☰  
× صفحۂ اول (current) فیشن کیرئر پلاننگ دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل عالمی امور دین و دنیا کچن کی دنیا روحانی مسائل ادب کھیل رپورٹ خواتین
توجہ سے محروم سماجی شعبہ 16سو ارب روپے سے قوم کی حالت نہ بدلی تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا

توجہ سے محروم سماجی شعبہ 16سو ارب روپے سے قوم کی حالت نہ بدلی تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا

تحریر : صہیب مرغوب

07-14-2019

موجودہ حکومت کا پہلا جامع بجٹ قومی اور سینیٹ سے شرف قبولیت حاصل کر نے کے بعد نافذ ہو چکا ہے۔ بجٹ پر بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہر کسی کا اپنا نقطہ نظر ہے ،اور ہر کوئی سچائی کا علم اٹھائے ہوئے ہے۔’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘کا نعرہ نیا نہیں، بہت پرانا ہے۔ 1970ء کے عام انتخابات ’’ون مین ون ووٹ‘‘ کی بنیاد پر ہوئے تھے۔

’’روٹی، کپڑا اور مکان ‘‘سب سے اہم نعرہ تھا۔ اس پر کشش نعرے نے ہر دل میں گھر کر لیا ۔ مکان کسے پسندنہیں ،خوراک اور تن ڈھانپنا ہر کسی کی بنیادی ضرورت ہے۔ سماجی ضروریات کی فراہمی 1970ء سے ہمارے ووٹوں کامرکز رہی ہے۔1977ء تک برسر اقتدار رہنے والی بھٹو حکومت نے قوم کو کیا دیا، اور 1980ء کی دہائی میں شروع ہونے والی نواز۔ بینظیر محاذ آرائی سے عوامی خوشحالی کو کتنے چاند (یا چاندگرہن) لگے ، اس کا جائزہ بھی لیں گے۔’’ میثاق جمہوریت‘‘ ( بقول حکومتی وزراء ’’میثاق ڈکیتی‘‘) بھی ہوا ۔ لیکن بار بار ووٹر ہی نظر انداز ہوا۔ فلور کراسنگ ، ہارس ٹریڈنگ ، واک آئوٹ ، بائیکاٹ، یہ سب ہماری سیاست کامحورو زو رہے۔

زیر نظر مضمون میں ہم قومی سماجی اشاریوں کا جائزہ لیں گے ،یہ دیکھیں گے کہ قوم کس حالت کیا ہے، کس شعبے کو کتنے فنڈز درکار تھے اور ملے کتنے۔

ملک میں فوڈ سکیورٹی کی حالت اچھی نہیں۔ فوڈ کی فراہمی ’’سکیور‘‘ہے یعنی غذائی اجناس موجود ہیں ۔ دکانیں اجناس سے بھری پڑی ہیں ، مارکیٹوں اور دکانوں میں 40فیصد سبزیاں اور پھل ضائع ہو رہے ہیں اور وفاقی حکومت میں فوڈ سکیورٹی کیلئے 32ارب روپے رکھے ہیں۔ یہ رواں مالی سال سے 11ارب روپے زیادہ ہیں۔ وفاقی حکومت کے زیادہ تر پروگرام واٹر مینجمنٹ ، پبلک پالیسی مینجمنٹ، لائف سٹاک اور آئل سیڈ کی ترقی ، گندم کے ریزرو سٹاک سبسڈیز کیلئے رکھے گئے ہیں۔ رواں سال میں حکومت غذائی اجناس میں تقریباً ساڑھے دس ارب روپے کی سبسڈی دے گی اس کے خدو خال ابھی واضح نہیں ہیں۔

