☰  
× صفحۂ اول (current) خواتین دنیا اسپیشل کھیل سائنس کی دنیا ادب روحانی مسائل فیشن کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ صحت دین و دنیا
بھارت سے اٹھنے والی انصاف پسند آوازیں

بھارت سے اٹھنے والی انصاف پسند آوازیں

تحریر : طیبہ بخاری

03-10-2019

جنوابی ایشیاء میں اِن دنوں سیاسی قیادتوں کی جانب سے ’’زبان کے کمال‘‘ دیکھنے کا موسم ہے ۔۔۔ منہ میں زبان رکھنا کمال نہیں ۔۔۔ اسے سنبھال کر رکھنا کمال ہے۔۔۔ ضبط کرنا کمال ہے اور پھر زیادتی کرنے والوں کے انجام کو دیکھ کر طنز کے تیر نہ چلانا کمال ہے ۔۔۔۔ناصر کاظمی نے برسوں پہلے کہا تھا کہ زندگی بھر وفا ہمیں سے ہوئی سچ ہے یارو خطا ہمیں سے ہوئی دل نے ہر داغ کو رکھا محفوظ یہ زمیں خوشنما ہمیں سے ہوئی ہم سے پہلے زمینِِ شہرِ وفا خاک تھی کیمیا ہمیں سے ہوئی بے غرض کون دل گنواتا ہے تیری قیمت ادا ہمیں سے ہوئی ستمِ ناروا تجھی سے ہوا تیرے حق میں دعا ہمیں سی ہوئی سعیِٔ تجدیدِ دوستی ناصر آج کیا بارہا ہمیں سے ہوئی یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ سرحدیں پر گھن گرج ہو۔۔۔بارود کا شور شرابا ہو۔۔۔ اور امن کے دیوانے اور نفرت کے پجاری میں لفظوں کی جھڑپ نہ ہو ۔۔۔

