☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن(طیبہ بخاری ) خصوصی رپورٹ(ڈاکٹر مختار احمد عزمی) متفرق( حامد اشرف) غور و طلب(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) متفرق(حکیم نیازاحمد ڈیال) کلچر(ایم آر ملک) خصوصی رپورٹ(عابد حسین) افسانہ(وقار احمد ملک) دین و دنیا(مفتی محمد وقاص رفیع) کچن کی دنیا دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) کھیل(منصور علی بیگ) متفرق(ڈاکٹرمحمد رمضان عاصی) خواتین(نجف زہرا تقوی)
اگلا بجٹ ۔۔۔ہماری سوچ کا امتحان

اگلا بجٹ ۔۔۔ہماری سوچ کا امتحان

تحریر : صہیب مرغوب

04-19-2020

 دل دھڑکانے سے پہلے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں،ہم سب کے لئے خوش خبری سے مضمون کا آغاز کرنا کتنا اچھا لگ رہاہے۔

 

 

اقوام عالم کے لئے بہترین خبر یہ ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس کو ختم کرنے کے لئے 70ویکسینوں کی تیاری پر کام ہو ر ہاہے جن میں سے کئی ایک تو انسانوں پر ٹرائل کے مرحلے میں بھی داخل ہو چکی ہیں۔ خیال ہے کہ اگلے چند مہینوں کے اندر اندر ہی کورونا کو کچلنے کی ویکسین تیار کر لی جائے گی۔اس ضمن میں مختلف ادارے کئی طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ کسی کے پیش نظر ڈی این اے ہے یعنی کئی ادارے وائرس کے ڈی این اے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی دوابنا رہے ہیں۔اس قسم کی دوا کو ’’DNA plasmid vaccine Electroporation device‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔کچھ کمپنیاں ’’RNA ‘‘ کو پیش نظر رکھتے ہوئے دوا بنا رہی ہیں۔اسے ’’LNP-encapsulatedmRNA‘‘کہا گیا ہے۔بعض کمپنیوں کے پیش نظر ’’Inacctivated‘‘ طریقہ ہے۔ایسی دوا بنانے والوں میں چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔کچھ اداروں نے امیون سسٹم کو بھی پیش نظر رکھا ہے اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد بھی حاصل کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا کہ اب یہ وائرس زیادہ دیر تک انسانوں کو تنگ نہیں کر سکے گا، اس کا علاج ہونے والا ہے۔
اگلا مہینہ نئے وفاقی میزانئے کے پیش کرنے کا ہے لیکن کورونا نے ہمیں اس جانب توجہ مرکوز کرنے کا وقت ہی کہاں دیا ہے۔کبھی ایک بیمار تو کبھی دو بیمار، ہم جائیں تو کہاں جائیں۔ ایک نہیں، کئی خدشات ان کے ذہنوں میں جنم لے رہے ہیں۔پٹرول سے لے کر غذا ئی مصنوعات کی کاشت اور پھر سپلائی کا نظام ان کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ آسمان سے زمین پر ’’دیکھنے ‘‘والوں نے اچھی اطلاع نہیں دی، خلائی سیاروں سے ملنے والی تصاویر نے دنیا کے ہرے برے کھیتوں کی جگہ بنجر، بے آب و گیاہ زمین کی تصاویر بھجوائی ہیں، جہاں کبھی اس موسم میں لہلہاتے کھیت ہوا کرتے تھے وہاں اب دھول اڑ رہی ہے، کاشت کار خال خال نظر آ رہے ہیں۔ جہاں کبھی گائے، بھینسیں چارہ کھاتی نظر آتی تھیں، دودھ سے بھری گاڑیاں فراٹے بھرتی تھیں ، روپے کی ریل پیل تھی، اب یہاں لاکھوں لٹر دودھ نالیوں میں بہتا نظر آتا ہے،کہیں دودھ سپلائی کرنے والے کو موت آ گئی ہے اور کہیں دودھ پینے والے کو موت نے گھیر لیا ہے۔
جہاں کبھی کھیت ہوا کرتے تھے وہاں اب آسمان سے ٹنٹس ہی ٹنٹس نظر آ رہے ہیں کسی میں تابوت ہیں تو کسی میں کورونا کے علاج کے لئے بنائے گئے ہسپتال قائم ہیں۔خوبصورت پارکس اور پھولوں سے بھرے میدان بہت کم رہ گئے ہیں،ان کی جگہ عارضی مردہ خانوں نے لے لی ہے۔عالمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں غذائی کمی کا سامنا بھی ہو سکتا ہے، ہمیں ابھی سے تمام غذائی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے ان کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دینا چاہیے۔دنیا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بہت مزہ لے لیا اب اس کی اڑان اونچی ہونے والی ہے، عالمی ماہرین چند ہفتوں کے اندر اندر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15ڈالر فی بیرل اضافے کی بد خبری سنا رہے ہیں۔ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کیونکہ عالمی منڈیوں میں پرانے معاہدوں کا ذکر کرتے ہوئے یہاں پٹرول کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی تھی لہٰذایہ مہنگاہو یا سستا ،فوری فرق پڑنے کا اندیشہ نہیں۔یہ حکومت کے محتاط رہنے کا وقت ہے جس کے خزانے میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔
یہ کڑا وقت ہے، آج کے سوچنے کا نہیں کل کی فکر کیجئے، ابھی خزانے پھر بھی بھرے ہوئے ہیں ،کل کا سوچناہے کہ خزانہ کیسے بھرے گا؟ماہرین کہتے ہیں مصیبت ان رہنمائوں کو گھیر لے گی جو آج بھی اچھا نہیں سوچ سکتے ، کل ان کا نہیں ہو گا۔ 
  ہماری منڈیاں کب تک کھلیں گی ؟

