☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل رپورٹ کھیل خواتین کچن کی دنیا سفر نامہ دین و دنیا فیشن متفرق کیرئر پلاننگ ادب
اگلا بجٹ اور ہماراسماجی ڈھانچہ

اگلا بجٹ اور ہماراسماجی ڈھانچہ

تحریر : صہیب مرغوب

05-05-2019

اگلے مالی سال کے میزانیے کی تیاری کا کام جاری ہے۔ عین بجٹ کی تیاری کے دنوں میںسابق وزیر خزانہ اسد عمر کے ہٹائے جانے سے وزارت خزانہ کی کارکردگی پر پڑنے والے اثرات ابھی سامنے نہیں آ سکے۔ ایف بی آر کا عملہ نئی قیادت کے زیر سایہ کام کر رہا ہے۔

فی الحال کہا نہیںجا سکتا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں ایف بی آر کا حصہ کتنا ہوگا،یہ ادارہ ٹیکس نادہندگان سے ٹیکسوں کی وصولیوں میں کامیاب ہو گا یا نہیں؟۔لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ اب پہلے سے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے کچلے ہوئے عوام میں مزید برداشت باقی نہیں رہی۔ٹیکسوں کی ادائیگی قومی تقاضا بھی ہے، لیکن جب ان ٹیکسوں کا ہدف بار بار ایک ہی طبقہ بنتا رہے تو پھر یہ بوجھ بن جاتے ہیں اور معاشی تفاوت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں،پیسہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے لگتا ہے، ایک طبقہ بنیادی ضرورتوں کو ترستا ہے،دوسری طرف ٹیکس چوروں کے اللے تللے ہی ختم نہیں ہوتے۔اب سنا ہے کہ نئی حکومت ٹیکس چوروں کا سراغ لگانا چاہتی ہے مگر دستاویزات سے ان دعووں کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ایف بی آر اور وزارت خزانہ کی نئی قیادت ٹیکسوں کی وصولی کے ڈھانچے ، افرادی قوت اور ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی شرح میں بھی ردو بدل کرنے کی خواہاں ہیں،لیکن شاید اس کا نشانہ غریب ہی بنیں گے ۔ کیونکہ آئی ایم ایف ، خم ٹھونک کرایف بی آر کے پیچھے ہے،آئی ایم ایف کی ہر تجویزغریب کے نوالے کو نشانہ بنائے گی۔

رمضان کی آمد آمد ہے ،سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکومت نے بھی 21کروڑ عوام کیلئے ڈھائی ارب روپے کی سبسڈی مختص کر دی ہے۔ صوبائی حکومتیں الگ اپنا حصہ ڈالیںگی ۔ مگر سابقہ دور میں مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز کا اصل فائدہ غریب ترین طبقے کو نہیں پہنچتا ،ان کے پاس یوٹیلٹی سٹوروں پر جانے اور ایک معقول مقدار میں اشیائے صرف کی خریداری کے پیسے ہی نہیں ہوتے۔ یوٹیلٹی سٹورز کا زیادہ تر فائدہ اپر مڈل کلاس اور مڈل کلا س والے اٹھاتے ہیں۔ تاہم یہ طبقات رمضان المبارک کے فیوض و برکات سمیٹنے کی خاطر صدقہ و خیرات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں بلکہ رمضان المبارک میں زیادہ تر خریداری نچلے طبقات کے لیے ہی کی جاتی ہے۔ اس لئے یہ سبسڈی غریبوں کو ہی منتقل ہو جاتی ہے۔اب ہم اپنے موضوع،اگلے مالی سال کے میزانیے کی جانب واپس آتے ہیں۔

ملک میں 7کروڑ سے 8کروڑ تک لیبر فورس بتائی جارہی ہے، پڑھالکھا طبقہ روزگار کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ ایم اے اور ایم فل کی ڈگری بے وقت ہو کر رہ گئی ہے۔ اگرسرکاری تعلیمی ڈھانچے کی توہین نہ ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان ڈگریوں میں دال روٹی تقسیم کرنے سے شاید اہل علم کو کچھ فائدہ ہو جائے ۔ انجینئرنگ کونسل کے مطابق ایک چوتھائی سے زیادہ انجینئرز سسٹم سے باہر ہیں۔ چھوٹی موٹی نوکریوں پر گزر اوقات ہے۔ ایم بی اے پاس نوجوانوں کا بھی یہی حال ہے۔ ہمارے ہمسائے میں ایک ایم بی اے پاس کاروں کی ورکشاپ میں حساب کتاب کا کام کر رہاہے۔ ایم بی بی ایس کے سوا باقی تمام ڈگریاں بے اثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟اس سوال کا جواب اگلے بجٹ میں ارباب اختیار کو ہی تلاش کرنا ہے۔اسی سے جڑا ہوا ایک اور سوال یہ ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کو کس قدر فنڈز ملیں گے؟۔

