن گئی اور2007میں 18ہزار ووٹوں کی برتری سے انتخاب جیت گئی۔
وجیش لال (28(Vijayesh Lal  فروری 2020ء کی اشاعت میں لکھتے ہیں کہ ، ’’ٹرمپ نے دورہ بھارت کے موقع پر خراج تحسین پیش کرتے ہو ئے کہا کہ ’’ نریندر مودی نے مذہبی اقلیتوں کو غیر معمولی آزادی دے رکھی ہے‘‘۔صدر کی بات ہمارے اعداد و شما رسے میچ نہیں کرتی۔اسی روز ایک اور بھارتی مصنف منیش سوارپ (Manish Swarup) اس سے بھی آگے چلے گئے ہیں کہ ، ’’امریکی صدر کا دورہ بھارت سکرپٹ کے عین مطابق رہا ،ذرا برابر فرق نہ تھا۔یہ ان کی دہلی میں موجودگی کے دوران ہی پیش آنے والے واقعات سکرپٹ سے الگ تھے ، دورے کی رنگینی سانحے کی شدت میں کھو گئی۔صدر کے دہلی میں قدم رنجا فرماتے ہی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما کپل مشرامودی کے الٹی میٹم پر مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے لئے فسادا ت پھوٹ پڑے۔کپل مشرا نے شہریت بل کی واپسی کا مطالبہ کرنے  والوں کو تین دن کے اندر اندر سڑکوں سے ہٹانے کی دھمکی دی تھی۔ان کے لفاظ دو ٹوک اور قطعی تھے۔ لہجے میں سختی تھی۔ایک ہجوم ان کے پیچھے اوراعلیٰ  پولیس افسرسامنے کھڑے تھے، بلکہ ان کا مخاطب یہی افسر تھے۔ اٹل حقیقت یہی ہے کہ شہریت بل موثر طور پر مسلمان دشمن ہے۔امتیازی سلوک کا حامل ہے۔ این آر سی کے ساتھ ملا کر اس کامطالعہ کرنے سے اصل مقصد سامنے آجاتا ہے۔ یہ انڈیا کی بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں سے شہریت چھیننے کا ہتھیار ہے ۔سماجی رہنما اور مبصرین حکومت سے بل کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔بھارت کے کونے کونے میں کئی سو مظاہرے ہو چکے ہیں، متعدد جلسوں میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ دہلی کے نواح میں واقع شاہین باغ ایسے مظاہروں میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے جہاں تین مہینوں سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ لیکن مودی حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔
صدر ٹرمپ ابھی دہلی میں ہی تھے کہ 13لاشیں گرائی جا چکی تھیں۔ اس کے باوجود دہلی میں باالخصوص اور بھارت میں بالعموم مذہبی آزادیوں کے حوالے سے کئے گئے سوال پر امریکی صدر  نے حیران کن طور پر بھارتی وزیر اعظم کو سراہا۔ان کے الفاظ حقائق کے منافی تھے ،’’مذہبی آزادی پر مودی کا کردار (incredible) ہے۔مودی کا عزم پختہ ہے کہ بھارتی عوام مذہبی آزادیوں سے محظوظ ہوں۔اس کا دار و مدار بھارت پر ہے‘‘ کہہ کر بات ٹال دی ۔ دہلی میں مسلمانوں کے قتل عام پر رائے زنی سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ ’’اس بارے میں سنا ہے مگر مودی سے بات نہیں ہو سکی‘‘ ۔اس کے برعکس امریکی صدر کی بھارت روانگی سے قبل یہ تاثر قائم تھا کہ وہ شہریت بل پر نریندر مودی سے کچھ نہ کچھ کہیں گے ۔یہ رائے کمزور تھی مگر تھی ضرور۔یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ امریکی صدر مودی کے اقدامات کوسرآنکھوں پر رکھیں گے ۔امریکی صدر کی باتوں کے مطابق بھارتی وزیر اعظم اقلیت دوست ہیں ،مگر نریندر مودی کے ریکارڈ سے اس کاہلکا سا شائبہ بھی نہیں ہوتا۔