☰  
× صفحۂ اول (current) سنڈے سپیشل سپیشل رپورٹ دنیا اسپیشل دین و دنیا کچن کی دنیا فیشن کھیل خواتین متفرق کیرئر پلاننگ ادب
دیہات میں پسماندگی اور غربت کا راج

دیہات میں پسماندگی اور غربت کا راج

تحریر : صہیب مرغوب

05-12-2019

50لاکھ نئے گھروں کی تعمیر کاہر جگہ چرچا ہے۔ کبھی لگتا ہے کہ لوگوں کو راتوں رات چھت میسر آجائے گی، کبھی سب کچھ سہانے سپنے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اپنا گھر مہیا کرنے کے وعدے ہر زمانے میں ہوئے مگر درجنوں لاکھ لوگ آج بھی چھت کو ترس رہے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں ،ملک میں مکانات کی صورتحال کیا ہے۔آج ہم صرف پنجاب کی صورتحال کا جائزہ لیں گے،اگلے شماروں میں باری باری سندھ،خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا جائزہ لیا جائے گا۔

پنجاب میںحال ہی میں جاری ہونے والی خصوصی سروے رپورٹ برائے سال 2017-18ء کے مطابق جہاںمکانات کی شدید قلت عیاں ہے،وہاںہزاروں مکانات خالی بھی پڑے ہیں۔لاکھوں مکانات پینے کے صاف پانی ، نکاسی، بجلی اور گیس جیسی نعمتوں سے محروم ہیں۔توانائی کی کمپنیاںکئی سو ارب روپے کے خسارے میں نہ جاتیں تو شاید لاکھوں لوگوں کو گھر کے چولہے جلانے کیلئے لکڑی جیسی مضر صحت توانائی کا سہارا نہ لینا پڑتا۔دیہات میں لکڑی، کوئلہ اور اپلے ہی اہم ترین ایندھن ہیں۔ایندھن کی یہ تینوں اقسام بیماریوں کی جڑ ہیںاسی لئے دیہات میں سانس کی بیماریاں عام ہیں ۔بیڈرومز کی کمی بھی سنگین مسئلہ ہے۔

ہم مکانات کی کمی کو رو رہے ہیںمگر جن کو چھت میسر ہے وہ بھی ایک ہی کمرے میں بھیڑ بکریوں کی طرح دن گن رہے ہیں۔ آپ کو قطعی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ صوبے میں تقریباً 41فیصد مکانات ایک بیڈ رو م پر مشتمل ہیں۔ شہروںمیں مجموعی طور پر44فیصد ، بڑے شہروں میں 36فیصد اور دیہات میں 44فیصد مکانات ایک ہی بیڈ روم پر مشتل ہیں۔دو بیڈرومز کے مکانات کی تعداد شہروںمیں 40فیصد اوردیہات میں 37.4فیصد ہے۔تین کمروں کے مکانات کا تناسب 21فیصد ( دیہات میں 19فیصد اور شہروں میں 24فیصد )ہے۔

ایک بیڈ روم میں مجموعی طورپر 4لوگ سو رہے ہیں ،بڑے شہروں میں یہ تناسب3.4فیصد ہے۔ شہروں میں 92اوردیہی علاقوں 48فیصد میں گھروں کے فرش پکے ہیں۔کہتے ہیں قدرتی چیز کا مزہ ہی اور ہے، ہمارے دیہات میں نصف سے زیادہ مکانا ت کے فرش اسی لئے مٹی کے ہیں،یا شاید مٹی مٹی ہیں!۔ بڑے شہروں میں کچے فرش والے مکانات کاتناسب 3.7فیصد سے زیادہ نہیں۔ یہی حال درو دیوار کا ہے۔ شہروں میں 97.4فیصد مکانات کی دیواریں مضبوط تعمیراتی میٹریل سے بنی ہیں۔ دیہات میں ایسی صورتحال نہیں،دیہات میں18فیصد اورشہروں میں1.5 فیصد مکانات کی دیواریں مٹی، پہاڑی پتھروں یا ایسے دوسرے قدرتی اشیاء سے بنی ہوئی ہیں، البتہ چھت کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ 91.6فیصد مکانات کی چھت فیکٹریوں میں تیار کر دہ مصنوعات سے بنائی گئی ہے۔

