☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) متفرق(احمد صمد خان ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) رپورٹ(ایم ابراہیم خان ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(طیب رضا عابدی ) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) غور و طلب(امتیازعلی شاکر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا کی رائے(ظہور خان بزدار)
بند ہوتے کاروبار، معیشتوں کا بُرا حال ، حکومتیں پریشان

بند ہوتے کاروبار، معیشتوں کا بُرا حال ، حکومتیں پریشان

تحریر : سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد

04-26-2020

 دنیا کو کورونا کے مرض میں مبتلا ہوئے5 ماہ کا عرصہ ہو چلا ہے اور اب تک یہ وبا ء ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ، اس عرصے میں اس وباء نے بلا تفریق تما م انسانوں کا ہی نہیں بلکہ دنیا میں پھیلے مختلف ممالک اور عالمی معیشت کا بھی کچو مرنکال کر رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے عالمی قوتیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلا کرتی تھیں ،جب اور جہاں دیکھومسلمانوں کا خون ہو رہا ہوتا تھا ۔
 

 

اپنے خطے میں اگر دیکھیں تو قیام پاکستان کے وقت برصغیر کے مسلمانوں نے کس قدر قربانیاں دیں لاکھوں مسلمان شہید کئے گئے ، ہندوستان کا کوئی گلی ، محلہ ایسا نہ ہو گا جو مسلمانوں کے خون سے رنگا نہ ہو ، یہی نہیں بلکہ مسلمانوں کا خون تو اب بھی ہندوستان میں بہت ارزاں ہے ،یہی تو وہ خون ہے جس سے جنونی ہندو اب بھی اکثر اوقات اپنے جنوں کی آگ بجھاتے رہتے ہیں اور انہیں کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔ نریندرمودی جب سے وہاں برسر اقتدار آئے ہیں اس وقت سے وہاں مسلمانوں کیساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے ، حال ہی میں وہاں متعارف کرائے گئے شہریت قانون کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو ا وہ قیام پاکستان کی تاریخ دہرانے کے مترادف تھا مسلمانوں پرظلم ، جبر اور تشدد کے ایسے پہاڑ توڑے گئے کہ اسے دیکھ کر انسانیت کانپ اٹھی ہو گی ، ہندوئوں کی مسلمانوں سے نفرت یہیں پر بس نہیں ہوتی بلکہ اب کورونا کی آڑ میں بھی مسلمانوں سے نفرت کا اظہار دیکھنے میں آ رہا ہے اور اطلاعات ہیں کہ مختلف ہسپتالوں میں کورونا میں مبتلا مسلمانوں کے وارڈ بھی ہندوئوں کے وارڈ سے علیٰحدہ کر دئیے گئے ہیں، سب سے پہلے یہ اقدام مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں کیاگیا ، جہاں ہسپتال انتظامیہ نے مسلمانوں مریضوں کے نام لے لے کر انہیں ہندوئوں کے وارڈ سے علیٰحدہ کیا اور دوسرے وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کو بتا یاگیا کہ ایسا کرنے کا حکم گجرات کی ریاستی سرکار کی طرف سے ملا ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر مزید بات پھر کسی موقعہ پر مزید تفصیل سے بات ہو گی ، بھارت سے نظر ہٹائیں تو فلسطین ، کشمیر ، بوسنیا، عراق ، افغانستان ، میانمار اوران سمیت بعض دیگر ممالک جہاں مسلمانوں کا خون بے حد ارزاں رہا لیکن انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں جن میں امریکہ اور بہت سے دیگرترقی یافتہ ممالک شامل ہیں کو آج تک بات کرنے یا آواز اٹھانے کی زحمت نہیں ہوئی تھی لیکن اب جب کورونا کی صورت میں اپنے ہاں لاشیں گرتی دکھائی دیں تو سب کو خدا یاد آ گیا ، اب تو ان کے ہاں کھلے عام اذانیں بھی ہو رہی ہیں ، مسلمانوں پر نمازوں کے حوالے سے عائد پابندیا ں نرم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ اور تو اورامریکہ کے صدر بھی سرکاری تقریبات میں قرآن پاک کی تلاوت سنتے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ ہے حقیقت کہ ایک جھٹکے میں سب کو اپنی اصلیت معلوم ہوگئی تو طاقت کا گھمنڈ بھی ختم ہو گیا۔اور ایسا لگتا ہے کہ انہیں اب ااپنے نہیں بلکہ اللہ کے بااختیار ہونے پر بھی یقین ہونے لگا ہے ۔

