☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور کیرئر پلاننگ سنڈے سپیشل فیشن کھیل کچن کی دنیا شوبز خواتین دنیا کی رائے روحانی مسائل طنزومزاح ادب
ہڑتالیں ، مہنگائی ۔۔اور امید کی کرنیں!

ہڑتالیں ، مہنگائی ۔۔اور امید کی کرنیں!

تحریر : صہیب مرغوب

07-07-2019

اگلے مالی سال کا بجٹ پٹرول بموں کے دھماکوں ، گیس بموں کے شعلوں اور مختلف طرح کے ٹیکسوں کے ساتھ نافذ ہو گیا ہے۔کئی قسم کی فیکٹریاں ہڑتال پر جا چکی ہیں اور کچھ ہڑتال پر جانے کیلئے پر تول رہی ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر سب سے زیادہ پریشانی کا شکارہے۔ فیصل آباد اور ملتان میں ٹیکسٹائل کے کئی شعبے اپنی ملوں کو مکمل طور پر بند کر چکے ہیں۔

دوسرے نمبر پر ٹرانسپورٹ سیکٹر دھواں دے رہا ہے۔ اپنے کرایوں میں اضافہ کے بعد مزید اضافہ ممکن ہے۔ کاروں کی قیمتوں میں 40سے 50فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ 20سے 30فیصد تک اضافہ چند ماہ پہلے بھی ہو چکا تھا۔ اب نان اے سی کار رجسٹریشن فیس میںفی سیٹ میں اضافے اوردیگر اخراجات کے بعد 14لاکھ میں پڑے گی۔

قبل ازیں نان اے سی سستی گاڑی 30ہزار روپے میں رجسٹرڈ ہو جاتی تھی مگر اب اس کی رجسٹریشن پر فی سیٹ پیسے دینا پڑیں گے ۔ کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو چکی ہیں۔دودھ دہی سے لے کر آٹے اور روٹی کی قیمت پر بھی فرق پڑا ہے۔حکومت نے کوئی ٹیکس نہیں لگایا مگر مختلف کمپنیوں اوراداروں نے اپنی پیداوار کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔کوئی ایک چیز ایسی نہیںجس کی قیمت مارکیٹ میں مستحکم ہو۔

حکومت نے فائلر اور نان فائلر کا فرق ختم کر دیا ہے مگر لگتا یوں ہے کہ فائلرز کو بھی نان فائلرز کوسمجھتے ہوئے دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جارہا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ نان فائلر کو انصاف کے کٹہرے میں لاتے۔ اس سے ٹیکس وصول کرتے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں میں کمی کرتے۔ مگر بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لگنے کے باوجود ایسا کچھ ہو گیا ہے جس سے سبھی پریشان ہیں۔ ملک میں سابق اور موجودہ حکومت نے شاپر سیکٹر کے بہت سے ٹیکس دہندگان کو وی آئی پی کیٹگری میں رکھا ۔

شاپر انڈسٹری کے ایک مالک کو سابق دور میں پانچویں نمبر پر ملک کا سب سے بڑا ٹیکس دہندہ قرار دیا گیا ۔ اسلام آباد میں اسے سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خزانہ نے خصوصی ایوارڈ سے نوازا۔ اس انڈسٹری نے ملک کی بڑی بڑی انڈسٹری کو مات دی ۔ ملک کے نامور سیٹھ ٹیکس دینے میں اس ایک مالک سے بہت پیچھے تھے۔ مگر رواں دور میں کساد بازاری کے بعد شاپر انڈسٹری کا وہ مالک اب 65ویں پوزیشن پر آگیا۔ اور اب شاید صفر پر چلا جائے۔اپٹما اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی طرح شاپر انڈسٹری بھی اپنے آپ کو کڑکی میں محسوس کر رہی ہے آواز کمزور ہے ابھر نہیں رہی۔

مگر یہ فیکٹریاں لاکھوں افراد کے روزگار کا وسیلہ ہیں۔ آٹو میشن کے بعد آٹو انڈسٹری ، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور انرجی سیکٹر میں ملازمتیں توقع کے مطابق پیدا نہیں ہو سکیں۔ لیکن بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو چھوٹی انڈسٹریز نے سنبھالا۔ شاپر انڈسٹری کی طرح پاور لومز سیکٹر بھی اپنے آپ کو کڑکی میں محسوس کر رہا ہے ۔ کئی دوسرے شعبے بھی جکڑے ہوئے ہیں۔