امن کا دیوانہ : تمہیں یاد ہے نا دسمبر 1955 ء کا وہ واقعہ جس نے صرف مارٹن لوتھر کنگ کی زندگی نہیں بلکہ امریکہ کے کالے لوگوں کی تقدیر بدل ڈالی۔یکم دسمبر 1955ء کو مسز روزا پارکس جو اپنے علاقے کی محترم خاتون تھیں دن بھر کی مزدوری سے تھکی ہاری واپس لوٹ رہی تھیں۔ بس میں چڑھیں تو سفید لوگوں کیلئے مقرر سیٹوں کی پچھلی قطار میں بیٹھ گئیں۔ سفید فام شخص بس میں سوار ہوا تو ڈرائیور نے روزا پارکس سے کرسی خالی کرنے کو کہا۔ تھکی ہاری روزا پارکس نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔ ڈرائیور نے پولیس کو اطلاع دی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں روزا پارکس کے ایک دوست نے انہیں ضمانت پر رہا کروا لی، مارٹن لوتھر کنگ کو اطلاع دی اور مشورہ دیا کہ بسوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔مارٹن لوتھر کنگ نے گرجہ گھر میں میٹنگ کا انتظام کیا جس میں مختلف علاقوں کے 40 نمائندے شامل ہوئے۔ میٹنگ میں MONTGOMERY IMPROVEMENT ASSOCIATION کی بنیاد رکھی گئی اور مارٹن لوتھر کنگ کو صدر منتخب کیا گیا۔ سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ 5 دسمبر کوبسوں کا بائیکاٹ کیا جائیگا کیونکہ ان بسوں میں کالے لوگوں کو مساوی حقوق حاصل نہ تھے یہ بائیکاٹ ایک سال تک جاری رہا۔ منٹگمری کے 50 ہزار کالے لوگوں نے بسوں میں سفر کرنے سے انکار کر دیا۔21 دسمبر 1956 ء کو سپریم کورٹ نے بسوں میں نسلی امتیاز کو غیر قانونی قرار دیا پھر کالے اور گورے اکٹھے سفر کرنے لگے۔ مارٹن لوتھر کنگ جو ایک گمنامی کی زندگی گزار رہے تھے ایک ہی سال میں کالے لوگوں کے امیرِ کارواں اورعالمی شخصیت بن گئے۔ اس جدوجہد میں مارٹن لوتھر کنگ کو کئی بار جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔28 اگست 1963 ء کو مارٹن لوتھر کنگ نے ہزاروں افرادکیساتھ واشنگٹن کے لنکن میموریل تک جلوس کی سربراہی کی اور اپنی مشہور تقریر ’’میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں‘‘ سے قوم کو نوازا اور پھراکتوبر1964 ء میں مارٹن لوتھر کنگ کو امن کا نوبل انعام دیا گیا۔ نفرت کا پجاری : سرحدوں پہ حالات کشیدہ ہیں اور تم مجھے جنوبی ایشیاء کی بجائے امریکہ لے گئے ، دونوں میں کیا رابطہ ہے ؟ امن کا دیوانہ : اسی رابطے کو تو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے ، حالات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ تم جلد دیکھو گے امن کا نوبل انعام میرے ہاتھوں میں ہو گا : نفرت کا پجاری : میری سمجھ سے بالاتر ہیں تمہاری باتیں ۔۔۔۔ امن کا دیوانہ : میری باتیں تمہاری سمجھ میں آئی ہوتیں تو آج خطے کو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔۔۔بھوک ، جہالت ختم ہو چکی ہوتی ۔ ۔ ۔ سکون ہوتا ۔۔ایسا کرو تم آج خاموش رہو اور صرف مجھے سنو ۔۔۔ نفرت کا پجاری : ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔۔۔سمجھ میں آئے نہ آئے میں بولوں گا اور تمہیں مجھے سننا اور برداشت کرنا پڑے گا ۔ امن کا دیوانہ : میں لڑائی جھگڑا نہیں صرف بات کرنا چاہتا ہوں ، تم لڑنے کو تو تیار ہو، بات کرنے کو کیوں نہیں ؟ نفرت کا پجاری : دہشتگردی کے ہوتے بات نہیں ہو سکتی ۔۔ امن کا دیوانہ : اس پر بھی بات کر لیتے ہیں ، یا یہ مسئلہ جھگڑے سے۔۔۔ ہتھیاروں کی زبان سے حل ہو گا ؟ نفرت کا پجاری : میرے وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشتگردی کیمپوں پر فضائی حملہ کیا ، ساری دنیا دہشتگردی کیخلاف لڑائی میں بھارت کے ساتھ کھڑی ہے۔ امن کا دیوانہ :کیا بھارتی سیاسی جماعتیں ساتھ کھڑی ہیں ۔۔۔؟ نفرت کا پجاری:ہمیں اس کی پرواہ نہیں ۔۔۔ امن کا دیوانہ : پرواہ کرنی پڑے گی ۔۔۔آج میں تمہیں چند آوازیں سنائوں گا ۔۔۔وہ بھارت کی آوازیں ہیں سیکولر اور جمہوریت پسند بھارت کی آوازیں ۔۔۔ گاندھی کے دیش کی آوازیں۔۔۔ میری آواز نہ سنو لیکن تمہیں اِن آوازوں کو سننا پڑے گا ۔۔۔ مجھے ان آوازوں کا احترام ہے ، میں اِن کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا تمہیں بھی احترام کرنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ۔ اہمیت دینا ہو گی ۔۔۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت سے پاکستان میں دہشتگردی کیمپوں پرفضائی حملوں کا ثبوت مانگ رہی ہیںجس پر مودی برہم ہیں ۔