☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا( مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم نیازاحمد ڈیال) فیشن(طیبہ بخاری ) فیچر(ایم آر ملک) کھیل(منصور علی بیگ) دنیا کی رائے(فرحان شوکت ہنجرا) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) ستاروں کی چال()
امریکہ کو کیسے متحد رکھا جائے؟

امریکہ کو کیسے متحد رکھا جائے؟

تحریر : صہیب مرغوب

06-14-2020

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

 

 یہ فوجی ہیں لیکن سرحدوں پر ڈیوٹی نہیں دیتے۔ تینوں مسلح افواج( فضائیہ، بری اور بحری افواج) کے جوانوں پر مشتمل یہ فوج ریزرو میں ڈیوٹی دیتی ہے ،کسی بھی ہنگامی حالت کی صورت میں اسے کہیں بھی بھیجا جا سکتا ہے ،میدان جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت ،طوفان ہو یا زلزلہ، یاپھرامن و مان،نیشنل گارڈزکو طلب کیا جا سکتا ہے۔بعد ازاں ایکٹیو فوج بھی طلب کر لی گئی۔کیونکہ سب سے اہم نعرہ تھا۔۔۔’’گوری امریکی پولیس اور گوروں کا تحفظ کرنے والے اداروں کو خدا حافظ‘‘ ۔
اگرچہ کئی مرتبہ یہ وضاحت کی گئی کہ فوج گرفتاریاں نہیں کرے گی، انہیں محض امریکی حکومت کی طاقت کے اظہار کے لئے طلب کیا گیا تھا،لیکن یہ دلیل شرف قبولیت حاصل نہ کر سکی۔امریکی صدر کے اعلان کی روشنی میں اسے سیاسی قدم ہی سمجھا گیاانہوں نے کہا کہ۔۔۔۔۔’’قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی خاطر میں تمام وفاقی اور مقامی وسائل ،سول ہوں یا فوجی بروئے کار لا رہا ہوں‘‘۔ سوموار کے روز انہوں نے وائٹ ہائوس میں باتیں کرتے ہوئے مظاہرین لوٹ مار پر قابو پانے کے لئے 1807کا ایکٹ نافذ کرنے کا اعالان کر دیا۔۔۔۔’’میں نے نیشنل گارڈز کے دستوں کو معقول تعداد میں بھیجنے کے لئے آج ہر گورنرپر زور دیا ہے، تاکہ سڑکوں پر ہم ہی نظر آئیں۔گورنروں اور مئیر صاحبان کو تشد د کے خاتمے تک نیشنل گارڈز کی موجودگی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیے‘‘۔
ایک امریکی مگر فوجی طرز کی ویب سائٹ کے مطابق 33میں سے 30 ای میلز میں فوجیوں نے صدارتی فیصلے کو درست تسلیم نہیں کیا۔یعنی فوج میں بھی اس فیصلے کی حمایت موجود نہ تھی۔ایک فوجی نے ای میل میں لکھا کہ ۔۔۔۔’’اس فیصلے سے کشیدگی میں کمی کی بجائے تصادم کو ہوا ملے گی ۔پولیس کی ناکامی کے بعد فوج کو اس میدان میں جھونکنے سے پولیس اور فوج میں بھی کشیدگی پیدا ہو گی۔‘‘۔
وزیر دفاع مارک ایسپر نے فوج بلائی لیکن انہوں نے ہی اس بلاوے کو غیر ضروری بھی قرار دیا۔وزیر دفاع نے واشنگٹن کے دفاع کی کے لئے 82ویں ایئر بورن ڈویژن انفنٹری بٹالین،دی فورٹ بریگ،اور 91 فرسٹ ملٹری پولیس بٹالین طلب کرتے ہوئے کہا تھا۔۔۔’’امن و امان کی بحالی کے لئے فوج کا استعمال نہایت ہی فوری اور نازک صورتحال میں آخری آپشن ہونا چاہیے ۔تاحال ایسی صورتحال رونما نہیں ہوئی، نہ ہی میں ’Insurrection Act‘ کے نفاذ کا حامی ہوں‘‘۔جس پر فوج واپس بلانا شروع کر دی گئی۔