مسلم لیگ ن کے دور میں مرتب کردہ پالیسی کے مطابق پبلک سیکٹر کی تمام یونیورسٹیوں کی گرانٹس رفتہ رفتہ ختم کر دی جائیں گی، تمام یونیورسٹیوں کو خود کفیل ہونا پڑے گا ۔ اسی پالیسی میں اگلے پانچ برس کے لئے تمام یونیورسٹیوں کی گرانٹس میں بتدریج کمی کرنے کا ایک خاکہ مرتب کیا گیا تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں ایسا ممکن نہیں۔ گومل یونیورسٹی سمیت متعدد یونیورسٹیوں میں نوجوان پبلک سیکٹر کی فیسیں دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔عوام کی معاشی حیثیت حکومت کے علم میں ہے۔ حکومت کو ہر طبقے کی فی کس آمدنی اچھی طرح معلوم ہے۔ پھر بھی فیسوں میں اضافے کا فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں۔ نئے بجٹ میں ا س سماجی مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

بے روزگاری پریشان کن ہے،لاکھوں افراد کی نیندیں حرام ہیں، اگلے بجٹ میں وفاقی حکومت کو اس کاحل تلاش کرنا چاہیے ۔ نجکاری ،بالخصوص عالمی اداروں کو نجکاری کے باعث پیسہ ڈالروں کی شکل میں بیرونی اکائونٹس میں منتقل ہو چکا ہے۔ عوام بجلی اور گیس کی قیمت بھی ڈالروں میں بھگت رہے ہیں۔ ان سطور کے منظر عام پر آنے تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بڑھ جائیںگی۔ اوگراسوا 13روپے اضافے کی سمری بھجوا چکاتھا۔ اوگرا کا فیصلہ ’’حکم حاکم‘‘سے کم نہیں۔ اس پر عملدرآمد ہو گا۔ہو سکتا ہے 13روپے کی جگہ کم اضافہ کیا جائے لیکن پٹرول بم چل چکا ہوگا۔کیا کسی افسر نے نوجوانوں کو کئی کئی میل تک اپنے موٹر سائیکل کو گھسیٹتے دیکھا ہے؟پٹرول کی گرانی نے عوام سے سکون چھین لیا ہے۔ان حالات میں ایف بی آر کو سیلز ٹیکس کے ڈھانچے کو ٹھیک کرنا چاہیے۔

یہ درست ہے کہ ارباب اختیار نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرول پر سیلز ٹیکس میں کچھ کمی کی ہے۔ مگر سیلز ٹیکس خود ہی سب سے متنازع ٹیکس ہے۔ اس ٹیکس کی برسہا برس سے مخالفت کی جارہی ہے۔ مگر طاقتور طبقات نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ سیلز ٹیکس کے ذریعے ٹیکسوں کا بڑا بوجھ آٹے روٹی کو محتاج افراد پرڈال دیا ہے۔ اس کے برعکس امیر ترین طبقات کو متاثر کرنے والے براہ راست ٹیکس کم سے کم نافذ کئے جا رہے ہیں۔ سیلز ٹیکس جیسے ان ڈائریکٹ ٹیکس امیر اور غریب کی تمیز کے بغیر ہر کسی کو متاثر کرتے ہیں۔ چاہے وہ فٹ پاتھ پر سونے والا بھکاری ہو یا تاج محل جیسی عمارت میں مقیم شہزادوں جیسی زندگی بسر کرنے والا رئیس ۔ سب پر 15فیصد نافذ ہوجا تا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے؟ یہ کیسی اچھی مساوات ہے؟ لیکن یہ مساوات محمدی ﷺ کے منافی ہے۔ اسلام نے گردش زر کے لئے زکوٰۃ کے مؤثر نظام کو قائم کیا ہے۔ اسلام میں منافع خوری کا کوئی تصور نہیں۔ حکومت ٹیکسوں کے ڈھانچے میں انصاف قائم کرنے کیلئے اقدامات کرے ورنہ سماجی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