دنیا جانتی ہے کہ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے نریندر مودی کا ریکارڈ کبھی قابل فخر نہیں رہا۔رائٹ ونگ اور ریڈیکل ہندوئوں کے قتل عام اور لنچنگ پرنریندر مودی کی خاموشی اس کی گواہ ہے۔ وہ امریکہ ہی تھا جس نے نریندرمودی سے اس وقت ویزا کی سہولت واپس لی تھی جب وہ وزیر اعلیٰ گجرات تھے۔ان کی ریاست میں بد ترین مسل کش فسادات کے بعد امریکہ نے وزیر اعلیٰ کا سفارتی A-2ویزا منسوخ کر کے B-1/B-2ویزا کی سہولت بھی واپس لے لی تھی۔ نریندر مودی دنیا کی واحد شخصیت ہیں جن کا ویزامذہبی آزادیاں سلب کرنے سے متعلق ایکٹ امریکی قانون International Religious Freedom Act (IRFA)) کے تحت منسوخ کیا تھا۔ 
ہندو انتہا پسندی کا بدترین نشانہ مسلمان ہیں۔گائو رکھشہ گروپ اور نفرت انگیز تقریروں کا نشانہ بھی مسلمان ہی بنتے ہیں۔مسیحیوں کے ساتھ بھی کچھ کم ہیں ہو رہا۔آئینی حقوق سے محرومی اور غیر اقدامات روز کا معمول ہیں۔Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت اس  کی فیملی تنظیمیں حملوں کی concerted  کوششیں کر رہے ہیں۔بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشداور آر ایس ایس کے پرچار کردہ ہندوآتہ کے نظریے کی ترویج پر کام کر رہی ہیں۔یہ جماعتیں مسیحی باشندوں پر بھی جسمانی اور ذہنی حملے کر رہے ہیں۔ان انتہا پسندفوں نے گرجا گھروں میں عبادات میں رکاوٹ ڈالی،پاسٹروں کو تشدد کا نشانہ بنایا اورغنڈہ گردی میں ملوث ہوئے۔گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور طاقت کے بل بوتے پر مسیحی باشندوں کو ہندو مت قبول کرنے پر  مجبور کیا گیا ۔پولیس کی جانب سے  تساہل ہی نہیں برتا گیابلکہ کئی حملے پولیس کی ملی بھگت سے کئے گئے۔قانون کی خاموشی سے ظالم کو بے خوف ہو گیا،ظلم کرنے کاراستہ مل گیا۔اس سے اقلیتوں کو نشانہ بنانے میں حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔متعدد بھارتی میسحی باشندے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔یونین منسٹر خود بھی گاہے بگاہے نفرت انگیز تقریوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ان الزامات سے ریڈکل ہندو روز بروز طاقتور ہو رہے ہیں۔ 
بھارت میں Religious Liberty Commission of the Evangelical Fellowship of India (EFI) نامی تنظیم نے 1998سے مسیحیوں پر تشدد کا مواد اکھٹا کیا ہے۔ 2014 ء میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے تشدد میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔مذہبی آزادیوں کے مذکورہ کمیشن کے پاس 2014 سے مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد کے ناقابل تردید شواہد محفوظ ہیں۔2016 میں 252،2017میں 351اور 2018 میں325کیسز سامنے آئے۔ای ایف آئی کمیشن 2019ء کی تحقیق ابھی جاری نہیں ہوئی۔مذہب کی تبدیلی کی روک تھام کے قوانین  29میں سے صرف 8 ریاستوں میں  نافذ ہیں۔مسیحیوں، مسلمانوں دلیتوں کی شکایت پر ایکشن نہ لینا مذہبی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہندو دلیتوں کے لئے کوٹہ مخصوص ہے لیکن یہی سہولت مسلمان اور عیسائی دلیتوں کو میسر نہیں۔1950کے آئین میں یہ تفریق ہندو ذہنیت کی عکاس ہے۔مذہبی آزادیوں کا کمیشن ان اقدامات کی شدت سے مذمت کرتا ہے۔مودی اور ان کے سینئر رفقائے کار کی جانب سے مسلمانوں کی سرعام تضحیک ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما دلیپ گھوش(Dilip Ghosh) ایک جلسے میں کہہ چکے ہیں ، کہ وہ ایک کروڑ بنگلہ دیشی گھس بیٹھیوں (مسلمانوں )کو سمندر میں پھینک دیں گے۔انہوں نے شہریت بل کے مخالفین کو غدار کے لقب سے نوازہ۔