شہروں میں رہائش پذیر 73فیصد افراد اپنے مکانات کے مالک ہیں ،دیہات میں یہ تناسب 86فیصدہے۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں 30فیصد افراد اپنے مکانات کے مالک نہیں۔ کچھ نے اپنے عزیز، رشتہ داروں اور دوستوں کے مکانات میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں جبکہ3.4فیصد دیہاتی اور 20فیصد شہری باشندے مالک مکان کے رحم و کرم پر ہیں۔بڑے شہروں میں یہ تناسب 24فیصد ہے۔وہاں کسی کو نوکری کھینچ لائی تو کسی کو بچوں کی تعلیم اسی لیے بڑ ے شہروںمیں کرائے کے مکانات میں رہنے والوں کا تناسب دیہات کے مقابلے میں8گنا زیادہ ہے۔ لوگ گھر تو بنا لیتے ہیں لیکن سہولتوں کے لئے پیسے کہاں!۔ پنجاب کے 66 فیصد گھروں میں بستر تو ہوتا ہے مگر صوفہ دکھائی نہیں دیتا۔ شاید صوفے کی اہمیت ہی ختم ہو چکی ہے البتہ بیڈ دیہات میں 56فیصد اور شہروں میں 83فیصد گھروں کی زینت ہے۔ بڑے شہروں میں 13فیصد گھرانے بیڈسے محروم ہیں۔

جہاں ہم نے مکانات کا ذکر کیا، وہاں لگے ہاتھوں فی کمر ہ صورتحال کا مزید جائزہ لے لیتے ہیں۔ پنجاب میں مجموعی طور پر بہت کم مکانات چھوٹے کنبوں پر مشتمل ہیں ۔ایک فرد پر مشتمل کنبوں کی تعداد 1.2 فیصد ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے فیملی پلاننگ کو فروغ دیا ہے، پھر گھر اجڑ رہے ہیںاسی لئے سنگل پیرنٹ یا سنگل بچے کے ساتھ دو اور تین افراد پر مشتمل خاندانوں کا تناسب تقریباً 12فیصد ہے۔ 4اور 5افراد پر مشتمل کنبوں کا تناسب دیہات اور شہروں میں کم و بیش برابر(بالترتیب 31فیصد اور 32 ) فیصد ہے۔

پنجاب کے کئی حصوں میں چھوٹے خاندانوں کا کوئی تصور نہیں ۔ 8اور 9افراد پر مشتمل خاندانوں کی تعداد 15.2 فیصد ہے۔ یہ تناسب بڑے شہروں میں 12.6فیصد اور دیہات میں 16فیصد سے زیادہ ہے۔ ایسے خاندان بھی موجود ہیں جن کے افرادخانہ کی تعداددس یا اس سے زائد ہے۔ 10سے زائد افراد پر مشتمل خاندانوں کا تناسب بڑے شہروں میں 8.5 فیصداور دیہات میں 12.5فیصد ہے۔ پنجاب بھرمیں خاندانوں کا مجموعی سائز 6.3فیصدہے۔

رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 98.5فیصد مکانات بجلی سے روشن ہیں۔92.4 فیصد دیہی مکانات گرڈ سے جڑے ہیں۔ 2.2 فیصد دیہاتی سولر یا دوسرے ذرائع سے بجلی لے رہے ہیں ۔5.5فیصد گھروںکو بجلی کاکنکشن میسر نہیں۔شہروں میں مجموعی طور پرتقریباً 86فیصد ،بڑے شہروںمیں 93فیصداوردیہات میں24فیصد خاندان صاف ستھرا ایندھن (بشمول قدرتی گیس)استعمال کرتے ہیں۔ مظفر گڑھ میں گیس کی فراہمی کام 93فیصد اور لودھراں میں 96فیصد مکمل ہوگیا تھا ،راجن پور وہ بد نصیب ضلع ہے جہاں یہ کام شروع ہی نہیں ہوسکا۔یہ بات شاید باعث حیرت نہ ہو کہ آج بھی ہزاروں گھروں میں روٹی نہیں پکتی۔ پنجاب میں مجموعی تناسب 0.6ہے ۔ پوش علاقوں میں 0.7فیصد گھروں میں کھانا نہیں بنتا۔