ابھی حال ہی میں ایک فیکٹری مالک نے بچوں کے ڈائپر بنانے کا کارخانہ لگایا ابھی کارخانہ لگانے کے مرحلے میں ہی تھا کہ ڈالر کی قیمت چڑھنے سے 80لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑ گیا ۔ قیمت کم ہونے کیلئے چند روز کا انتظار کیا مگر ڈالر نے ایک اور جست لگائی اور اس جست سے اسے مزید 20لاکھ روپے کا جھٹکا لگ گیا۔ قرضہ پکڑ کر فیکٹری کا کام مکمل کیا مگر اب فیکٹری چلانے کیلئے رواں اخراجات کا خزانہ خالی ہے۔ یہ حال کسی ایک کا نہیں سب کا ہے۔ ہم سب برابر ہیں، یہ ہمیں بجٹ سے پتہ چلا ۔

آئے روز بدلتی ہوئی قیمتوں ، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی گرتی ہوئی ساکھ اور بند ہوتی ہوئی فیکٹریو ں پر ہم آج بات نہیں کریں گے۔ ہو سکتا ہے ان سطور کے منظر عام پر آنے تک حالات ٹھیک ہو جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مزید بگڑ جائیں۔ موجودہ حکمرانوں نے منتخب ہونے کے باوجود کچھ غیر منتخب انداز میں کام کیا۔ مجھے یاد ہے کہ ہر سابق دور میں مختلف سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہت سارے اجلاس منعقد کیے جاتے تھے۔ ہر شعبے سے تجاویز مانگی جاتی تھی مگر اس سال اسی شعبے سے کچھ نہیں پوچھا گیا ۔موجودہ حکومت کو وسیع تر عوامی حمایت حاصل ہے۔ عوام نے اسے اپنے حق میں فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس اختیار کی بدولت حکومت کچھ بھی اچھا کر سکتی ہے۔

یقینی طور پر سب کچھ دیر پا اور ٹھوس بنیادوں پر کیاجارہاہے۔ ہمیں حکومت کی نیت پر شک کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ لیکن اگر مذاکرات کا ایک دروازہ کھول دیا جاتا تو اچھا تھا۔ لوگوں کوبتا دیا جاتا کہ اگر آج ایک کڑی گولی نہیں کھائیں گے تو کل پیٹ میں انجکشن لگے گا ۔ کیونکہ ہماری معیشت کی حالت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کسی پاگل کتے نے کاٹ رکھا ہو جس کا علاج 6انچ کے ٹیکے کے سوا کچھ نہیں۔ کرپٹ لوگوں نے 70برس تک اس ملک کو بری طرح نچوڑا ہے۔ 20،30سال قبل بد عنوانی کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت کم ہوا کرتا تھا۔

لوگ پردے میں رہ کر رشوت مانگتے تھے۔ اب ان کے نزدیک رشوت’’ محنتانہ ‘‘ہے۔ یہ اس محنت کا صلہ ہے جو وہ کسی کے لیے کرتے ہیں۔ چنانچہ اب بے دھڑک رشوت مانگی جاتی ہے موجودہ حکومت اس ناسور کو گرفت میں لینے میں پورے طور پر کامیاب نہیں ہوسکی۔ ریکوری اب بھی بحران کا شکار ہے۔ کئی کرپٹ لوگوں پر مضبوط ہاتھ ڈالا جا چکا ہے۔

مگر ان سے وصولیاں نہ ہونے کے برابر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بہت اچھا فیصلہ کیا ہے وہ فیصلہ ہے جیلوں میں وی آئی پی کلاس ختم کر دی۔ مجرم تو مجرم ہو تا ہے وی آئی پی نہیں ہوتا۔یہاں کروڑوں روپے ٹیکس دینے والا وی آئی پی نہیں مگر اربوں روپے چوری کرنے والا جیلوں اور حوالاتوں میں وی آئی پی بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اچھے خوشگوار ماحول میں مینیو پیش کر تا ہے مرضی کا کھانا کھاتا ہے مرضی سے جاگنگ کرتا اور جب جی چاہتا ہے بیمار بن کر دو چار دن ہسپتال میں گزار لیتا ہے۔