بجائے ثبوت دینے کے مودی اپوزیشن کوہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں’’ناقدین مجھ پر تنقید کیلئے آزادہیں سارا ملک، رافیل لڑاکاجیٹ طیاروں کی کمی محسوس کررہا ہے بعض پارٹیاں مسلح فورسز پرشبہات کررہی ہیں‘‘ نفرت کا پجاری : تو مودی جی نے کیا بُرا کہا ۔۔؟ امن کا دیوانہ :میں نے ابھی آوازوں کا ذکر شروع ہی نہیں کیا ۔ ۔ ۔ مودی جی کے بیانات کا ذکر کیا ہے جس میں وہ اپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کا اعتراف کر رہے ہیں ،۔۔۔۔سنو! بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت کانٔگریس جو کئی بار اقتدار میں رہ چکی ہے اسکی قیادت میں نئی دہلی میں ہونیوالی کل جماعتی کانفرنس میں 21سے زائد سیاسی جماعتوں نے شرکت کی ۔سب جماعتیں مودی حکومت پر فوجیوں کی میتوںپر سیاست کرنے کا الزام لگا رہی ہیں تقریباً 3 گھنٹے تک چلنے والی 21 اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی نے تحریری بیان پڑھا کہ قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے اوپر رکھنا چاہئے۔پلوامہ میں 40جوانوں کی شہادت کی خبر کے 3 گھنٹے بعد بھی ’’پرائم ٹائم منسٹر ‘‘ فلم کی شوٹنگ کرتے رہے۔ملک کے دل اور شہیدوں کے گھر وں میں درد کا دریا امڈ رہاتھا اور وہ ہنستے ہوئے دریا میں فوٹوشوٹ پر تھے۔ کانگریس نے مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی )کی شرح میں گراوٹ پر حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہی لگتاہے کہ بھارت کی معیشت کوتباہ کرنیوالے وزیراعظم مودی کے دورحکومت کے آخری 2ماہ سے عین قبل معیشت کی شرح گراوٹ کی نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔کانگریس نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا’’ مسٹر مودی کے تباہ کن دورحکومت کے خاتمے میں 2ماہ سے بھی کم کا عرصہ بچاہے اور ملک نے گراوٹ کی نئی سطح دیکھ لی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ خبر بھی پوسٹ کی جس میں کہاگیاہے کہ رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح گرکر 6.6فیصد رہ گئی ہے۔ نفرت کا پجاری : تم نے جن سیاسی جماعتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مودی جی کی مخالفت میں الیکشن لڑ رہی ہیں ۔ امن کا دیوانہ : بھارت کی معیشت اور فوج بھی الیکشن کے ماحول میں ہیں کیا ۔۔؟بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پرزور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر پاکستان میں کارروائی کے دوران 300 دہشتگرد مارے گئے ہیں تو اس کے ثبوت کہاں ہیں؟ کارروائی کی ویڈیو یا تصاویر کیوں جاری نہیں کی جارہیں؟۔۔۔ کانگریس کے اہم رہنما ڈگ وجے سنگھ نے مودی حکومت سے بالاکوٹ حملے کے تصویری شواہد دینے کا مطالبہ کیا اور کہا عمران خان کو مبارکباد دیتے ہیں جنہوں نے اچھا ہمسایہ ہونے کا نیا راستہ دکھایا۔پائلٹ کو واپس بھیجنے کے اقدام پر بھارتی ایوان بالا کے رکن نے وزیراعظم عمران خان کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔ (بھارتی طیارے 25 اور 26 فروری کی درمیانی شب لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہو کر ایمونیشن گرا کر فرار ہوئے جس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اگلے ہی روز پاک فضائیہ نے 2 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو بھی گرفتار کیا جسے بعدازاں بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا۔) ’’را‘‘ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے مطابق انہیں بھارت کی جانب سے پاکستان میں فضائی دَراندازی کی توقع نہیں تھی تاہم اسے لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ لیکن حالیہ کشیدگی اور اس حوالے سے اقدامات کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا قد کاٹھ بڑھا ہے ۔ ۔ سابق بھارتی جج جسٹس مرکنڈے کاٹجو بار بارمودی سرکار پر برس رہے ہیں۔کاٹجوکہتے ہیں کشیدگی میں پاکستان نے سنجیدگی دکھائی پہلے وہ عمران خان کے ناقد تھے لیکن ایوان میں اُن کی تقریر سننے کے بعد مداح ہو گئے۔ ہمارے سیاستدانوں کا غیر سنجیدہ رویہ دیکھ کر دکھ ہوا، انہیں صرف الیکشن جیتنے کی فکر ہے۔ سنو !۔۔۔۔ یوں تو بہت سے بھارتی رہنما سچ بیان کر رہے ہیں لیکن بھارتی وزیر سرندراجیت سنگھ اہلووالیہ نے تسلیم کیاہے کہ پاکستان میں فضائی کارروائی سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔کارروائی محض وارننگ تھی ۔ ۔ ۔ بھارتی وزیر نے انتہا پسند میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کرتے ہوئے کہا کیا مودی نے 300 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا؟ پاکستان سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی رہائی کے اعلیٰ ظرفی کے اقدام پربین الاقوامی سطح پرپاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے ، امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا جبکہ مودی کی نظریں الیکشن پر ہیں۔امریکی اخبارات نے بھی پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھے اور اسے سفارتی محاذ پر بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق کشیدہ صورتحال میں ہرلحاظ سے پاکستان کا پلڑا بھاری رہا،بھارت کے برعکس پاکستان نے جو کیا وہ دنیا کو دکھایا۔گرفتارپائلٹ کی رہائی سے بھارت کے ذلت آمیز قصے میں کمی آ ئی ۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا پاکستان کیساتھ بحران میں مودی کی نظریں الیکشن پر ہیں،قومی سلامتی کا مسئلہ غالب آنے سے مودی کی الیکشن مہم بہتر ہوگئی۔ نفرت کا پجاری : تم ثابت کیا کرناچاہتے ہو ۔ ۔ بھارت کی تعریف کر رہے ہو یا مخالفت ۔۔۔؟ امن کا دیوانہ : میں بھلا بھارت کی مخالفت کیوں کرونگا ۔ ۔ بھارت میرا ہمسایہ ملک ہے اور ہمسائے کبھی تبدیل نہیں کئے جاتے ۔۔تم ابھی تک میرا موقف نہیں سمجھے ۔۔۔میں اپنی نہیں بھارت کی ہی بات کر رہا ہوں ۔۔۔بھارت میں اکثریت جھگڑا یا جنگ نہیں چاہتی جسکا ثبوت بڑی تعداد میں بھارتی سیاسی جماعتیں ہیں ۔۔۔۔سماجی اور لکھاری طبقہ اس کیلئے علاوہ ہے۔ نفرت کا پجاری :کچھ بھی کہہ لو تمہیں کشمیر نہیں ملے گا ۔۔۔ امن کا دیوانہ : کشمیر کو اپنا کہتے ہواور کشمیریوں کو مارتے ہو۔۔۔۔ اس طرح تمہیں بھی کچھ نہیں ملے گا ، جو ہے وہ بھی کھو دو گے۔ نفرت کا پجاری : ہم خطے کا بڑا ملک ہیں، اپنے مفاد میں فیصلے کرنا جانتے ہیں ، ہمیں کوئی ڈکٹیشن نہیں دے سکتا ، تم بھی نہیں۔۔۔ امن کا دیوانہ : تو بڑا دل بھی رکھو،بڑے پن کا مظاہرہ کرو اور چھوٹے ممالک کا احترام کرو ورنہ بڑا پن کھو دو گے ۔۔جیسے پہلے کھویا تھا۔ نفرت کا پجاری : تمہیں بھارت سے نفرت ہے لیکن تم اس کا اظہار نہیں کرتے ۔۔۔چھپ کر وار کرتے ہو ، سامنے نہیں آتے۔ امن کا دیوانہ :میں نے کبھی چھپ کر تم پر وار نہیں کیا ۔۔مجھے بھارت سے نفرت کیوں ہو گی ، صرف مجھے ہی توتم سے پیار ہے کیونکہ میرے اپنے تمہارے ہاں بھی بستے ہیں ۔ کروڑوں انسان وہاں بستے ہیں ۔۔ بھارت میں چلنے والی ہوائیں ،آندھیاں ، بارشیں ، دھوپ ، چھائوں سب مجھے بھی ملنے آتے ہیں ابھی چند روز پہلے کی بات ہے کہ جب حالات کشیدہ تھے تو بھارتی پنجاب پولیس کے جوانوں نے سمجھوتہ ایکسپریس ریل سروس کے منسوخ ہونے کے بعد اٹاری ریلوے اسٹیشن پر پھنسے پاکستانی مسافروں کو کھانا کھلایا۔۔اس سے پہلے پلوامہ واقعے کے بعدجب بھارت بھر میں کشمیریوں کو مارا جا رہا تھا ، ان کے گھروں ، املاک اور کاروباری مراکزکو جلایا تباہ کیا جا رہا تھا، کشمیر طلباء کو کالجوں ، یونیورسٹیوں سے نکالا جا رہا تھا تو سکھ برادری نے کشمیریوں کیلئے اپنے گردواروں کے دروازے اور لنگر کھول دئیے ۔ مجھے تو ایسے بھارتیوں سے پیار ہے ، میں ان کے ساتھ ہی تو امن سے رہنا چاہتا ہوں ۔ نفرت کاپجاری:تم نے سنا تو ہو گا جو سشما سوراج نے ابوظبی میں او آئی سی کے اجلاس میں کہا کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کسی مذہب کی مخالفت میں نہیں ، انہوں نے قرآنی آیت کے حوالے سے انتہا پسندی کی مذمت بھی کی، یہ کیوں نہیں بتاتے ؟ امن کا دیوانہ :اچھا کیا جو تم نے انتہا پسندی کا ذکر خود کر ڈالا،اب ذرا ہمت سے سنو بھارت میں مسلمانوں اور کشمیریوں پر حملے ہو رہے ہیں اور خدشہ ہے انتخابات سے قبل ان میں تیزی آئے گی لیکن میں تمہیں صرف ایک ویڈیو کا قصہ سنائوں گا ۔ یہ جرأت اور دلیری بھی بھارت کے اندر سے اُبھری ہے ۔۔۔غور کرو اس پر ۔۔۔۔ ’’بی جے پی نے انتخابات میں کامیابی کیلئے اپنے فوجیوں کوبھی نہ بخشا، بھاجپاکے سابق رہنما اوی داندیا نے ایک آڈیو لیک کردی جس میں بھارتی وزیر داخلہ اور بی جے پی کے سربراہ پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملے کا منصوبہ بناتے ہوئے سنائی دئیے، آڈیو میں پہلے شخص جس کا تعلق بی جے پی سے ہے کا کہناتھاکہ ملک کے عوام کو گمراہ کیا جاسکتا ہے،انتخابات میں کامیابی کیلئے جنگ (یود) کرانے کی ضرورت ہے جس پر شریک خاتون نے سوال کیاکہ بغیر کسی وجہ آپ یہ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس پر آڈیو میں موجود تیسرا شخص کہتاہے ’’جوانوں کے سوال پر ہمارے عوام بہت ہی حساس ہیں۔اس موقع پر خاتون کہتی ہیں ہاں تو بھارتی فوجیوں کوہلاک کروانا ہے؟ ایک دو سے کچھ نہیں ہوگا۔آڈیو میں دوسرے شخص نے کہا تو ایک کام کرتے ہیں کشمیر میں کشمیر کے آس پاس ہی کہیں کرواتے ہیں، جس پر تیسرے شخص نے کہا ’’ چیک پوسٹ‘‘؟ اس پر خاتون کا کہنا تھا دھماکہ کریں گے کسی چھائونی پر یا سی آر بی ایس پر 150جوان مریں گے توعوام ایک ہوجائیں گے۔ تیسرے شخص کا کہنا تھاکہ جوانوں کی ہلاکت پر سیاست ہونا چاہیے، اور کوئی راستہ نہیں۔ خاتون نے کہا کہ جوانوں کو مروانا مجھے سمجھ نہیں آرہا ویسے آپ چاہتے ہیں تو دھماکہ کروادیں گے، سو پچاس جوان مریں گے ویسے بھی گاندھی کہتے ہیں ’’جوان سینا میں بھرتی ہوتا ہے شہید ہونے کے لئے‘‘ لیکن دشمن کے ساتھ اب آپ لوگ ہی دشمن بنے ہوئے ہیں فوج کے اب اور کیا کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر خاتون نے کہا کہ مجھے بحث نہیں کرنی ،کام کر دیں گے پیسے بھجوا دیجئے گا اور12،13 فروری تک یہ سارا کچھ کام تمام کر کے آپ کو میسج کرتی ہوں، پیسے بھیجوا دیجئے گا۔ ‘‘ آڈیو لیک کرنے والے سابق بی جے پی رہنما اوی داندیاکا کہناتھا ’میں اوپن چیلنج کرتا ہوں سیاستدانوںکو کہ وہ اس کو غلط ثابت کر کے دکھا دیں۔ انہوں نے بھارتی عوام سے سوال کیا کہ جوفوج کو مرواسکتے ہیں وہ آپ کا کیا کریں گے ؟ ۔ انہوں نے بھارتی میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اوپر ٹاپ چار پانچ جو اینکرز ہیںانہیں بھی ننگا کر کے کھڑا کر دوں گا، ان اینکرز کی ساری معلومات ہیں مجھے، اپنی سمت درست کرلو۔تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں اور کچھ بھی الٹا سیدھا ٹرائی مت کرنا کیونکہ میرے علاوہ 8 آدمی ایسے ہیں جن کے پاس یہ سب سامان ہے اور وہ سچے دیش بھگت ہیں اس میں مسلمان بھی ہیں دو سردار بھی ہیں ایک سکھ بھی ہے یاد رکھنا کوئی کھیل مت کھیلنا ہمارے ساتھ جو تم یہ گیم کھیل رہے ہو یہ مت کرنا۔ ‘‘۔۔۔۔سن لیا تم نے اگر پیٹ نہیں بھرا اور آنکھیں نہیں کھلیں تو بھارت کی راجدھانی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کی تقریر سنائوں جو انہوں نے کسی چوک چوراہے یا جلسے جلوس میں نہیں ریاستی اسمبلی میں کی۔۔۔کیجریوال نے مودی کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ’’ 300 سیٹوں کیلئے کتنے فوجیوں کو مروائو گے؟ تمہیں الیکشن جیتنے کیلئے کتنی لاشیں چاہئیں؟ کتنے گھر برباد کروں گے؟کتنے بچوں کو یتیم کرو گے؟ کتنی عورتوں کو بیوہ کروں گے؟‘‘ نفرت کا پجاری : یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے تم اس پر سیاست اور بھاشن بازی مت کرو ۔ امن کا دیوانہ : ٹھیک کہا تم نے یہ تمہارے گھر کا معاملہ ہے ۔ ۔ ۔ بھائی مودی جی نے کیجریوال کو تو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیدیا جبکہ انکی اپنی جماعت کے کرناٹک کے اہم رہنما بی ایس یدی پورپا کو کیا ہوا؟انہوں نے شرمناک سازش بے نقاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے سرجیکل اسٹرائیک کے ڈھنڈورا پیٹنے کا مقصد لوک سبھا کے انتخابات جیتنا ہے۔ نفرت کا پجاری : تم یہ سب مثالیں دے کر کہنا اور ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟ امن کا دیوانہ : ہم بس امن چاہتے ہیں ۔۔۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائو کیا میں نے اب تک تمہیں کوئی دھمکی دی ؟ کوئی جارحانہ انداز اپنایا؟ میں تو تمہیں تمہارے گھر والوں کی آوازیں سنا رہا ہوں ، تمہیں تمہارے گھر کا موقف سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں میری نہیں تو ان کی بات مان لو ۔۔