ہمارے ہاں دو وقت کی روٹی کمانا میسر نہیں، زرعی پیداوار کی گرانی کے باوجود کسان خوشحال نہیں۔ دال ،روٹی مہیا کرنے کے باوجود دہقان کے بچے دال، روٹی کو ترستے ہیں۔ چھوٹی موٹی زمینوں کے مالک کا تناسب دیہی علاقوں میں 40فیصد تک ہے ۔شہروں میں 11فیصد اوربڑے شہروں میں8.2 فیصد لوگ زرعی رقبوں کے مالک ہیں۔ شہریوں نے زرعی رقبے کاشت کاری کیلئے نہیں خریدے ۔ بہت سے لوگوں کا مشن ٹیکس بچانا ہے۔ گزشتہ پندرہ برسوں میں جہاںایف بی آر مضبوط ہوا وہیں زرعی انکم ٹیکس نے ٹیکس چوری کے بہت سے دروازے کھول دیئے ۔

اسمبلیوں میں ہر بات پر بات ہوتی ہے۔ اگر نہیں ہوتی تو زرعی انکم ٹیکس پر نہیں ہوتی۔ 60فیصد دیہی باشندوں نے مویشی پال رکھے ہیں ۔ دیہات میں بچوں کی سب سے بڑی تفریح گائے ، بھینس یا بکروں کے ساتھ کھیلنا ہے۔ حتیٰ کہ بچے ایک دو بکریوں کے ساتھ پہاڑوں پر بھی بھاگتے دکھائی دیں گے۔ یہ دل نشیں منظر کمزور وں کے دلوں کی دھڑکن روک لیتا ہے ،اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ جاتی ہے۔ مگر ماں کی گود میں ہی پہاڑوں پر چلنا سیکھنے والے یہ جفا کش بچے لایئوسٹاک سے ایسے کھیلتے ہیں جیسے شہری بچہ کمپیوٹر گیمز پر انگلیاں چلاتا ہے ۔ شہروں میں 14فیصد اور دیہات میں 60فیصد گھرانوں کے پاس کم یا زیادہ تعداد میں لائیو سٹاک موجود ہے۔

ایک وقت تھا جب سائیکلیں کرائے پر ملا کرتی تھیں۔ ہر مارکیٹ میں کرائے پر سائیکلیں دینے والی ایک آدھ دکان لازمی ہوا کرتی تھی۔ اسی زمانے میںسائیکل کی ٹائر مارکیٹ اہم ہوا کرتی تھی مگر اب شہر تو شہر ،دیہاتیوں نے بھی سائیکل کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ ایک چوتھائی دیہی باشندے سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں۔شہروں میں 21فیصد گھرانوں میں سائیکلیں ہیں، مگران کا مقصد سفر نہیں، بچوں کی تفریح ہے۔ شہری زندگی بہت تیز ہے،سائیکلوں کے مسافر زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔اسی لئے سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی ہے۔

سکوٹرکا استعمال برائے نام رہ گیا ہے۔ چند عشرے قبل یہی ہماری اہم سفری ضرورت ہوا کرتا تھا۔ اب نئے نئے برینڈز کے موٹر سائیکل مارکیٹ میں موجود ہیں۔ دیہات میں سفر کا60فیصد ذریعہ موٹر سائیکلز ہی ہیں، شہروں میں یہ تناسب 67فیصد ہے۔ آپ کو ہر موڑ پر درجنوں موٹرسائیکل سوار دائیں بائیں اپنا ٹائر پھنساتے دکھائی دیں گے ۔ کھوتا ریڑھی کا ہم بہت تمسخر اڑاتے ہیں،ہر چھٹا دیہاتی ( 16فیصد) گدھوں اورگھوڑوں پر ہی سفر کرتا ہے۔شہروں میں 3 فیصد لوگوں کے سفر کا ذریعہ ریڑھے ہیں۔

کار ، ٹرک ، بس اور وین دیہات میں برائے نام ہے کوئی پانچ فیصد کے لگ بھگ، جو ہے اس کا حال بھی آپ جانتے ہیں ۔ سلگتی ہوئی کھٹارا سکول وین کا منظر شاید آج بھی کسی ڈرائونے خواب کی طرح آنکھوں میںگھوم رہا ہے ،جب گجرات میں ایک وین ناقص پیٹرول سسٹم کی وجہ سے جل کر راکھ ہو گئی تھی۔ ایک ٹیچر سمیت مائوں کے17جگر گوشے آگ کے شعلوں میں سلگ کر کوئلہ بن گئے تھے۔