 ہم اپنے بجٹ کے لئے ٹیکسٹائل مصنوعات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں لیکن عالمی تجارت کا مکمل طور پر کھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ رواں مالی سال میں جولائی تا فروری تک کے اعداد و شمار کے ، مطابق یورپی ممالک کا ہماری تجارت پر بظاہر کوئی فرق نہیں پڑا۔یہ پرانے اعداد و شمار پر برقرار ہے۔ شمالی یورپ ہماری اچھی منڈی ہے۔برطانیہ ،ڈنمارک، فن لینڈ، ناروے ، سوئیڈن وغیرہ زیادہ اہم ہیں۔ان ممالک میں ہماری تجارت کا حجم پہلے ہی کم ہو کر 1.5ارب ڈالر رہ گیا ہے تاہم یہ کمی کئی سال سے ہو رہی ہے، کورونا وائرس کے دور میں زیادہ کمی نہیں ہوئی لیکن بہرحال ہوئی ہے۔لہٰذا ان منڈیوں میں ہمیں شائد کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بیرون ملک مال سپلائی کرنے والوں سے رابطہ ہوا ہے، وہ کہتے ہیں کہ متعدد تاجروں کو پہلے اپریل میں مال تیار کرنے کے نوٹسز دیئے تھے لیکن اب مئی کے آخر تک کچھ بتائیں گے۔ یعنی مئی کے آخری ہفتے میں شائد عالمی تجارت بڑی حد تک کھل جائے ۔
ان آٹھ مہینوں میں مشرقی یورپی ممالک کو ہم نے تقریباََ 3.95َارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں،ان ممالک میں روس، ہنگری، رومانیہ اور یوکرائن اہم ہیں۔یہ ممالک کورنا وائرس سے زیادہ متاثر بھی نہیں ہیں۔لیکن یہ منڈیاں بھی ہمارے ساتھ ہیں۔بلکہ ان ممالک کو ہماری تجارت میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔جنوبی یورپ میں اٹلی، سپین اور یونان وغیرہ شامل ہیں ۔یہ بھی ہماری اچھی منڈی تھے لیکن اب یہ خط سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے،یہاں ہماری برآمدات1.36ارب ڈالر کی تھیں،اب اس میں کمی کا حل نکال لینا چاہے۔کیونکہ جنوبی یورپ میں ہماری منڈیاں بری طرح کورونا وائرس سے متاثر ہوئی ہیں۔ مغربی یورپ میں بیلجیئم،فرانس،جرمنی،نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ بھی شامل ہیں یہاں بھی ہماری جولائی تا فروری برآمدات قدرے مستحکم رہی ہیں۔ 
امریکہ سے اب تک کوئی خبر نہیں آئی، وہاں رواں مال سال کے پہلے آٹھ مہینوں میں ہماری برآمدات کا حجم 2.8ارب ڈالر کا تھا، اس میں کوئی قابل ذکر اتار چڑھائو نہیں آیا۔لیکن اب آسکتا ہے۔کیونکہ فروری تک امریکہ وائرس کا حملہ اس قدر شدید نہیں ہوا تھا۔یہ مارکیٹ بھی توجہ کی محتاج ہے۔مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کے ساتھ عالمی تجارت بہتر ہوئی ہے لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں بھی ان ممالک میں کسی بحران کا سامنا شائد نہ کرنا پڑے،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی میں شامل ہیں۔
 

