☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(انجنیئررحمیٰ فیصل) دین و دنیا(طاہر منصور فاروقی) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) رپورٹ(سید وقاص انجم جعفری) کچن خواتین فیشن(طیبہ بخاری ) تاریخ(عذرا جبین) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان) متفرق(اسد اسلم شیخ)
ہزاروں مریضوں کو گم شدہ انصاف کی تلاش ہے!

ہزاروں مریضوں کو گم شدہ انصاف کی تلاش ہے!

تحریر : صہیب مرغوب

04-28-2019

22اپریل کوکراچی کے ایک بڑے ہسپتال میں 9ماہ کی معصوم بچی نشویٰ آٹھ دن موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گئی۔نشویٰ کی موت پر پاکستان غم زدہ ہے۔وہ ایک معمولی علاج کیلئے 14 اپریل کونجی ہسپتال پہنچی تھی، سرکاری ہسپتال سے خوفزدہ یہ شخص نجی ہسپتال میں پہنچا ۔باپ کو کیا معلوم تھا کہ وہاں سرکاری ہسپتال سے بھی برا حال ہوگا۔ اسے پوٹاشیم کلورائیڈ کی خوراک بہت زیادہ دے دی گئی۔

چند لمحوںمیں دوا نے بچی کے دماغ کو جکڑ لیا۔ معصوم دماغ چند منٹوں میں مکمل طور پر مردہ ہو گیا۔ بعد ازاں اسے لیاقت نیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔نشویٰ کی موت سے پہلے تین سطحوں پر تحقیق جاری ہے۔ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ڈاکٹر اپنی تحقیق میں مصروف ہیں۔ 16 اپریل کوپروفیسر جمال رضا اور پروفیسر ایم این لال پر مشتمل دو رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھی ایک انکوائری کمیٹی بٹھا دی تھی۔ پولیس الگ معاملے کی جانچ کر رہی تھی۔بچی کا باپ قیصر پولیس سے انصاف کیلئے دہائی دے رہا ہے۔ معصوم بچی کا غمزدہ چہرہ آج بھی ان تینوں رپورٹوں پر حتمی کارروائی کا منتظر ہے۔ اسی دوران کراچی میں غلط علاج کے باعث 2افراددم توڑ گئے۔

مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب نشویٰ کی موت پر انتہائی غم زدہ ہیں، انہیں یا د ہے کہ ان کی اپنی ماں بھی ایک ہسپتال میں اسی طرح کے غلط علاج کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئی تھیں۔ غلط علاج کا دکھ کیا ہوتا ہے ،یہ وہاب مرتضیٰ جانتے ہیں۔ کراچی کے ایک اور اہم افسر کے خاندان میں بھی غلط علاج کے باعث ایک رکن کی موت ہوئی۔ وہ سات سال سے یہ مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ سندھ حکومت میں طاقتور عہدوں پر تعینات دو شخصیات غلط تشخیص کے ہاتھوں اپنے ایک ایک پیارے کو کھو چکے ہیں۔ اسی لئے سندھ پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ہسپتا ل کے سربراہ مستعفی ہو کر گھر جا چکے ہیں جبکہ مزید چار چھوٹے اہلکاروں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ ہو سکتا ہے ان سطور کے منظر عام پر آنے تک وہ بھی سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ ہسپتال کا مالک تا دم تحریر آزاد ہے ۔ پھندا ہمیشہ چھوٹی گردن میں پھنستا ہے بڑ ی گردن ہمیشہ محفوظ رہتی ہے!۔

ابھی اس واقعے کا غم غلط نہیں ہوا تھا کہ کراچی کے ایک اور ہسپتال میں 19سالہ بچی عصمت قتل کر دی گئی ۔ یہ کیس ہے گھر سے دانت کی دوا ئی لینے جانے والی عصمت کا۔وہ ابراہیم حیدری میں واقع اپنے گھر سے سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں علاج کیلئے پہنچی ، چند گھنٹوں بعد عصمت کے گھر فون کیاگیا کہ اس کی بچی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ،وہ قریب المرگ ہے،اسے کسی اورہسپتال میں منتقل کر دیا جائے ۔ چنانچہ عصمت کو فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی ماں کو موت کی پرچی تھما دی گئی۔ڈاکٹر نے کہا ،’’ دانت کے علاج میں جان ہار گئی ،