شہروں میں ساڑھے 12فیصد اور بڑے شہروںمیں 16فیصد افراد وین کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ کراچی ، گوادر ، پسنی جیسے ساحلی علاقوں میں موٹر بوٹس بھی اہم سفری ذریعہ ہیں، لیکن ان کی تعداد بھی کم ہے۔ سفر کا ایک اور اہم ذریعہ ٹریکٹر یا ٹرالی ہے۔

دیہات میں 7فیصد اور شہروں میں 1.7 فیصد لوگ سفر ی مشکل ٹریکٹر یا ٹرالیوں کے ذریعے آسان کرتے ہیں۔ ٹرالی جلسے جلوسوں میں بھی بہت کام آتی ہے۔ ریلی چھوٹی ہو یا بڑی ،ٹرالی کو نظر انداز ہرگز نہ کیجئے۔ اس کے بغیر ریلی نکلتی ہے نہ ہی اچھے جلوس نکالے جا سکتے ہیں۔ چند برسوں سے چنگ چی نے جگہ بنا لی ہے۔ دیہات میں 3فیصد اور شہروں میں 4 فیصد افراد کا سہارا چنگ چی ہیں۔اس نے غریب ترین باشندوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔

یہاں لینڈ لائن اپنی موت آپ مر رہی ہے۔ملک میں فکس لائن کاکلچر ختم ہو چکا، بڑے شہروں میں لینڈ لائن کا تناسب ساڑھے 9فیصد ہے۔ دیہات نے لینڈ لائنز کو بہت پہلے خیر باد کہہ دیا تھا۔بلکہ یوں سمجھ لیجئے ، حکومت نے دیہی علاقوں کو خیر باد کہہ رکھا تھا۔ جہاں کنکشن دیئے ہی نہیں گئے تھے ،دیہات میں فکسڈ لینڈلائنز کے کنکشنز1.7فیصد اور شہروں میں 7.7فیصد گھرانوں میں لینڈ لائن موجودہے۔

ایک طرف تو لینڈ سے لائنیں ناپید ہوتی جارہی ہیں ،وہاں 93فیصد دیہاتیوںاور 97فیصد شہریوں کے پاس موبائل نمبرز ضرور موجود ہیں۔چند فیصد لوگ ہی اس رحمت نما زحمت سے محروم ہیں۔ آپ کو سڑک پر یا بازاروں میں کوئی پاگلوں کی طرح ہنستا دکھائی دے گا یا کبھی آپ نے گاڑی میں کسی اکیلے آدمی کو خودکلامی کرتے دیکھا ہوگا ،اس کے پیچھے بھی موبائل ہی ہوتا ہے۔ 27فیصد شہری گھروں میں اور 10فیصد دیہات میں کمپیوٹر یا ٹیبلٹ بھی ہے۔

پچھلے دنوں پیٹرول بم کے بعد موبائل بم بھی چل چکا۔ اس کے پھٹنے سے ہر شہری کا 25فیصد لوڈ جل کر راکھ ہو گیا۔ 70سال سے سن رہے ہیں ،کہ خزانہ خالی ہے، بھرے گا تو کام چلے گا۔ موبائل فون اب خزانہ بھرنے کیلئے میدان میں آیا ہے۔اب سرکاری خزانہ بھر جائے گا۔ملک بھر میں15کروڑ موبائل کنکشنز موجود ہیں۔ ان میں سے26فیصد افراد پنجاسب میںاس نعمت (یا زحمت سے) مستفید ہو رہے ہیں۔دیہات میں یہ تناسب 19فیصد اور بڑے شہروں میں 42فیصد تک ہے۔ 37فیصدشہری انٹر نیٹ کی سہولت گھروںپر استعمال کر رہے ہیں۔ موبائل فون سے کلائی کی گھڑیوں کی مارکیٹ نے دم توڑ دیا۔

ایک موبائل فون کے درجنوں فائدے ہیں یہ بیک وقت گھڑی کا کام بھی دیتا ہے اور بوقت ضرورت الارم کی طرح بجنا بھی شروع ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک شروع ہو چکا، اب بہت سے گھروں میں غفلت کی نیند سونے والوں کو یہی تو بیداری کی گھنٹی بجائے گا۔ 54فیصد دیہی اور 85فیصد شہری علاقوں میں گھروں میں وال کلاک ضرور ہے۔

