☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
قطب مینار ، سرسید کا دعویٰ اور ایک انکوائری

قطب مینار ، سرسید کا دعویٰ اور ایک انکوائری

تحریر : محمد ندیم بھٹی

06-02-2019

قطب مینار کس نے بنایا ، کیوں بنایا ، یہ ملکیت کس کی ہونا چاہئے اس بارے میں مسلمان اور بعض ہندو مفکرین اور مورخین نے کئی اعتراضات کھڑے کر دئیے۔ کسی نے اسے مسلمانوں کی مسجد قرار دیا تو کسی نے قطب مینار کو سلطنت غلاماں کی یادگار قرار دیا۔ سب سے اہم نکات سر سید احمد خان نے اپنی تصنیف’’ آثارالصنادید‘‘ میں اٹھائے ۔

انہو ں نے مسلمانوں کی مساجد ، ہندوئوں کے مندر کے طرز تعمیر کے جائزے کے بعد قطب مینار کو پرتھوی راج کی ملکیت قرار دیا۔ یہ معاملہ اس قدر شدت اختیار کر گیا کہ انگریز سرکار کو بھی تشویش لاحق ہو گئی۔سیاحوں کیلئے قطب مینار میں بہت کشش تھی۔ ابتدائی سالوں میں بھی 2لاکھ سے ساڑھے تین لاکھ تک افراد اس تاریخی مینار کو دیکھنے کیلئے آتے تھے۔

مردوں کے ہجوم کے پیش نظر ایک دن خواتین کیلئے بھی مخصوص کر دیاگیا۔چھ سات ہزار سے زائد خواتین بھی اس روز قطب مینار کی تاریخی حیثیت سے لطف اندوز ہو تی تھیں۔ سالانہ آمدنی کا تخمینہ کروڑوں روپے تھا۔ معاملہ سنگین تھا ۔ گورنر جنرل تک پہنچا ، جس پر ایک ہندوستانی مورخ رستم جی نسروان جی منشی نے طرز تعمیر ، تعمیر کی وجوہات اور ملکیت کا جائزہ لیا۔

انہوں نے اپنی رپورٹ 14نومبر 1911ء کو پیش کردی ۔ رپورٹ گورنر ممبئی جارج سنڈن ہام کلارک (George Sydenham Clarke)سے منسوب تھی ۔ انہوں نے بھی اپنے ریمارکس میں رستم جی منشی کی رپورٹ کو سراہا۔ 10 باب اور 111صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں مینار کی الگ الگ حیثیت کو تاریخ کے سانچے پر پرکھا گیا ہے۔انہوںنے مسلمانوں اور ہندوئوں کے طرز تعمیر ، سر سید کے دلائل ، ہندوئوں کے نکات ، ابن بطوطہ تک کے نسخوں اور تاریخی کتب کے حوالوںسے قطب مینار کو مسلمانوں کی ملکیت قرار دیا۔

انہوں نے حکم دیا کہ اس کی طرز تعمیر خالصتاً اسلامی ہے جس کا ہندوئوں سے کوئی تعلق نہیں ۔یوں یہ معاملہ اپنے انجام کو پہنچا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انڈیا،مسلمانوں کے دور حکومت میں تاریخی ورثے سے مالا مال ہوا۔ مسلمانوں کی بنائی گئی عظیم الشان عمارات ہندوستان کی عظمت کی گواہ بنیں ۔ میکالے نے اسی لیے ہندوستان کو سیاحوں کیلئے پرکشش قرار دیا۔ سینٹ پیٹس برگ کے چرچ سے بھی متاثر ہو جاتے تھے۔ قطب مینار تو ان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ بشپ ہربر نے بھی قطب مینار کو اپنی نوعیت کا عظیم الشان مینار قرار دیا تھا۔ یہ سب مسلمانوں کی شان تھے۔ آئیے انکوائری کا جائزہ لیتے ہیں۔