غذائی ذخائر پر مزید 5ارب روپے خرچ ہوں گے۔ یہ فنڈز پاسکو وغیرہ کی نظر ہوں گے۔ آئل سیڈ ، لائف سٹاک اور ماہی گیری کے شعبے کو 1.9ارب اور زرعی تحقیق کے شعبے کو 5.8ارب روپے ملیں گے۔ لیکن یہ تمام فنڈز کہاں خرچ ہوں گے، اس میں سے تقریباً پونے چار ارب روپے تنخواہوں کی ادائیگی، چار ارب روپے آپریٹنگ اور سول ورکس پر خرچ ہوں گے۔ تحقیق اور نئے بیجوں کی تیاری پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوگا۔ حکومت کی توجہ مویشیوں کو صحت مندی کے سرٹیفکیٹ کے اجراء پر مرکوز ہو گی۔ سیڈ کمپنیوں کو بھی سرٹیفکیٹ کا اجراء ہوگا۔ ان حالات میں مجھے یہ 32ارب روپے خاطر خواہ نتائج ظاہر کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ 18ویں ترمیم میں یہ ’’ہڈی‘‘ صوبوں کو منتقل ہو چکی ۔ مگر صوبوں نے اس ریڑھ کی ہڈی کا ذرا خیال نہیں کیا۔زبوں حالی کا شکار زرعی شعبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ کا منتظر ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ 2014-15ء کے مالی سال میں بڑی فصلوں کی فی ہیکٹر پیداوار 802کلو گرام تھی جو نواز حکومت کے خاتمے تک 707کلو گرام رہ گئی۔ ایک سو کلو گرام فی ہیکٹر کمی زرعی ملک میں افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک بھی ہے۔ اسی عرصے میں گندم ، چاول ،باجرہ ، جوار ، گنا اور کپاس کی پیداوار بحران سے دو چار رہی۔ 2014-15ء میں کپاس کی تقریباً 1.40 گھانٹیں پیداہوئیں۔

مگر نواز حکومت کے خاتمے تک ان میں تقریباً کئی لاکھ گانٹھ کی کمی ہوئی۔ البتہ چاول کی پیداوار 7لاکھ ٹن سے بڑھ کر 7.20 لاکھ ٹن ہو گئی۔ شوگر مافیا ملک پر چھایا ہوا ہے۔ لہٰذا گنے کی پیداوار میں مذکورہ پانچ سالوں میں تقریباً 4لاکھ ٹن کا اضافہ ہوا۔ ہم گندم میں خودکفالت کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ کپاس کے زیر کاشت رقبہ 2014-15ء میں 92لاکھ ہیکٹر سے کم ہو کرپچھلے مالی سال 87.4 لاکھ ہیکٹر رہ گیا۔ چاول کے زیر کاشت رقبے میں بھی کمی آئی، یہ 28.9لاکھ ہیکٹر سے کم ہو کر 28.1لاکھ ہیکٹر رہ گیا۔ ہماری کیش کراپ کپاس کے زیر کاشت رقبہ بری طرح متاثر ہوا۔ گندم کے کاشتکاروں کی طرح کپاس کے کاشتکار بھی ماضی میں سرکاری پالیسیوں سے بڑی حد تک نالاںرہے۔

یہ رقبہ 29.61 لاکھ ہیکٹر سے کم ہو کر23.73لاکھ ہیکٹر رہ گیا۔گنا ،چنے، مکئی ، جوار ، باجرہ اور دوسری چھوٹی بڑی فصلوں کے زیر کاشت رقبے میں غیر معمولی ردو بدل نہیں ہوا، البتہ مجموعی طور پر زیر کاشت رقبے میں نمایاں کمی آئی۔ البتہ لایئو سٹاک 40فیصد سے زائد زرعی خاندانوں کے پاس ہے۔ ہماری حکومت شاید نہیں جانتی کہ 2014-15ء میں ہمارا کاشت کار 598 ارب روپے کا مقروض تھا۔بال بال قرضوں میں جکڑا ہوا تھا۔ساہوکاروں اور جاگیر داروں کے قرضے اندرون سندھ میں سماجی تبدیلیوں کا باعث بن رہے ہیں۔

نواز دور میں زرعی قرضوں کے حجم میں 2سو ارب روپے کا اضافہ ہوا ،آج کل ڈیم بنانے کے چرچے ہر زبان پر ہیں مگر سابقہ دور میںپانی کی سپلائی 138.5 ایم ایف سے کم ہو کر 127ایم اے ایف رہ گئی ۔ کمی11ایم اے ایف تھی۔ ملک میں زرعی رقبوں کے مالکان کی تعداد ساڑھے پانچ فیصلہ کے نزدیک ہوگی۔ یہ مختلف صوبوں میں مختلف ہے ،یہ طبقہ ہمارا حکمران ہے۔ آبیانہ اس قدر کم ہے کہ اس سے محکمے کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔

بجٹ میں مینوفیکچرنگ اور مائننگ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ شعبے ماضی میں قابل ذکر ترقی نہ کر سکے۔ بڑی وجہ بجلی کی عدم دستیابی کے علاوہ خام مال کی گرانی اور ٹیکسز کی بھرمار تھی۔ صوبوں میں توانائی کی قیمتوں میں فرق نے بھی مینو فیکچرنگ کے شعبے کو مفلوج کرنے میں کردار ادا کیا ۔یہی وجہ ہے کہ کپاس کی چالو ملوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ مالی سال 2013-14 ء میں کپاس کی بڑی ملوں کی تعداد 538تھی۔ تقریباً 130ملیں بند ہو گئیں۔

پچھلے سال میں چالو ملوں کی تعداد 408نہ تھیں۔ یہی حال سپنر ملوں کی تنصیبی صلاحیتوں کا تھا۔ پاور لومز کی تنصیبی صلاحیت میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا۔ البتہ ورکنگ آور میں بھی کمی آئی۔ بعض اسپنڈرز کے ورکنگ آور 20فیصد تک کم ہو گئے۔ کپاس کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آئی۔ جہاں 2013-14 میں ملک میں 32لاکھ ٹن یان سر پلس تھا اور برآمدات کے قابل تھا وہاں یہ کم ہو کر 22لاکھ ٹن رہ گیا۔ اسی طرح کپڑے کی تیاری میں بھی کوئی اضافہ نہ ہو سکا۔ یوریا کھاد کی تیاری میں بھی تقریباً 5لاکھ ٹن کی کمی آئی۔ سپر فاسفیٹ امائینو نائیٹریٹ اور نائیٹروفاسفیٹ کھادوں و بھی بہت حد تک گر گئی۔

گھی ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اسی لیے اس کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ چینی کی پیداوار 2016-17ء میں عروج پر تھی اور پھر اس میں کمی ہونا شروع ہو گئی۔ البتہ سیمنٹ کی پیداوار پچھلے دو مالی سالوں میں کافی کم ہوئی۔ ہم کھانے پینے کے شوقین ہیں لہٰذا بیورویجز کی مقدار اور پیداوار میں کئی لاکھ میٹر کا اضافہ ہوا۔ حکومت نے صحت عامہ کو متاثر کرنے والے سگریٹ کے شعبے پر پہ در پے ٹیکس لگائے تو اس کی پیداوار 63ارب سگریٹوں سے گر کر تقریباً 40ارب پر آگئی۔ ٹائر اور ٹیوب انڈسٹری مستحکم رہی البتہ سائیکل انڈسٹری کی پیداوار میں کمی آئی۔ اس سے سماجی اشاریے بری طرح متاثر ہوئے ،پیداوار میںکمی کا لازمی نتیجہ غربت میں اضافے کی صرت میں نکلا۔

نئے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ وہ 1کروڑ مکان بنانے کے منصوبے پر جلد از جلد عملدرآمد کرے۔ مکانوں سے محروم افراد مالک مکان کے رحم و کرم پر ہیں۔ کہیں مالک مکان کرایہ داروں سے تنگ ہیں کرایہ دار اور مالک مکان دونوں ہی ایک دوسرے کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں۔ یقین کیجئے، ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہاں ایک ایک کمرے میں رہنے والوں کی تعداد 18سے 20تک بھی ہے۔

ایسے مکان کم ہیں جن کے مکین کمروں کے تناسب سے رہ رہے ہیں۔ زیادہ تر مکانات ایک یا دو کمروں پر مشتمل نظر آئیں گے ،ان کی ایک مناسب تعداد میں دو دوخاندان مقیم ہیں۔ یقین کیجئے ،دیہات میں 13فیصد اور شہروں میں30فیصد تک خاندان ایک ہی کمرے میں رہ رہے ہیں۔سنگل روم میں سونے و الے خاندانوں کی تعداد شہروں میں33سے 38فیصد تک ہے۔ ایک کمرے میں مجموعی طور پر4افراد سوتے ہیں۔دو کمروں کے مکانات میں مجموعی طور پر 37سے 41فیصد تک لوگ رہائش پذیر ہیں۔ باقی ماندہ تعداد 3سے 4کمرے استعمال کرتی ہے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ کسی حکومت نے ان کیلئے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔

ہم روز پڑھتے ہیں بارش کے موسم میں فلاں جگہ پر مکان گر گیا۔ ابھی پچھلے چندہفتوں میں کئی شہروں میں بوسیدہ اور کچے مکان گرنے کی خبریں آئیں۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ خاص طور پر دیہات میں رہائشی سہولتوں کی فراہمی کیلئے کوئی سلسلہ شروع کرے۔ ورنہ یہ مکانات کی کمی مستقبل میں بہت بھیانک صورتحال اختیار کرنے والی ہے۔ اس سے ناقابل بیان حد تک سنگین المیے جنم لے سکتے ہیں۔ کیونکہ 20فیصد گھروں میں پنجاب میں کھانا پکانے کے لیے کوئی الگ کمرہ یا کچن نہیں، آلودگی متعددامراض باعث بن رہی ہے۔گھروں میں چمنیوں کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے۔ پرانے مکانوں میں بھی اب خال خال چمنیاں دکھائی دیتی ہیں ۔

ہاں، بڑے گھروں میں یہ سجاوٹ کے لئے بھی بنائی جاتی ہیں ۔ ایک اندازیے کے مطابق 4فیصد سے بھی کم گھروں میں آب و ہوا کو صاف رکھنے کے لئے چمنیاں بنائی جاتی ہیں۔ جس سے نبٹنے کیلئے رہائشی تعمیراتی سہولتوں پر مہیا کیا جانا ضرور ی ہے بجٹ اہداف میں یہ چیز ہمیں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ شائد سیاست دونوں کے پاس بھی ان مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔

سندھ حکومت نے ان مسائل کا آسان سے حل تلاش کیا ہے۔ کہتے ہیں ’’آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل‘‘۔ اسی کے پیش نظر سندھ حکومت نے اپنی ویب سائٹ سے سماجی اشاریو ں پر مبنی تمام رپورٹیں غائب کر دی ہیں۔ ویب سائٹ پر محکموں کے نیچے مذکورہ مواد موجود تھا۔ اب وہاں خالی جگہ سماجی اشاریوں پر تحقیق کرنے والوں کا منہ چڑھا رہاہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے والوں کو اپنی ناک (ویب سائٹ کے نیچے ) ہی دیکھ لینا چاہیے۔

صحت اور تعلیم کے بغیر کوئی بجٹ مکمل نہیں ہوتا ۔ کسی بھی ہسپتال کا رخ کریں ،صحت عامہ کی سہولتوں کے فقدان کے باعث ڈاکٹر اور مریض آپس میں دست و گریباں نظر ٓئیں گے ۔ ابھی حال ہیں نور الحسن انتقال کر لیا ،بہت ارمانوں کے ساتھ وہ اپنے فیورٹ ڈاکٹر پاس علاج کے لیے آیا تھا ،پوری محبت کے ساتھ چیف آف آرمی سٹاف جنر ل قمر جاوید باجوہ نے انہیں ہیلی کاپٹر مہیا کیا ،لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ وہ لاہور میں زیادہ دن زندہ نہ رہ سکا۔ پنجاب میں ہیلتھ کارڈ رکھنے والوں کی تعداد 2017-18ء میں 0.2فیصد تھی۔ ابھی صحیح اعداد و شماری دستیاب نہیں لیکن کام جاری ہے۔

رفتار کو تیز ہوناچاہئے ورنہ سماجی المیے جنم لیں گے۔97.5فیصد آبادی کو کسی قسم کا کور حاصل نہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 0.6فیصداور نظام زکوٰۃ 0.3فیصد لوگوں کو صحت عامہ کی سہولتیں مہیا کر رہا ہے۔ پنسن اور ریٹائرمنٹ کے فواد 0.7فیصد آبادی کیلئے ہیں کچھ لوگ دیگر سہولتوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر نے بھی صحت عامہ کی سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں۔ جبکہ انشورنس کمپنیوں سے بھی کچھ لوگ صحت عامہ کے فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تعداد مجموعی تعداد کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