کبھی دانت کے معمولی علاج سے بھی مرا ہے کوئی؟۔ 19سالہ عصمت ہسپتال کے کسی اہلکار کی ہوس کا نشانہ بنی ۔ پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق اسے زبردستی منشیات کھلانے کے بعد زیادتی کی گئی۔پھر زہر کا ٹیکہ لگا کرعصمت کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا ۔ بدقسمت عصمت نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی اسے سزا تو ملنا چاہئے تھی۔ہمارے ہاں سب سے بڑا جرم غربت کے سوا اور کوئی نہیں۔کوئی نہیں جانتا کہ عصمت کی ماں نے کیا کھو دیا ہے۔باپ تھا نہیں، بوڑھی بیمار ماں کا وہ واحد سہارا تھی۔عصمت باہمت لڑکی تھی، اپنے خاندان کی اکلوتی کفیل، و ہ علاقے میں سماجی خدمات میں بھی حصہ لیتی تھی۔ وہ اپنے گھر کا ہی نہیں بلکہ محلے کے کچھ اور لوگوں کا بھی سہارا تھی۔

عصمت کے اہل خانہ نے ہسپتال کے عملے کیخلاف کیس درج کرنے کیلئے درخواست دی ہے۔’’جسٹس فار عصمت ‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لوگ پولیس سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ درست تفتیش ہی انہیں انصاف دلوا سکتی ہے۔ اس کی ماں یاسمین اور آنٹی فریدہ ہیومن رائٹس کمیشن اور نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق سے رابطے میں ہیں۔ سب کو گم شدہ انصاف کی تلاش ہے جو پولیس کی فائلوں میں کہیں دب گیا ہے،عورتوں نے پریس کلب کے باہر بھی مظاہرہ کیا۔ٹپکا ہوا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا،جو کیس زمین پر بند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس کھل جاتا ہے، کیس کو کتنا گنجل دیں گے طاقت ور لوگ؟کتنا نقصان پہنچا لے گا ایک پولیس افسر؟قصور وار کو سزا دلوانے کے لئے بے رحم نظام سے بہت سی امیدیں لگائے ہوئے ہیں،تمام دعوں کے باوجود ڈاکٹر لا پتہ ہے، پولیس اسے گرفتار نہیں کر سکی ،رسی کب تک درازرہے گی؟ کب تک مجرم چھپتا رہے گا؟آخر یہیں سے اٹھے گا شور محشر، یہیں پہ عذاب و ثواب ہوگا!پنجاب میں زینب کیس میں مجرم کو مثال بنا دیا گیا تھا ، عصمت بھی زینب جیسا انصاف چاہتی ہے۔ یہ دونوں کیس کراچی پولیس کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان دونوں کیسوں میں اصل مجرموں کوبچانے کیلئے پولیس کچھ نہ کچھ تو کرے گی۔

ہم عوام کو یاد کرادیں، یہ دو کیسز ہی نہیں ہیں،طب کی دنیا ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کوئی کوئی کیس سامنے آتا ہے۔ کوئی ایک شخص اپنی جان پر کھیل کر نظام سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے،اکثر چپ ہو جاتے ہیں ، کچھ تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔ لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں جان کی بازی ہارنے والی تین سالہ بچی ایمانے ملک کا باپ بھی ان میں سے ایک ہے۔

ایمانے ملک 29نومبر 2009ء کو ایک ہندو ڈاکٹر کے ہاتھوں غلط انجکشن لگنے پر جان کی بازی ہار گئی تھی۔ اس پیاری بچی کی روح انصا ف کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔17نومبر 2017ء کو خانیوال کے ایک نجی ہسپتال میں آنکھ کے آپریشن کے دوران ناقص علاج کی وجہ سے بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ 18اپریل 2018ء کو کورنگی کے سرکاری ہسپتال میں 10سالہ لڑکی غلط انجکشن لگنے سے اللہ کوپیاری ہو گئی۔31جولائی 2018ء کو گوجرانوالہ کے ہسپتال میں ایک نو مولود لڑکا جان کی بازی ہار گیا تھا۔ 15دسمبر 2018ء کو غلط انجکشن لگنے سے گوجرانوالہ کے ہسپتال میں ایک اور موت واقع ہوئی۔ ہر سال بیشمار مریض غلط علاج کی وجہ سے خاموشی سے منوں مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں۔سال بھر میں غلط علاج کے باعث پاکستان میں ہزاروں نو زائیدہ بچے، مائیں، جوان اور بوڑھے اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔

ثمینہ اسماعیل ( کراچی)اور ارشد تقی ( لاہور)نے بھی کئی ادویات کے غلط استعمال کے باعث ہونے والی اموات کا پتہ چلانے اور نظام تشخیص کو بہتر بنانے کیلئے تحقیق کی ۔ ان کے بقول ہمارا موجودہ طبی نظام کئی مشکلات کا شکار ہے۔ اس کا دارو مدار ڈاکٹر پر ہے، جسے کامل ہونا چاہیے۔ ہماراسارا ڈھانچہ ڈاکٹر پر منحصر ہے۔ جان و مال کے تحفظ کیلئے طبی آلات پر انحصار بڑھانا چاہیے ‘‘۔ یعنی ان کے مطابق ’’ ہسپتالوں میں غلط ادویات ایک عام بات ہے ، نصف کے قریب مریضوں کی مشکلات کا تعلق غلط تشخیص سے ہوتا ہے۔

میڈیکیشن کے عمل میں ادویات کی پریس کرپشن سو فیصد صحیح ہونی چاہیے ۔ادویات پر وہی کچھ درج ہونا چاہیے جو کچھ گولیوں میں موجودہوتا ہے‘‘۔ انہوںنے بتایا کہ ’’میڈیکیشن کے عمل میں 10باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے جن میں مریض کی معلومات، ادویات کی اطلاعات ، فراہمی، لیبلنگ، پیکجنگ اور ان میں موجوداجزاء کی نشاندہی بہت ضروری ہے۔ ادویات کا ذخیرہ کرنااور اس کے معیار کی جانچ کا عمل بھی ضروری ہے۔ماحول بھی ادویات پر اثر انداز ہوتا ہے، اس لیے سٹوریج کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ادویات کی دیکھ بھال پرمامور سٹاف اور مریض کو بھی تعلیم یافتہ ہونا چاہیے‘‘۔ ہمیں اپنے نظام اور غلط کام کرنے والے افراد کوتحفظ دینے کی بجائے سزا اور جزاء کے نظام کو بہتر بنانا چاہیے ورنہ ہم کبھی خود کو بہترنہیں بنا سکیں گے۔

یہاں میں سندھ میں چین اور پاکستان کے ماہرین کی ایک تحقیق کا حوالہ دینا چاہوں گا ۔اے ایس شیخ کے علاوہ 6چینی ماہرین بھی اس میں شامل تھے۔ یہ تحقیق سوزش ،ورم کے خاتمے میں استعمال ہونے والی غیر سٹیرائیڈز ادویات کے غلط استعمال سے متعلق تھی۔ انہوں نے بتایا کہ’’479مریضوں کے کیسز میں سے صرف 21کو غلطیوں سے پاک پایا تھیں۔ صرف ساڑھے چار فیصد مریضوں کو عالمی معیار کے مطابق درست اور باقی ماندہ95.6فیصد مریضوں کو غلط ادویات دی گئیں۔ وہاںان ادویات کاعالمی ادارہ صحت کے اصولوں کے منافی بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔کہیں ڈاکٹروں نے مرض کی تشخیص میں غلطی کی توکہیں علاج میں۔ جس کا خمیازہ بالآخر مریض کو بھگتنا پڑا۔‘‘

ایک اور تحقیق کراچی میں لبنیٰ بشیر ، طلعت نقوی ، صائمہ بشیر، صائمہ رمضان، ندا شفیق، طوبیٰ صدیقی، صائمہ یاسین بیگ اور عصمہ اشرف نے کی۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ بعض ہسپتالوں میں تشخیص میں بڑے پیمانے پر خامیاں پائی جاتی ہیں۔ کراچی کے مختلف ہسپتالوں سے کیسز اکٹھے کیے گئے تو پتہ چلا کہ کوئی ایک رپورٹ بھی پورے طور پر مکمل نہ تھی۔ ہر رپورٹ میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور موجود تھی۔ مثلاً 34فیصد میں تشخیص ہی نامکمل تھی۔