یوگی ادیتیا ناگ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے یہی تاثر دے رہے ہیں ،’’ مسلمان خواتین لوگوں کو جہاد کی جانب لا رہی ہیں، ایک وقت آئے گا جب ہندو عورتیں ہی ختم ہو جائیں گی‘‘۔ وہ ہندوئوں کو اشتعال دلا رہے ہیں اسی سے وہاں حالات کشیدہ ہیں۔مسلمانوں سے لڑنے کے لئے وزیر اعلیٰ یوگی نے  ’’The Hindu Yuva Vahini‘‘ نامی تنظیم بنائی ،اس کے سربراہ وہ خود بن بیٹھے ۔وہ خود اتر پر دیش (جسے الٹے اقدامات کی وجہ سے جسٹس مرکنڈے الٹا پردیش بھی کہتے ہیں) میں سب سے زیادہ نفرت کے بیج بو رہا ہے۔ان کی تنظیم سرعام دھمکیاں دے رہی ہے کہ۔۔۔۔’’سورج کے سامنے نجات نہ مانگنے والوں کو سمندر میں پھنک دیا جائے گا‘‘۔ مہا راشٹرا میں یوگی کی سربراہی میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی پھیلائی جاری ہے۔ہندو ازم ان کا ہتھیار ہے۔
گجرات کی وزیر مایا سرنیندرا کمار کودانی(Maya Surendrakumar Kodnani) پرلاتعداد مسلمان بچیوں کو اغوااور ریپ کرنے پر اکسانے کا الزام ثابت ہو گیا تھا، یہ عورت مودی کابینہ میں ’’آف سٹیٹ برائے ویمن و چائلڈ ڈویلپمنٹ ‘‘تھی لیکن اس کے ہی ایما پر مسلمان بچیوں کو گھروں سے باہر کھینچ کر والدین اور شوہروں کے سامنے ریپ کیا گیا۔اسی وزیر کے علاقے ’’نروڈا ‘‘ میں سب سے زیادہ قتل عام ہوا تھا ۔28 فروری2002 ء کو اس عورت نے Naroda Gam اور  Naroda Patiya کے علاقوں میں ہندوئوں کو مسلمانوں کے قتل عام پر اکسایا،اسی کے ایما پر97مسلمانوں کو خنجروں اور تلواروں اور فائرنگ سے قتل کر دیا گیا۔مقتولین میں36بچیاں ،خواتین اور35بچے بھی شامل تھے۔کچھ کی ہڈیاں توڑ دی گئیں ۔مسلمانوں کو الگ الگ کر کے مار پیٹ کی گئی اور گروپوں کی شکل میں بھی کھڑا کر کے زندہ جلا دیا گیا۔ مسلمانوں کے قتل، بچیوں کے اغوا اور ریپ کو اسی حوالے سے (Naroda Patiya massacre)کہا جاتا ہے۔2012میں عدالت نے اسے 28 برس کی سزا سنائی ۔ 2014ء میں نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد سابق جسٹس گگوئی کو چیف جسٹس بنا دیا۔ اب راستہ صاف تھا۔ججوں کے تبادلے کے بعد 2018 میں قاتل وزیر ہائی کورٹ سے بری ہو گئی۔بھارت میں مسلمانوں کو قتل کرنے والوں کی گرفتاری سے رہائی تک کہ کہانی بھی انگریزوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ نچلی عدالتوں سے سزا دلوانے کے بعد معاملے کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے جس کے بعد ہائی کورٹ تمام مقدمات ختم کر کے بری کر دیتی ہے، اگر ہائی کورٹ باز نہ آئے تو سپریم کورٹ تو ہے ہی اپنی جیب میں۔