واقعہ کا آغاز کیسے ہوا؟
منی سوٹا کے شہر منا پالس کے پولیس افسر ڈیرک شیوان نے ایمرجنسی کال کی وصول کی۔کالر نے بتایا کہ سیاہ فام باشندہ 20ڈالر کاجعلی نوٹ تھما کر نکل گیا ہے، سیاہ فام جارج فلائیڈکو شاپنگ مال سے نکلتے ہی ڈیرک نے دبوچ لیا، اسے کار میں بٹھانے کی کوشش کی،ا س دوران کیا ہوا ،یہ توسامنے نہیں آیا لیکن جارج فلائیڈ فرش پر گرا نظرآیا،ڈیرک نے اپنے گھٹنے سے اس کی گرد ن دبو چ رکھی تھی،’’میں سانس نہیں لے سکتا، میں سانس نہیں لے سکتا ، مجھے پانی دو مجھے پانی دو۔۔‘‘سیاہ فام فلائیڈ کئی بار بولا، لیکن ڈیرک نے گردن چھوڑنا گوارہ نہ کی ۔اس ایک واقعے کے بعدامریکہ بھر میں تشدد اور لوٹ مار نے جنم لیا ۔

ٹرمپ کے ٹوئٹ
ڈونلڈ ٹرمپ کورونا وائرس کو لے کر پہلے ہی کئی گورنرز کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں، لفظی گولہ باری جاری ہے،ان کے نزدیک کورونا پھیلنے کے ذمہ دار گورنر ہیں، کیلی فورنیا اور نیو یارک کے گورنرز کے ساتھ پہلے ہی ان کی نہیں بنتی تھی ،اس مہم میں منی سوٹا کے گورنربھی شامل ہو گئے ۔منی سوٹاشہرکے میئر اور ریاست کے گورنر پر بھی صدر ٹرمپ نے کمزوری دکھانے کے الزامات لگاتے ہوئے فوج بھیجنے کا حکم دے دیا۔ پہلے ٹوئٹس میں انہوں نے نیشنل گارڈز بھیجنے کی تجویز پیش کی ۔لوٹ مار میں اضافے پر انہوں نے حاضر سروس فوج بلانے کی تجویز دے ڈالی۔

امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد
جنگ ویٹ نام کے بعد امریکہ کی تاریخ کے خطرناک ترین مظاہروںمیں کم و بیش 15افراد ہلاک ہوئے ۔ ریاست مشی گن میں مارے جانے والے 19افراد کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ ان کا بھی ان مظاہروں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں ،کیونکہ ’’پراسرارگولیوں‘‘ سے مارے جانے والے ان افراد کی تحقیق نہیں ہو سکی۔مشی گن میں مظاہروں کے دوران پہلے ایک ہفتے میں کم ازکم 82افراد کو گولیاں ماری گئیں جن میں سے 19ہلاک ہو گئے ۔