مذکورہ بالا تمام معاملات صوبائی حکومتوں کے دائرہ میں ہیں۔ جبکہ صوبائی حکومتیں صحت عامہ کے شعبے سے ’’ریٹائرمنٹ ‘‘لینے کے حق میں ہیں۔ پچھلے کئی برسو ں سے صوبائی حکومتوں کا یہی وطیرہ رہاہے کہ صحت عامہ کے شعبوں کو ریگولیٹ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ صحت عامہ کے دائرے کام کرنا ہرگز ان کی ذمہ داری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں دھکم پیل نہ ہو۔ نجی شعبے پر دبائو اس قدر زیادہ ہے کہ اسے سانس لینے وقت نہیں مل رہا۔ سرکاری شعبے میں بھی انتہائی تربیت یافتہ فیکلٹی کی کمی ہے۔

یہ کمی صحت عامہ کی تعلیم پر بری طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صوبائی حکومتوں کو بھی ریگویٹ کرنے کے لیے کوئی مضبوط ہاتھ ڈالے۔ ورنہ مسائل قابو سے باہر ہو جائیں گے۔ 24

ہزار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود ہم پاکستانیوں کو صحت مند زندگی مہیا نہیں کر پائے۔ یہاں انسان کی اوسط عمر میں 3برسوں میں نہ ہونے کے برابر اضافہ ہوا ہے۔ 2015ء میں پاکستانیوں کی اوسط عمر 66.3سال اور 2018ء میں 66.7برس تھی۔ دنیا میں آنے والے ہر بچے کو جینے کا حق حاصل ہے مگر تلخ حالات اسے زندہ رہنے کا موقع کب دیتے ہیں ۔ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 2015ء میں 65 فی ہزار تھی۔ ملک میں ایک ہزار میں سے 61بچے زچگی کے وقت یا اس کے فوراً بعد انتقال کر جاتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے 74بچے اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

مائوں کی ہری بھری گود کو ویران کر دیتے ہیں۔ کئی درجن ارب روپیہ خرچ کرنے کے باوجود نوزائیدہ اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔ آج بھی سندھ میں موسم گرما میں مرنے والے معصوموں کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ کوئی دین ایسا نہیں گزرتا جب کوئی معصوم اپنے خاندان کو الوداع کہتے وقت راہی ملک عدم نہ ہوا ہو۔ جبکہ مائوں کی شر ح اموات کم و بیش اسی جیسی ہے ہر ایک لاکھ میں سے 178مائیں زچگی کے وقت اپنے بچوں کو نہیں دیکھ پاتیں مگر آبادی میں پھر بھی 2فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہاہے۔ ایوب خان کے زمانے سے شروع ہونے والی پاپولیشن ویلفیئر کی سکیمیں بری طرح ناکام ہیں۔ کئی مرتبہ 1.8فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا مگر اسے حاصل نہ کیا جاسکا، ہمارے ہمسایہ ممالک میں آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصدسے 1.2فیصد تک ہے ، چین میں تو یہ 0.6فیصد ہے۔

تعلیم کی صورتحال بھی اس سے بہتر نہیں، انسانی ترقی میں ہم نے کبھی سرمایہ کار نہیں کی اسی لئے انسانی ترقی کے حوالے سے ہم 189ممالک میں 150 ویں نمبر پر ہیں۔ 2030ء تک ہم نے بچوں اور بچیوں کی شرح خواندگی 100فیصد کرنے کا عہد ہوا ہے۔ کئی پالیسیاں بنانے میں کروڑوں روپے خرچ ہوئے۔ لیکن اس شعبے میں ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ ہم سکولوں کی ضروریات کو بھی پورا نہ کر سکے۔