میں ایک ایسے وی آئی پی کو جانتا ہوں جسے ایک بڑے سکینڈل میں جیل ہو گئی۔ اتفاق سے وہ بھی ہسپتال میں تھا اور میرا ایک جاننے والا بھی۔ ’’ویٹر‘‘ کوئی انجان تھا ،وہ ہاتھ سے لکھا ہوا مینیو میرے دوست کو دے کر چلا گیا۔ اصل ’’مہمان‘‘ اس وقت جاگنگ اور واکنگ پر تھے !اس نے مچھلی اور دوسری اشیاء آرڈر کیں، جب آئیں تو مزے سے کھائیں ۔کچھ ہی دیر بعد اس کیس کے دوسرے مجرم تشریف لائے تب پتہ چلا کہ میرا دوست اس کا کھانا منگوا کر کھا چکا ہے۔جب جیلوں میںیہ حال ہو تو کس کا جی پیسے واپس کرنے کو چاہے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ وی آئی پی ماحول جلدی ختم ہو ۔44ڈگری سینٹی گریڈ میں بند اربوں روپے لوٹنے والے پسینے میں شرابور ہونے کے بعد ہی پیسے واپس کریں گے۔

زیر نظر مضمون میں ہم تھوڑا سا جائزہ ان پالیسیوں اور پلاننگ کا لینا چاہیں گے جو اس بجٹ میں حکومت نے سوچ رکھی ہیں۔ میری خواہش ہے کہ عوام بھی ان پر نظر رکھیں تاکہ بیورو کریسی ان کے ساتھ کوئی ہاتھ نہ کر پائے۔ سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سی بھرتیاں وفاقی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے ہوں گی۔ پچھلے مالی سال میں گریڈ 16سے 22تک کے15سو عہدے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے پر کیے گئے تھے۔ نوجوان کمر کس لیں، کتابوں سے دل لگا لیں ، رواں مالی سال میں پبلک سروس کمیشن 16سو نشستوں پر امتحان لینے والا ہے۔ یہی نہیں، پبلک سروس کمیشن امتحانی قواعدو ضوابط میں مثبت تبدیلیوں کا خواہاں ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ماضی میں پبلک سروس کمیشن پر جو انگلیاں اٹھتی رہی ہیں وہ مستقبل میں شاید نہ اٹھ سکیں۔

یہاں ہم آپ کو یہ بتانا بھی ضروری خیال کر تے ہیں کہ ا سٹیبلشمنٹ ڈویژن کیلئے ایک ارب 23کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ، اس سے سیکرٹریٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سٹاف ویلفیئر آرگنائزیشن ،ہیومن ریسورس پالیسی پروگرام سیل ،اختر حمید خان سنٹر اور پاکستان اکیڈیمی برائے دیہی ترقی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکے گا۔ حکومت ڈی ایم جی اور پی ایس پی کی ’’روٹیشن پالیسی‘‘ میں تبدیلی کا جائزہ لے رہی ہے، اس سے ملک بھر میں ہزاروں ڈی ایم جی اور پی ایس پی افسران متاثر ہوسکتے ہیں۔

حکومت بین الصوبائی ٹرانسفر پالیسی اور سینئر افسروں کی جانب سے جونیئر کی ترقی روکنے کے اختیارات پربھی غور فرما رہی ہے۔ فی الحال لازمی تربیت کے دوکورسز مس کرنے والے کی ترقی چھیننے کا ضابطہ موجود ہے، اس پر نظرثانی ہو رہی ہے۔گریڈ 21اور 22میں خالصتاً پیشہ ورانہ بنیاد پر ترقی دینے اور سیکرٹریٹ گروپ میں براہ راست گریڈ 20پر بھرتی کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے یعنی جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر کسی اہل فرد کو براہ راست بھرتی کیا جاسکتا ہے یا نہیں، اس پر کام ہو رہا ہے۔ خواتین افسران اور شوہر کی ایک ہی جگہ پر تعیناتی ہمیشہ سے مسئلہ رہی ہے۔ اب حکومت اس کی تعیناتی کے طریقہ کار پر غور کر رہی ہے اور مستقبل میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے اسی طرح غیر شادی شدہ خواتین کو ان کے والدین کے گھروں کے نزدیک تعینات کیا جائے گا ۔خواتین کیلئے 10فیصد کوٹہ پر عملدرآمد ہیں کیا جا رہا۔ مختلف محکموں کے پاس اپنے اپنے جواز موجود ہیں اب اسے یقینی بنانے پر بھی کام ہو رہا ہے۔ 2005ء