سول نافرمانی یا بغاوت؟
امریکی صد رٹرمپ نے ان مظاہروں کو جمہوریت کے خلاف تسلیم کرتے ہوئے قانون کے مطابق اقدام کرنے کی دھمکی دی جو الٹی پڑ گئی۔بلوم برگ کے کالم نویس میتھیو گڈون نے دنیا بھر میں ہونے والے ان پرتشدد مظاہروں کو ’’جمہوریت کے خلاف بغاوت‘‘ سے تعبیر کیا،وہ ان خیالات کے حامی ہیں کہ ۔۔۔’’ ناقص کارکردگی کی بدولت عالمی جمہوریتوں کو پاپولسٹ مخالفت کا سامنا ہے‘‘۔ امریکہ ہو یایورپ ، عوام کے ووٹوں سے برسراقدار آنے والی حکومتیں عوامی امنگوں پر پوری اترنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں۔ ناکامی کے پیش نظر ہی دنیا کے ہر حصے میں جمہوریت کو پاپولسٹوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ کہنا جائز ہو گا کہ جمہورہت کو اپنے ہی ووٹ بینک کی جانب سے خطرات لاحق ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاپولسٹ عوامی خواہشات پر پوری نہ اترنے والی جمہوریتوں کابسترگول کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی بنیادوں کو درپیش چیلنج
امریکہ میں سب سے بڑا اور بنیادی چیلنج یہی ہے کہ امریکہ کو کس طرح متحد رکھا جائے؟۔ امریکہ اب تک کالے گورے کی تقسیم توختم نہیں کر سکااسی لئے سول رائٹس کی ہر تحریک سے امریکہ کی بنیادوں ہلتی نظر آتی ہیں۔کئی عشرے بیت گئے ،امریکی رہنما اس قبائلی و نسلی تقسیم کا کوئی حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔اب انہیں ایک ایسے چیلنج کا سامنا ہے جس نے امریکہ کی بنیادیں ہی ہلا کر رکھ دی ہیں ۔یعنی امریکہ قائم رہ سکتا ہے یا نہیں ؟اس سوال کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ امریکہ میں ہر طبقے کو اس کے حقوق کے تحفظ کا یقین کس طرح دلایا جا سکتا ہے۔ دانشور اس کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔اسی لئے یہ مسئلہ 1960ء کی دہائی سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ ابھرا ہے ،1960 ء کی دہائی میںقیادت لڈن بی جانسن جیسے دانشور صدر کے ہاتھ میں تھی ،جبکہ سیاہ فاموں کے قائد ملک گیر سطح کے لیڈر مارٹن لوتھر تھے ۔مارٹن لوتھر کنگ کی آواز پر سب متحد تھے۔آج سیاہ فاموں کے پاس پہلے جیسی قیادت کی کمی ہے۔وہ صرف ہنگامی صورتحال میں متحد ہوتے ہیں جیسا کہ ان دنوں یک جان دو قالب ہیں۔ سفید فاموں کے پاس بھی لڈن بی جانسن جیسا زیرک اور صبر والا قائد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستانہ اقدامات اور امیگریشن جیسے سنجیدہ مسائل پر غیر سنجیدگی ری پبلیکن پارٹی کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ امریکہ میں ابھرتی ہوئی تقسیم پر ڈیموکریٹس تو پہلے ہی پریشان تھے ،اب ری پبلیکن پارٹی بھی فکر مندہے۔ کئی رہنما متعدد مرتبہ اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ سابق صدر جارج ڈبلیو بش کا بیان اس کی صداقت پر مہر ثبت کرتا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک لفظوں میں ٹرمپ کی اگلے انتخابات میں نامزدگی کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کا یہ بیان پارٹی کے رہنمائوں کی پریشانی کا آئینہ دار ہے۔

جلوسوں کو روکنے والے اقدامات
کئی شہروں میں پر تشدد ہجوم کو قابو کرنے کے لئے ربڑ کی گولیوں کا سہارا لیاگیا۔مرچوں کی گیندیں ماری گئیں اور دھماکہ کرنے والے بم چلائے گئے ۔5 دہایئوں میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ربڑ کی گولیاں فرد کومعذور کر سکتی ہیں ، شکل بگاڑ سکتی ہیں اور حتیٰ کہ قتل بھی کر سکتی ہیں۔ربڑ کی گولیوں میں صرف ربڑ نہیں ہوتا۔کہنے کو یہ ربڑ کی گولی ہے لیکن اس کا اندرونی حصہ دھات پر مشتمل ہوتا ہے۔2017ء میں شائع ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا کہ ربڑ کی گولیاں کھانے والے 3فیصد افراد ہلاک ہو گئے۔1984افراد کے سروے سے میں 15فیصد افراد مستقل معذور ہو گئے،کسی کی آنکھ چلی گئی تو کسی کو کوئی اور مستقل معذوری نے گھیر لیا۔
نیو جرسی میں سابق پولیس افسر برائن ہگنس کے مطابق دنیا بھر کے قوانین میں تبدیلی کے بعد ربڑ کی گولیوں کو انتہائی متشدد جلوسوں کو قابو کرنے کے لئے ہی استعما ل کیا جا سکتا ہے۔نیو یارک یونیورسٹی کے شعبہ ’’آئی ٹراما‘‘ سے منسلک ڈاکٹر ڈوگلس لزارو (Douglas Lazzaro) نے جلوسوں میں کھلے عام ربڑ کی گولیوں کااستعمال ممنوع قرار دینے کی سفارش کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ ہجوموں میں اس کا استعمال خطرناک اور (انسانی صحت ) سے غفلت برتنا ہے‘‘ ۔
کیلی فورنیا کے علاقے لا میسا(La Mesa) میںربڑ کی گولی لگنے سے دادی کو آئی سی یو میں داخل کرانا پڑا تھا۔اداکار کینڈرک سیمپسن (Kendrick Sampson)نے ایک نہیں، 7مرتبہ ربڑ کی گولیاں کھائیں۔ وہ 1991اور 1992میںلاس اینجلس میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش تھے۔
ربڑ کی گولیوں کے استعمال کے خلاف این جی اوز کے بیانات سامنے آنے پر حکومت گھبرا گئی۔یہی وجہ ہے کہ اٹارنی جنرل ولیم بارنے واشگٹن کو مظاہرین سے خالی کرانے کا ذکر کرتے ہوئے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا ذکر گول کر گئے ۔منا پولس پولیس کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کا کہ ’’ہم 40ایم ایم کی فوم والی انسان دوست گولیاں چلاتے ہیں ۔ہم نے ربر کی گولی کبھی نہیں چلائی۔‘‘
قانون کے مطابق ربڑ ی گولی جسم کے نچلے حصے پر ہی چلائی جا سکتی ہے۔دھڑ سے اوپر ربرکی گولی مارنا بھی عالمی قوانین میں جرم سمجھا جاتا ہے۔ دور بھاگتے مجرم کی ٹانگوں پر یہ گولی مار کر اسے روکاجا سکتا ہے لیکن اگر کوئی بھاگ ہی نہیں رہا تو یہ گولی نہیں چلائی جا سکتی۔
امریکن کالج آف ایمرجنسی فزیشنز کے ترجمان اور نیو یارک سٹی کے ڈاکٹررابرٹ گلیٹر(Robert Glatter) نے ربر کی گولیوں کا استعمال بند کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ کسی بھی ہڈی کوتوڑسکتی ہے ، جسم کے اندر بھی داخل ہوسکتی ہے۔سائنسی تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس سے آنکھ کا ڈیلا بھی پھٹ سکتا ہے ،یہ سرکی ہڈی کو فریکچر کر سکتی ہے ،اوراس سے دماغ میں سنجیدہ زخم بھی بن سکتا ہے، پیٹ پر چلانے کی صورت میں پتے اور معدے کو بھی زخمی کرسکتی ہے۔خون کی نالیاں بھی پھٹ سکتی ہیں۔

