☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن دین و دنیا ادب کیرئر پلاننگ
علامہ اقبال حب رسول ﷺسے سرشار

علامہ اقبال حب رسول ﷺسے سرشار

تحریر : مستنصر میر

04-14-2019

آج اور کل

علامہ محمد اقبالؒ

وہ کل کے غم و عیش پہ کچھ حق نہیں رکھتا

جو آج خود افروز و جگر سوز نہیں ہے

وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا

جس قوم کی تقدیر میں امروز نہیں ہے!

(ضرب کلیم سے انتخاب)

علامہ اقبالؒ رسول پاک ﷺسے دلی محبت کرتے تھے ۔ علامہ صاحب آپ ﷺکی محبت سے سرشار تھے،حضرت محمدؐ مسلم طرز زندگی کا مکمل نمونہ ہی۔علامہ اقبال کی نظر میں اہل ایمان کے لیے آپﷺسے دل کی گہرائیوں سے پیار کرنا ضروری ہے تاکہ حب رسول ﷺان کی عملی زندگی کا سرچشمہ اور کاملیت اور نجات کا ذریعہ بن سکے۔ یہ حضرت محمد ﷺ کی ذات ہی ہے جو انسان کو الوہی ہدایت کے حصول کا اہل بنا دیتی ہے،مسلمان یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ آپ ﷺ انہیں عزیز تر ہیں(رموز بے خودی، ۱۰۱) ۔علامہ اقبال ارمغان حجازمیں کہتے ہیں ؛

بدن وا ماند و جانم در تگ و پوست

سوئے شہرے کہ بطحا در رہ اوست

تو باش ایں جا با خاصاں بیامیز

کہ من دارم ہوائے منزل دوست

علامہ لکھتے ہیں کہ

’’مسلمان حضرت محمد ﷺ کی پیروی فقط اس لیے نہیں کرتے کہ آپﷺ نے وحی الہٰی یعنی قرآن ہم تک پہنچایا ہے بلکہ وہ آپ ﷺکوزندہ قرآن مانتے ہیں جو اپنی امت کے سامنے ایک مکمل نمونہ عمل تھے۔ مسلمانوں میں پیغمبراکرمﷺ کی تعظیم نہ فقط عوامی سطح پر ہوتی ہے، بلکہ عقلی سطح پر بھی ان کی بے حد توقیر کی جاتی ہے۔ پیغمبراکرمﷺ کی نعت گوئی تقریباً ہر زبان میں کی گئی ہے۔ اقبالؒ کی نعت رسول مقبول ﷺاردو اور فارسی کے شہ پاروں میں سے ایک ہے۔ مندرجہ ذیل مصرعوں سے پیغمبر اسلام ﷺسے اقبالؒ کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔

وہ دانائے سبلﷺ، ختم الرسلﷺ، مولائے کلﷺ جس نے

غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر

وہی قرآں، وہی فرقاں، وہی یاسین، وہی طاہا

(بال جبریل، ص ۳۱۷)

تیسرے مصرعے میں اول اور آخر قرآن پاک سے لیے گئے ہیں؛ یعنی اوّل اور آخر ۳۔۵۷ جہاں خدا کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیاہے، یاسین اور طاہا قرآن پاک کی دو سورتوں کے علی الترتیب ۳۶ اور ۲۰ کے نام ہیں اور فرقان قرآن مجید کے ناموں میں سے ایک نام ہے(۱؛۲۵)۔ اقبالؒ اپنی نظم وطینت (بانگ درا، ۱۶۰، ۱۶۱) میں زمینی قومیت پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ آپﷺ کے دین کے خلاف ہے۔اگر کوئی مسلم امت کا زمینی وطن متعین کرنا چاہتا ہے تو وہ ہند ہے اور نہ ایران و شام ہے، یہ فقط یثرب ہے، یثرب اسلام سے قبل مدینہ کا نام ہے، مدینۃ الرسولﷺ، آہ ! یثرب، دیس ہے تو مسلم کا تو ماویٰ ہے(بانگ درا، ۱۴۷)۔ سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا(بانگ درا، ۱۵۹)، اسلام تیرا وطن ہے اور تو مصطفوی ﷺہے(بانگ درا، ص ۱۴۷)۔