میں اکتوبر میں خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں آنے والے بدترین زلزلے میں 78ہزار افراد کی جانیں گئیں، ہزاروں مکانات تباہ اور مزید لاکھوں لوگ بے گھ ہوئے۔ تقریباً تمام منصوبوں میں ناکامی کے باعث اب تک انفراسٹرکچر کو مکمل نہیں کروایا جاسکا۔ آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے عوام کو نظر رکھنی چاہیے موجود ہ حکومت زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے ٹرانسپورٹ ، بجلی کی پیداوار، ٹیلی کمیونیکیشن ، سیرو سیاحت، گورننس اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں 3ارب روپے خرچ کرے گی۔

اس سے وہاں مزید بجلی پیدا ہو گی، مواصلاتی نظام بہتر ہوگا ، جن علاقوں میں موبائل ٹیلی فون ڈیڈہوجاتے ہیں ان علاقوں میں بھی مواصلاتی خدمات مہیا کی جائیں گی۔ لیکن اصل کام بحالی کا ہے۔ عوام کو ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ یاد رہے، پرانے بالا کوٹ شہر کی بحالی کا منصوبہ روایتی سستی کے باعث مسلسل مہنگا ہوتا رہا ہے۔یہ منصوبہ پیپلز پارٹی دور میں بنا ، نواز شریف دور میں بھی وہ مکمل نہ ہو سکا،

سماجی تحفظ ممکن نہ ہو سکا مگر اب ان تمام شعبوں میں حکومت کچھ کر گزرنا چاہتی ہے۔ تو عوام بھی اس کی مدد کریں اورافسران کی کارکردگی پر نگاہ رکھیں۔ کیونکہ سماجی تحفظ اور معیار زندگی کوبہتربنانے کیلئے 6بڑے منصوبے اورصحت عامہ اور تعلیم کی تقریباً 2سو سکیمیں مکمل ہوں گی ۔ سوشل آڈٹ کے ذریعے ان سکیموں کے معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

رواں مالی سال میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو تقریباً 34ارب روپے ملیں گے۔ دنیا ایٹمی توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ عرب ممالک نے بھی اس شعبے میں درجنوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ ہی نہیں کیا بلکہ عملدرآمد بھی کیا جارہا ہے۔ نیو کلیئر سائنس کو کئی عرب ممالک میں خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان بھی اس شعبے پر اپنی توجہ مرکوز کر رہا ہے ۔ اٹامک انرجی کمیشن نے کینسر اور بعض دوسرے موذی امراض کے علاج کیلئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ 18ہسپتالوں میں سرطان کا علاج ہو رہاہے۔

رواں برس میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 710افراد کو پی ایچ ڈی ، ایم فل، ایم ایس اور ایم ایس ای کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔136 طلبہ و طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ مہیا کیے جائیں گے جبکہ 85ریسرچ پراجیکٹ شروع کیے جائیں گے۔ رواں برس میں 11لاکھ مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں ایٹمی بجلی گھروں کی تعداد 5ہو چکی ہے ہم 1430میگا واٹ بجلی اسی کمیشن کے زیر سایہ تیار کر رہے ہیں۔ اگلے مالی سال میں یعنی 2020-21 تک ایٹمی بجلی گھر کی پیداوار 2430میگا واٹ اور 2021-22تک 3530میگا واٹ کر دی جائے گی یعنی اگلے تین مالی سالوں میں ایٹمی بجلی کی پیداوار میں 21سو میگا واٹ کا اضافہ ہوگا۔

اب غذائی بحران کے خاتمے کا کام بھی اسی ادارے کو سونپ دیا گیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی تیاری کا فریضہ بھی پاکستان اٹامک انرجی کمیشن سرانجام دے گا وہ ایسی ورائٹی بھی بنانے پر کام کر رہا ہے جو ہمارے ماحول کے مطابق زیادہ سے زیادہ پیداوار دے سکیں۔ اس ضمن میں کم از کم 5نئی ورائٹیاں بنائی جائیں گی جبکہ گزشتہ مالی سال میں 8نئی ورائٹیاں اسی ادارے کی تیار کردہ تھیں اور سوا لاکھ ہیکٹر رقبے کو کیڑوں سے محفوظ رکھا تھا۔ رواں برس بھی یہ کوشش قائم رکھی جائے گی۔