آدھے سے زائد کیسوں میں مریضوں کی عمر اور صنف تک درج نہ تھی ۔10سے 34 فیصد تک کیسوں میں یہی نہیں بتایا گیا تھا کہ دوا کی خوراک کتنے دنوں تک اور کتنی کھانی ہیں ، یعنی مریض کو یہی نہیں بتایا گیا تھا کہ اس نے گولی ، صبح شام دوپہر کھانی ہے یا دن میں صرف ایک مرتبہ۔ مزید 15سے 34فیصد کیسوں میں تشخیص ہی صحیح طریقے سے نہیں کی گئی تھی۔ سب سے زیادہ خامیاں الرجی کے معاملات میں تھی۔ 96فیصد کیسوں میں یہی درج نہیں تھا کہ مریض کو کسی قسم کی کوئی الرجی ہے یا نہیں‘‘۔ یعنی مریض اللہ کے سہارے ہی زندہ رہ سکتا ہے۔

پاکستان میں غلط میڈی کیشن اور ناقص تشخیص کے بارے میں حسن رضا اور یاسمین اختر نے بھی ایک تحقیق کی۔ دونوں کا تعلق ڈائو یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ اور ڈیپارٹمنٹ آف فارمیسی سروسز سے تھا۔ انہوں نے پتہ چلایا کہ تقریباً 83فیصد سے زائد مریضوں کو کم یا اوسط درجے کی نقصان دہ ادویات تشخیص کی گئیں۔

یعنی صرف 17فیصد مریضوں کو مکمل طور پر محفوظ ادویات فراہم کی گئیں۔ ادویات کی فراہمی میں مختلف طرح کی خامیاں تھیں اور بعض مریضوں صحیح طور پر متبادل دوا مہیا نہیں کی گئی۔ تقریباً 6فیصد کو ایک جیسی اور 21فیصد کو ا دویات کی مقدار غلط تشخیص کی گئی۔ تقریباً 27فیصد کو مناسب دوا ہی نہیں بتائی گئی۔ لہٰذا پاکستان میں ڈاکٹرو ں کیلئے فارمیسی پروگرام کو بہت طاقتور اور اہم سمجھا جانا چاہیے‘‘۔

ادویات کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہونے سے علاج میں غلطیاں نظر آرہی ہیں۔ مندرجہ بالا تحقیقات کے مطابق چھوٹے بچوں کوبھی غلط ادویات تشخیص کی گئیں۔ دو ماہ سے 12سال تک کے 65فیصد بچوں کو دی جانے والی ادویات میں کوئی نہ کوئی خامی پائی گئی۔ حتیٰ کہ نوزائیدہ بچوں کو بھی صحیح ادویات نہیں دی گئیں۔ اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی کم ہے لیکن پھر بھی ہے۔

اس تحقیق کے مطابق 45.4فیصد ادویات کا معمولی ، 37.8فیصد کا اوسط اور 16.8فیصد کا شدید نقصان ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوںنے یہ نہیں بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر غلط تشخیص کے باوجود ایسا کرنے والوں کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔ ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم مکمل طور پر ناکام ہے۔ لیکن اس کی ناکامی کا جائزہ لینے سے پہلے ادویات کی غلط تشخیص پر تھوڑا اور غور کر تے ہیں۔ اس بارے میں فیڈرل اردو یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف مائیکرو بائیولوجی اور فیکلٹی آف فارمیسی نے بھی ایک تحقیق کروائی۔ جس میں انہوںنے 4سو کیسز کا جائزہ لیا۔ ان کی تحقیق کے مطابق بھی ادویات کے مقدار کے بارے میں بے شمار اغلاط کی گئیں۔ یعنی کسی کو زیادہ دوا کھلا دی گئی اور کسی کو کم۔ اس کا بھی زبردست نقصان پہنچا۔

