☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) رپورٹ( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) تجزیہ(ابوصباحت(کراچی)) کچن() دنیا اسپیشل(خالد نجیب خان) قومی منظر(محمد سمیع گوہر) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری) زراعت(شہروزنوازسرگانہ/خانیوال) کھیل(عابد حسین) متفرق(محمد سیف الرحمن(وہاڑی)) فیشن(طیبہ بخاری )
سستا پٹرول کسے غریب ،کسے امیر کرے گا؟

سستا پٹرول کسے غریب ،کسے امیر کرے گا؟

تحریر : خالد نجیب خان

05-10-2020

پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں عام آدمی کے ذہن میں جو خوف اور خدشات موجود ہیں ،شاید دنیا کی کسی اور قوم کے لوگوں میں موجودنہ ہوں۔ہمارے ہاں پٹرول اور اِس سے متعلق دیگر مصنوعات کو سونے اور چاندی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔

محفوظ سرمایہ کاری کرنے والوں نے ہمیشہ پٹرولیم مصنوعات کو اپنا ٹارگٹ رکھا ہے ۔ہم نے اپنی ہوش میں ہمیشہ ہی پٹرولیم کی قیمتوں کو بڑھتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ آج کل تو ہر ماہ کے شروع میں اِن کی قیمتوں کو جائزہ لیا جاتا ہے،چند سال پہلے یہ جائزہ ہرپندرہ روز بھی لیا جاتا رہا ہے۔جس سے قیمتیں کبھی دو روپے بڑھ جاتیں تو کبھی چند پیسے کم ہوجاتیں۔ سال بعد جائزہ لیا جاتا تو معلوم ہوتا کہ قیمتوں میں دس سے بارہ روپے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے۔ایک دور وہ تھا جب و فاقی بجٹ میں سال بھر کیلئے یہ قیمتیں طے کردی جاتی تھیں اور سال بھر پٹرولیم مصنوعات اُنہی قیمتوں پر ملتی تھیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اُس وقت پاکستان کی آبادی آج سے کم بیش نصف یا کم و بیش تھی اور پٹرول کی کھپت کا اندازہ اِس سے لگالیں کہ چار پہیوں والی گاڑی محلے میں دو چار گھروں میں ہی ہوتی تھی جبکہ موٹرسائیکل رکھنے والے بھی خود کو امیر تصور کیا کرتے تھے شہر میں ایک سے دوسری جگہ پر رکشے پر جانا عیاشی تصور ہوتا تھا۔ایک سے دوسرے شہر جانے کیلئے بجلی سے چلنے والی ٹرینیں بھی موجود تھیں اور شور مچاتی بسیں بھی۔اپنی سواری پر دوسرے شہر کا سفر کرنے کا کوئی عام تصور نہیں تھا۔سواریوں کی قیمتوں کا اندازہ اِس سے لگا لیں کہ سیکنڈ ہینڈ ستر سی سی بائیک خریدنے کیلئے چار تولہ سونے کے زیورات فروخت کرنا پڑتے تھے۔پھر لوگوں کے مالی حالات بہتر ہونے لگے،ہر وہ شخص جو سائیکل چلایا کرتا تھا بائیک پر آگیا اور بائیک والے پرانی کار پر آگئے کاروں والے نئی اورآٹو میٹک کاروں پر آگئے۔بسیں بڑی بڑی اور ٹھنڈی ہوگئیں،ٹرینوں میں اضافہ کرنے کیلئے بجلی سے چلنے والی ٹرینوں کو بند کردیا گیا ۔ چوبیس گھنٹے بجلی کی فراہمی کیلئے پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والے پاور جنریٹرز گھروں دکانوں ، دفاتر اور فیکٹریوں میں آگئے۔اِس دوران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا ذکر پہلے ہی کیا جاچکا ہے۔ جبکہ آج ستر سی سی کی عام نئی بائیک صرف نصف تولہ سونے کے عوض خریدی جا سکتی ہے ۔
عرب ممالک سے لوٹنے والے وہاں پرپٹرولیم مصنوعات کی بہتات اور اَرزانی کے قصے یہاں کے لوگوں کو سناتے تو وہ اُنہیں جھوٹا کہنے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔ پھر ایک مرتبہ جب بذات خود مکّہ سے مدینہ جاتے ہوئے ایک پٹرول پمپ پر ڈیزل کو پانی کی طرح زمین پر بہتے ہوئے اور کسی کو اِس نقصان پر پریشان نہ ہوتے ہوئے دیکھا تو یقین آیا کہ وہ لوگ سچ ہی بولتے تھے ۔ عرب ممالک جب تک پٹرولیم کی دولت سے فیضیاب نہیں ہوئے تھے تو پاکستانی لوگ بھی اُ ن سے زیادہ خوشحال تصور ہوتے تھے، پھر دنیا بھر میں سب نے دیکھا کہ تیل کی دولت نے اُنہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ صحرا نشین لوگوں نے ایسے ٹھنڈے محل اور شاپنگ مالز بنا لئے کہ اندر اور باہر چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔اُن کی دیکھا دیکھی دنیا بھر سے لوگوں نے وہاں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری شروع کردی ۔رئیل اسٹیٹ کا یہ کاروبارکیوں زوال پزیر ہوا ہمارا موضوع نہیں ہے مگر اِس سے لوگوں میں یہ خیال ضرور پیدا ہوا کہ پٹرولیم کی دولت بھی کسی دن ختم ہو سکتی ہے۔