سپارکو پاکستان کا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے۔ سیٹلائٹ لانچ کرنا اسی کے فرائض میں شامل ہے۔ یہ وہ ا دارہ ہے جس کے سیٹلائٹ کے بارے میں مذاقاََکہا گیا تھا کہ بعض سیاستدانوں کو خلا ء میں بھیج دیا جائے گا۔ سیاستدانوں کو خلا میں بھیجنے کیلئے سپارکو کا سیٹلائٹ ہی استعمال ہوسکتا ہے!اس پراجیکٹ میں ہم بہت پیچھے تھے۔ مگر رواں مالی سال میں چین کی مدد سے ’’پاکستان سپیس سنٹر ‘‘کے قیام پر تیزی عملدرآمد جاری ہے۔

جبکہ پاک سیٹ ایم ایم ٹو ،سیٹلائٹ سسٹم ٹو ، پر بھی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ جبکہ گلگت میں بھی خلائی تحقیق کا ایک بڑے مرکز کی تعمیر 70فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ سپارکو کیلئے رواں مالی سال کے بجٹ میں 6ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ کم ہیں۔ لیکن پھر بھی ان 6ارب روپوں کی مدد سے سپارکو خلائی مشن مکمل کرنے کا فریضہ سرانجام دے گی اور رواں برس میں ان کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو کر دی جائے گی۔ کمیونیکیشن سیٹلائٹ کے منصوبے پر بھی کام مکمل ہو گا۔ اس سے ہمارے ہاں مواصلاتی نظام بہتر بنانے میں مدد ملے گی جبکہ ٹیلی مواصلات کے شعبے میں اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

انکم سپورٹ پروگرام کیلئے سروے میں پاکستان کے 87فیصد حصے کا جائزہ لیا گیا تھا۔ صرف 13فیصد آبادی سروے سے باہر تھی۔ رواں مالی سال میں 65لاکھ افراد کو امدادی رقوم مہیا کی جائیںگی۔ جبکہ مزید 36لاکھ 30ہزار بچوں کو وسیلہ حق پروگرام کے تحت زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔ اس میں عوام کا کام یہ دیکھنا ہے کہ حکومت کی نیت اور منشا تو ٹھیک ہے لیکن بیورو کریسی ٹھیک کام کر رہی ہے یا نہیں۔

یوں تو انکم سپورٹ پروگرام میں کوئی بڑے گھپلے سامنے نہیں آئے ہرسال میں چند کروڑ سے زیادہ کی گھپلوں کی نشاندہی نہیں ہوئی لیکن پھر بھی نظر رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح غربت کے خاتمے اور سوشل سیفٹی کیلئے تقریباً ڈھائی ارب روپے خرچ ہوں گے۔ جبکہ احساس پروگرام پر خرچ ہونے والے فنڈ ز اس کے علاوہ ہیں۔ ان ڈھائی ارب روپے سے پاکستان میں امیر اور غریب کے فرق کو کم کیا جائے گا۔ میرے خیال میں امیر اور غریب میں فرق ڈھائی ارب روپے کا نہیں بلکہ ڈھائی ہزار ارب روپے سے بھی زیادہ کا ہے۔ یہ ڈھائی ارب روپے تو اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔ لیکن بہر حال ہیں تو، لہٰذا ان اخراجات کو بھی بہتر سے بہتر انداز میں خرچ کر کے امیر اور غریب میں فرق کو کسی نہ کسی حد تک ضرور کم کیا جاسکتا ہے۔

اب ہم آتے ہیں ایک انتہائی اہم شعبے کی جانب۔ یہ شعبہ امیر اور غریب کے فرق کو کم کرنے میں نمایاں کردارا دا کر سکتا ہے۔ یہ ہے کامرس ڈویژن ، کامرس ڈویژن رواں مالی سال میں تقریباً 16ارب روپے خرچ کرے گا۔ اس سے ملحقہ ڈیپارٹمنٹس اور خود مختار کارپوریشنوں وغیرہ کی تعداد 15ہے جن میں پاکستان تمباکو بورڈ ، سٹیٹ لائٹ انشورنس کارپوریشن، ٹریڈنگ کارپوریشن، نیشنل انشورنس کارپوریشن، پاکستان ہارٹی کلچر ، پاکستان ایکسپورٹ کمپنی، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشن، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ٹریڈ آف کمرشل آفسز بھی شامل ہیں۔ وزارت کامرس ہر تین سال بعد تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر’’ سٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی ‘‘ترتیب دیتی ہے۔

