☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل( سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(حکیم محمد سعید شہید) عالمی امور(محمد سمیع گوہر) رپورٹ(سید مبشر حسین ) تاریخ(مقصود احمد چغتائی) کھیل(ڈاکٹر زاہد اعوان) افسانہ(راجندر سنگھ بیدی)
’’مودی ڈاکٹرائن‘‘ کے شیطانی ارادے

’’مودی ڈاکٹرائن‘‘ کے شیطانی ارادے

تحریر : سید ظفر ہاشمی/ اسلام آباد

05-17-2020

  ایک طرف دنیا کورونا جیسی منفرد بیماری سے لڑنے میں مصروف ہے اب تک لاکھوں جانیں اس آفت کی نذر ہو چکی ہیں اور وبا ء ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی نہیں پتہ کہ اس بیماری سے کب تک لڑنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایک بار ختم ہونے کے بعد یہ دوبارہ سے نہیں پھوٹے گی ۔

ایک ہفتہ قبل انہوں نے لاک ڈائون میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے قوم پر روز دیا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے ان تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بیماری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی طرف واپس جانا پڑے گا اور وہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے

جنہوں نے پہلے ہی عوام خصوصاً غریب اور سفید پوش طبقے کا ہی نہیں بلکہ ملکی معیشت کا بھی برا حال کر رکھا ہے ۔ ان کے مطابق یہ صورتحال صرف ہمارے ملک کی ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے بڑے امیر ملک بھی اس وقت بوکھلائے ہوئے ہیں ۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس صورتحال کا مقابلہ کیسے کریں ۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہمارا پڑوسی ملک بھارت بھی کر رہا ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج سے کئی دن قبل بغیر کسی تیاری کے لاک ڈائون کا اعلان کر دیا تھا نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں بھوک اور افلاس جوپہلے ہی بہت زیادہ ہے اس میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ۔پہلی مرتبہ بھارت میں 24مارچ کو اچانک ہی 21دن کے لاک ڈائون کا اعلان کر دیا گیا ، اس لاک ڈائون کیلئے نہ وہاں کے عوام تیار تھے نہ ہی حکومت کے پاس کوئی واضح حکمت عملی کہ لاک ڈائون کے دوران عوام کا خیال کیسے رکھا جائے گا ۔ابھی 21روز ختم نہ ہوئے تھے کہ13اپریل کو لاک ڈائون میں 3مئی تک توسیع کا اعلان کر دیا گیا۔ کیونکہ کچھ ہی دنوں میں وہاں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر 23ہزار ہو چکی تھی جن میں مرنے والوں کی تعداد 700تھی جبکہ یہ وباء بھارت کے 736اضلاع میں سے نصف سے بھی زیادہ میں پھیل چکی تھی ۔اور اس نے 429اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔پھر اس سے قبل کہ 3مئی آتی مودی حکومت نے دوسری مرتبہ لاک ڈائون میں توسیع کرتے ہوئے اسے 17مئی تک بڑھا دیا ۔بھارت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت تک اس کے ہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 50ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ مرنے والوں کی تعداد 1500سے زائد ہے۔
بھارتی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی جانب سے اصل اعدادوشمار چھپائے جا رہے ہیں جبکہ اصل صورتحال کچھ اور ہے۔بھارت کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹرا ہے جہاں متاثرہ کیسز کی تعداد15ہزار ہے جبکہ دوسرے نمبر پر گجرات کی ریاست ہے جہاں متاثرہ افراد کی تعداد8 ہزار سے زائد ہے ان دونوں ریاستوں میں مرنے والوں کی تعدادغیر سرکاری ریکارڈ کے مطابق بالترتیب 750 اور 600سے تجاوز کر چکی ہے ۔ایسے میں بھارتی حکومت یہ دعوے کرتی دکھائی دیتی ہے کہ اس کے بروقت سخت اقدامات کے باعث بھارت میں کورونا کا پھیلائو دنیا کے بہت سے ممالک سے بہت کم ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے پیدا کردہ رکاوٹوں کے باعث وہاں کی اصل صورتحال سامنے نہیں آ رہی اور مناسب تعداد میں کورونا متاثرین کے ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث صحیح صورتحال واضح سامنے نہیں آ رہی ۔ اور مودی حکومت اسی کو اپنی کامیابی ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق اگر ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ ہواتو متاثرہ افراد کی تعداد بیان کردہ تعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک میں اب تک صرف چند لاکھ ٹیسٹ ہی کیے جا سکے ہیں ، اس حوالے سے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث اس بیماری کے اصل اعداوشمار کا سامنے آنا ممکن نہیں اور نہ ہی اس پر حکومت کو زیادہ خوش ہونے کی ضرورت ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ، جوں جوں وہاں متاثرہ افراد کے ٹیسٹوں میں اضافہ ہو گا تو اس کے ہاں مریضوں کی تعداد بھی بڑھتی جائے گی ۔قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں بھی بھارت اپنی کمینی حرکتوں سے باز نہیں آ رہاجس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف دنیا کی بیشتر حکومتیں اپنے ہاں ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک میں انسانی جانو ں کو درپیش خطرات سے پریشان ہیں اور ایک دوسرے کی مدد پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں دوسری جانب بھارت خطے میں بدامنی پھیلانے کی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسے میں مودی سرکار بھی اپنے عوام کی جان کی حفاظت کیلئے درکار سہولیات پر توجہ دیتی لیکن اس کی ترجیحات تو کچھ اور ہی ہیں وہ ان حالات میں بھی اپنے شیطانی ارادوں کی تکمیل پر آمادہ دکھائی دیتی ہے کہ کسی طرح اس خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے اپنے منصوبوں کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور کورونا کے حوالے سے اپنی ناکامیوں پرسے بھارتی عوام کی توجہ ہٹا کر انہیں پاکستان کے بارے میں سوچنے پر ہی مجبور کیے رکھے ان کے ذہنوں میں پاکستان کیخلاف اتنا زہربھر دے کہ اگر وہ کسی وقت پھر سے کوئی مس ایڈونچر کر تا بھی ہے تو اس کو عوام کی بھر تائید وحمایت حاصل ہو ،