گواہوں نے تصدیق کی کہ وزنریندر مودی کی وزیر نے حملہ آوروں کو تلواریں مہیا کیں،ایک مرحلے پر انہوں نے خود بھی گولیاں چلائیں۔بجرنگ دل کے ممبران سریش رچرڈ پرکاش راٹھور نے ’’تہلکہ نیوز‘‘ کے خفیہ کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ نریندر مودی کے وزیر سارا سادن نرودا میں گھومتی رہی،ہندوئوں کو مسلمانوں کو تلاش کر کے موت کے گھاٹ اتارنے پر مجبور کرتی رہی۔ موبائل فون کمپنی کے ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ قتل گاہوں میں  نریندر مودی کی وزیر موجود تھی، وہ سارا دن اعلیٰ پولیس افسروں اور  وزیر داخلہ (Gordhan Zadaphia) سے بھی رابطے میں تھی اور سب سے حیرت ناک بات ،مگر مجھے کوئی حیرت نہیں ہو گی، فون ریکارڈ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ عورت نریندر مودی سے بھی رابطے میں تھی۔ (Nanavati-Mehta Commission) نے 2004میں ٹیلی فون کمپنی کے ریکارڈ سے ثابت کیاکہ ’’قتل عام کے وقت اس کی وزیر اور نریندر مودی میں رابطہ قائم تھا۔یہ خصوصی انکوائری کمیٹی سپریم کورٹ نے 2008میں بنائی تھی ،اس کے سربراہ آر کے رغووان تھے ۔کودانی نے سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی پرواہ نہ کی اور عدالت کی مقرر کردہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکارکرتی رہی۔ حتیٰ کہ فروری 2009میں اسے مفرور قرار دے دیا گیا۔ نریندر مودی کی وجہ سے گجرات کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی جسے شواہد کی بنا پر گجرات ہائی کورٹ نے 27  مارچ 2009کو منسوخ کر دیا۔31اگست  2012کو اسے 28برس کی سزا ہوئی۔ عدالت نے فیصلے میں اس عورت کو "kingpin of the Naroda Patiya massacre" قرار دیا ۔ تین مہینے بعد اسے ٹی بی کے علاج کے لئے ضمانت مل گئی۔ 30جولائی  2014کو گجرات ہائی کورٹ نے اسے ضمانت پر رہا کر دیا۔ 20اپریل2018ء کو ہائی کورٹ نے خود ہی ماتحت عدالت کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے اسے بری کر دیا۔یہ ہے مودی کا مسلمانوں کے ساتھ انصاف۔۔۔۔پاکستان نہ بنتا تو آج ہمارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہوتا۔
’’بھارتی مسلمان شدید خطرات سے دوچار ہیں‘‘
ڈینئل وولفی (Daniel Wolfe) ، ڈین کوف(Dan Kopf) اور  آریہ تھاپڑ(Aria Thaker) کے مضمون کا عنوان بھی یہی ہے، کہ بھارت میں مسلمانوں کو آگ اور خون کی ہولی کے ذریعے اقلیت سے بھی کم تر کیا جا رہا ہے۔ یورپ کو بھی احساس ہو گیا ہے۔
1991 کے بعد سے2015میں وہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباََ دگنی ، 19.5کروڑ ہو گئی۔امریکی ریسرچ سنٹر ’’پیو‘‘ کے مطابق بھارت کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ 12فیصد سے بڑھ کر 15فیصد ہو گیا لیکن ان کی نمائندگی میں کمی آ گئی۔ 545رکنی لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی گزشتہ 50برسوں میں کم ترین سطح پر آ گئی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مسلمان دشمن مہم کے نتیجے میں نمائندگی 4فیصد سے بھی کم رہ گئی۔ 23مئی 2019ء کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی کا تناسب نچلی ترین سطح پر ہے،یعنی صرف ایک ممبر مسلمان ہے ۔ مسلمان زیادہ تر اتر پردیش ،بہار اور مغربی بنگال جیسی شمالی ریاستوں میں آباد ہیں۔ دیگر16ریاستوں میں مسلمانوں کی کل تعداد3کروڑ سے زیادہ نہیں۔اڑیسہ اور پنجاب میں 5فیصد سے بھی کم ہیں۔