اِس میں تو کوئی شک والی بات ہے ہی نہیں کہ ہر چیز کو فنا ہے تو پٹرولیم کو کیوں نہیں مگر حیرت والی بات تو یہ ہے کہ پٹرولیم تو بہت ہے ،عرب ممالک کے علاوہ امریکہ اور پاکستان جیسے ممالک کے پاس بھی ہے مگر اُس کو کسی بھی وجہ سے زمین سے نکال کر صاف کرکے فروخت نہیں کیا جاتا ۔
کرونا وائرس کا حملہ دنیا پر اگرنہ بھی ہوا ہوتا توپھر بھی دنیا بھر میں پٹرولیم کی مانگ میں کمی آرہی تھی ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ گاڑیوں اور فیکٹریوں کی تعدادمیں مسلسل اضافے کے باوجود پٹرولیم کی مانگ میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟
اِس کا جواب یہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے گاڑیاں اورفیکٹریاں اب پٹرولیم کی بجائے متبادل ایندھن سے بھی چلنا شروع ہو گئی ہیں۔آج کل پاکستان میں بھی بہت سے لوگ بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔کئی ممالک میں ہر پلیٹ فارم پر اُن گاڑیوں کے فوائد گنوائے جا رہے ہیں مگر اُن کی پروڈکشن،امپورٹ اور سڑکوں پر لانے کے حوالے سے کوئی سرکاری پالیسی ہی نہیں بن پا رہی۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اِس میں اصل رکاوٹ پیٹرولیم ساز کمپنیاں ہیں کہ گاڑیاں بیٹری سے چلنا شروع ہو گئیں تو کھربوں ڈالر کی پٹرولیم انڈسٹری کہاں جائے گی؟اِس انڈسٹری نے جہاں بھی جانا ہے اُسے ہمارے مشورے کی تو قطعاًضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی کاروباری اونچ نیچ کو کسی سے بھی زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔اِس سب کے باوجودگزشتہ دنوں اِس خبر نے دنیا کوحیران کردیا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے تیل کی پیداوار بڑھانے کا حکم دیا ، یہ وہ وقت تھا جب روس نے بھی خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی اُس تجویز کو مسترد کردیاتھا، جس میں کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کیلئے پیداوار میں کمی لانے کی تجویز دی گئی تھی۔ اُن کے اِس اعلان کے ساتھ ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں ایک تہائی گرگئیں۔دونوں ملکوں کی سرکاری آئل کمپنیوں سعودی آرامکو اور روسنیفٹ کے شیئرز بھی بری طرح نیچے گرے۔ دنیا کے اِن دو بڑے تیل برآمد کنندگان نے کسی بھی معاشی جھٹکے سے بچنے کیلئے تقریبا پانچ پانچ سو بلین ڈالر کے ذخائر جمع کر لئے تھے ۔روس کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں فی بیرل اگر پچیس سے تیس ڈالر تک بھی گر جائیں تو بھی وہ چھ سے دس برس تک اِس کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔اِسی دوران میں امریکی صدرٹرمپ نے عالمی وبا کورونا وائرس اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے بات چیت کی اوراِس کے چند روز بعد ہی ایک اور خبر سامنے آئی جس سے معلوم ہوا کہ اوپیک پلس کی یومیہ پٹرول کی پیداوار کی مقدار یکم مئی سے30 جون تک یومیہ10ملین بیرل کم ہو جائے گی اوریہ کمی تنظیم کی تاریخ میں سب سے بڑی کمی ہے۔جبکہ صدر ٹرمپ کے ٹوئٹر بیان میں کہا گیاکہ ’’ اوپیک پلس کے ساتھ ایک بڑا پٹرول سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ اس کی مدد سے امریکہ میں انرجی کے شعبے میں ہزاروں افراد کے روزگار کو تحفظ ملے گا۔ میں روس اور سعودی عرب کو مبارکباد پیش کرتا ہوں‘‘۔ واضح رہے کہ اوپیک پلس پٹرول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ’’اوپیک‘‘ کے23 اراکین اور اوپیک سے باہر پٹرول کی پیداوار دینے والے بعض ممالک پر مشتمل تنظیم ہے۔
