☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل خصوصی رپورٹ کھیل فیشن خواتین دین و دنیا کچن کی دنیا طنزومزاح ادب کیرئر پلاننگ
کراچی اور لاہورقبضہ گروپوں سے ’’جنگ‘‘

کراچی اور لاہورقبضہ گروپوں سے ’’جنگ‘‘

تحریر : صہیب مرغوب

05-19-2019

پاکستان کے 21کروڑ عوام کہاں رہیں،رہنے کے لئے کوئی گھر کوئی ٹھکانہ ہونا چاہیے یا نہیں، کوئی جگہ ہے جو حکومت نے انہیں مہیا کر رکھی ہے۔ اپنے ہی پرانے مکان پر ایک پورشن ڈال لے یا حکومت ان کیلئے کوئی اچھی بستی بسانے کا ارادہ رکھتی ہے؟۔

چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھے ، اربن یونٹ لاہور نے خوبصورت رپورٹوں کی تیاری پر کام شروع کردیا،مکانات کا کیا ہے وہ تو نجی شعبے میںبنتے ہی رہیں گے، اربن یونٹ کے باس طاقت ور تھے، رفتہ رفتہ کئی محکموں کے اختیارات اربن یونٹ کو منتقل ہو گئے۔ان کے آگے محکمہ ہائوسنگ ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور ڈویلپمنٹ ایجنسیاں بے بس ہو گئیں۔رپورٹیں دیکھیں ،تو لگتا ہے پاکستان میں اگلے چند برسوں میں مکانات کے ’’دریا ‘‘ایسے ’’بہنا‘‘ شروع ہو جائیں گے،جیسے دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں!!۔ لوگ اپنی چوائس کے مکان میں رہیں گے۔ پرویز الٰہی حکومت کے جاتے ہی اس اربن یونٹ کی سرگرمیوں پر بھی جیسے اوس پڑ گئی۔ ایک دو پروگرامز کے بعد ٹھنڈ کا عالم ہے۔ آپ کو یاد ہوگا 1976ء میں ’’وینکواوور کانفرنس برائے ہیبیٹاٹ ‘‘منعقد ہوئی تھی جس کا اعلامیہ ’’وینکور ڈیکلریشن آن ہیومن سیٹلمنٹ‘‘ کہلاتا ہے۔

لوگوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کے لئے یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی ۔ کانفرنس کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے ذیلی ادارہ برائے ہیبیٹاٹ قائم کیا۔ اس سلسلے کی دوسری کانفرنس’’ مناسب چھت سب کیلئے‘‘ کا مقصدلے کرجون 1996ء میں استنبول میں منعقد ہوئی۔ ہم (پاکستان)بھی شریک محفل تھے، دنیا نے ہمیں بھی سب کو مناسب چھت مہیا کرنے کا فرض سونپا۔مرتے کیا نہ کرتے ، حامی بھر لی۔ ہم نے اس کانفرنس میںیہ نہیں بتایا کہ اس وقت ہماری 70فیصد آبادی دیہات میں مقیم تھی اور 30فیصد آبادی شہروں میں۔ہمارے رہنمائوں نے جنوبی ایشیا کاپاکستان کو سب سے زیادہ اربنائزڈ ملک قرار دیا۔

اقوام متحدہ کو یہ بھی بتایا کہ ہماری شہری آبادی 1998ء سے 2014ء تک 4کروڑ 30لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے سات کروڑ ہو چکی ہے یعنی دگنی سے کچھ کم ہے۔ اور 2025ء تک ہم یقینی طور پر انتہائی اربنائزڈ ممالک میں شمار ہوں گے۔ ہم نے اقوام متحدہ کے ممالک کو یہ بھی بتایا کہ ہمارے ہاں 47فیصد شہری آبادی 9بڑے شہروں میں رہتی ہے۔ ہر ا یک کی آبادی 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسا نقل مکانی کی وجہ سے ہوا۔ لیکن ہم نے انہیں یہ نہیں بتایا کہ شہری آبادی کا پھیلائو کس قدر بے ہنگم ، غیر منظم اور بڑی حد تک غیر قانونی ہے۔

شہری آبادی کی حالت یورپی دیہات سے بدتر ہے۔ گیس نہ پانی، اور نہ ہی سیوریج کی کوئی سہولت۔ جبکہ دنیا کی 54فیصد آبادی شہروں میں مقیم تھی اور ہر سہولت انجوائے کر رہی تھی۔اس سلسلے کی تیسری کانفرنس اکتوبر 2016 ء میں ’’نئے اربن ایجنڈے ‘‘کے ساتھ منعقد ہوئی۔ مقصد تمام ممالک میں اپنے اپنے نئے شہروں کاپلان تیار کرنا تھا۔ ہمارے ہاں اربن یونٹ کی تشکیل اسی لیے کی گئی تھی۔ پاکستان خود کو اقوام متحدہ کے ہیبیٹاٹ پروگرام کے بانیوں میں سمجھتا ہے،کئی وزارتیں بھی اسی کام کے لئے قائم کر رکھی ہیں ۔’’ نیو اربن ایجنڈا‘‘ ہمارے مشن کا حصہ ہے۔ مگر یہی حصہ کبھی بھی ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ میں شامل نہیں رہا۔ہم نے کبھی بھی اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں،خطوط اور تقاضوں پر غور نہیں فرمایا۔