  لیکن کیا فضائی اور سمندری سفر بھی

 

  کھل جائے گا؟ 
  میرے خیال میں مکمل طور پر نہیں یا موجودہ شکل میں نہیں۔مجھے امریکہ سے آنے والے ایک فون سے پتہ چلا کہ اب عالمی فضائی سفر مہنگا ہونے والا ہے، مشرق وسطیٰ کی کئی کمپنیاں عالمی فضائی سفر کھولنے کے حق میں ہیں انہیں اپنے شہریوں کو عید منانے کے لئے اپنے ملک میں واپس لانا ہے۔ اس ضمن میں ان کمپنیوں نے فضائی سفر کو کنٹرول کرنے والے ادارے ’’آئیٹا‘‘سے بھی رابطہ قائم کیا ہے۔ فی الحال مسافروں کی تعداد میں کمی کی تجویز سب سے اہم ہے ۔کئی کمپنیوں نے مان لیا ہے کہ طیاروں میں ہر قطار میں درمیان والی سیٹ خالی رکھی جائے گی۔اسی طرح ہر قطار کے بعد ایک پوری لائن خالی رکھی جائے گی یعنی ہر 9نشستوں میں سے 4نشستوں پر مسافرسوار ہوں گے باقی نشستیں خالی رکھی جائیں گی۔ کئی کمپنیوں نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ان کے جہاز میں کوئی فضائی میزبان نہیں ہو گا یا نہیں ہو گی۔ہر مسافر کودروازے پر لنچ یا ڈنر باکس تھما دیا جائے گا۔اس سے ٹکٹ مہنگا ہو جائے گا،حکومت یہ بھی نظر میں رکھے کہ آئندہ پی آئی اے کو چلانے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ سمندری جہازوں کو کیونکر محفوظ بنایا جا سکتے گا؟کئی سمندری جہاز اب تک ’’وائرس اگل ‘‘ رہے ہیں۔ انہیں محفوظ بنانے کے کوڈ اب تک تیار نہیں ہو سکے۔لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سمندری جہازوں کا سفر کب سے پورے طور پر شروع ہو سکے گا۔ہم اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی اپنا بجٹ بنا سکتے ہیں۔ 