آغازمیں رستم جی منشی لکھتے ہیں ۔’’لگ بھگ 11مہینے پرانی بات ہے، مجھے دہلی میں کتب مینار کی حیثیت کا پتہ چلانے کا انتہائی دلچسپ ٹاسک ملا۔ اس مینار میں مجھے پہلے ہی کافی دل چسپی تھی۔ آج بھی کچھ لوگ اسے سلطنت دہلی کے پہلے ترک سلطان قطب الدین ایبک کی تعمیر مانتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ 1193ء میں شہر پر قبضہ کرنے کے بعدسلطان نے مینار کی بنیادیں رکھ دی تھیں، یہ سچ نہیں۔ دوران تحقیقات میری نظرمس نیبل ڈف اور مسز ڈبلیو آر رکمرز کی کتاب ’’کرونالوجی آف انڈیا ‘‘کے صفحہ نمبر 184 پرجیسے جم کر رہ گئیں۔ لکھا ہے۔۔۔’’1235ء( بمطابق 633ھ ) 7دسمبر(،24رجب المرجب) کو خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒ کا یوم وفات تھا۔ صوفی بختیار کارکیؒؒ کا شمار ملتان کے نامور صوفیاء کرام میں ہوتا ہے۔

ان کا زمانہ نصیر الدین قباچہ کا زمانہ تھا۔ انہوں نے جب دہلی میں قدم رنجہ فرمایا تو بادشاہ التمش نے انہیں ’’شیخ الاسلام ‘‘کا عہدہ عنایت کرنا چاہا۔ مگر خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ؒنے یہ دنیاوی نعمت ٹھکرا دی۔ قطب مینار ، دہلی ان کی اسی یاد میں تعمیر کیا گیا۔ مذکورہ کرانولوجی لندن میں 1899ء میں شائع ہوئی۔ ‘‘ ان جملوں نے یقینی طور پر میرے جسم میں جھرجھری پیدا کی۔ تجسس نے جنم لیا۔ تحقیق کے کئی دریچے وا ہوئے۔ چنانچہ میں نے اس زمانہ کے سکالر شمس العلماء عرود دیوان جی ،جمشید جی، مودی بی اے سے بھی رابطہ کیا۔ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ قطب مینار پر کوئی ایک جامع تحریر دستیاب نہ تھی۔ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تاریخ کے اوراق پر اس کی تاریخ بکھری ہوئی تھی۔ چنانچہ مجھے کئی مورخین کے رسائل و جرائد کا بھی جائزہ لینا پڑا۔ مگر میں یہاں ایچ ایم ایلیٹ کی زبردست اور پر مغز تحریر کابھی حوالہ دینا چاہوں گا۔ اس سے مجھے بڑی مدد ملی۔ انہوںنے’’ ہسٹری آف انڈیا ‘‘نامی کتاب میں پورا ایک باب قطب مینار کی تحقیق سے متعلق لکھا تھا۔

بلکہ ان کے اس باب کا عنوان ہی ’’قطب مینار کا مالک کو ن حضرت محمد ﷺ کے ماننے والوں کے حق میں ایک گواہی۔ ‘‘تھا۔عمومی طور پرمسلمان مصنفین نے قطب مینار کی اہمیت اور حیثیت کو اس عہد میںنظر انداز کیا مگر میجر جنرل الیگزینڈر کنگ ہم نے ’’آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا ‘‘کے سومیں سے 16 صفحات قطب مینار کے مختلف پہلوئوں پر ہی لکھے ہیں۔ کئی دوسری تحقیقات بھی میری نظر سے گزریں مگر وہ اہمیت کی حامل نہ تھیں۔ چنانچہ توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔اگر قطب مینار کے ساتھ سلطان قطب الدین ایبک کا نام جڑا ہواہے تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس کا معمار بھی وہی ہے۔ پھر کسی ایک ایسی بات سے بھی یہ ثابت نہیںہوتا کہ اس مینار کی تعمیر میں سلطان قطب کا کوئی کردار ہے۔

بلکہ اس کا حقیقی وارث یا مالک کہہ لیجئے در حقیقت سلطان التمش ہے جو قطب الدین ایبک کا جا نشین اور دامادتھا۔ قطب الدین ایبک نے 1193میں دہلی پر اپنا قبضہ قائم کرنا شروع کیا۔ وہ بھارت کے حقیقی وائسرائے بن گئے۔ انہوں نے اقتدار سلطان محمود غوری کو سونپ دیا ۔ دہلی کے 34مسلمان بادشاہوں میں قطب الدین ایبک انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ ظہیر الدین بابر کے بعد سے یعنی 1526ء کے بعد سے انڈیا پر مسلمانوں کی حاکمیت قائم ہو ئی۔ سلطنت غلاماں کے بادشاہ التمش کو عظیم ترین حکمران قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اپنی وفات کے وقت 1236ء میں ان کی حکومت دہلی سے بنگال تک راجپوتانہ سے سندھ تک قائم تھی۔ وہ اس خطے کے بلا شرکت غیرے حکمران تھے۔