 موجودہ حالات میں انسانی کیفیت یہ ہے کہ ہرکسی کو اپنی اپنی پڑی ہے اور ہرملک دوسرے ملک کو دیکھنے کی بجائے صرف اپنی طرف دیکھ رہا ہے بند ہوتے ہوئے کاروبار،بگڑتی ہوئی معیشت نے دنیا کی بیشتر حکومتوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے، اپنے آپ کو سپر پاور سمجھنے والا امریکہ بھی ان حالات سے پریشان ہے جسے ایسے دن بھی دیکھنے کو ملے کہ اس کے ہاں ایک ہی دن میں2سے اڑھائی ہزار اموات بھی دیکھنے کو ملیں اس صورتحال نے امریکی صدر کو ایسا پریشان کیا کہ انہوں نے اس کی ذمہ داری عالمی ادارہ ٔصحت پر ڈالتے ہوئے اسکی امدا د ہی روکنے کی دھمکی دے ڈالی ۔ واضح رہے کہ امریکہ اس ادارے کو سالانہ 50کروڑ ڈالر زکی امداد دیتا ہے ، صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں ادارے کی کارکردگی پربھی کئی سوال اٹھائے اور کہا کہ یہ ادارہ اپنے بنیادی فرائض ادا کرنے میں ناکام رہا ۔ انہوں نے اس کے احتساب کی ضرورت پربھی زور دیا اور کہا کہ اس ادارے کی ناکامی کی وجہ سے دنیا میں کورونا کے کیسز20 گنا بڑھ گئے ، ان کے مطابق اگر ڈبلیو ایچ اواپنے فرائض کی ادائیگی میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا تو اس وباء کو اتنے بڑے پیمانے پر پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا ۔امریکہ کے علاوہ برطانیہ ، جرمنی ، فرانس ، اٹلی ، سپین ، بیلجیم ، ڈنمارک ، ہالینڈ، ترکی ، انڈونیشیاجیسے ممالک بھی اس کی لپیٹ میں ہیں ، اب تو اسرائیل میں بھی اس بیماری نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا ہے جس کے باعث یہودیوں کو بھی اپنی فکر پڑ گئی ہے مگر زیادہ پریشانی غریب یا ترقی پذیر ممالک کو ہے جو کورونا کے بوجھ زیادہ دیر برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ پاکستان بھی انہی میں سے ایک ملک ہے جس کی معیشت کو اس وباء کے عام ہونے سے شدید دھچکا لگا ہے اور حکومت کو تمام کام بند کر کے اپنے وسائل کو اس بیماری کے مقابلے کی مہم میں جھونکنا پڑگیا ہے ، غریب اور ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ جی -20-ممالک نے ان ملکوں کیلئے اپنے قرضوں کی واپسی کو مؤخر کر دیا ہے ،اس سہولت کا فائدہ پاکستان کو بھی پہنچے گاکیونکہ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے ، اب ان ملکوں کو 12 ماہ تک قرضوں کی ادائیگی کیلئے پریشان نہیں ہونا پڑے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے اس حوالے سے بہت متحرک کردار ادا کیا جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے آفس کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کی تائید کی گئی اور ان کی ان کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے یو این سیکرٹری جنرل کی سوچ کے بھی عین مطابق قرار دیا گیا ۔ اس سہولت کے نتیجے میں پاکستان کی اس سال کے دوران 12ارب ڈالرز کی ادائیگیاں مؤخر ہو گئی ہیں ، یہی نہیں بلکہ آئی یم ایف نے پاکستان کا 1.4ارب ڈالرز کا نیا قرضہ بھی منظور کر لیا ہے ۔ یہ موجودہ حکومت کی عالمی سطح پر2 بڑی کامیابیاں ہیں جن کا سہرا یقینا وزیر اعظم کو جاتا ہے کہ ان کی سربراہی میں پاکستان میں قائم حکومت پر عالمی اداروں کا اعتماد بڑھتا جا رہا ہے اور وہ پاکستان کی مدد کیلئے آمادہ نظر آتے ہیں، حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ملنے والی یہ سہولت سرکاری امور کو بہتر انداز سے چلانے اور کورونا کے مقابلے کیلئے بڑی مدد فراہم کرے گی کیونکہ کورونا کے باعث حکومت کو اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کے نتیجے میں اس سال کے بجٹ میں ریکارڈ خسارے کا سامنا تھا جس کا تخمینہ 40کھرب روپے لگایا گیا ہے جو سابقہ تخمینوں سے8 کھرب روپے زیادہ ہے ،اس حوالے سے چند روز قبل جاری ہونے والی’’ مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیاریجنل اکنامک آوٹ لک ‘‘ رپورٹ کے مطابق کورونا کی وبا سے پہلے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.3فیصدتک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا جو اب بڑھ کر 9.2فیصد تک پہنچ سکتا ہے ۔ لیکن اس نئی صورتحال میں پاکستان پر جو مثبت اثرات پڑیں گے ان ایک تو بجٹ خسارے میں کمی واقع ہو گی ، پاکستان کے پاس ڈالرز آنے کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بہتری آئے گی جس سے مہنگائی میں بھی کمی واقعہ ہو گی ۔
کورونا سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل کی ضرورت پوری ہونا تو اپنی جگہ جہاں تک اس وباء کو روکنے کے حوالے سے انتظامی اقدامات کا معاملہ ہے ان کے تعین میں پی ٹی آئی کی حکومت وفاقی اور صوبائی سطح پر کنفیوژن کا شکار دکھائی دے رہی ہے ، اس حوالے سے وزیر اعظم کی کاو شیں بہت ہی نمایاں ہیں جن کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کورونا کی وبا ء سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں نہایت ہی سنجیدہ ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا گیا کہ بعض اہم معاملات پرفیصلے لینے میں ان کیجانب سے کچھ تاخیر کا مظاہرہ کیا گیاہے، اس حوالے سے فیصلے کرنے میں سندھ حکومت زیادہ بہتر پوزیشن میں نظر آئی ۔بیشتر ماہرین کے مطابق وفاقی اوریگر صوبائی حکومتوں نے فیصلوں میں سندھ حکومت کو ’’فالو‘‘ کیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم کو اس صورتحال میں ملک کے غریب ، مزدور، دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کا بے حد خیال ہے جن کو اپنی روز مرہ کی ضرورت سے نمٹنے کیلئے محکمہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام احساس پروگرام کے تحت روزمرہ ضروریات کیلئے مالی امداد بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کیلئے 1 کروڑ  20 لاکھ خاندانوں کا انتخا ب کیا گیا جنہیں12000روپے فی خاندان کے حساب سے رقم کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ حکومت نے رقم کی تقسیم کا جو منصوبہ بنایا ہے رجسٹریشن کی تاریخ ختم ہونے تک حکومت کو امدادکیلئے 8کروڑ سے زائد پیغامات موصول ہو چکے تھے ۔
 حکومت کی جانب سے ملک میں مریضوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اوران کے علاج معالجے کی ضروریات کے تخمینے کیساتھ ساتھ ریلیف آیریشن کی کاروائیوں کی مانیٹرنگ کیلئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنیٹر کے قیام کی بنیاد رکھی جو ایک مستحسن اقدام ہے ۔ ایک طرف حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اپریل کے آخر تک ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد 50ہزار تک پہنچنے کا اندیشہ ہے ، مریض بڑھیں گے تو اموات میں بھی اضافہ ہونا یقینی ہے ۔ وزیر اعظم خود بھی مریضوں کی تعداد میں خدشہ ظاہر کر چکے ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے بھی چین اور ایران کے پڑوس میں واقعہ ہونے کے باعث پاکستان کو کورونا کے حوالے سے ڈینجر زون میں قرار دیا جا رہا ہے ایسے میں حکومت کا لاک ڈائون میں نرمی کا فیصلہ خود کو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ جب یہ کہاجا رہا ہو کہ اپریل کا آخری اور مئی کا پہلا ہفتہ اس حوالے سے زیادہ خطر ناک ہیں ۔ ایسے میں سندھ حکومت نے ایک بار پھر وفاقی حکومت سے مختلف فیصلہ کیا ہے جس نے اپنے ہاں پھر سے لاک ڈائون کو سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیا وزیر اعظم نے یہ سوچا ہے کہ ان کے اس فیصلے کے اگر منفی نتائج برآمد ہوئے تو انہیں کس قسم کے نقصانات کا سامنا کرناپڑ سکتا ہے؟ابھی وقت ہے کہ حکومت ایک بار پھر اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور عوام کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات کرے ورنہ عدالت عظمیٰ تو پہلے ہی کورونا کے مقابلے کیلئے حکومتی اقدامات اور اس کی تیاریوں پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے ۔ ایسے میں اگر مزید جانیں ضائع ہوئیں تو حکومت کیلئے بہتر نہ ہو گا ۔
 