یہ حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس تھی جس نے بتایا کہ دین اور دنیا یا روحانی اور مادی کو کیسے یکجا کیا جائے؛ از کلید دیں در دنیا کشاد (اسرار خودی، ۱۹)۔ ایک بار اقبالؒ نے بتصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی غیر مسلم مسلمان کی اس محبت کا اندازہ نہیں کر سکتا جو مسلمان کو اپنے حضرت نبی پاک ﷺسے ہوتی ہے۔ جیسا کہ واضح ہے کہ دور جدید کے ممتاز ترین مفکر اقبالؒ کی شاعری مسلمان اور غیر مسلم دونوں کوحضرت محمد ﷺ کی محبت سے متاثر کرتی ہے۔

اقبالؒ کا دعویٰ ہے ان کی شاعری قرآن پاک کے گرد گھومتی ہے، وہ کہتے ہیں ’’ اگر ان کی شاعری میں کوئی بات خلاف قرآن ہو تو قیامت کے دن حضرت نبی پاک ﷺ کے پاوں کا بوسہ لینے سے انہیں محروم کر دیا جائے(رموز بے خودی،۱۶۸)۔

یہ اقبالؒ ان کے اس کردار کی نشاندہی کرتا ہے جو بحیثیت شاعر انہیں ادا کرنا ہے، انہیں گویا شاعری کے ذریعے قرآن پاک کی تفسیر کرنی ہے۔ بہت سے ثبوت کے ذریعے یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ اقبالؒ کی شاعری میں قرآن پاک کو مرکزیت حاصل ہے۔

آغاز سے ہی بے شمار باتیں ان کی شاعری میں قرآن سے مل جاتی ہیں۔ بہت سے مقامات میں قرآن کے الفاظ، تراکیب اور بعض اوقات پوری آیت شامل ہوتی ہے۔ قرآن پاک ۲؛۱۳۸ میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں خود کو رنگ لیں، یہ آیت صبغۃ اللہ سے شروع ہوتی ہے، اللہ کے رنگ میں رنگ جائو، یہ پوری آیت اقبالؒ کے اس مصرع میں آ گئی ہے؛ قلب را از صبغۃ اللہ رنگ دہ(اسرار خودی، ۶۲)، اپنے دل کو اللہ کے رنگ میں رنگ لو۔

قرآن پاک ۳؛۹۲ میں مسلمانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں مالی قربانی پیش کریں۔ آیت شروع ہوتی ’’ لن تنالوا البر حتیٰ تنفقوا مما تحبون‘‘(تم نیکی ہرگز حاصل نہیں کر سکتے یہاں تک کہ اپنی محبوب چیز سے خرچ نہ کر لو)، اقبال کے ایک شعر کا پورا مصرع ہے(جاوید نامہ، ۶۶۸)۔متعدد فارسی اور اردو کے شعر قرآن پاک کے مطالب یا قریب تر مطالب کی صورت میں قرآن پاک کی تفسیر ہیں۔ مثلاً ما از نعمت ھائے او اخواں شدیم، یہ اس کی مہربانی تھی کہ ہم آپس میں بھائی بھائی بن گئے، یہ قرآن پاک کی آیت کا ۳؛۱۰۳، فاصبحتم بنعۃ اللہ اخواناً کا ترجمہ ہے۔

بعض اوقات اقبال قرآن کے کسی لفظ یا اظہار میں تھوڑی سے تبدیلی وزن یا دوسری کسی وجہ سے کر دیتے ہیں۔ لاتعداد حوالوں سے اقبال کی شاعری اور انداز بیان میں قرآن پاک کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر یہ تاثیر اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اقبال کے لیے قرآن اسلام کی آخری سند ہی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اندر مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے ہدایت بھی رکھتا ہے جس کی مسلمانوں کو ضرورت ہے۔

جاوید نامہ میں ترکی کے مصلح اور وزیر اعظم حلیم سعید پاشا (متوفی ۱۹۱۷)، رجوع الی القرآن کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے، اس سے ہدایت حاصل کرو؛ اس کی آیات میں غوطہ زن ہو، جس میں سینکڑوں نئے جہاں پوشیدہ ہیں اور قرآن ہی دنیا قدیم کو دنیا جدید میں بدلنے میں مدد گار ہو گا(جاوید نامہ، ۶۵۴)۔ جاوید نامہ میں ہی ایک اور مسلم مصلح جمال الدین افغانی قرآن کے چار بنیادی محکمات یا تصورات کی تفصیل بتاتا ہے(جاوید نامہ، ۶۵۳ تا ۶۵۶ )؛ خلافت آدم، حکومت الہٰی، عبادت الٰہی، حکمت بطور بڑی نعمت۔ اختصار کے پیش نظر یہاں فقط اتنا جاننا ضروری ہے کہ یہ تمام تصورات جو وہ سیکھاتے ہیں قرآن سے لیے گئے ہیں، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمانوں کی کامیابی کا نسخہ قرآن پاک ہی ہے۔