ان کی آزادی کو خلیفہ بغداد نے بھی تسلیم کیا۔کچھ عرصہ تاتاریوں کے پہ در پے حملوں نے انہیں کافی نقصان پہنچایا مگر وہ ہمت نہ ہارے اور اپنا اقتدار بچانے میں کامیاب رہے۔ عمومی طور پر بدھ مت کے ماننے والوں کو عظیم الشان میناروں کا معمار مانا جاتا ہے۔ ان کے جانشین جے مت نے بھی کئی مینار کھڑے کیے۔ انہوں نے بدھ مت کا طرز تعمیر اختیار کیااور اسی انداز میں جیا سٹمبا jaya Stambha تعمیر کیے۔ یہ ان کی شان و شوکت کا مظہرتھے۔ چینی بھی کسی سے کم نہ تھے۔ انہوں نے بھی عظیم الشان میناروں کے ذریعے اپنی عظمت کی نشانیاں قائم کیں اور مسلمان وہ کیونکر کسی سے پچھے رہتے انہوں نے میناروں کی تعمیر میں اپنے تمام پیشہ روئوں کو مات دے دی ابتدائی زمانوں میں ان کا طرز تعمیر منفرد نوعیت کا تھا۔

تاریخ کے مطابق 3ہزار قبل از مسیح نے دہلی پر Yudisthira نامی قبیلے کی حکومت تھی۔ اس وقت یہاں پر عیسائیت کا نام و نشان نہ تھا۔ یوں دہلی کی تاریخ کم و بیش بیت المقدس جتنی قدیم ہے۔ تاہم اس کی تاریخی حیثیت اتنی پرانی نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ 11ویں صدی عیسوی میں راجپوتوں نے یہاں تاریخی عمارات کی شکل میں اپنا ورثہ چھوڑا۔ اننگ پالہ نامی راجپوت بھی یہاںحکمران رہا۔ اس کا تعلق طومارا سلطنت (Tomara Dynasty) سے تھا۔ 1060ء میں لال قلعہ (ریڈ فورٹ) بھی انہوں نے ہی بنایا۔ کتاب کے تیسرے باب میں مصنف رستم جی منشی اس کے مختلف پہلوئوں پر غور کر رہا تھا۔ مینار کی زمین پر چوڑائی 48فٹ 4انچ ڈائیا میٹر ہے۔ یہ قطر 1794ء کی پیمائش کے مطابق ہے اس کی بلندی 242فٹ ماپی گئی۔

دارالحکومت میں لوٹ مار ہو ئی ورنہ شاید اس کی اونچائی 10فٹ زیادہ ہوتی۔ اس کی چار عظیم الشان بالکونیاں الگ ہی منظر پیش کرتی ہیں ۔پہلی بالکونی 90فٹ کی بلندی پر بنائی گئی ہے۔ دوسری 140، تیسری 180اور چوتھی 203فٹ کی بلندی پر ہے۔ انہیں خطاطی کے نمونوں سے سجایا گیا ہے۔ مگر اب اس کی اونچائی (رپورٹ کی تیاری کے وقت238فٹ رہ گئی تھی) جبکہ زمین پر اس کا قطر بھی سکڑ کر 47فٹ 3انچ رہ گیا تھا جبکہ بالائی حصے کا قطر 9فٹ تھا۔ آپ اسے 5منزلہ پرکشش مینار بھی کہہ سکتے ہیں۔ 1794ء میں این سائن بلنٹ نامی ایک سیاح نے اس کی اونچائی 242فٹ 6انچ بتائی تھی ۔