 

مزید پڑھیں

   یہ شاید فروری کے دوسرے ہفتے کی بات ہے جب پڑوس سے ایک آنٹی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئیں اور بتایا کہ اُن کے بیٹے کی منگنی ہو گئی ہے اور اُس نے گاڑی بھی خریدی ہے۔    

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  ایک طرف دنیا کورونا جیسی منفرد بیماری سے لڑنے میں مصروف ہے اب تک لاکھوں جانیں اس آفت کی نذر ہو چکی ہیں اور وبا ء ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی نہیں پتہ کہ اس بیماری سے کب تک لڑنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایک بار ختم ہونے کے بعد یہ دوبارہ سے نہیں پھوٹے گی ۔ ایک ہفتہ قبل انہوں نے لاک ڈائون میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے قوم پر روز دیا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے ان تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بیماری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی طرف واپس جانا پڑے گا اور وہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے

مزید پڑھیں

پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں عام آدمی کے ذہن میں جو خوف اور خدشات موجود ہیں ،شاید دنیا کی کسی اور قوم کے لوگوں میں موجودنہ ہوں۔ہمارے ہاں پٹرول اور اِس سے متعلق دیگر مصنوعات کو سونے اور چاندی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

 دل دھڑکانے سے پہلے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں،ہم سب کے لئے خوش خبری سے مضمون کا آغاز کرنا کتنا اچھا لگ رہاہے۔    

مزید پڑھیں