کرسٹوفر جیفرلاٹ(Christophe Jaffrelot)اور گیلس ورنیئرز(Gilles Verniers) جیسے نامور سوشل سائنسدانوں نے بھی 1980کے بعد سے مسلمانوں کے زوال کا تعلق بھارتی جنتا پارٹی کے عروج میں تلاش کیا ہے۔جنتا پارٹی کے ووٹ بینک میں اضافہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت میں کمی کا باعث بنتا گیا۔بھارتی جنتا پارٹی کی پہچان ہندو کلچر رہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی مسلمان امیدوار کھڑے کئے مگر برائے نام۔ 1980میں صرف 20 مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے گئے تھے۔ہار جیت کا فیصلہ تو بعد میں ہونا تھا ، لیکن مسلمانوں کوان حلقوں میں سامنے لایا گیا جہاں بھارتی جنتا پارٹی کی شکست یقینی تھی ، مذہب دوست تاثر قائم کرنے کے لئے انہیں کمزور حلقوں میں ٹکٹ دیئے گئے تھے جبکہ مسلمانوں کے اکثریتی حلقوں میں کشت و خون کرانے کے بعد ہندو امیدوار کھڑے کر دیئے گئے ۔ 2019ء میں بھارتی جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر 282امیدواروں نے لوک سبھا میں کامیابی حاصل کی جن میں ایک مسلمان ہے ۔سب سے زیادہ نقصان تین کروڑ (18فیصد )مسلمانوں کی آبادی والی ریاست ’’الٹا پردیش‘‘ میں ہوا ہے وہاں 2014میں 18ارکان تھے، 2019میں ایک بھی نہیں رہا۔یہ ہے سب سے بڑی جمہوریت کا چہرہ۔ یہی ہے وہ بات ہے جس پر حضرت قائد اعظمؒ متواترکہتے رہے تھے کہ’’آپ ہماری اکثریت کو غیر فعال کر دیں گے ‘‘۔
جریدہ ’’فارن پالیسی‘‘ نے لکھا ہے ہندو مسلمانوں کو دیوار سے لگا رہے ہیں ،وہ مارجنلائز کر رہے ہیں،سیاسی اور سماجی نظاموں سے نکالنے کا ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ہندوئوں میں اسلام دشمن تعصب پایا جاتا ہے‘‘۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ’ ’ 2014میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلمانوں پر مسلح گائو رکھشہ گروپوں کے حملوں میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔بلکہ اب تو مسلمان اپنا اسلامی لباس پہنتے ہوئے بھی خو ف کھانے لگے ہیں ، وہ ڈرتے ہیں کہ شناخت ہوتے ہی کہیں مسلح گروپ انہیں مار ہی نہ ڈالیں۔ مسلمان خواتین کی نمائندگی 1فیصد سے بھی کم ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کا ووٹ بینک خطرے میں ہے، اس کا کوئی حل نہیں۔بھارت میں170سیاسی جماعتیں ہیں،تعداد میں اضافہ اور بھارتی جنتا پارٹی کے ابھار کے بعد سے مسلمان اپنی سیاسی طاقت کھونے لگے۔ 
’’سچرکمیٹی ‘‘کی رپورٹ میں یہ بات عیاں ہو گئی تھی کہ مسلمان بھارت میں بیور وکریسی کا صرف 2.5 فیصد حصہ ہیں۔دفاعی اداروں میں ان کی نمائندگی اس سے بھی کم ہے اسی لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج انہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہے۔ فوج میں کشمیری ہوتے تو اپنے بھائیوں کی مدد ضرور کرتے۔’’اکنامک ٹائمزانٹیلی جنس گروپ‘‘ نے رپورٹ دی کہ ’’ بھارت میں 500بڑی کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان میں مسلمانوں کو 2.6فیصد نمائندگی حاصل ہے۔ایک اہم سماجی ماہر نے کہا کہ ’ ’ مجھے بھارت میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تھا،آر ایس ایس کے نمائندے بھی شریک تھے۔ ان کا دو ٹوک موقف تھا کہ مسلمانوں کو فوج سے بالکل فارغ کر دیا جائے۔
 