جبکہ کنگھم نے اس کی بلندی 238فٹ بتائی ۔ مختلف منزلوں کے درمیان بھی مختلف فاصلے تھے ۔پہلی منزل 22فٹ 4انچ پر بنائی گئی تھی۔ دوسری 25فٹ 4انچ، تیسری 40فٹ 9انچ دوسری 50فٹ 9انچ پر بنائی گئی تھی۔ 1803ء میں دہلی میں خوفناک زلزلے کی تباہ کاریوں میں قطب مینار کو بھی نقصان پہنچایا اور اس کا کچھ حصہ گر کر نیست و نابود ہو گیا۔ گورنر جنرل نے فوری طور پر انجینئر میجر رابرٹ کو 17ہزار روپے دئیے۔ 1828ء میں اس کی مرمت کر دی گئی۔ ملبہ ہٹانے پر 5ہزار روپے الگ خرچ ہوئے۔ اپنے زمانے میں قطب مینار دنیا کی بلند ترین عمارتوں میںشمار ہو تا تھا۔

کچھ کا کہنا تھا کہ یہ رائے پتھورا ہ یاپرتھوی راج کی تعمیر کا ایک حصہ ہے۔ اس کی بیٹی قطب مینار کی بالائی منزلوں سے دریائے جمنا کے نظارے کیا کرتی تھی۔ ایک اور رائے کے مطابق یہ دریائے گنگا کے نظارے کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر سوال یہ اٹھا کہ اس کا مالک ہے کون۔ ابہام سرسید احمد ، دہلی کے منصف کی تصنیف ، آثار الصنادید سے پیدا ہوا۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ بعض تحریروں کے مطابق مینار کی ابتدائی تعمیرات ہندوئوں نے کی۔ ان کے دلائل اس طرح سے تھے۔ مسلمان ہمیشہ کم از کم دو میناروں کی مسجد بناتے ہیں۔ لیکن یہاں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ بھارتی مصنف کے بقول سر سید احمد کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں۔ گزشتہ ساڑھے تین سو برسوں میں مسلمانوں نے اس طرح کی کئی اور بھی تعمیرات بھی کیں۔

انہوںنے سنگل ٹاور کی عمارات بھی بنائیں۔ 11ویں صدی عیسوی میں غزنی کے مینار بھی اسی نوعیت کے تھے۔ یہ دونوں مینار قطب مینار کی تعمیر سے 180برس قبل تعمیر کیے گئے۔ اسی طرح 1254ء میں مسلما ن بادشاہ قتلق خان نے نصیر الدین محمد کے دور میں کوئیل مینار بنایا۔ مسلمانوں کا یہ طرز تعمیر 13ویں صدی عیسوی کے آخر تک جاری رہا۔ سر سید احمد کی دوسری دلیل بھی بے بنیاد تھی۔ جس میں انہوں نے اس کے دروازوں پر بات کی۔ دلیل کے مطابق ہندو ئوں کی عبادت خانوں کے دروازے عمومی طور پر شمال کی جانب بنائے جاتے ہیں جبکہ مسلمان اپنی عبادت گاہوں کا رخ مشرق کی جانب رکھتے ہیں۔ سر سید احمد کے اس اعتراض پر کوئیل مینار کی دلیل دی جاسکتی ہے

جس کا دروازہ شمال کی جانب ہے۔ عین قطب مینار کی طرح۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ قطب مینار التمش نے بنایا اور کوئیل مینار اس کے بیٹے نصیر الدین کی تعمیر ہے۔ دونوں کا ایک رخ اور سٹائل تو بنتا ہے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ سر سید کی تحقیق کے عین مطابق مسلمان مساجد میں داخلے کے تمام دروازے مشرق کی جانب ہی بنائیں۔ ہاں سلطان التمش کی آخری آرام گاہ کا دروازہ مشرق کی جانب کھلتاہے۔مگر اگر ہم بہائوالدین ذکریا اور شاہ رکن الدین عالم کے مزارات کا جائزہ لیں تو ان کے دروازے سر سید کی تحقیق کی نفی کرتے ہیں ۔ تاج محل کی انٹری بھی جنوب سے ہوتی ہے۔ مشرق سے نہیں۔ سر سید احمد کو بقول انکوائری افسر کوئی غلط فہمی ہوئی۔ کنگم میں جب 50منزلوں کا جائزہ لیا تو 38کے دروازے مشرق کی جانب کھلتے تھے۔ 10