ریڈیو سروس دم توڑ رہی ہے۔ لیکن دیہات میں آج بھی 3.1فیصد اور شہروں میں سوا دو فیصد افراد کی بڑی تفریح ریڈیو ہے۔ سلائی مشین کی بچوں کو فراہمی ہماری روایت کا حصہ ہے۔ٹی وی ڈرامے ہوں یا کوئی نصیحت آموز کہانی، ماں بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے سلائی مشین کے سامنے بیٹھی کپڑوں کا ڈھیر سی رہی ہو گی ۔پرانی فلموں میں تو ان مائوں کی آنکھیں بھی جواب دے جاتی تھیں۔بیٹھے رہنے سے ریڑھ پر بھی فرق پڑتا ہے، بیماریاں گھیر لیتی ہیں مگر بچہ نو زائیدہ ہو یا سکول کا طالب علم ماں کی یہ محبت کبھی دم نہیں توڑتی ۔ سلے سلائے کپڑے مہیا کرنے والے جدید ترین برینڈ ز کے باوجود سلائی مشین کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔

اس میںماں کا اپنے بچوں سے پیار بھی جھلکتا ہے ۔ یقین کیجئے ،مجموعی طور پر63فیصد (دیہات میں 59فیصد اور شہروں میں 69فیصد)گھروں میں آج بھی مائیں سلائی مشین نظر آئیں گی ۔دیہات میںعورت کو کھیت مزدوری سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے۔ ہاں، استری کرنے کا کلچرختم ہو چکا، دیہاتی توتار پر لٹکا ہوا کپڑا پہن لیتے ہیں۔ بجلی کے بل ان کے بس میں کہاں۔ شہروں میں دھوبیوں، لانڈریوں اور ڈرائی کلینروں نے جگہ بنالی ہے۔شہروں میں صرف 5فیصد اپنے گھر میںاستری کرتے ہیں ۔

یہاں یہ بتانا بڑا ضروری ہے کہ پاکستان میں کتنے فیصد لوگ غریب ترین ہیںجو کوئی سہولت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ اگر پیسے کے اعتبار سے 5طبقات بنائے جائیں یعنی غریب ترین 20فیصد ،اس سے دوسرے درجے کے غریب ترین 20فیصد ، مڈل کلاس 20فیصد، اس سے اوپر کے چوتھے نمبر پر 20فیصد اور پھرسب سے زیادہ پیسے والے 20فیصد ۔ امیر ترین 20 فیصدافراد سے دیہات خالی ہیں۔ہمارے کچھ بڑے جاگیردار ، وڈیرے دیہاتوں میں بھی مقیم ہیں۔ وہاں کم کم جاتے ہیں ، ووٹ مانگنے توجانا پڑتا ہے۔دیہات میں ہمیں پیسے والے بہت کم دکھائی دیں گے۔

دیہات میں امیر (زیادہ پیسے والوں )کا تناسب 6 فیصد اور غریب ترین افراد کی تعداد 29فیصد ہے۔ مزید 27فیصد افراد بھی غریب ہی کہلاتے ہیں ، اس طرح 56فیصد لوگوں کاشمار غریب ترین 40فیصد میں ہوتا ہے۔ دیہات میں مڈل کلاس 24 فیصد سے کم ہے۔ جبکہ چوتھے نمبر پر پیسے والے 14فیصد ہیں۔ شہر اس کے برعکس صورتحال پیش کر رہے ہیں جہاں غریب ترین افراد 7فیصد ہیں۔ دوسرے درجے پر غریب ترین لوگ ساڑھے گیارہ فیصد ہیں۔ یعنی 40فیصد غریب ترین میں سے صرف 19فیصد غریب ترین شہروں میں رہتے ہیں۔