ان حالات میں بھی بھارت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیاںایک تو اس کی اس شاطرانہ چال کی عکاس ہیں کہ عمران حکومت کی توجہ جو کورونا کے مقابلے پر مرکوز ہے سے ہٹا کر سکیورٹی کی طرف موڑی جائے تاکہ بھارتی عوام کے ذہنوں میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ جس طرح پاکستان نے کورونا کا مقابلہ کیا اور اس مصیبت کے دوران اپنے عوام کی دیکھ بھال کا فرض پوری ذمہ داری سے نبھایا اس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ مودی حکومت نے کیوں نہ کیا تو دوسری جانب اس کی ان حرکات کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو اپنے وسائل کورونا کی بجائے سکیورٹی کی طرف جھونکنے پر مجبور کر دیا جائے تاکہ وہ دونوں کام ہی صحیح طریقے پر نہ کر پائے اور بھارت ، پاکستان کو عدم استحکا م سے دوچار کرنے کا اپنا مقصد پورا کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات میں جب امن ہونا چاہیے تھا کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں روزانہ کی بنیاد پرکی جا رہی ہیں جس میں ہمارے فوجی جوان بھی شہید ہو رہے ہیں اور ایل او سی کے نزدیک بسنے والے آزاد کشمیر کے معصوم اور بے گناہ عوام بھی ، پاکستان کی جانب سے اس کے سفارت کار کو روزانہ دفتر خارجہ بلا کر احتجاج کیا جا تا ہے الیکن بھارت ہے کہ اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اس کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں میں کوئی کمی نہیں آ رہی ، بلکہ اس نے تو ان خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میںبھی کشمیری نوجوانوں پر ظلم و ستم کی تازہ لہر کا آغاز کر دیا ہے ۔، گذشتہ دنوں اس حوالے سے تازہ واقع یہ پیش آیا کہ کشمیری حریت پسند برہان وانی شہید کے جان نشین ریاض نائیکوکو بھی بھارتی فوج نے انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ،

حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکوپلوامہ میں اپنے خاندان سے ملنے آئے تو قابض بھارت فوج راتوں رات ہی ان کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کو ان کے ایک ساتھی عادل احمد کے ہمراہ شہید کر دیا ۔ بھارتی فوج کی جانب سے وادی میں تشدد کی جس نئی لہر میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران 50سے زائد کشمیری نوجوانوں کوشہید کیا جا چکا ہے ، اس وقت ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کشمیر ی عوام کو کورونا سے بچانے کی جدوجہد اور ان کو طبی امداد باہم پہنچائی جاتی لیکن ایسا کرنے کی بجائے بھارت کی درندہ صفت، مسلمان دشمن مودی حکومت نے تو ان کی نسل کشی کے لیے ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کرنا شروع کر دی ،کشمیریوں کے جذبہ حریت سے خوف زدہ اس حکومت نے ریا ض نائیکو اور ان کے ساتھی کو صرف شہید ہی نہیں کیا بلکہ ان کی میتیں بھی کشمیریوں کے ردعمل کے خوف سے ان کے اہل خانہ کے حوالے نہیں کیں بلکہ خود ہی ان شہدا ء کو کسی نامعلوم مقام پر دفنا دیا ۔ بھارتی فوج کو اندازہ تھا کہ کشمیری عوام جوق در جوق ان شہدا ء کے جنازے میں شریک ہو کر اس اسے بھی تاریخی بنا دیں گے اور اس طرح ایک بار پھر دنیا بھر میں بھارت کا سیکولر چہرہ بے نقاب ہو گا ۔ لیکن کشمیریوں کے احتجاج کو تو یہ قابض فوج پھر بھی نہ روک پائی کیونکہ ریاض نائیکو کی شہادت کی خبر سنتے ہی کشمیری نوجوان کرفیو کی پابندیاں تو ڑتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے ڈنڈوں اورپتھروں سے احتجاج کرتے ان نوجوانوں پر بھارتی فوج نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے مزید شہادتیں بھی ہوئیں حالانکہ اس احتجاج کے خوف سے، پولیس نے ریاض نائیکو کی شہادت کی تصدیق بھی نہیں تھی ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ بھارتی حکومت نے کشمیری عوام میں شہدا ء کی مقبولیت کو روکنے کیلئے ایک نئی سکیورٹی پالیسی اختیار کی ہے جس کے تحت اب شہداء کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جائے گا ، تاکہ ان کے بڑے بڑے جنازوں اور ان سے نوجوانوں میں پیدا ہونے والے اشتعال کے باعث تشدد کے رجحان کو روکا جا سکے ۔ اور ان کے ہاتھوں بھارتی سکیورٹی فورسز کے افسران اور اہلکاروں کو محفوظ رکھا جا سکے کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ان کے ہاتھوں 2بھارتی فوجی افسروں کے ایک علاوہ1 پولیس افسر سمیت 17 پولیس اہلکارواصل جہنم ہو چکے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے گذشتہ دنوں کے دوران شہید کیے گئے بیس سے زائد جوانوں کی لاشیں ان کے ورثاء کے حوالے نہیں کی گئیں اور خود ہی خاموشی سے ان کی تدفین کر دی گئی،سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ صورتحال کیوں ہے ، اس کی تشریح ہمارے وزیر اعظم عمران خان اپنے ٹوئیٹس کے ذریعے مسلسل کرتے چلے آ رہے ہیں ، ا س کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے عوام کو حالات سے باخبر کریں اور دوسری جانب عالمی رائے عامہ کو بھی اس بات کا احساس دلاتے رہیں کہ بھارت کے عزائم خطے ہی نہیں بلکہ دنیا کے امن کیلئے بھی خطرہ ہیں ، کل کو اگر دونوں جنگ چھڑتی ہے تو پھر نہ ہم بچیں گے اور نہ ہی دنیا بلکہ پھر تو ایک ایسی ایٹمی جنگ کا آغاز ہو گا جوآدھی سے زیادہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ، اس وقت کوئی پاکستان کو مورد الزام نہ ٹھہرائے ، بھارت کی ہنددتوا کی سوچ پر مبنی مودی حکومت ایک جنونی اور فاشسٹ حکومت ہے جس کی بظاہر پالیسی یہی نظر آتی ہے کہ کسی طرح دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل دیا جائے ، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کی تازہ لہر بلا وجہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کیخلاف کسی تازہ سرجیکل سٹرائیک کا جواز گھڑنے کا بہانہ ہے، کیونکہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان پر دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کی موجودگی کا الزام لگاتا چلا آیا ہے ، اس کی جانب سے یہ پراپیگنڈہ کیا جاسکتا ہے کہ مارے والے نوجوان دہشت گرد تھے جو پاکستان سے تربیت لے کر آئے تھے اس لیے انہیں مار دیا گیا اور پھر اس بہانے کی آڑ میں وہ کسی بھی مہم جوئی کی حرکت کر سکتا تھا ۔ ہمارے ذرائع کے مطابق اس صورتحال پر ہمارے حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے ایک طرف تو وزیر اعظم عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرائے ہیں تو دوسری جانب وہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ اس صورتحال یا بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا مؤثر جواب دینے کیلئے مسلسل رابطے میں ہیں ، پاک فوج کی جانب سے بھی ایک حوالے سے بھرپور تیاری کی جا چکی ہے اور وہ پوری طرح سے الرٹ اور بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب دینے کیلئے پوری طرح تیار ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے ہمارے ہاں عام آدمی کے ذہن میں جو خوف اور خدشات موجود ہیں ،شاید دنیا کی کسی اور قوم کے لوگوں میں موجودنہ ہوں۔ہمارے ہاں پٹرول اور اِس سے متعلق دیگر مصنوعات کو سونے اور چاندی کے بعد دوسرے نمبر پر رکھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

   یہ شاید فروری کے دوسرے ہفتے کی بات ہے جب پڑوس سے ایک آنٹی مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئیں اور بتایا کہ اُن کے بیٹے کی منگنی ہو گئی ہے اور اُس نے گاڑی بھی خریدی ہے۔    

مزید پڑھیں

 دنیا کو کورونا کے مرض میں مبتلا ہوئے5 ماہ کا عرصہ ہو چلا ہے اور اب تک یہ وبا ء ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ، اس عرصے میں اس وباء نے بلا تفریق تما م انسانوں کا ہی نہیں بلکہ دنیا میں پھیلے مختلف ممالک اور عالمی معیشت کا بھی کچو مرنکال کر رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے عالمی قوتیں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلا کرتی تھیں ،جب اور جہاں دیکھومسلمانوں کا خون ہو رہا ہوتا تھا ۔    

مزید پڑھیں