  امریکہ کا غذائی بحران، ہم کتنے متاثر ہو سکتے ہیں؟

 امریکہ میں ڈالر ختم ہوتے جا رہے ہیں ؟امریکی ریاست وسکنسن میں گاہک نظر نہیں آ رہے ،وہاں کئی لاکھ گیلن دودھ نالیوں میں ضائع کر دیا گیا ہے۔ایک اطلاع کے مطابق 37لاکھ گیلن دودھ روزانہ ضائع کیا جا رہا ہے۔فلوریڈا میں بھی کھیت خالی پڑے ہیں۔کئی رقبوں پر فصل کاشت نہیں ہو سکی اور کئی رقبوں پر کاشت کی گئی فصلیں ضائع ہو رہی ہیں ان کا کوئی گاہک نہیں۔وال سٹریٹ جرنل نے ان انڈوں پر بھی مضمون لکھا جن سے نکلنے والے مرغے اور مرغیاں لاکھوں ٹن گوشت پیدا کر سکتے تھے لیکن کاشت کاروں کے پاس انہیں ضائع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔کچھ کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لئے ایسا کر رہے ہیں،لیکن وہ خود یہ بات نہیں مانتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے رفاہی اداروں سے ابھی رابطہ قائم کیا ہے لیکن ان کے پاس بھی وقت نہیں ۔وہ بھی مصروف ہیں ۔ان کی گاڑیاں بھی پورے طور پر امدادی سامان کی نقل و حمل میں مصروف ہیں۔اس سے امریکہ کی سپلائی چین مکمل طور پر ٹوٹ گئی ہے۔اس کے بحال ہونے میں وقت لگے گا امریکہ میں اضافی خوراک شائد فراوانی نہ ہو، پہلے وہ اپنی ضروریات کو پورا کریں گے۔چنانچہ ہمیں اناج کے ذخائر کی ہر طرح سے حفاظت کرنا چاہیے۔

  لاک ڈائون اور غربت

 لاک ڈائون سے دنیا بھر میں غربت میں ناقابل بیان حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ایک بھارتی ٹیلی ویژن کی ویب سائٹ پر رکھی جانے والی ایک تصویر نے عالمی ضمیر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔ایک دودھ والے نے سپلائی کا راستہ نہ ملنے پر اپنا تمام دودھ سڑک پر ضائع کر دیا ہے، یہ دودھ بہتا ہو اپوری سڑک پر پھیل گیا ہے ، اس دودھ کوایک جگہ چار کتے پی رہے ہیں اور انہی چار کتوں کے قریب ہی ایک انسان سڑک پر زبان رکھے دودھ چاٹ رہا ہے۔لاک ڈائون انسان کی زندگی کو بچا سکتا ہے لیکن اگر حکمرانوں نے خیال نہ کیا تو کتے اور انسان کا فرق بھی مٹا سکتا ہے۔ لاک ڈائون اچھی چیز ہے لیکن اس سے پیدا ہونے والی مفلسی اور بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی ۔ ہمارے نئے بجٹ میں مفلسوں اور غریبوں کو امید کی کرن ضرور نظر آنا چاہیے۔

   عالمی امیگریشن کو خطرہ

 میرے خیال میں عالمی امیگریشن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔کئی ممالک  نے اپنے بارڈر مکمل طور پر سیل کر دیئے ہیں ان کے جلد کھلنے کا کوئی امکان نہیں اس سے کروڑوں امیگرنٹس کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ بیرون ملک روزگار کی امید قائم رکھنے والے یہ امیدیں اب توڑ دیں ۔البتہ عین ممکن ہے کہ اب امیگریشن کی جگہ گھر بیٹھے ہی جاب مل جائے۔ ایک عالمی ادارے نے ’’گلوبل امیگریشن مارکیٹ از شیپڈ بائی اے ون ٹیکنالوجی‘‘کے زیر عنوان یہی بتایا ہے کہ امیگریشن کی جگہ اے ون ٹیکنالوجی یعنی مصنوعی ذہانت بھی لے سکتی ہے اور امیگریشن کی جگہ کوئی عالمی کمپنی گھر بیٹھے بھی کام دے سکتی ہے۔ لاتعداد پاکستانی بیرون ملک سے واپس بھی آ سکتے ہیں اوران کے لئے روزگار تلاش کرنے یا روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ذمہ داری بھی توحکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ 

 