شہروں میں مڈل کلاس کا تناسب 17فیصد، اپر مڈل کلاس کا 31فیصد اور امراء کا 33فیصد ہے۔ بڑے شہروں میں غریب ترین ڈیڑھ فیصد ہیں ۔ 4فیصد اس سے اوپر کے درجے میں ہیں۔ بڑے شہروں میں مڈل کلاس مٹتی جارہی ہے۔ وہاں مڈل کلاس 10فیصد اورامیر ترین افراد کا تناسب 54 فیصد ہے۔ 52اضلاع غربت کا شکار ہیں ۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے 50فیصد فنڈز ان اضلاع میں خرچ کر کے شہریوں کو غربت سے بچایا جا سکتا ہے۔2012ء میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے کیے جانے والے سروے میں ایسے ڈیڑھ کروڑ مرد و خواتین کا سراغ ملا جو انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔

کوئی ذریعہ معاش ہے نہ کوئی سہارا۔ اکثر گھروں میں کمانے والا بھی کوئی نہیں۔ بہت سے گھروں کی سربراہ خواتین ہیں۔ ان ڈیڑھ کروڑ میں سے 53لاکھ خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد دینے پر کام شروع ہوا۔ کہتے ہیں ناخواندگی اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں دیہات میں ناخواندگی کے ساتھ غربت بھی بڑھتی ہوئی دیکھیں گے ۔

خاندان کا سربراہ اگر ناخواندہ ہے تو اس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں گے اب حالات بہت بدل گئے ہیں ۔حکومت نے تازہ شماریاتی جائزہ نہیں لیا ،آن لائن پورٹل پر حکومت معلوم کرے کہ حکومت میں ڈگری ہولڈرز کی ناخواندگی کا تعلق کیا ہے چشم کشا دل دہلا دینے والے حقائق نظر آئیں گے۔ 20، 22 سال کی تعلیم میں لاکھوں روپیہ اور عمر کا انتہائی قیمتی حصہ گنوانے کے بعد نوجوان کو پتہ چلتا ہے کہ وہ تو ان فٹ ہے۔ کسی بھی ادارے کیلئے فٹ نہیں۔ یہ کیفیت نوجوانوں کو ذہنی طور پر ڈپریشن اور پسماندگی میں دھکیل رہی ہے۔ جرم ، بے کار ذہن میں ہی پرورش پاتا ہے۔

جہاں روشن دماغ نوجوان کی ذہنی صلاحیتیں استعمال نہ ہونے کے باعث ماند پڑتی جارہی ہیں وہیں کچھ افراد کا دماغ انہیں جرائم کی دنیا میں لے جاتا ہے، ایک ایسی دنیا میں جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا۔ اسی ڈپریشن اور بے روزگاری سے نشے کی برائی نے جنم لیا۔ پاکستان میں نشیئوں کی تعداد 81لاکھ سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ 71فیصد بذریعہ انجکشن نشہ کرتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر نشئیوں کی عمریں 24سال سے کم ہیں‘‘۔ان کی تعلیم واجبی سی ہے۔ کوئی مڈل اور میٹرک سے نیچے تھا۔ ‘‘ دیہات کی اس پسماندگی میں وہاں کی لیڈر شپ کا بھی کردار ہے۔کچھ نے کرپشن کی ،یہ طاقت ور لوگ پراجیکٹس کے بجٹ کا بڑا حصہ ہڑپ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کچھ نمائندے کمزور مانیٹرنگ کے باعث دیہی پسماندگی کو دور کرنے میں ناکام رہے۔ آئندہ بجٹ میںمعاشرتی تفریق کے خاتمے کے لئے اقدامات کئے جانا ضروری ہیں۔ ٭٭٭

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

موجودہ حکومت کا پہلا جامع بجٹ قومی اور سینیٹ سے شرف قبولیت حاصل کر نے کے بعد نافذ ہو چکا ہے۔ بجٹ پر بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہر کسی ...

مزید پڑھیں

اگلے مالی سال کا بجٹ پٹرول بموں کے دھماکوں ، گیس بموں کے شعلوں اور مختلف طرح کے ٹیکسوں کے ساتھ نافذ ہو گیا ہے۔کئی قسم کی فیکٹریاں ہڑتال پر ...

مزید پڑھیں

8جون 1964ء ، شام چار بجے کا ذکر ہے۔کراچی کے پرانے ہوائی اڈے سے ایک چھوٹا طیارہ Riley 65 ٹیک آف ٹیکسی کے لئے تیار کھڑا ہے، مالک ہیلے ڈینیئل سکاٹ ...

مزید پڑھیں