اسے عرف عام میں ’’ایس ٹی پی ایف ‘‘کہاجاتا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد نئی منڈیوں کی تلاش اور نئی مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔ نیا پانچ سالہ ’’سٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک ‘‘رواں سال میں ہی جاری ہوگا۔ نیشنل ٹیرف پالیسی بھی اسی سال بنے گی۔ کامرس ڈویژن کو ہلکی انجینئرنگ کی مصنوعات کی برآمدات میں 10فیصد اضافے کا فریضہ سونپا گیا ہے جس پر عملدرآمد کیلئے یہ اداراہ افریقہ ، دولت مشترکہ ، لاطینی امریکہ ، چین ، یورپی ممالک ، آسٹریلیا ، افغانستان اور ایران میں نئی منڈیا ں تلاش کرے گا۔

جبکہ روایتی مصنوعات کے فروغ کیلئے بھی نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔ ان میں سپورٹس ، چمڑے ، سرجیکل آلات ، گوشت، پھل اور فرنیچر وغیرہ کی مصنوعات شامل ہیں۔ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی سے متعلقہ 18کیسز لڑے گا۔ گوشت اور گوشت کی مصنوعات کی مانگ میں بھی کم از کم 23کروڑ ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا۔ ماضی میں کامرس ڈویژن اسی قسم کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا اب دیکھتے ہیں کہ مالی بحران کے خاتمے کیلئے کامرس ڈویژن کی پٹاری میں کیا ہے۔ بہتر حکمت عملی اور گڈ گورننس کے ذریعے ہی ایسا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

ٹیکسٹائل پالیسی کااجراء 2014ء میں کیا گیا تھا۔ اس 5سالہ پالیسی کی معیاد رواں مالی سال میں ختم ہو رہی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بجلی کے ضیاع کو روکنا اور برآمدات کوبڑھانا تھا۔ اس سلسلے میںسابق حکومت نے 2009-10 میں پونے دس ارب روپے ،2010-11 میں 75ارب روپے ،2011-12 میں 6ارب روپے، 2012-13میں 2ارب روپے اور2013-14 میں ساڑھے تین ارب روپے رکھے۔2015ء میں صرف5ارب روپے خرچ کیے گئے۔ بعد کے برسوں میں بھی اسے نظرانداز کیا گیا۔فیصل آباد ، لاہور اور کراچی میں گارمنٹس سٹی قائم کرنے کے منصوبے ثمر آور ثابت نہ ہو سکے۔

اسی طرح پاک کوریا گارمنٹس انسٹی ٹیوٹ پربھی کام مکمل نہ ہوسکا۔ اب رواں مالی سال میں بھی کچھ اسی قسم کے اہداف طے کیے گئے۔ حکومت ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں تقریباً ڈیڑھ فیصد کا اضافہ کرناچاہتی ہے لیکن ماضی میں یہ نہیں ہوسکا۔اس وقت ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنے 20ارب روپے کی برآمدات پر تقریباً 6ارب روپے کا ٹیکس دے رہی ہے۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اسی سلسلے میں ٹیکسٹائل مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کیا ہے۔ اضافہ بظاہر درست لگتاہے لیکن ٹیکسٹائل انڈسٹری اسے ماننے کو تیار نہیں۔ پاکستان کے بڑے ٹیکس پیئرز میں اس انڈسٹری کے مختلف لوگوں کی تعداد انڈسٹری کے ٹرن آور ، برآمدات اور درآمدات کے مطابق نہیں۔ لہٰذا ٹیکس میں اضافے کے بعد بالکل بجا اور درست ہے۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس انڈسٹری کوبیرون ملک بھارت اور بنگلہ دیش کی مصنوعات سے مقابلہ کا سامنا ہے۔ چین بھی پر کشش قیمتوں پر اپنی مصنوعات فروخت کر رہا ہے۔ ان حالات میں غیر ملکیوں کی صورتحال دیکھتے ہوئے ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے اجلاس میں کشمیر میں بہتے ہوئے خون کو مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہوسکی۔ جنرل کونسل میں ظالم و جابر بھارت ...

مزید پڑھیں

’’کشمیریت اب مر چکی ہے،اس سے جڑی ہوئی ہر چیز اب مردہ ہو چکی ہے، کسی میں کوئی رمق باقی نہیں رہی۔کشمیریت پہلے ہی کئی عشروں سے زندگی او ...

مزید پڑھیں

آج یکم ستمبر 2019ء ہے ۔1965ء کی صورتحال سوچی سمجھی عالمی سازش تھی۔ جنگ کی کھچڑی 1964ء میں پکنا شروع ہوئی تھی۔ جب بھارت کی انتہا پسندانہ سوچ دو ...

مزید پڑھیں