ہمارے سماجی المیوں میں ایک اور المیہ غیر شادی شدہ بچیوں کا ہے۔ بیٹیاں کب بڑی ہوتی ہیں ، کب ان کے ہاتھ پیلے کر دینے چاہیں، پتہ ہی نہیں چلتا۔ سب کچھ پل بھر میں ہوجاتاہے۔ سکول میں قدم رکھتے ہی اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی جستجو میں والدین کے بال سفید ہو جاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایسے ہی ایک باپ نے جہیز کی لعنت سے تنگ آکر خودکشی کرلی ۔ شادی سے چند دن پہلے غریب کا گھر ماتم کدہ بن گیا ،جہاں شادیانے بجنے تھے وہاں آہ و فغاں کاعالم رہا۔ حکومت اچھے روزگار کی فراہمی کے ذریعے والدین کو اپنی بیٹیوں کو مناسب جہیز دینے کے قابل تو بنا سکتے ہیں۔یہ بہت بڑا سماجی المیہ ہے،اس برائی کی جڑ پیسہ ہے، بے روزگاری ہے، غربت ہے ،ان عوامل کے سوا کچھ نہیں۔ٹیکسوں کے منصفانہ ڈھانچے کے ذریعے قوم کو اس دلدل سے نکالا جا سکتا ہے۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں شادی شدہ خواتین کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوا ہے۔ ایک خاص عمر سے اوپر شادی شدہ خواتین کی تعداد 52.6فیصد سے بڑھ کر 53.5فیصد ہو گئی ہے۔

مگر بیوگان کی تعداد بھی3.6فیصد سے بڑھ کر 3.9فیصد ہوگئی۔ مرد جلدی مرنے لگے !آخر کیوں؟وہ کون سا ڈپریشن ہے جو ان کی جانیں لے رہا ہے؟سب سے بڑی مشکل تو پیسے کی کمی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق شادی کی عمر میں لا تعداد خواتین گھر میں بیٹھی رہ جاتی ہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں۔ایک وجہ کئی اضلاع میں لڑکیوں کی تعداد میں ہونے والا اضافہ ہے۔وہاں لڑکے کم اور لڑکیاں زیادہ ہیں۔ اس کے پیچھے بھی معاشی اور کسی حد تک سماجی عوامل کارفرماہیں۔ بڑھتی ہوئی ذہنی پریشانی طلاقوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ لڑکوں کو چھوٹی عمرمیں بڑی بیماریوں کا سامنا ہے۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ 20،22برس کی عمر میں دل اور شوگر کے امراض لاحق ہوں گے۔ اب دیکھ لیا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں مردوں اور عورتو ں کے تناسب میں بگاڑ پیدا ہوا ۔اس کی ذمہ دار بھی حکومتیں ہی ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان میں 2014ء میں101 لڑکوں کے مقابلے میں 115 لڑکیاں تھیں لیکن اب 101 لڑکوں کے مقابلے میں وہاں 119 لڑکیاں ہیں۔ سندھ میں 113 ، پنجاب میں 99 اور خیبر پختونخوا میں یہ تناسب 98ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں جہاں پہلے 100 لڑکوں کے مقابلے میں 103لڑکیاں تھیں وہاں اب 102ہیں ۔جبکہ شہری علاقوں میںیہ تناسب جوں کا توں ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ خیبر پختونخوا میں 5برس پہلے 1سو لڑکوں کے مقابلے میں 101لڑکیاں تھیں۔

مگر اب محض 99رہ گئی ہیں۔ اس سماجی تبدیلی سے بھی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔شہری اور دیہی علاقوں میں بھی صورتحال قدرے مختلف ہے۔ اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہی ہے،جو لوگوں کو ان کے علاقے یں نہ اچھی تعلیم دلوانے کے انتظامات کروا سکتی اور نہ ہی وہاں ملزاتیں دے سکی۔جس ملک کے بڑے سے بڑے شہر میں بھی میں دل کے امراض کا علاج نہ ہوتا ہو، اس ملک کے چھوٹے سے چھوٹے شہر کا کیا حال ہوتا ہوگا؟یہ کبھی سوچا ہے ہمارے سیاست دانوں نے؟۔اس نقل مکانی کی سب سے بڑی وجہ روزگار کی تلاش،ٹرانسفر،والدین یا شوہر کا تبادلہ، شادی،علاج یا اچھی تعلیم کا حصول ہے۔حکومت اگر یہ سہولتیں بجٹ کے ذریعے عوام کے گھر کے قریب مہیا کردے تونقل مکانی میں کمی ہو سکتی ہے۔ روزگار کی فراہمی کو بہتر بنا کر اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے۔