پیشگی اربن پلاننگ نئے اربن ایجنڈے میںشامل تھی۔ اربن گورننس ،اربن قانون سازی ،مقامی حکومتوں کو مستحکم بنانے، مناسب فنڈز مہیا کرنے اور اربنائزیشن کو نچلی ترین سطح پر منتقل کرنے کے اقدامات بھی شامل تھے۔یہ نکات اربن کانفرنس کے بنیادی تقاضے تھے۔ مگر ہوا کیا؟ بلدیاتی ادارے قائم کرنے والوں نے انہیں اختیارات سے محروم رکھا ، اور اب ان کی پنجاب میں چھٹی کرا دی گئی ہے۔ نیو اربن ایجنڈے میں مکانات کی فراہمی اور بنیادی ضرورتوں کے ڈھانچوں کی تشکیل کا کام بنیادی سطح پر نچلی ترین سطح پر ہی ہونا تھا مگر ہمارے ارباب اختیار نے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے رہنمائوں کو ایسے چکمے دئیے کہ وہ آج تک منہ پھاڑے ہمیں تک رہے ہیں۔ اور سوچ رہے ہیں کہ جو فلم ہمارے سامنے چلائی وہ کہانی تو کچھ اور تھی۔ جو فلم اب مختلف شہروں میں چل رہی ہے ،وہ کہانی کچھ اور ہی ہے ۔

کام ہو یا نہ ہو ، مقصد پورا ہو یا نہ ہو ، منصوبہ بندی کرنے میں کیا حرج ہے۔ کاغذ پر دو چار لکیریں مار لینے سے فوری طور پر قوم کی تسلی تو ہو جاتی ہے ۔ ماضی میں ایسا ہی ہوا۔ مستقبل میں ہم اچھے کیلئے امید رکھ سکتے ہیں۔ پوری ہو یا نہ ہو کچھ کہہ نہیں سکتے وقت بتائے گا ۔ 1998ء میں صرف 43لاکھ مکانات کی کمی تھی۔ مکانات میں کمی ڈیڑھ لاکھ سالانہ کی رفتار سے ہو رہی ہے۔ اب 90لاکھ مکانات کی کمی ہے جبکہ شہروں کی 50فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ اس پر قابو پانے کیلئے سابقہ دور میں پنجاب میں’’ اپنا گھر سکیم‘‘ اور’’پانچ مرلہ سکیم‘‘ بھی شروع ہوئی۔

سندھ میں ’’بہن بے نظیر بستی‘‘ اور ’’شہید بے نظیر بھٹو ہائوسنگ سکیم ‘‘شروع ہوئیں ، چاروں سکیموں کا مقصد سیاسی تھا۔ اپنا گھر کس کو ملا اور گھر بانٹنے والوں نے سندھ میں کس کو بے نظیر کا بھائی یا بہن سمجھا یہ لوگ نہیں جانتے ۔ لیکن شہید بے نظیر بھٹو ہائوسنگ سکیم اور بہن بے نظیر بھٹو سکیم بری طرح ناکام ہوئے۔ تب کہیں جا کر حکومت نے کچی آبادیوں کیلئے پہلی پالیسی بنائے۔ جسے نیشنل پالیسی آف کچی آبادی کا نام دیا گیا۔

اس پالیسی کا مقصد مزید کچی آبادیوں پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے پرانی کچی آبادیوں کو پکی آبادیوں میں تبدیل کرناتھا کیونکہ اسے 2006ء میں جاری کر دہ پاکستان نیشنل سینیٹیشن پالیسی سے جوڑ دیا گیا۔ اسے سے ملتی جلتی ایک اور پالیسی جاری ہوئی جو PATS کہلائی۔ اس کا تعلق پاکستان عوامی تحریک یا طاہر القادری سے ہر گز نہیں بلکہ یہ ہر گھر کو نکاسی آب کی سہولت مہیا کرنے سے متعلق ایک پروگرام کا نام تھا۔ اسی پروگرام کو انرجی پروگرام سے جوڑ دیا گیا اور پھر سی پیک اس کا حصہ بنا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اندرون ملک نقل و حمل میں آبادی پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 11کروڑ لوگ اپنے ہی ملک میں دوسرے شہروں میں رہ رہے تھے۔ یہ کل آبادی کا 8فیصد تھے۔ 2017ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار ابھی اس طرح سے سامنے نہیں آئے۔ تاہم پنجاب کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے کہیں زیادہ لوگ دوسرے شہروں میں رہ رہے ہیں۔ کچھ روزگار کی تلاش میں کچھ شادی بیاہ کی وجہ سے اور کچھ ٹرانسفر پوسٹنگ کے باعث ، اپنا گھر بار چھوڑ کر الگ ہوئے۔ پنجاب میں اندرون شہر منتقلی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب خیبر پختونخوا، سندھ کے کئی شہر اب ایسے مقام پر آچکے ہیں جہاں کسی بھی موقع پر کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔

یعنی یہ شہری سہولتوں کے حوالے سے تقریباً کریش کرنے والے ہیں۔ بجلی کی فراہمی ہو یا پانی کی فراہمی یہ سنگین صورت حال اختیار کرنے والے ہیں۔ ڈینسٹی 4سو افراد فی کلو میٹر ہے۔ جو بہت زیادہ ہے۔ میونسپل سروسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر ہم 2050ء تک کا جائزہ لیں تو شہری آبادی تقریباً 63فیصد کے قریب ہو گی۔ جو کہ بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ ہم ابھی موجودہ صورتحال میں ہی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔ شہروں کی خوبصورتی گزشتہ کئی دہائیوں سے ہماری خواہش کا حصہ رہی ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام شہروں میں عوام کو طاقتور طبقات کی جانب سے انکروچمنٹ کا سامنا ہے ۔ ناجائز زمینوں پرقبضے کے بعد با اثر لوگ ان زمینوں پر یا تو پلازے کھڑے کر دیتے ہیں یا پھر مارکیٹیں بنا کر بیچ دیتے ہیں۔

جس کے بعد ناجائز تعمیرات کا مسئلہ سنگین سماجی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ چھیڑو ، تو عوامی مفادات متاثر ہوتے ہیں۔ خاموشی اختیار کرنے سے قانون شکنی میں اضافہ ہو نے لگتا ہے۔ ہم نے تو گزشتہ 7دہائیوں میںیہی دیکھاہے۔ کراچی سے خیبر تک کسی سڑک کاجائزہ لے لیں کہیں نہ کہیں ناجائز تعمیرات نظر آئیں گی۔ ابتداء میں متعلقہ ترقیاتی ادارے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ ان کی آنکھیں بند کرنے سے ایک طاقتور کی آڑ میں 50نسبتاً کم طاقتور لوگ بھی فٹ پاتھوں کو اپنی جائیدادوں میں ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پٹرول پمپ مالکان اس کام میں پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ سب سے پہلے وہ پٹرول پمپ سے ملحقہ فٹ پاتھ کو توڑ کر سولنگ کرتے ہیں اور پھر سولنگ کے بعد رکاوٹیں کھڑی کر کے سرکاری زمین ، سڑک یا فٹ پاتھ کو اپنی لیز یا جائیداد کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ یہ تو نقطہ آغاز ہے اگلے مرحلے میں آس پاس کی چھوٹی موٹی دکانیں بھی سرکاری سڑک پر اپنی مصنوعات رکھ کر اسے اپنا حصہ سمجھ لیتے ہیں۔

ہوٹل ، شادی ہال بعض تعلیمی ادارے اور حتیٰ کہ کلینکس تک بھی ناجائز زمینوں پر تعمیر کیے جارہے ہیں۔ یہ شاید ہمارے ’’کلچر ‘‘ کا حصہ بن چکا ہے۔ جب تک اپنی اراضی میں دوسروں کی زمین کا کوئی نہ کوئی ٹکڑا شامل نہ کر لیں، دل کو چین آتا ہے نہ سکون ۔ کہاجاتا ہے کہ لاہور کو پیرس بنائیں گے۔ مگر ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ سابق صدر ایوب خان کے زمانے میں کہاجاتا تھا کہ کراچی یورپ کے کسی بھی شہر کی طرح ہے۔ یہ لندن جیسا حسین اور منظم ہے۔ یہاں تعمیرات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہوئیں۔

لیکن ایوب خان کا مارشل لاء ختم ہوتے ہی قبضہ گروپوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ سیاسی سرپرستی میں ان لوگوں نے جہاں سرکاری زمینوں پر چائنہ کٹنگ کا آغاز کیا وہی نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ قبضے کی زد میں آنے والی جائیدادیں اونے پونے داموں خریدی جانے لگیں حتیٰ کہ 2011ء تک کراچی شہر کا نقشہ لندن کی بجائے بھوٹان جیسے کسی شہر سے مماثل دکھائی دینے لگ پڑا۔ شریف شہریوں کو پلاٹ ایک جگہ الاٹ ہوتا تو طاقتور لوگ اسے کسی دوسری جگہ سستا سا پلاٹ الاٹ کر دیتے۔ صبیحہ پروین کا شمار بھی ایسی ہی بدقسمت خواتین میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نارتھ کراچی میں پلاٹ خریدا جوانہیں اس قیمتی جگہ کی بجائے سرجانی ٹائون جگہ دینے کی پیشکش ہوئی۔