19سالہ بچی چیخی ،
 
’’ہم دیکھیں گے ، ہم نے تین دنوں میں کیا کھویا ہے !
پاکستان نہ بنتا تو ہمارے ساتھ کیا ہونا تھا ؟یہ کہانی میں آج آپ کو سناتا ہوں،پاکستان نے ہمیں کیادیا ہے ؟یہ بھی دلی کی کہانی میں پنہاں ہے ۔ہندو مسلمانوں کے خلاف ہر بری حرکت مقدس مہینے یا دن میں کرتے ہیں ۔کپل مشرا نے جمعہ کے روز نماز پڑھنے سے روکا ،مساجد کو شہید کرنے کی ناپاک جسارت کی۔سب سے بڑی مگر گندی جمہوریت میں سب سے بڑی اقلیت محفوظ نہیں ،ان حالکات میں بھی 67گھنٹے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ غائب تھے ،کیوں ؟۔
آئو دہلی چلتے ہیں۔ترقی یافتہ ملک کہلانے والے بھارت میں ترقی یافتہ شہر دہلی کا ہی خاصہ ہے ۔وہاں بجلی اکثر غائب رہتی ہے ،سیوریج سسٹم ہے نہیں۔ مرد، خواتین اور بچے گندے پانی پرتیرتے ہوئے آبادی سے نکلتے ہیں۔ بارش کے دنوں میں دلی کا ’’چاند باغ‘‘ بڑے سے جوہڑ کامنظر پیش کرتا ہے۔بڑی جمہوریت کا بڑا جوہڑ۔
چاندنی چوک،صدر بازار،اناج منڈی،گاندھی نگرکی بڑی منڈیاں ہیں۔کئی ہزار ایکڑ رقبے پر محیط ان منڈیوں میں روزانہ کئی ہزار ٹرکوں پر اجناس فروخت ہو تا تھا ، سرشام واپس جانے ولاے ٹرکوں سے شمالی دہلی کی شاہراہوں پر ٹریفک جام معمول تھا۔ اب نہیں، اب ان شاہراہوں پر بھوت برہمن کی سوچ کاقبضہ ہے۔ شمال مشرقی دہلی میں ’’چاند باغ‘‘ کو ایسا گرہن لگا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس علاقے میں وہ تین دن کتنے اذیت ناک تھے، 23فروری سے 25فروری 2020ء تک ۔گھروں میں تالا بند خواتین سانس روکے ہوئے تھیں، اپنے بچوں سے کہہ رہی تھی لو سانس بھی آہستہ ،کوئی ہندو سن نہ لے۔کوئی تین دن گھر سے نکلا نہ روٹی پانی کی فکر کی۔صرف جینے کی تمنا تھی ، بچوں کی جان پیاری تھی اسی لئے موت سے ڈر لگتا تھا،سب سہمے ہوئے تھے۔ہونٹ خاموش تھے۔ ’’چاند باغ‘‘ دھواں دھواں تھا، ہر جانب راکھ کے ڈھیر تھے، جہاں تین دن پہلے زندگی مسکراتی تھی وہاں موت کا سا منظر تھا۔
 ’’تیرا نام کیا ہے؟
کہاں کا رہنے والا ہے؟
 تیرانبی (کریم ﷺ )کون ؟
یہ سوال ہی وجہ ہلاکت بنے ہوئے تھے، ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ پٹرول کے جلنے اور آگے کے شعلے میں سب کچھ خاکستر ہورہا تھا، کہیں کہیں سے سسکنے اور رونے کی آوازیں سکوت کو چیرتی ہوئی نکل جاتیں ، تیز تیز قدموں کی چاپ سنائی دیتی پھر سب کچھ شور شرابے میں ڈوب جاتا۔یہ سب سے بڑی جمہوریت کا سب سے بڑا د ن تھا،بھاری دن تھا،بڑی سرکار امریکہ کے بڑے صاحب دلی میں براجمان تھے۔ پل پل کی خبر ان کے سامنے تھی ، امریکی نظام نے اپنے صدر کو ہر گولی کی آواز سے آگاہ کیا لیکن صدر نہ مانے ،سب سے گندی جمہوریت میں خون خرابے سے انہیں کیا سروکار،ان کا مشن ادھوراتھا، کیا تھا کسی کو پتہ نہیں۔
 چوتھے دن جب خواتین نے گھروں سے باہر قدم نکالے، ہر طرف آگ کے شعلوں سے سیاہ تھی،کچھ بھی تونہیں بچا تھا۔