سب سے زیادہ دلچسپ شاید اقبالؒ کی قرآنی فکر کی تفسیر ہے۔ یہ موضوع اقبالؒ کی ساری فکر پر محیط ہے، مفصل مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم یہاں فقط چند باتوں کی طرف اشارہ کریں گے۔ اقبالؒ نے قرآن پاک کی تفسیر لکھنے کا ایک منصوبہ تیار کر رکھا تھا۔ ان کی زندگی نے انہیں اس کام کو مکمل کرنے کی مہلت نہ دی، تاہم ہم ان کی شاعری سے وہ خد وخال اخذ کرسکتے ہیں وہ کس طرح کا کام کرنا چاہتے تھے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ روایتی انداز میں یہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے، ہر ہر آیت کا صرفی اور نحوی، کلامی اور فقہی تفسیر نہیں بیان کرنا چاہتے تھے۔

یہ کام ایسا ہوتا جو قرآن پاک کی ہمہ جہتی سچائی کو واضح کرتا اور خاص طور وہ عملی طریقہ کار جس کی طرف قرآن رہنمائی کرتا ہے۔ اس کام اور طرز استدلال کا ایک اندازہ رموز بے خودی کے آخری باب سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں اقبال کہتے ہیں کہ’’ خدا کی طرح مسلمان قوم کو ایک اورمتحد ہونا چاہیے، انہیں کسی پرانحصار نہیں کرنا چاہیے ، مسلمانوں دوسروں کے رحم و کرم پر ہونے کے بجائے خود انحصاری کرنی ہے، اپنے زور بازو سے جینا ہے۔وہ کسی سے ہوں اور نہ کوئی ان سے ہو۔ مسلمانوں کو اپنی شناخت کے لیے نسل پر فخر نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ ان کی اصل شناخت ان کا دین ہے نسل اور قبیلہ نہیں ہے اور خدا جیسا کہ وہ لاثانی ہے۔ مسلمانوں کو اقوام عالم میں لاثانی ہونا ضروری ہے۔ ٭٭٭٭

علامہ محمد اقبالؒ

شورش میخانہ انساں سے بالاتر ہے تو

زینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو

ہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے تو

جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو

صفحہ ایام سے داغ مداد شب مٹا

آسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب مٹا

حسن تیرا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر

آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر

نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر

کھولتی ہے چشم ظاہر کو ضیا تیری مگر

ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے

چشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوہ چاہیے

شوق آزادی کے دنیا میں نہ نکلے حوصلے

زندگی بھر قید زنجیر تعلق میں رہے

زیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے

آرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی مجھے

آنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو

امتیاز ملت و آئیں سے دل آزاد ہو

دیدہ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عیاں

ہو شناسائے فلک شمع تخیل کا دھواں

عقدہ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے

حسن عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے

دل میں ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر

نور سے جس کے ملے راز حقیقت کی خبر

شاہد قدرت کا آئینہ ہو ، دل میرا نہ ہو

سر میں جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو

تو اگر زحمت کش ہنگامہ عالم نہیں

یہ فضیلت کا نشاں اے نیر اعظم نہیں

نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا

اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا

کس قدر لذت کشود عقدہ مشکل میں ہے

لطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل میں ہے

درد استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں

جستجوئے راز قدرت کا شناسا تو نہیں

(بانگ درا سے انتخاب)

 

مزید پڑھیں

انگریزوں نے سندھ پر ناجائز قبضے کے بعد اس کو صوبہ ممبئی سے ملحق کر دیا تھا اور یوںمسلمانوں کا یہ اکثریتی صوبہ اپنی جداگانہ حیثیت کھو بیٹھ ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ممی ڈیڈی گندم

ہم من حیث القوم دراصل اتنے سست ہیں کہ ممی ڈیڈی بچوں والی شکل اختیار کر چکے ہیں،

...

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ سورہ نسا میں ارشاد فرماتا ہے کہ،

...

مزید پڑھیں

پچھلے دنوں کئی واقعا ت میں قاتل ڈور نے متعدد افراد کی جان لے لی، کراچی سے لاہور تک ان کے قاتل کہیں چھپے ہوئے ہیں، جنہیں اب تک پکڑا نہیں جا ...

مزید پڑھیں