سرجانی ٹائون کی قیمت اس کے اصل پلاٹ کی قیمت سے کہیں کم تھی۔ صبیحہ پروین کو پتہ تھا کہ اگر انہوں نے یہ سستا پلاٹ بھی نہ لیا تو ان کا سارا سرمایہ ڈوب جائے گا۔ تمام قانونی دستاویزات اور سرمائے کی ادائیگی کے باوجود کراچی میں بہت سے لوگ دربدر بھٹک رہے ہیں۔ اور تو اور ہمارے موجودہ صدر عارف علوی بھی کراچی میں پلاٹوں کی ہیرا پھیری کا شکار ہوئے۔ مگر عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ان کے پلاٹ کا معاملہ تیزی سے حل کی جانب بڑھا ۔ہماری خواہش ہے کہ جس جس کے پلاٹ پر قبضہ ہے وہ کسی مناسب وقت پر صوبائی یا وفاقی وزیر ، صدر یا وزیراعظم بن جائیں تاکہ کم از کم اپنے پلاٹ پر قبضے یا پلاٹ کی عدم فراہمی کا مسئلہ تو حل کر سکیں۔ حکومتوں کی پسپائی کے بعد قبضہ مافیا نے جگہ لے لی۔انہوں نے قبضے کی زمینوں پر مکانات بنا کر دینا شروع کر دیئے۔

ناجائز تجاوزات سرکاری اراضی پر قبضوں اور بغیر نقشوں کے مکانات کی تعمیرنے شہروں کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ ان کی حالت اس شہری کی سی ہے جس کے اچھے خاصے خوشنما بدن پر دیدہ زیب کپڑے ہوں مگر درزی نے سیتے وقت جا بجا تیل کے دھبے یا پیوند لگا دئیے ہوں۔یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان بھی تقریباً ایک دہائی سے کراچی اور لاہور کے حسن کی بحالی کیلئے ناجائز تعمیرات کیخلاف فیصلے سناتی رہی ہے۔ لاہور میں سپریم کورٹ کے حکم سے ایل ڈی اے سے منظوری کے بغیر بنائے گئے پلازے مسمار کر دئیے گئے۔ اس کام میں ایل ڈی اے کے کروڑوں روپے بھی ’’مسمار‘‘ ہوئے۔ قانون کے مطابق مسماری کے اخراجات ناجائز تعمیر کرنے والا برداشت کرتا ہے۔

مگر ان معاملات میں ناجائز تعمیرات کرنے والے طاقتور لوگوں نے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ اور کوئی بھی خرچہ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ایل ڈی اے کے بلڈوزر ز ، عملہ تہہ بازاری اور دیگر مدوں میں اٹھنے والے اخراجات اب تک ایل ڈی اے پر بوجھ ہیں۔ اسی طرح کے کئی احکامات صوبہ سندھ میں مختلف حکومتی اداروں کے علاوہ سپریم کورٹ نے بھی جاری کیے۔ 25جنوری 2019ء کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے تمام ڈائریکٹروں کو کراچی میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کا حکم جاری کیا۔ یہ حکم دراصل سپریم کورٹ کے 22جنوری کے فیصلے پر عملدرآمد کی ایک کڑی تھا جس میں ملک کی اعلیٰ عدالت نے رہائشی مکانوں پر کاروباری سرگرمیوں کو روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔

نئے احکامات کی روشنی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اپنے تمام اجازت نامے اور استثنات منسوخ کر دئیے۔ چنانچہ شادی ہال اور پلازے بھی اس کی زد میں آ گئے۔ اس سلسلے میں 3دن کی مہلت دی گئی۔ جس کے بعد کراچی کا حسن کچھ حد تک بحال ہو جاتا۔ کراچی میں کم و بیش 930بڑے پلازے غیر قانون طور پر رہائشی علاقوں میں بنائے گئے ہیں۔ جبکہ کم از کم 5سو کاروباری مراکز سپریم کورٹ کے فیصلے کی زد میں آنے کی وجہ سے فوری طور پر گرایا جانا ضروری ہے۔ یہ تصویر کا ہلکا سا رخ ہے۔ تجاوزات کا مسئلہ اس سے کہیں سنگین تر ہے۔ تجاوزات کے حوالے سے سپریم کورٹ نے تقریباً 2سال پہلے بھی ایک فیصلہ دیا تھا ۔ جس میں کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شہری علاقوں میں 35ہزارسے زائد علاقوں میں تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے کا حکم شامل تھا۔

2رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس گلزار احمد کر رہے تھے۔ 27نومبر 2017ء کو بینچ نے کے ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو تمام استثنات یا الاٹمنٹ منسوخ کر کے انکرو چمنٹ کے خاتمے کا حکم دیا۔ اب یہ کے ڈی اے کی ذمہ داری تھا کہ وہ تجاوزات کے خاتمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تہہ دل پر عملدرآمد کرتے۔ لیکن اس کے بعد حکومت اور کے ڈی اے کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی اور دونوں مل کر عدالت عظمیٰ میں حقیقی رپورٹیں پیش کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ کے ڈی اے کے چیف نے بیماری کا بہانہ بنا کر عدالت عظمیٰ میں پیش نہ ہونے کی ٹھان لی۔ لیکن جونہی عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر وہ فوری طور پر عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے جائیں گے۔ جس پر مسٹر صدیقی عدالت میں پیش ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 27غیر قانونی شادی ہالوں کو 2روز میں مسمار کر دیا گیا ہے ۔

مگر سپریم کورٹ نے کے ڈی اے افسر کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ مسٹر صدیقی نے خود ہی اپنی رپورٹ میں یہ افسوسناک اعتراف کیا تھاکہ چائنہ کٹنگ کے ذریعے سے 35ہزار پلاٹوں میں ناجائز تعمیرات کی گئی ہیں۔ بعد ازاں انہیں پلاٹوں یامکانات کی صورت میں بیج دیاگیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی میں اب تک 6ماسٹر پلان بن چکے ہیں مگر کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ بات ضرور کھل کر سامنے آئی کہ کراچی میں چائنہ کٹنگ ، ناجائز تعمیرات ، سرکاری زمینوں پرقبضے کا معاملہ کئی برس پرانا ہے۔ اور اس سلسلے میں 1992ء میں بھی قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے۔

تاہم قوانین میں تبدیلی سے اس وقت تک کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا جب تک نیتیں تبدیل نہ کی جائیں۔ نیتوں میں تبدیلی کے بغیر یہ سب معاملات لا حاصل ہیں۔ جنوری 2019ء کے چوتھے ہفتے کے آغاز میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس ساجد علی شاہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے تمام غیر قانونی شادی ہالز، شاپنگ پلازوں اور رہائشی مکانات کو گرانے کا حکم دیتے ہوئے کراچی کا قدیم 40سال پرانا حسن بحال کرنے کا حکم دیا۔ کراچی رجسٹری میں عدالت عظمیٰ نے اپنے احکامات پر عملدرآمد کیلئے تمام متعلقہ اداروں کو فی الفور کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ 30سے 40برسوں کے دوران ہونے والی ان ناجائز تعمیرات کی مکمل تفصیلات بھی طلب کرلیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ کاروباری مقصد کیلئے کسی عمارت کو ناتو گرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی اندرونی یا بیرونی ساخت میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ ماسٹر پلان کا حصہ سے باہر ہر عمارت کو فی الفور مسمار کرد یا جائے کیونکہ 40سال پہلے کراچی کا موازنہ لندن سے کیا جاتا تھا ۔لاہور کو تو پیرس بنانے کی باتیں بنائی جاتی تھیں شاید اس لیے کہ کراچی صحیح معنوں میں لندن کا منظر پیش کر رہا تھا۔ مگر قانون کے کمزور ہاتھوں نے اور لالچی لوگوں کی دولت کی ہوس نے اس خوبصورت شہر کو لینڈ مافیا کے ہاتھوں میں گروی رکھ دیا۔ بیشک عمارات کی تعداد خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہو شہر کا حسن بحال کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے مزید کہا کہ 8-8منزلہ عمارتیں ناجائز طور پر سرکاری کوارٹرز پر بنائی گئی ہیں۔ دولت کمانے کے کھیل میں ہر کسی نے اپنا حصہ ڈالا اور اس شہر کو برباد کر کے رکھ دیا۔

کیا یہ کسی کے باپ کا شہر ہے جو اس نے جیسا چاہا کر دیا۔ وہ کون ہے جو ہر سڑک پر شاپنگ سنٹر اور شادی ہال بنانے کی اجازت دے رہا ہے ؟کیا یہ شہر ہم وفاقی حکومت کے حوالے کر دیں انہوں نے پوچھا۔ ایس سی بی اے کے سربراہ قائم خانی نے کہا کہ ہم نے ابتدائی انتظامات کر لیے ہیں۔ آپ کے احکامات پر عملدرآمد ہوگا۔ اس موقع پر عدالت عظمیٰ میں یہ بات بھی ہوئی بعض لوگوں کے امریکہ اور دبئی میں بینک اکائونٹس ہیں ۔ قائم خانی نے جواباً کہا کہ میں معافی چاہتا ہوں عدالت کے احکامات پر من و عن عمل ہوگا۔ بلا شبہ 2004ء سے 2019ء تک سندھ میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں نے بے تحاشا این او سی جاری کیے۔ رہائشی مکان کو کمرشل سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے یا پھر ایسے نقشوں کی منظوری بھی دی گئی جو کہ غیر قانونی تھے اور قواعد و ضوابط کے منافی تھے۔ ان عمارات کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