یہاں ہم ایک اور سماجی المیے کا ذکر کریں گے یہ المیہ بھی سرکاری پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اوپر ہم نے اندرون ملک نقل مکانی کا ذکر کیا، تلاش روزگار یا تبادلوں کے باعث لاکھوں گھرانے پدرانہ شفقت یا ممتا کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بچے کی شخصیت ماں اور باپ کی موجودگی کے بغیر مکمل ہی نہیںہوتی مگر ہمارے ہاںکئی لاکھ جانیں ایک یا دونوں کی غیر موجودگی میں پروان چڑھ رہی ہیں۔لاکھوں بچے اور بچیاںنوکروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اس سے ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ اندرون ملک مائیگریشن بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 8 فیصد ،سندھ میں 16فیصد ، بلوچستان میں 0.6فیصداور پنجاب میں تقریباً 75فیصد تک گھرانے کسی نہ کسی وقت اپنے سربراہ سے محروم رہے۔

اگر دیکھا جائے تو مردو خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد یا تو اپنے اضلاع میں نہیں رہتی یا پھر اپنے صوبے سے باہر کام کر رہی ہے۔ زیادہ تر افراد دیہات سے شہروں میں منتقل ہوتے ہیں اور یہ تناسب 15فیصد ہے۔ یعنی ہر ساتواں شخص اپنے گھر میں نہیں رہتا۔ اسے کرائے کا مکان لینا پڑتا ہے یا کسی کے ساتھ روم شیئر کرتا ہے۔ ایسے افراد میں ساڑھے 12فیصد خواتین اور 19فیصد مرد شامل ہیں۔ پنجاب کے دیہات میں اس وقت 14فیصد گھرانے اپنے سربراہ سے محروم ہیں۔ خیبر پختونخوا میں دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کا تناسب 38فیصد تک ہے۔

یہ بہت زیادہ ہے، سندھ میں یہ تناسب صرف ساڑھے چھ فیصد ہے۔ تھر میں موت رقص کر رہی ہے مگر سندھی اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتے۔ میں ایسے افراد کو جانتا ہو ں جو اونجی نوکریاں چھوڑ کر اسلام آباد سے اپنے پسماندہ گائوں میں واپس چلے گئے۔ ان کے نزدیک وہ اپنے گھر واپس آگئے۔ خیبر پختونخوا کے لوگ معاشی ترقی کیلئے نقل مکانی کرنے میں پیش پیش ہیں اسی میں ترقی کا راز مضمر ہے۔ اسی لیے دیہات سے شہر میں آنے والوںمیں خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے ۔کچھ اضلاع میں اس تناسب میں کمی آئی لیکن اس کے باوجود خیبر پختونخوا میں اضافہ ہی ہوا۔ جس کی بڑی وجہ مخصوص قبائلی ڈھانچہ ہے۔ جہاں انہیں نوکریاں ملنا مشکل ہے۔ بلوچستان سے بھی 14فیصد لوگ اپنے قبائل چھوڑ کر شہروں کی جانب منتقل ہوئے۔

پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں دیہات سے شہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کو تعداد میں کافی کمی آئی۔ 2014ء میں 22.5فیصد افراد نے شہروں کی جانب نقل مکانی کی مگر 2018ء میں یہ تعداد محض 15 فیصد رہ گئی۔ پنجاب میں دیہات سے شہروں کی جانب آنے والوں کی تعداد25سے کم ہو کر14فیصد رہ گئی جبکہ سندھ میں 14فیصد سے کم ہو کر6.5فیصد اور خیبر پختونخوا میں 21فیصد سے بڑھ کر 37.6فیصد ہو گئی۔