مقبوضہ کشمیر کے عوام اور عوامی نمائندوں کی بات نہیں سنتے تو بھارت میں بسنے والوں کی بات سنو اُن میں سے کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا ،سب امن ، خوشحالی، تعلیم ، ترقی ، صحت ، گھر اور روزگار چاہتے ہیں ۔ نفرت کا پجاری : تم نے ہمارا میڈیا دیکھا ؟میڈیا پر مبصرین ، سیاستدان اور عام آدمی جوجو بھی نظر آئے وہ سب کے سب فیصلہ کن جنگ چاہتے ہیں ؟ امن کا دیوانہ : میڈیا کے بارے میں بھی میں کچھ نہیں کہونگا ۔ ۔ ۔ تمہاری طرف کی بات ہی دہرا ئے دیتا ہوں ۔ این ڈی ٹی وی کے صحافی رویش کمار کہتے ہیں بھارت کے نیوز چینلز ’’گرافک وار رومز‘‘ بن چکے ہیں اور ان پر دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان کے حوالے سے بیانیے میں مودی حکومت کے موقف کی تائید کریں۔ جو صحافی ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں انہیں زبردست تنقید اور مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بھارتی ٹی وی چینلوں پر جاری تبصرے انتہائی خراب اور بی جے پی کے الیکشن میں فائدے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔بھارت میں بے روزگاری اور ایسے کئی دیگر اہم مسائل ہیں، گذشتہ5سال میں ان میں سے ایک بھی حل نہیں کیا گیا، ان تمام مسائل کو پس پشت ڈالا جا ر ہا ہے۔ فضائیہ کے سربراہ یہ بتانے میں ناکام ہوگئے ہیں کہ بھارت نے حملہ کیا تو کتنے لوگ مارے گئے۔ نفرت کا پجاری : یہ صحافی بھی تو کسی کا ایجنٹ ہو سکتا ہے ، اس کے منہ میں بھی کسی اور کی زبان لگتی ہے ۔۔۔ امن کا دیوانہ : مجھے معلوم تھا تم یہاں بھی میری بات نہیں مانو گے ۔ سنو میرے بھائی!اب میں تمہیں جیتی جاگتی اور روتی بلکتی آواز سنانا چاہتا ہوں جس کی قربانی پر تم شک نہیں کر سکتے ۔۔اور میں بطور انسان انکے جذبات اور الفاظ کا احترام کرتا ہوں ،کاش ایسا ہی احترام کرنے کا حوصلہ تم میں بھی جنم لے ،اس آواز کے کرب کو محسوس کروکیونکہ یہ بھی تمہارے گھر سے اُٹھی ہے ۔۔۔ پاک فضائیہ کی کارروائی میں مارے جانے والی بھارتی پائلٹ کی بیوہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر جنگ کرنا بند کردیا جائے اگر لڑنا ہی ہے تو فوج میں بھرتی ہوکر لڑیں ،بھارتی میڈیا سنو ہم جنگ نہیں چاہتے ،آپ کو نہیں پتہ جنگ میں کیا ہوتا ہے ،کیا نقصانات ہوتے ہیں ؟ دونوں طرف سے ایسا نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ نفرت کا پجاری : لیکن دہشتگردی کا کیا ۔۔؟ہمیں اُسے ختم کرنا ہے امن کا دیوانہ : ہم بھی اسی مرض کیخلاف لڑ رہے ہیں ، 70ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کر چکے ہیں لیکن ہم نے کبھی کسی پر اندھا دھند الزام نہیں لگایا اپنے گھر کو سنوار رہے ہیں ہم نے حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے اب ہم نئے دور میں قدم رکھ چکے ہیں ۔۔۔تم بھی حوصلہ دکھائو ، خطے میں امن ، خوشحالی اور تمام تنازعات کی بات چیت سے حل کی جانب ایک قدم آگے بڑھائو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے ۔ دہشتگردی کیخلاف مل کر کام کر سکتے ہیں۔دیکھو نئی نسل ہم سے کیا مطالبہ کر رہی ہے ۔۔۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو روکنے کیلئے آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی اور بھارتی طلباء اور سکالرز نے قیام امن کیلئے مظاہرہ کیا دونوں کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، اعلامیے میں کہا گیا کہ نئی نسل امن چاہتی ہے۔ نفرت کا پجاری : اچھا ۔۔۔۔ کچھ وقت دو۔۔۔۔انتظار کرو۔۔۔ دونوں کا مکالمہ ابھی جاری ہے ۔۔۔اور مکالمہ ختم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ تمام مسائل کا حل بات چیت میں ہے ، ماضی کی 3جنگوں سے کچھ نہیں ملا اب دونوں ملک ایک موقع بات چیت کے عمل کو دیکر دیکھیں بغیر کسی جانی و مالی نقصان کے کامیابی یقینی ہے۔ اور آخر میںمارٹن لوتھر کنگ کی چند باتیں جو پاک ، بھارت سیاسی قیادتوں کے کام آ سکتی ہیں ٭ یہ کہنا کافی نہیں کہ ہمیں جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ امن سے پیار اور اس کے لیے قربانی بھی بہت ضروری ہے۔٭ ستارے صرف تاریکی میں نظر آتے ہیں۔ ٭ میں نے محبت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نفرت کا بوجھ اتنا زیادہ ہے کہ اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ٭ محبت ہی وہ طاقت ہے جو دشمنی کو دوستی میں بدل سکتی ہے۔ ۔۔۔