  ترسیلات زر میں کمی

 ہم نے بہت عرصہ ترسیلات زر پر بھروسہ کیا۔یہ مسلسل بڑھتی ہی رہیں۔اور یہ بڑھتے بڑھتے 22ارب ڈالرت تک پہنچ چکی ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ اس سطح پر برقرار نہ رہ سکیں۔ہمیں بیرون ملک افرادی قوت کے لئے نئے مواقع تلاش کرنا چاہیں، یہ ابھی بند نہیں ہوئے۔

 

  روزگار کے نئے مواقع

 بیرون ملک صحت پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے ہم نرسنگ کے شعبے کو ترقی دے کر بیرون ملک بھجوا سکتے ہیں ۔میل اور فی میل کی کوئی تخصیص نہیں۔بیرون ملک چونکہ سارا نظام ہی خراب ہو گیا ہے لہٰذا ہر شعبے میں پائی جانے والی مشکلات کو دور کرنے کے لئے جلد یا بدیر بڑے ممالک کو بھی دروازے کھولنا پڑیں گے۔ اپنی افرادی قوت کے ساتھ وہ اپنے نظام کو شائد نہ چلا سکیں۔ چنانچہ ہمیں تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری پر بھی توجہ مرکوز کر دینا چاہیے۔

 

  دنیا بھر میں چھوٹے بزنس کی اہمیت 

 حکومت نئے بجٹ مکیں بڑے کاروباری اداروں کو اہمیت دے گی۔ ان کے رابطے ہیں اور وہ اپنا موقف حکومت تک پہنچانے میں کامیاب بھی ہو جائیں گے۔ لیکن دنیا بھرمیں کورونا وائرس سے چھوٹے کاروبار بھی اتنے ہی متاثر ہوئے ہیں جتنا کہ بڑے بزنس مین ،لیکن اضافی سرمایہ نہ ہونے کے باعث چھوٹا بزنس مین لاک ڈائون میں رہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔حکومت نئے بجٹ میں اسے بھی سہارا دے۔

 

  تعلیم ادارے

 ایک عالمی اطلاع کے مطابق 600ارب ڈالر کی تعلیم انٹرنیٹ پر چلی جائے گی۔لاک ڈائون کی طوالت سے طلبا کا ایک سال ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے جسے بچانے کے لئے ہی کئی عالمی یونیورسٹیوں نے  SAT اور بعض دوسرے امتحانات پاس کرنے کی شرط بھی ختم کر دی ہے۔60کروڑ بچے تعلیمی اداروں میں نہیں جا سکے ۔ہمارے ہاں بھی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔حکومت ان اداروں کو ان کے پیروں پرکھڑاہونے کے لئے ان کی مدد کرے۔ 

  

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ایک طرف دنیا کورونا جیسی منفرد بیماری سے لڑنے میں مصروف ہے اب تک لاکھوں جانیں اس آفت کی نذر ہو چکی ہیں اور وبا ء ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی نہیں پتہ کہ اس بیماری سے کب تک لڑنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایک بار ختم ہونے کے بعد یہ دوبارہ سے نہیں پھوٹے گی ۔ ایک ہفتہ قبل انہوں نے لاک ڈائون میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے قوم پر روز دیا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے ان تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بیماری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی طرف واپس جانا پڑے گا اور وہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے

مزید پڑھیں

پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں عام آدمی کے ذہن میں جو خوف اور خدشات موجود ہیں ،شاید دنیا کی کسی اور قوم کے لوگوں میں موجودنہ ہوں۔ہمارے ہاں پٹرول اور اِس سے متعلق دیگر مصنوعات کو سونے اور چاندی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

   یہ شاید فروری کے دوسرے ہفتے کی بات ہے جب پڑوس سے ایک آنٹی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئیں اور بتایا کہ اُن کے بیٹے کی منگنی ہو گئی ہے اور اُس نے گاڑی بھی خریدی ہے۔    

مزید پڑھیں