63فیصد سکولوں میں بجلی نہ تھی، اکثر بچے درختوں کے سائے میں زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے تھے، نباتات نے انہیں ’’چھت‘‘مہیا کی ،ان پر سایہ کیا۔کوئی حکومت تمام سکولوں کو بجلی مہیا کر سکی ۔67فیصد سکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولت دستیاب تھی۔ ہمیں 2030ء تک بھی ان سماجی اشاریوں میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آتی۔

اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں پری پرائمری طلبہ کی تعداد میں کئی لاکھ کا اضافہ ہوا لیکن یہ اضافہ مڈل اور ہائی سکولوں میں نظر نہیں آیا۔ یعنی کچی جماعتوں میں داخل ہونے والے ہائی سکول تک پہنچنے سے پہلے ہی خارج ہو گئے۔ 2015-16ء میں پری پرائمری سکولوں میں داخلو ں کی تعداد 9792ہزار تھی۔ جو گزشتہ مالی سال میں بڑھ کر 13063 ہوگئی۔ لیکن اسی عرصے میں ہائی سکول کی سطح پر طلبہ کی تعداد میں انتہائی معمولی اضافہ ہوا۔ یہ تعداد3652ہزار سے بڑھ کر 4103ہزار ہو گئی۔ کہاجاسکتا ہے کہ ہم نے طلبہ کی زیادہ تر تعداد کو ہم نے میٹرک سے نیچے ہی فارغ کر دیا۔ ڈگری کالجوں میں طلباء کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ مالی سال 2014-15ء میں ڈگری کالجو ں میں داخل ہونے والوں کی تعداد 1149 ہزار تھی جو 2018-19ء میں کم ہو کر 482ہزار رہ گئی۔

ڈگری کالجز میں انرولمنٹ میں 50فیصد کی کمی افسوسناک نہیں،بلکہ دہشت ناک ہے۔ البتہ اس عرصے میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کا رجحان بڑھا اور اس میں تقریباً 135ہزار کا اضافہ ہوا۔ ہم صنفی امتیازات کو دور کرنے میں بھی ناکام رہے ۔ پچھلے مالی سال میں بھی دیہات میں شرح خواندگی 53فیصد تھی۔ جبکہ اربن علاقوں میں 77فیصد بتائی جارہی ہے۔ ان میں بچیوں کی شرح خواندگی لڑکوں کے مقابلے میں 26فیصد تک کم ہے۔ دیہات کے 66فیصد لڑکے اور 41فیصد لڑکیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہیں۔ تاہم شہری علاقوں میں لڑکوں کا تناسب 82فیصد اور لڑکیوں کا تقریباً 71فیصد ہے۔ کئی درجن ارب روپیہ اس شعبے کی نذر کرنے کے باوجود ہم یہ منزل حاصل نہ کر سکے۔ مالی سال 2017-18ء میں تعلیم کے شعبے پر مجموعی طور پر 830ارب روپے خرچ ہوئے تھے جو جی ڈی پی کے 2.4فیصد کے برابر تھے۔ یہ سب کہاں گئے۔اب ہم دیکھتے ہیںکہ صحت عامہ کے شعبے میں کیا ہو رہا ہے۔

صحت عامہ کی خراب صورتحال کے باوجود وفاقی سطح پر نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشن و کوآرڈی نیشن کا بجٹ تقریباً نصف کر دیا گیا ہے۔ پچھلے مالی سال میں اس شعبے کو تقریباً 44ارب روپے ملے تھے۔ رواں مالی سال میں 24ارب روپے ملیں گے۔ جن میں سے ساڑھے چھ ارب روپے تنخواہوں وغیرہ کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ آپریٹنگ اخراجات کا تخمینہ ساڑھے آٹھ ار ب روپے اور سول ورکس کا 1.6ارب روپے لگایا گیا ہے۔ موجودہ حکومت نے آپریٹنگ اخراجات میں تقریباً 20ارب روپے کی کمی کی ہے۔سابقہ حکومت نے 29ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کیے تھے۔