مزید پڑھیں

آل انڈیا مسلم لیگ کا27واں تاریخی اجلاس منٹو پارک (اقبال پارک) میں 22سے 24مارچ1940ء کو منعقد ہوا۔ پنڈال میں حاضرین و منتظمین کی تعداد 60 ہزار کے قریب تھی۔ حضرت قائداعظمؒ زندہ باد کے نعرے لگ رہے تھے۔حضرت قائداعظمؒ نے صدارت کی۔قرار دادِلاہورسابقہ مشرقی پاکستان کے مولوی اے کے فضل حق نے پیش کی اور چوہدری خلیق الزمان نے تائید کی اورمسلم لیگ کے زعمائوں نے تائید کی۔ دوسرے روز ہندوستان کے اخبارات نے قرارد ادِ کا نام پاکستان رکھ دیا۔ بلوچستان کے کم عمر ترین بیرسٹر قاضی عیسیٰ نے بھی اپنے لیڈر (قائداعظم محمد علی جناحؒؒ)کی تائید کی۔

مزید پڑھیں

روشنی کی اِک کرن کوئی مرے گھر پھینک دے

اِک زمانہ ہو گیا شمس و قمر دیکھے ہوئے

ختم کرو دھمکیوں ، الزامات ،

 

مزید پڑھیں