یہی بلوچستان میں دیہات سے شہروں میں آنے والوں کی تعداد 44فیصد سے کم ہو کر 14فیصد رہ گئی۔ حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کے اضلاع میں انہیں روزگار مہیا کر کے انہیں اس معاشی بے چینی سے نجات دلائے۔ اس ساری نقل مکانی کے پیچھے روزگار کی تلاش ہے۔ 2015ء میں 5.8فیصد 2018ء میں 5.7فیصد افراد نت تلاش روزگار میں گھر بار کو چھوڑا۔تاہم سب سے زیادہ مرد اور عورتیں شادی یا والدین کی وجہ سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئیں۔ اسی لیے ان میں بڑی تعداد خواتین کی شامل ہے۔ یقین کیجئے ،تقرر و تبادلے ، تعلیم یا ایسی دوسری وجوہات کی بنا پر بھی بے شمار لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔ حکومت اگلے بجٹ میں مختلف علاقوں کو یکساں ترقی دے کر اس سماجی المیے کا تدارک کر سکتی ہے۔ اگلی نسل کی نشوونما کیلئے بھی ایسا کرنا ضروری ہے۔

اس نقل مکانی کو روکنے کے لیے ہر حکومت نے کوششیں کیں۔ کئی اضلاع میںصنعتی کلسٹر تجویز کیے ۔ بلوچستان پیکج کا اعلان کیا، خیبرپختونخوا (بشمول فاٹا)اور جنوبی پنجاب میں متعدد صنعتی زونز تجویز کیے گئے ۔ فاٹا میں صنعتی زونز کے قیام کے لیے غیر ملکی اداروں سے بھی مدد مانگی گئی۔ حتیٰ کہ سابق امریکی حکومت نے بھی اس ضمن میں کئی رپورٹس مرتب کیں اور صنعتی زونز کی ترقی کیلئے محدود فنڈنگ کی ۔ اس کے برعکس ہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو دوسرے دونوںصوبوں کے برابر لانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

اس کی ایک بڑی وجہ قبائلی ڈھانچہ بھی ہے۔ خیبر پختونخوا کے قیمتی پہاڑ اسے اٹلی جیسی ترقی سے ہم کنار کر سکتے ہیں۔ اٹلی کی ترقی بھی پہاڑوں اور معدنی ذخائر کی مرہون منت ہے۔ اس ملک نے پاکستان میں پتھروں کی انڈسٹری کی ترقی کیلئے کئی تجاویز پیش کیں۔ اربوں روپے کے معاہدوںپر مذاکرات ہوئے جو کامیاب نہ ہو سکے۔ بلوچستان کی معاشی ترقی سینڈک پراجیکٹ سے مشروط تھی، اس پراجیکٹ پر کام شروع ہونے سے پہلے ایک شخصیت نے کمپنی سے 35کروڑ روپے مانگ لیے۔ سابق چیف جسٹس نے کیس کی سماعت شروع کر دی۔ نتیجتاً کمپنی کو پاکستان سے جانا پڑا۔ اب کہا جاتا ہے کہ عالمی عدالت میں مذکورہ کمپنی پاکستان کیخلاف کئی ارب روپے کا کیس جیت چکی ہے۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو اپنی ترقی کیلئے خود بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔ یہ دونوں صوبے معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ یقین کیجئے ، معدنی دولت دوسرے صوبو ں کے اتنا کام نہیں آرہی جتنا کہ ان صوبوں کے کام آرہی ہے۔ پنجاب ،بلوچستان اور سندھ کی گیس کے نرخ عالمی منڈیوں کے مطابق ہی ادا کر رہا ہے جبکہ گیس اور پٹرول کی تلاش کا کام چاروں صوبوں کے مشترکہ فنڈز سے کیا جارہا ہے۔

اس میں سب سے زیادہ حصہ پنجاب کا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اور دونوں صوبائی حکومتیں مل کر قبائلی عمائدین کو ترقی کی شاہراہ پر ڈالنے کیلئے منصوبوں کو آگے بڑھائیں ۔ اگلے بجٹ سے پہلے پہلے یہ کام ہو جانا چاہیے۔ معاشی ترقی سے علاقے میں خود بخود سماجی ترقی جنم لے گی، دماغ روشن ہوں گے اور ذہنی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوگا۔ ٭٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

’’کشمیریت اب مر چکی ہے،اس سے جڑی ہوئی ہر چیز اب مردہ ہو چکی ہے، کسی میں کوئی رمق باقی نہیں رہی۔کشمیریت پہلے ہی کئی عشروں سے زندگی او ...

مزید پڑھیں

آج یکم ستمبر 2019ء ہے ۔1965ء کی صورتحال سوچی سمجھی عالمی سازش تھی۔ جنگ کی کھچڑی 1964ء میں پکنا شروع ہوئی تھی۔ جب بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ دو ...

مزید پڑھیں

17اگست کو اشفاق مسعودی نے ’’سٹیٹس آف کشمیر ‘‘کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ،

...

مزید پڑھیں