21 اپریل 2020 کو پاکستانی اخبارات میں اِس خبر نے دنیا کو حیران کر دیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں منفی ہوگئی ہیں۔ ہمارے بعض قارئین کیلئے منفی قیمت کی اصطلاح نئی تھی۔ وہ درجہ حرارت منفی اور مثبت کے بارے میں تو جانتے تھے مگر قیمتوں کے منفی اور مثبت پہلو سے آگاہ نہیں تھے۔اُنہیں بتایا گیا کہ منفی قیمت سے مراد ہے کہ خریدار کوئی چیز خریدنے کیلئے قیمت دینے کی بجائے وصول کرے۔جیسے آپ گھر کی تزئین و آرائش کیلئے قیمتی مٹیریل خرید کر لائیں،تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد فالتو سامان گلی میں رکھ دیں کہ کوئی ضرورت مند لے جائے مگر اُسے کوئی نہ اُٹھائے تو ملبہ اُٹھانے والے کو بلایا جاتا ہے جو ملبہ لے کر جانے کے ساتھ ساتھ پیسے بھی لے کر جاتا ہے۔
اِس سے روس اور سعودی عرب کے اُن دعوں کی بھی قلعی کھل گئی کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فی بیرل پچیس سے تیس ڈالر تک بھی گر جائیں تو بھی وہ چھ سے دس برس تک اِس کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اِس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ کمپنیاں مئی میں پٹرولیم ذخیرہ کرنے کی سہولیات اورذخائر بھر جانے کے خطرے کے پیش نظر خریداروں کو خود سے قیمت ادا کر رہی ہیں۔
اِس سال کے آغاز میں جبکہ کورونا وائرس کا نام و نشان بھی نہیں تھادنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط کھپت 9 کروڑ 70 لاکھ بیرل اور پیداوار دس کروڑ بیرل کے قریب تھی۔ طلب اور رسد کے اِس فرق کی وجہ سے قیمتیں کمی کی طرف تو پہلے ہی مائل تھیں لیکن 55 سے60 ڈالر فی بیرل کے درمیان کسی حد تک مستحکم تھیں۔ جنوری کے دوسرے ہفتے میں چین میں کورونا وائرس وبا کی شکل اختیار کرگیا اوروہاں کی صنعتی پیداوار کم ہونے لگی ،پھروسط فروری سے یورپ میں بھی کورونا کے ٹیسٹ مثبت آنا شروع ہوگئے اور مارچ تک اٹلی، فرانس، جرمنی اور سارا یورپ اِس مرض کی لپیٹ میں آگیا ۔ مارچ کے وسط میں اِس آفت نے نیویارک کا رخ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ اور کینیڈا کے سارے بڑے شہروں میں جیسے قیامت برپا ہوگئی۔
گزشتہ ایک مضمون میں ہم نے ذکر کیا تھا کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہوا توزمین کا ارتعاش بھی کم ہو گیا ۔یہ ارتعاش یقیناًہوائی جہازوں،بحری جہازوں ، ریل گاڑیوں،بسوں،کاروں،کارخانوں کے بند ہونے کی وجہ سے ہی کم ہوا تھا۔جہاں اور بے شمار کارخانے بند ہوئے وہاں پٹرولیم صاف کرنے والے کارخانے عارضی طور پربند نہیں کئے گئے کیونکہ ایسا کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔
پٹرولیم کی قیمتوں کا تعین ماہانہ سودوں (deals) کی بنیاد پر ہوتا ہے جو ہر ماہ کی 19 تاریخ تک کئے جاتے ہیں۔ یعنی خریداری کے جو سودے19 مارچ یا اِس کے بعد ہوئے، وہ تیل19اپریل تک اُٹھانا ضروری تھا۔آڑھتیوں نے تیل تو وعدے کے مطابق اُٹھا لیا مگر اُنہیں کوئی گاہک نہ مل سکااور یہ پٹرولیم ٹینکروں میں ذخیرہ کرلیا گیا۔ زیادہ لاگت سے حاصل ہونے والا تیل سستا بیچ کر نقصان اُٹھانے کے ساتھ نہ بکنے والے فالتو تیل کو ذخیرہ کرنا ایک عذاب بن گیا۔ زمین پر موجود ذخائر، ٹینکرز اور سمندروں میں محوِ خرام تیل بردار جہاز بھی لبالب بھرگئے اور اُس کا کوئی خریداربھی نہیں تھا لہٰذا بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اِن کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی قیمت منفی کی سطع پر لاناپڑی۔توقع کی جارہی ہے کہ حالات میں اگرکسی بھی وجہ سے بہتری نہ آسکی توپٹرولیم کی یہ قیمتیں مزید نیچے بھی آسکتی ہیں کیونکہ امریکہ سمیت دیگر ممالک نے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے فیصلے بے شک کاروباری بنیادوں پرہی کئے ہیں مگر عالمی سطح پر اب بھی خام تیل کی رسد دنیا کی طلب سے زیادہ ہے۔