غلط علاج دنیا میں عام ہے۔ ڈاکٹر الہامی صلاحیتوں کے مالک نہیںہوتے۔ انسان غلطی کا پتلا ہے غلطی کسی بھی انسان سے ہو سکتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں کوئی چیز مکمل نہیںاور ماسوائے اللہ کے کسی کو حقیقت کاعلم نہیں۔ مگر انسان کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا چاہیے۔ کوتاہیوں ، خامیوں اور برائیوں کو نظر انداز کرنے والے کبھی ترقی کر سکتے ہیں نہ خود کو بہتر بنا سکتے ہیں۔غلطی دوبارہ نہ ہو،ہم سب کی منشا بھی یہی ہونا چاہیے۔

یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر میں پانچ لاکھ لوگ ہر سال ڈاکٹروں کی غلطیوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ،صرف امریکہ میں سالانہ 44ہزار سے 98ہزار تک اموات ہوتی ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی سکول آف نرسنگ کی کرن شیخ اور شریفہ بشیر لالانی نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ’’ غلط علاج کے باعث امریکہ میں سالانہ 38ارب ڈالر(5600ارب روپے) سے 50ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

یہی نہیں، 98ہزار اموات میں سے نصف جانوںکو بچایا جاسکتا ہے۔ یعنی 98ہزار افراد میں سے نصف قابل علاج ہوتے ہیں‘‘۔ غلط علاج پر امریکہ میں بے تحاشا مقدمات درج ہوتے ہیں۔ اس سے امریکی میڈیکل سسٹم پر بہت بوجھ پڑ رہا ہے۔اٹلی میں بھی اسی طرح کا سروے ہوا جس میں 25فیصد کو نامکمل اور مبہم پایا گیا جبکہ مزید 24فیصد نسخے پڑھنے کے قابل ہی نہ تھے، لازمی طورپر میڈیکل سٹور نے غلط ادویات دی ہوں گی۔ لاہور میں چلڈرن ہسپتال میں بھی نرسوں کی پرفارمنس کے حوالے سے ایک تحقیق ہوئی،

جس کی مصنفہ ثمینہ عنایت ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ 26فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ ادویات کی نشاندہی بالکل درست کی جاتی ہے، جبکہ مزید 29فیصد نے تسلیم کیا کہ ادویات کے ناموں میں مماثلت غلط ادویات کی فراہمی کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن اس معاملہ میں غلطی کرنے والے کو سزا ملنا چاہیے تاکہ کسی اور کو جرات نہ ہو۔ایک مجرم کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم جرم کے دروازے کھول رہے ہیں ۔ ہمیں ہر صورت میں ہر کیس میں انصاف کرنا چاہیے ورنہ آج جس مجرم کو ہم چھوڑ رہے ہوتے ہیں ،وہ کل کسی اور کی بھی جان لے سکتا ہے۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

کئی افراد نے چینیوں کو محبت بھرے پیغامات بھیجے ہیں ،وہ چینی زبان سیکھنا چاہتے ہیں بھارتی عوام اب چین کی وجہ سے بھی کشمیریوں کا قتل عام کریں گے  

مزید پڑھیں

 25مئی کو ایک سیاہ فام باشندے جارج فلائیڈ کی پولیس تشدد سے ہلاکت کے بعد31مئی 2020ء تک نیشنل گارڈز کے 30 ہزارارکان اور 1600باقاعدہ فوجی مختلف ریاستوں میں پہنچ گئے تھے۔بعد ازاں فوج کے علاوہ نیشنل گارڈز کی تعداد 66700 ہو گئی ،اکثر کورونا سے بچائو کے لئے لائے گئے تھے ،جن کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ امریکی سڑکیں ’’میدان جنگ ‘‘ کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔جس پر امریکہ کے 16شہروں میں کرفیو لگانا پڑا جبکہ کل 23ریاستوں میں نیشنل گارڈز(فوج )بلانا پڑی۔نیشنل گارڈز بھی دراصل فوج ہی کا حصہ ہیں۔

مزید پڑھیں

 کس نے کہاں پیدا ہونا ہے اور اُس کی پرورش کس نے اور کیسے کرنی ہے یہ سب فیصلے اُس قادرِمطلق نے کر رکھے ہیں اور اُن کو کوئی تبدیل بھی نہیں کرسکتا جب تک وہ نہ چاہے  

مزید پڑھیں