’’Law 50-a‘‘ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ
سیاہ فام فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سے ’’Law 50-a‘‘ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے ،اس قانون کو سارے فساد کی جڑ سمجھا جا رہا ہے،یہ قانون دراصل پولیس اہل کاروں کے خلاف کی جانے والی انکوائریوں کو افشا کرنے سے روکتا ہے۔ اس طرح تشدد کو تحفظ مہیا کرتا ہے۔مذکورہ قانون کے تحت انتظامیہ پولیس کے خلاف ہونے والی کسی بھی انکوائری کو عام کرنے کی پابند نہیں ہے۔ کسی بھی اہل کار کے خلاف ڈسپلن کی کارروائی ہمیشہ فائلوں میں دفن رہتی ہے۔پولیس اس قانون کوبحال رکھنے کے حق میں ہیں لیکن انسانی حقوق کی انسانی حقوق کی 85تنظیموں نے تنسیخ کے حق میں ووٹ ڈالا ہے،کئی ریاستوں میں پوری شدت کے ساتھ اس قانون کے خلاف آواز اٹھی ہے ۔گورنر نیویارک اینڈریو کومو نے بھی قانون میں اصلاحات لانے کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے تنسیخ اور ترمیم کا ذکر تے ہوئے کہا کہ’’آپ کو جو کچھ بھی چاہتے ہیں، مجھے بھجوائیں میں سائن کر دوں گا‘‘۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

 کس نے کہاں پیدا ہونا ہے اور اُس کی پرورش کس نے اور کیسے کرنی ہے یہ سب فیصلے اُس قادرِمطلق نے کر رکھے ہیں اور اُن کو کوئی تبدیل بھی نہیں کرسکتا جب تک وہ نہ چاہے  

مزید پڑھیں

  ایک طرف دنیا کورونا جیسی منفرد بیماری سے لڑنے میں مصروف ہے اب تک لاکھوں جانیں اس آفت کی نذر ہو چکی ہیں اور وبا ء ہے کہ قابو میں نہیں آ رہی۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں ہی نہیں بلکہ دنیا کو بھی نہیں پتہ کہ اس بیماری سے کب تک لڑنا ہے اور یہ بات بھی یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ ایک بار ختم ہونے کے بعد یہ دوبارہ سے نہیں پھوٹے گی ۔ ایک ہفتہ قبل انہوں نے لاک ڈائون میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے قوم پر روز دیا کہ وہ اس سے بچنے کیلئے ان تمام احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرے جن کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس بیماری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حکومت کو لاک ڈائون کی طرف واپس جانا پڑے گا اور وہی اقدامات اٹھانے پڑیں گے

مزید پڑھیں