یقینی طور پرسابقہ حکموت سے اجافی اخراجات کا حساب لینا چاہیے ۔اس شعبے میں 28ارب روپے کی بچت کی بدولت ہی قومی ہیلتھ سروسز کے محکمے کے بجٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ البتہ اہداف پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ ایک اور بات حیران کن ہے وہ پمز ہسپتال کے اخراجات اور اہداف ہیں بجٹ دستاویزات سے غائب ہیں۔ پچھلے برس پمز ہسپتال نے او پی ڈی میں تقریباً 15لاکھ افراد کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی تھی۔ جبکہ ریڈیالوجی، پتھالوی اور دیگر شعبوں سے فائدہ اٹھانے والے مریضوں کی تعدادتقریباً 52لاکھ تھی۔

پولی کلینک سے بھی 12لاکھ مریضوں نے فائدہ اٹھایا یہ اخراجات بھی میڈیم ٹرم پروگرام میں نظر نہیں آتے۔ نیشنل ہیلتھ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 20لاکھ 45ہزار کے قریب ہے جو اگلے سال 34لاکھ سے بھی زیادہ کر دی جائے گی۔ یہ پروگرام ملک کے 42اضلاع میں جاری کیا گیا ہے۔ اگلے برس اضلاع کی تعداد گھٹا کر 22کر دی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے ٹرشری ہیلتھ سروسز کے شعبے میں اہداف کا ذکر کرتے ہوئے پمز اور پولی کلینک کا ذکر کیا ہے۔ ان میں بستروں کی تعداد میں 103فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ نوکریاں کہاں پیدا ہوں گی۔ نوکریاں زراعت، سروسز اور صنعتی شعبے میں ہی پیدا ہو سکتی ہیں۔ فی الحال یہ تینوں شعبے مزید افراد کو کھپانے کی گنجائش نہیں رکھتے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بعض یونٹ مکمل طور پر بند ہیں۔ اس وفاقی وزارت کے تحت یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن ، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ، سٹیٹ انجینئرنگ کارپوریشن ، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس ، پاکستان مشین ٹول پالیسی، پاکستان انجینئرنگ کمپنی، پاکستان جیم اینڈ جیولری ڈویلپمنٹ، پاکستان مشین ٹول فیکٹری اور قومی پیداواری آرگنائزیشن قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام ہیں۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے خود حکومت نے بھی کوئی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کیں۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام کا ہدف1650ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جس میں وفا ق کا حصہ ساڑھے آٹھ سو اور صوبوں کا آٹھ سو ارب روپیہ ہے۔ جنرل پبلک سروسز پر بجٹ میں 5607ارب روپے خرچ ہوں گے جو سابقہ اخراجات کے مقابلے میں 77فیصد ہیں۔ اس 30فیصد بچت کو بھی ترقیاتی کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔ لیکن مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبے میں ترقی کے اہداف ملک میں پائے جانے والے سماجی مسائل سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ مسائل گھمبیر اور فنڈز قلیل ہیں۔ ان حالات میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آنے والے چند سال مزید مشکل ہوں گے، ٹیکس دینے کے اہل افراد نے اگر ہڑتالوں کاعمل جاری رکھا تو عوامی مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گی ۔ حکومت نے پہلے ہی مذاکرات کے دروازے کھول رکھے ہیں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی او وزیر ریونیو حماد اظہر ملک کے مختلف اہم اقتصادی شعبوں کے رہنمائوں سے مسلسل رابطے میں ہیں ہمیں بہتر ی کی امید ہے ۔

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عالمی ممالک نے دنیا کی چونکا دینے والی تصویر پیش کی ہے، کہتے ہیں کہ2050ء میں دنیا کی آبادی9ارب ہوجائے گی، ہمارا ہمسایہ بھارت 2050ء میں ایک ا ...

مزید پڑھیں

میڈیکل پروفیشن کا ریگولیٹر اپنی موجودہ شکل میں آخری سانسیں لے رہاہے، موجودہ پی ایم ڈی سی کا آخری اجلاس 29اگست کو ہوگا۔ پی ایم ڈی سی آرڈ ...

مزید پڑھیں

ابھی حال ہی میں لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلا اجازت دوسری شادی کرنے پر بیگم کی درخواست پراس کے شوہر رشید کو 11مہینے کے لئے جیل بھجوا دیا ...

مزید پڑھیں