مغرب اور صرف 2شمال کی جانب بنائے گئے تھے۔ تحقیق کے دوران مصنف نے شیخ فضل اللہ بھائی ، شیخ لقمان جی ملابی اے، اور انجمن اسلام ہائی سکول ممبئی کے ہیڈ ماسٹر سے بھی مدد لی۔حسن نظامی کی تحریر کابھی جائزہ لیا گیا جو قطب الدین ایبک کے زمانے کے معروف مورخ تھے۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب تاج المعصر میں کہیں بھی قطب مینا ر کا تذکرہ نہیں ملتا ۔

قطب الدین ایبک کے قریب ترین ہونے کے باوجود انہوں نے جہاں قطب الدین کی ہر بات کا ذکر کیا وہاں انہوں نے قطب مینار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ قطب الدین ایبک کا اپنے نام سے منسوب مینار سے کوئی تعلق نہیں۔ حسن نظامی نے جامع مسجد کا ذ کر کیا۔ جامع مسجد انہوں نے ہی بنائی۔ تاہم اسی طرح اسی زمانے میں ابن اثر نے کامل التواریخ یا تاریخ کامل کے نام سے فارسی کتاب لکھی۔ غوری اور غزنوی خاندان کی تعمیرات اور کامیابیاں اس میں پڑی جاسکتی ہیں۔ ان میں بھی قطب مینار کا تذکرہ نہیں ملتا۔ اسی طرح تاریخ فیروز شاہی کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سلطان شمس الدین التمش اور ان کی تعمیرات کا ذکر ملتا ہے۔ فتوحات فیروز شاہی میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔

البتہ ابن بطوطہ کے نسخوں میں قطب مینار کا کوئی ذکر نہیں۔ یعنی یہ سلطان قطب الدین ایبک کے زمانے میں موجود نہ تھا۔ ابن بطوطہ نے ہندوستان کو مساجد اور میناروں کا عظیم ترین ملک قرار دیا تھا۔ ان کے نزدیک دہلی اس کی عظمت کی ایک نشانی تھا۔ اسی طرح طبقات نصیری میں بھی ہندوستان کے بادشاہوں کا ذکر ہے۔ لیکن قطب مینار کا ذکر نہیں۔ البتہ انہوں نے قطب الدین ایبک کے زمانے کی دوسری چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ سر سید احمد خان نے یہ بھی دلیل دی کہ ہندو اپنی عمارات میں پلیٹ فارم نہیں بناتے جبکہ مسلمان اپنی عبادت خانوں میں داخلے کے وقت ٹیرف یا پلیٹ فارم بناتے ہیں انہوں نے الائوالدین خلجی کے نامکمل مینار کی بھی مثال دی۔ کنگم نے اسے بھی غلط قراردیا۔ انہوںنے بتایا کہ بدھ مت نے کئی مندروں میں مسلمانوں کی طرح پلیٹ فارم بنائے۔ جیسا کہ قلعہ گوالیات میں دو بڑے مندروں میں پلیٹ فارم موجود ہیں۔ قلعہ چھتار میں بھی ایسا ہی ہے۔ کشمیر میں بھی پلیٹ فارم دیکھے جا سکتے ہیں۔ جبکہ غزنی کے دونوں مینار بھی سر سید کی دلیل کی نفی کرتے ہیں۔ جہاں کوئی پلیٹ فارم قائم نہیں۔ چنانچہ قطب مینار تقریباً تمام انگریز مصنفین اور محققین نے قطب مینار کو بادشاہ التمش کی طرز تعمیر کا نادر نمونہ قرار دیا۔ اس کا ہندو راجہ پرتھوی سے کوئی تعلق نہیں ،جس کے نام پر بھارت میں کئی میزائل بنائے جو منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی ٹھس ہو گئے!۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

’’کشمیریت اب مر چکی ہے،اس سے جڑی ہوئی ہر چیز اب مردہ ہو چکی ہے، کسی میں کوئی رمق باقی نہیں رہی۔کشمیریت پہلے ہی کئی عشروں سے زندگی او ...

مزید پڑھیں

آج یکم ستمبر 2019ء ہے ۔1965ء کی صورتحال سوچی سمجھی عالمی سازش تھی۔ جنگ کی کھچڑی 1964ء میں پکنا شروع ہوئی تھی۔ جب بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ دو ...

مزید پڑھیں

17اگست کو اشفاق مسعودی نے ’’سٹیٹس آف کشمیر ‘‘کے زیر عنوان اپنے مضمون میں لکھا ،

...

مزید پڑھیں