ان عمارتوں کا خالی کرانا بجائے خود سنگین مسئلہ ہے۔ کیونکہ اب شادی ہالز، ہوٹل ، ہسپتال ، سکول ، پٹرول پمپ، سی این جی سٹیشنز ،ہائوسنگ سوسائٹیز اور دوسرے کاروباری ڈھانچے قانون کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ ہجرت کالونی اور نیلم کالونی کی60بستیاں بھی اس حکم کی زد میں آتی ہیں۔ لینڈ مافیا نے کمال ہوشیاری کے ساتھ ایک خالص لا قانونیت اور قبضے کو انسانی مسئلہ بنا دیا۔ اسی لیے سندھ حکومت کے وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں عمارتیں گرانے کی بجائے مستعفی ہونا پسند کروں گا۔ ان کی بات کو اگر وسیع تر معنوں میں لیا جائے تو بہت سے حقائق ہم پر عیاں ہوتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان کی باتوں کا مقصد یہی نکلتا ہے کہ غیر قانونی چیز اگر سرزد ہو جائے، عوامی سطح پر اسے کچھ پذیرائی مل جائے یا وہ اپنا ڈھانچہ قائم کر لے تو پھر اس کے قائم رکھنے کا جواز بن جاتا ہے۔ اسی لئے انہوں نے بنی بنائی عمارتوں کو نا گرانے کا کہا۔

ذرا اس کی گہرائی میں جائیے جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں نظریہ ضرورت کیا تھا۔ ایک نظریہ تھا، جو قائم ہو گیا۔ ٹھوس اور جامع شکل میں ملک میں رائج ہوگیا۔ کیا اس کوجامع اور حقیقی مان لیا جائے کیا اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کر لیا جائے ۔ کیا یہ مان لیا جائے کہ جب کوئی سٹرکچر قائم ہو جاتا ہے تو پھر اسے گرانے کی بجائے قانونی جواز ڈھونڈنا بہتر نہیں ہوگا؟۔ یہی بات تو ایوب خان کے مارشل لاء کے زمانے میں بھی ہوئی تھی۔ مارشل لاء لگ گیا ، اس کے احکامات پر عملدرآمد شروع ہوگیا۔ اب اسے ہٹانے یا غیر قانونی قرار دینے کا جواز کیا ہے؟۔ اس بات کو محض صوبائی وزیر سعید غنی کی بات پر غور کیا جائے کہ غیر قانونی طور پر بنائی جانے والی عمارات کو گرانا درست نہیں تو میری رائے میں ہمیں ضیا دور کے نظریہ ضرورت کو بھی درست ماننا پڑے گا۔

اس میں بھی تو’’کامیاب‘‘ بغاوت انقلاب بن گئی اور یہی اس کے جائز ہونے کا جواز ہے ۔ اسی سے ملتی جلتی بات متحدہ قومی مومنٹ کے فاروق ستار نے کی۔ انہوں نے کہا کہ 10ہزار کے قریب مکانات گرائے جاچکے ہیں۔ قانون قانون ہوتا ہے یہ اپنے راستے خود بناتا ہے۔ اور اگر ہم کسی جگہ پر قانون کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کریں گے تو ہم در حقیقت اپنے مستقبل کو تاریکیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔ ایک ایسے اندھیرے میں جہاں روشنی کی کوئی کرن نہ ہوگی۔ جہاں نہ سوچ ہوگی اور نہ نظریہ ہوگا۔ کوئی فکر ہوگی اور نہ کوئی قانون ہوگا۔

صرف ’’ہوگیا‘‘ کی بالادستی ہوگی۔ یعنی جس نے جو کر دیا وہ ٹھیک ہے۔ سعید غنی سے ملتی جلتی بات خالد مقبول صدیقی اور وسیم اختر نے بھی کی۔ یہ دونوں رہنما بھی بلا شرکت غیرے 1985ء سے کراچی کے حکمران ہیں۔ چائنہ کٹنگ ، چائنہ میں نہیں ہوئی ان کی آنکھوں کے سامنے ککراچی میں ہوئی۔ ایک سیاسی جماعت کے دفاتر بھی چائنہ کٹنگ کے ذریعے قائم ہوئے۔ اب ان کا اپنے اختیارات کو رونا ٹھیک نہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو یہ لوگ کہاں تھے۔ ان کے اختیارات اس قدر زیادہ تھے کہ ایک آواز پر کراچی رک جاتا تھا۔ اس زمانے میں اگر ایم کیو ایم کا کوئی رہنما چائنہ کٹنگ روکنے کا ایک حکم جاری کر دیتا تو وہ وفاقی یا صوبائی حکم سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا اور اس پر منٹوں میں عملدرآمد ہوتا۔