اچانک کسی نے آواز لگائی گھر واپس جائو،پولیس تمہیں بھی مارے گی، دھر لے گی ، آگ لگانے کے الزام میں تھانے میں بند کر دے گی، یہاں قانون نہیں ،پولیس کا حکم چلتا ہے،قانون حکمران جماعت کی لونڈی ہے۔ ان کی جیب میں ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں ،ایسا پکڑیں گے کہ ضمانت کرانے والے بھی جیل جائیں گے، کوئی نہیں بچے گا۔ آوازیں سنتے والی خواتین چوتھے دن بھی گھروں میں دبک گئیں ،گلیوں میں ایک بار پھر سناٹا تھا۔لیکن مسلح ہندو جتھوں کی کمی تھی۔سب اپنے اپنے شہر کو واپس جا چکے تھے۔مشن مکمل تھا۔نسل کشی کا مشن،مسلمانوں سے ایک علاقہ خالی کرانے کامشن،اگلے الیکشن میں من مانی کرانے کا مشن۔
19 سالہ زیبا سیفی بھی ان خوف زدہ عورتوں کے ساتھ تھی ۔۔۔’’ہم گھر واپس نہیں جائیں گے‘‘ اس کی آواز خواتین کے دلوں کے آر پار ہوگئی ۔’’یہ کیا چاہتی ہے، اسے موت سے ڈر نہیں لگتا‘‘۔کسی نے ہولے سے کہا۔کوئی سن نہ لے،ایسے بولی۔  
’’ہم دیکھیں گے ، تین دنوں میں ہم نے کیا کھویا ہے ،ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے، اب نہیں پیچھے ہٹیں گے‘‘۔لڑکی چلائی۔’’میں نہیں ڈرتی، سب آئو میرے ساتھ‘‘۔ اس کی باریک آواز پولیس کے علاوہ پورا محلہ سن رہا تھا۔’’آئو میرے ساتھ‘‘۔19سالہ بچی کی جرات نے سب کو حیران ،پریشان کر دیا۔موت کا سایہ جیسی پولیس سامنے تھی۔ بیچ میں ایک لڑکی اکیلی۔ماحول کی دہشت بھی اس کے قدم نہ روک سکے۔
محلہ شش و پنج میں تھا۔بچی کی سنتی ہیں تو یہ آخری شام بھی ہو سکتی ہے، ملک الموت سامنے ہے، جیل بھی مقدر بن سکتی ہے یا اللہ کدھر جائیں، کس کی سنیں، لیکن ماں نے بچی کا دل نہیں توڑا ۔
’’ہندومیڈیا الگ ہی کہانی سنا رہا ہے، ہمیں اپنے اوپر ہونے والی ظلمت کی کہانی خود ہی بیان کرنا ہو گی‘‘۔ یہ کہہ کر بچی نکل پڑی،کسی کی ایک نہ سنی۔باہر نظر پڑنے کی دیر تھی ،اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں میں موٹے موٹے موتی تیرنے لگے ۔۔’’پوری زندگی کھو دی‘‘۔۔اس کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔
 خوف زدہ ماں نے پلو کھینچا، زیباسیفی جوان تھی ،ماں کی ہڈیوں میں دم خم کہا ں تھا ،زیباکھینچ کر آگے نکل گئی۔۔۔’’ہم ایک بار پھر دھرنا دیں گے ،احتجاج کریں گے،یہ ہندو میڈیا ہمیں ہی دہشت گرد بتا رہا ہے‘‘۔ اس نے پھر اپنا سفر شروع کیا۔
سامنے بڑی سڑک تھی۔’’چاند باغ ‘‘کا مین بازار اسی کے نکڑ سے شروع ہوتا تھا، بازار کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہا تھا۔اس سڑک پر کوئی دکان، شو روم اور گھر سلامت نہیں بچا تھا ۔پیر چاند باغ کی عبادت گاہ بھی یہیں ہوا کرتی تھی ۔ یہ علاقہ انہوں نے ہی آباد کیا تھا، ان کے نام پر ہی ’’چاند باغ‘‘ کہلایا۔اب چاند باغ تھا نہ مزار اور نہ ہی بازار۔چاند بابا صاحب کامزار بھی جلا دیا تھا، قبر بھی اندر ہی تھی۔’’یہ کوئی نہیں بتائے گا کہ ریڈیکل ہندوئوں نے کس بے دردی سے مزار کو شعلوں کی نذ ر کر دیا تھا‘‘۔راکھ تھی جو ہر جانب اڑ رہی تھی۔اسی سڑک پر پٹرول پمپ کی باقیات دکھائی دیں۔دو دن پہلے یہی پمپ کار وں کو رواں رکھتا تھا،اس کی راکھ سے کہیں کہیں دھواں اٹھ رہا تھا ۔
ہاں ،ہندوئوں کے تمام گھر،اینٹ اینٹ سلامت تھی۔ ہر گھر کی بتیاں روشن تھیں،پہلے کی طرح۔مسلمانوں نے دوستی کی انوکھی مثال پیش کی ، اپنے گھروں دھواں دھواں تھے مگر ہندوئوں کا تحفظ کیا۔