یہ بندوبست مارچ میں کئے جانے والے سودے کیلئے تھا۔20 اپریل سے20مئی تک ڈلیوری کے سودے22 ڈالر فی بیرل ہورہے ہیں ۔ تاہم عین ممکن ہے کہ یہ رپورٹ شائع ہونے تک مئی کے وعدے بھی سستے ہوجائیں گے۔
ماہرین کے خیال میں اگر جون تک صنعتی و سیاحتی سرگرمیوں میں توقع کے مطابق اضافہ ہوگیا تو پٹرولیم کی کھپت بڑھنے کی صورت میں طلب و رسد میں پیدا ہونے والا توازن قیمتوں پر دبائو کو کم کرسکتا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عموماً ایسی اقوام کیلئے ایک نوید مسرت لے کر آتی ہے جہاں اِن کی کھپت بکثرت ہو۔ مگر دوسری جانب پٹرولیم صاف کرنے والے ممالک کیلئے یہ صورتحال تباہی کا پیغام لاتی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیادہ تھیں تو اُس سے حاصل ہونے والی آمدن کمپنیوں اور ممالک کے خزانے بھر رہی تھیں اور سب معمولات چل رہے تھے۔مگر ایسے ممالک کیلئے اب پٹرولیم کا مالک ہونا نعمت سے زیادہ زحمت بن گیا۔کوئی ملک تیل کی پیداوار پرجتنا زیادہ خرچ کرتا ہے ،یہ اُسکی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب تیل نکالنے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے مگر پٹرولیم پر سعودی عرب کا انحصار اُس کے آمدن میں 100 ارب ڈالر کی کمی کی شکل میں نکل سکتا ہے۔اُس کی وزارت توانائی سے وابستہ ایک افسر کاکہنا ہے کہ ’’مملکت سعودی عرب یکم مئی سے چھ لاکھ بیرل یومیہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کررہی ہے۔اِس اضافے سے سعودی عرب کی ہر روز کی تیل کی برآمدات بڑھ کر ایک کروڑ چھ لاکھ بیرل تک ہوجائے گی۔‘‘
عراق کی آمدن کا 98.5 فیصد انحصار پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ باقی کی 1.5 فیصد آمدن قیمتی نگینوں، دھاتوں اور پھلوں سے آتی ہے۔انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ رواں برس عراقی حکومت کو اخراجات کی مد میں 50 ارب ڈالر کی کمی کا سامنا ہو گا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کو چین نے بہت دلچسپی سے دیکھا جو تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ بیرل پٹرولیم یومیہ درآمد کرتا ہے۔ کورونا وائرس سے اُس کی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی اور تعمیرنو کیلئے چین بہت پُرعزم اور سنجیدہ ہے۔ اِس صورتحال میں سستے پٹرولیم کی فراہمی اُس کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں اوراِسی بات نے چین کے دشمنوں کو پریشان کررکھاہے۔
پاکستان کا شمار چونکہ بہت زیادہ پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے،اِسلئے اِسکے مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے مستقبل قریب میں عوام کو اور پٹرولیم مصنوعات پر منحصر صنعتوں کو بھی فائدہ ہوگا حکومت نے پٹرولیم کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرکے عوام تک اِس کے اثرات پہنچانے کی کوشش توکی ہے مگرخدشہ ہے کہ شایدعوام کو اس کا پورا فائدہ نہ پہنچ سکے۔ بہرحال پاکستان میں13سے14ارب ڈالرز کا تیل اور ایل این جی درآمد کیا جاتا ہے اور30 سے40 فیصد کمی سے ملک کو صرف تیل کی مصنوعات درآمد کرنے پر چار سے پانچ ارب ڈالرز کی بچت ہوگی اور بیرونی ادائیگیوں کی مد میں بھی دو سے تین ارب ڈالرز یا اِس سے زیادہ کی بچت ہو سکتی ہے مگراِن حالات میں برآمدات شاید نہ بڑھ سکیں جسکی اشد ضرورت ہے اور بیرونِ ملک سے زر مبادلہ آنے میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں

 کس نے کہاں پیدا ہونا ہے اور اُس کی پرورش کس نے اور کیسے کرنی ہے یہ سب فیصلے اُس قادرِمطلق نے کر رکھے ہیں اور اُن کو کوئی تبدیل بھی نہیں کرسکتا جب تک وہ نہ چاہے  

مزید پڑھیں