عمارات خود بخود مسمار ہو جاتی۔ کاوبار جہاں تھے وہیں تھم جاتے۔ مگر ناجانے کیوں کراچی اور سندھ کی طاقتور جماعتوں نے سندھ میں یہ سب کچھ ہونے دیا۔ اسی لیے عدالت عظمیٰ نے ایک مرحلے پر یہ بات بھی سنا دی کہ انہیں خالد مقبول صدیقی اور وسیم ظفر کے استعفوں کا انتظار ہے یہ دونوں استعفے ابھی تک نہیں آئے۔ کراچی کے ندی نالوں پر غیر قانونی طورپر مگر مچھوں نے رہائشی سکیمیں بنا لی ہیں انہیں گرانا یا انہیں بچانا انہی لوگوں کا کام ہے جو آج اس کے حق میں ہیں۔ کراچی کی بڑی بڑی مارکیٹوں میں بھی انکروچمنٹ کی گئی ہے۔

ڈرائی فروٹ ، کپڑے اور پرندوں کی چار بڑی مارکیٹیں بڑی حد تک غیر قانونی ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ کا بڑا حصہ بھی غیر قانونی تھا۔ اب کراچی میں قانون کی بالادستی چاہنے و الے اور غیر قانونی عمارات کو تحفظ دینے والے دو متضاد نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ ایک کے خیال میں یہ شہری مسئلہ ہے لوگ کہاں جائیں گے ۔ حکومت انہیں رہنے کے لیے چھت مہیا کرے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کام تو کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کا تھا۔ کراچی کی شہری حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اس ضمن میں کیا اقدامات کیے تھے۔ جو صورتحال اب اس قدر سنگین ہو چکی ہے۔

2030ء میں آبادی کتنی ہوگی؟

ایک اندازے کے مطابق 2030ء میں کراچی کی آبادی 2 کروڑ 80لاکھ، 1کروڑ 47لاکھ، فیصل آباد کی 62لاکھ، راولپنڈی کی 42لاکھ ، ملتان کی 30لاکھ ، گوجرانوالہ 31.5لاکھ ، حیدر آباد کی 30لاکھ، اسلام آباد کی 32لاکھ، سرگودھا کی 11لاکھ، بہاولپور 19لاکھ، سیالکوٹ کی 11لاکھ، لاڑکانہ کی 12لاکھ اور شیخوپورہ کی 10لاکھ ہو گی۔ یہاںیہ سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو رہائشی سہولتیں مہیا کر سکتے ہیں ۔ اربن جوانوں کو جو ضرورت ہے کیا اس کو وہ مہیا کرسکتے ہیں ؟میرا جواب نفی میں ہے۔ہمارے پاس کوئی جامع منصوبہ بندی ہے ہی نہیں۔میں نے بہت سے اداروں کا فائل ورک دیکھا ہے ، ہائوسنگ سیکٹر کا بھی دیکھا ہے مگر کسی دور کی کسی فائل میں بنیادی تبدیلی دکھائی نہیں دی۔بظاہر ہم اپنی نئی نسل کو بونس کہتے ہیں۔ تو کیا ہم اس بونس سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہیں؟۔ہم ان سے مکانات کی تعمیر میں بھی مدد لے سکتے ہیں۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ 2030ء میں مردوں اور عورتوں کی اتنی بڑی تعداد روزگار کی متلاشی ہوگی جو ہم پوری ہی نہیں کرسکتے۔ ہمارے پاس وسائل ہی نہیں ہیں ۔ پاکستان کے اگر پاپولیشن کے پروفائل کو دیکھا جائے تو کم از کم ساڑھے چار کروڑ یوتھ شہروں میں رہتے ہیں اور یہ اربن آبادی کا 60فیصد ہیں۔ ہمارے پاس انہیں روزگار مہیا کرنے کیلئے وسائل ہی موجود نہیں۔ اس لیے ڈیمو گریفک کلیش آسکتاہے۔