یہاں پولیس نے زیبا کو روکا، سپاہی راستے کی دیوار بن گئے،’’ صحافی اندر نہیں جا سکتے ، مکانات کو اندر سے دیکھنے کی اجازت نہیں‘‘ ۔ا آواز گرجدار تھی۔ اگریہی سپاہی تین رو زقبل ریڈیکل ہندوئوں کا راستہ روک لیتے تو بھارت کے چہرے پر یہ بدنما داغ نہ لگتا ،جسے دھونے میں ایک مدت گزر جائے گی۔ ’’یہ کیا بات ہوئی، پولیس دو عورتوں کو باتیں کرنے سے کیسے روک سکتی ہے؟‘‘وہ بولی۔ زیبا کے لفظوں میں سچائی کی طاقت تھی، پولیس والے ذرا پیچھے ہٹ گئے۔بی بلاک میں داخل ہونے کے لئے لوہے کے گیٹ سے گزرنا پڑتا تھا۔کپل مشرا پہلے کبھی عام آدمی پارٹی میں ہوا کرتا تھا، وزیر بھی بن بیٹھا تھالیکن عزت راس نہ آئی ، ا پنی حرکتوں سے نکالا گیا تھا۔اسی بدبخت کا نام بھی لوہے کے گیٹ پر لکھا تھا۔یہ گیٹ صحیح سلامت تھا۔حملہ آوروں نے کپل مشرا کے گیٹ کو ہاتھ تک نہ لگایا،گیٹ کے پیچھے سے 60سالہ عورت زیتون اپنی رام کہانی سنانا چاہتی تھی، آواز میں درد بھی تھا اورغصہ بھی۔ بے بسی تو چہرے پر نقش ہو چکی ہے، لکیروں کی مانند۔
’’آج میڈیا طاہر حسین کا نام لے رہا ہے، مسلمانوں پر الزام دھر رہا ہے،کپل مشرا کا کوئی نام کیوں نہیں لیتا،اس کی اشتعال انگیز تقریر پر یہ پرامن علاقہ جل کر راکھ ہو گیا‘‘۔زیبا سیفی نے دل کی بات کہہ دی ۔ 
شکنتی دیوی بولی۔۔۔’’ہم 40برسوں سے اکھٹے ہیں،غمی خوشی بھی سانجھی ہے‘‘۔
درگاہ سے ذرا فاصلے پرمندر تھا، صحیح سلامت تھا، پہلے کی طرح چمک رہا تھا‘‘۔ہم نے ایک ایک اینٹ کی حفاظت کی تھی ‘‘۔عورت بولی۔
جبکہ چاند باغ کی درگاہ پر ہندی زبان میں لکھا تھا۔۔۔’’مسلمان اور ہندو کی شان،ترنگا بھارت کی پہچان‘‘  
ایک ہندو چلایا۔۔۔’’ اس کے کان مت بھرو، یہ درگاہ خود مولوی نے جلائی ، الزام ہم پر دھرتے ہیں‘‘۔کان بھرنے کی باتیں کرنین والکوں نے یہ بات خفیہ رکھی کہ درگاہ میں بھی کئی لعود شہید ہوئے تھے، خود امام نے بھی جان نثار کی تھی ۔مسجد کے مولوی اور نائب مولوی بھی شہید ہوئے ،مردے کبھی آگ لگا سکتے ہیں ، مرنے والے بھی تباہی پھیلا سکتے ہیں۔یہ ہم نے پہلی مرتبہ سب سے بڑی جمہوریت میں سنا۔
713ایف آئی آریں درج ہو چکی ہیں لیکن مسلمانوں کو اب تک کچھ نہیں ملا۔وہ اب تک کیمپوں میں مقیم ہیں۔ ان کیمپوں میں ،جو سکھوں نے بھی قائم کئے ہیں ۔وزیر اعلیٰ کجریوال امیت شاہ سے ملاقات کے بعد سے ا ن کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔1999گرفتاریاں ہو چکی ہیں جن میں مسلمان زیادہ ہیں،یہ وہ مسان میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جنہیں ہندو اپنے ستھے یہ کہہ کر لائے تھے کہ آئو دہلی میں تٹرمپ کی مصروفات دیکھنے چلتے ہیں کمیربے کی آنکھ نے دیکھ لیا اور اب جیلوں کی ہوا کھا رہے ہیں ۔یہ بببی آپ کو نہیں پتہ ہو گا کہ جس مسلمان کی تصویر دکھائی جا رہی ہے وہ بھی ہندوحملہ آوروں کا ہی ساتھی تھا، فائرنگ کے بعد یہی شخص ہندو پولیس کی جانب روپوش ہو گیا تھا،افگر اس نے صحیح صحیح نشانہ لیا تو کوئی ایک پولیس اہل کار بھی ا س کی فائرنگ سے زخمی کیوں نہیں ہوا؟۔یہ مودی میڈیا آپ کو کبھی نہیں بتائے گا۔اس وقت بھی 
سینکڑوں مسلمان لاپتہ ہیں،بچے بھی غائب ہیں۔
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں

 کس نے کہاں پیدا ہونا ہے اور اُس کی پرورش کس نے اور کیسے کرنی ہے یہ سب فیصلے اُس قادرِمطلق نے کر رکھے ہیں اور اُن کو کوئی تبدیل بھی نہیں کرسکتا جب تک وہ نہ چاہے  

مزید پڑھیں