ایک چپڑاسی اور کلرک کی پوسٹ کیلئے ڈگری ہولڈرز کی درخواستیں المیہ سے کم نہیں

پاکستان کی تقریباً 68فیصد آبادی بچوں اورنوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یعنی ان کی عمریں 30سال سے کم ہیں۔ لہٰذا ہم اس جوان قوم سے 2045ء تک بہت کام لے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کو ہم نے بتایا کہ ہم نے اپنی اس آبادی کو اپنے بہترین منافع کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ 2045ء تک یہ آبادی ہمارے لیے بونس ہوگی ، ترقی کا بونس ، خوشحالی کا پیغام ۔ لیکن ہم یہ بتانا بھول گئے کہ ہم نے اس تمام عرصے میں اس نسل کے ایک محدود سے حصے کو لیپ ٹاپ دینے کے علاوہ اور کیا کیا ہے؟۔ ایک چپڑاسی اور کلرک کی پوسٹ کیلئے ڈگری ہولڈرز کی درخواستیں المیہ سے کم نہیں۔ ہم نے ماضی میں سی پیک سے لا حاصل امیدیں وابستہ کر لیں ۔ یہ امیدیں ابھی تشنہ طلب ہیں۔ فی الحال تو ہم شادی کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کئی شہروں میں بہتر منصوبہ بندی کیلئے ماسٹر پلان بنائے ،ایک بھی ماسٹر پلان پائیہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ کسی کو ناقص کہہ کر مسترد کر دیا گیا اور کوئی ناقابل عمل تھا۔ کسی پر عملدرآمد کیلئے پیسے نہ تھے۔ چنانچہ 1998ء کے بعد اربنائزیشن کے عمل میں سستی آگئی جہاں اس میں اضافہ کی شرح 3.5فیصد تھی وہاں یہ گر کر 2013ء میں 3.3فیصد رہ گئی۔ ٹائون پلاننگ کی کوششیں ہوئیں ، کئی بائی لاز بنے مگر سب بیکار ۔ شہر آلودگی کا شکار ہونے لگے ، سوا کروڑ کے قریب موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں نے کراچی اور لاہور کو دھواں دھواں کر دیا۔ قدرتی آفات الگ مسئلہ رہے ۔ زندگی ، ہوا، آندھی ، بارش ، پانی اور سیلاب کی زد میں رہے۔ کئی لاکھ لوگ سیلابوں سے متاثر ہوئے۔ 2005ء کے زلزلے سے ملک میں رہائشی سہولتوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔74ہزار افراد جاں بحق ، 35لاکھ بے گھر ہوئے۔ 6لاکھ مکان تباہ ہوئے۔ ہم نے جو شہر بساتے وہ پیاسے تھے۔ شہرو ں میں پانی کی فراہمی میں مزید کمی آگئی۔ تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ایک تہائی کم ہو گئی،سملی ڈیم اور حب ڈیم بھی خشک ہونے لگے۔

شہروں کی آبادی میں 3.5سے 6.7فیصد تک اضافہ

اقوام متحدہ نے اچھی رہائشی سہولتوں کیلئے 12اعشارئیے طے کیے ہیں۔ لیکن ہمارے پاس کسی ایک کے بھی مکمل اور جامع اعدادو شمار دستیاب نہیں ہے۔ البتہ حکومت مانتی ہے کہ اس کے پاس 8اعشاریوں کے اعداد و شمار دستیاب ہیں۔ مگر ان میں سے بھی کچھ پرانے ہیں۔ یہ1913ء سے 1996ء تک کے ہیں جو مختلف رپورٹوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اربن آبادی 1981ء میں 4.4فیصد ، 1998ء میں 3.5فیصد اور 2013ء میں 3.3فیصد کی رفتار سے بڑھی اور اب اس کا تناسب مجموعی طور پر 39فیصد بتایا جاتا ہے۔نوازشریف دور میں تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے 75شہروں کی آبادی 1لاکھ سے 10لاکھ تک اور 448چھوٹے شہر یا قصبات کی آبادی 1لاکھ سے کم تھی۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے۔ اس کی 20فیصد آبادی شہری ہے۔ لاہور اور فیصل آباد کی 15فیصد اور راولپنڈی ، ملتان ، حیدر آباد اور گوجرانوالہ کی 12فیصد آبادی شہری ہے۔ جبکہ باقی ماندہ علاقوں کی بہت محدود سی تعداد شہری سہولتوں سے مستفید ہو رہی ہے۔ بڑے شہروں کی آبادی میں اضافہ بھی بڑی رفتارسے ہو رہا ہے اور 1998ء کے بعد سے یہ ساڑھے چار فیصد کی رفتار پر گیالیکن بعد میں اس میں کمی آئی۔ 1981ء کے بعد سے کراچی کی آبادی میں اضافہ کی رفتار 3.5 فیصد، لاہور کی 3.3، فیصل آباد کی 3.6، راولپنڈی کی 3.5، ملتان کی 3.6، حیدر آباد 3.6، گوجرانوالہ 3.8، پشاور 3.3، کوئٹہ 4 اور اسلام آباد کی آبادی کی شرح نمو پونے چھ فیصد تھی۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دس سالوں میں ملک پر پڑنے والے بوجھ کا جائزہ لینے کیلئے چند روز قبل ایک انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کیاتھا۔ ...

مزید پڑھیں

وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کا میزانیہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر مملکت برائے ریونیو محمد حماد اظہر نے اپوزیشن ...

مزید پڑھیں

قطب مینار کس نے بنایا ، کیوں بنایا ، یہ ملکیت کس کی ہونا چاہئے اس بارے میں مسلمان اور بعض ہندو مفکرین اور مورخین نے کئی اعتراضات کھڑے کر د ...

مزید پڑھیں