☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل عالمی امور متفرق سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا طب کھیل رپورٹ کیرئر پلاننگ روحانی مسائل ادب
2030ء : لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی پر مکمل پابندی کا سال !

2030ء : لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی پر مکمل پابندی کا سال !

تحریر : صہیب مرغوب

07-21-2019

ابھی حال ہی میں لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلا اجازت دوسری شادی کرنے پر بیگم کی درخواست پراس کے شوہر رشید کو 11مہینے کے لئے جیل بھجوا دیا،مجرم کو ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہو گا۔ یہ اپنی نوعیت کاپہلا فیصلہ نہیںہے ۔نومبر 2017میں لاہور میں جج جواد علی نقوی نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر شوہر کو چھ ماہ قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

اس وقت عائشہ بی بی نے فیملی لاء مجریہ 2015کے تحت اپنے حق کے لئے اپنے شوہر شہزادثاقب کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔24جون 2019کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی قرار دیا تھا کہ اگر مرد کے پاس پہلی بیوی کا دوسری شادی کے لئے اجازت نامہ بھی ہو تب بھی ثالثی کونسل کی اجازت لازمی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے مسلم فیملی لاز مجریہ1961ء کے سیکشن 6 کے سب سیکشن (2)(3)اور (4) تحت ثالثی کونسل کااجازت نامہ بھی لازمی ہے۔اس کی عدم موجودگی کی صورت میں بھی دوسری شادی کرنے والے کو جیل ،جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔31 مارچ 2019ء کو رابعہ یونس نے بھی جوڈیشل مجسٹریٹ کنٹونمنٹ کورٹس کے روبر اپنے شوہر شعیب کے خلاف اپیل دائر کی ۔ اجازت کے بغیر دوسری شادی کر نے پر عدالت نے اسے فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے سیکشن چھ کے تحت تین مہینے قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ پاکستان کے عائلی قوانین میںمرد کی دوسری شادی کو پہلی بیوی کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا۔بلکہ ثالثی کونسل یا اس کی غیر موجودگی میں طریق کار کے مطابق سی آر پی سی کے تحت متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے اجازت لینا لازم ہے ۔

ہمارے ہاںکئی برادریوں میں شادی سے متعلق قوانین پر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ان میں لڑکی کو ’’بالغ ‘‘ ہوتے ہی بیاہ دیا جاتا ہے۔مجھے ملنے والے صاحب خود بھی 50کے پیٹے میں ہونے کے باوجوددادا جان بن چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ شادی کے موقع پر کسی بھی مشکل صورت میں ساری برادری ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے اور شادی والے گھر کو جس چیز کی بھی ضرورت ہوتی ہے، برادری اسے وہ مہیا کرتی ہے۔ مگر وقت آنے پر یہ سب کچھ انہیں لوٹانا پڑتا ہے‘‘۔ ان برادریوںمیں فی خاندان بچوں کی تعدا داگرچہ ہر علاقے میں مختلف ہے مگر اسی برادری کے ایک صاحب کے ہاں اٹھارہ بچوں نے جنم لیا ۔

آبادی میں اضافے کے باوجود وہ سب مالی طور پر اچھے ہیں۔یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک سے زائد شادی کا تعلق کسی حد تک انسانی مجبوریوں اور سماجی رسومات سے بھی ہے، ہم نہ مجبوریوں کو ختم کر سکتے ہیںاو رنہ ہی اس سے پیدا شدہ مسائل پر قابو پا سکتے ہیں، سماجی اور معاشی معاملات آپس میں بری طرح گڈ مڈ ہیں ۔دو وقت کی روٹی کے محتاج لوگ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی جستجو میں اسے کبھی کسی عمر رسیدہ کے ساتھ رخصت کر دیتے ہیں تو کبھی کوئی بیمار اس کی قسمت میں لکھ دیا جاتا ہے۔اگرچہ ایک سے زائد شادیوں کے بارے میں الگ سے کوئی بڑا سروے نہیں کیا گیا لیکن کچھ سروے رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک سے زائد شادیاں دیہات ، کم ترقی یافتہ اور غریب طبقے میں بھی عام سی بات ہے۔

لوگ اسے برا نہیں سمجھتے۔انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد نے بھی دیہات میں بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کو عام بات قرار دیا تھا۔ یہاں غریب گھرانوں میں30فیصد شادیا ںلڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے ہی کر دی جاتی ہیںیہی شادیاں بعد میں مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ انہی میں سے کافی سارے گھر بعد میں ٹوٹ جاتے ہیں ،کچھ دوسری شادی کی اجازت مانگتے نظر آتے ہیں۔کمزور اور ناتواں بچوں کی پیدائش کا ایک سبب یہی ہے۔ان پڑھ گھرانوں میں بھی کچی عمر میں شادیوں کا تناسب زیادہ ہے جس سے بعد میں دوسری شادی کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

دونوں شادیوںمیں عدم توازن خرابی کا باعث بنتا ہے ۔ ہمارے دیہات میں رسومات کے معاملے میں ملکی قوانین کو کچھ نہیں سمجھا جاتا۔قوانین پر رسومات کو فوقیت دی جاتی ہے۔قبائلی علاقوں کے اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔بہت سی شادیاں اس لئے بھی ٹوٹ جاتی ہیں کہ لوگ اپنے سے اوپر کی جانب دیکھتے ہیں اور اس کوشش میں اپنی بیٹی یا بیٹے کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔لڑکی اور لڑکے کی تعلیم،سوچ اور سماجی حیثیت میں فرق بھی شادی کو لے ڈوبتا ہے اور کچھ لوگ اس ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لئے دوسری کشتی میں سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اور دونوں شادیاں ہی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔

اقوام متحدہ نے لڑکے اور لڑکی کی مرضی کے بنا ہونے والی شادیوں پر مکمل پابندی کے لئے 2030کا سال مقرر کیا ہے۔ پاکستان بھی اس کا دستخطی ہے،اس لئے ہمیں بھی 2030ء سے پہلے ہی بنا مرضی کے ہونے والی تمام شادیوں پرپابندی لگانا پڑے گی ۔’’انسانی حقوق کے عالمی ڈیکلیریشن ‘‘ نے عورت کو مرضی کی شادی کا حق تو چند عشرے قبل ہی دیا ہے مگر اسلام میں اس حق کی حفاظت 14سو برس ہی کر دی گئی تھی۔اسلام نے شادی کو بیٹی کی مرضی سے مشروط کر دیا ہے۔ اسلا م چار شادیوں کی اجازت دیتاہے مگر کڑی شرائط کے ساتھ۔ جس میں سب سے بڑی شرط چاروں بیویوں میں انصاف قائم کرنا ہے۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ علاقوں میں وڈیرے دو دو شادیاں کرتے ہیں۔ ایک خاندان کو خوش کرنے کے لئے اور دوسری اپنی مرضی سے۔بعض بڑے سیاسی گھرانے بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ہمارا ایک اور المیہ ہوتا ہے کہ یہاں غربت میں ساتھ دینے والی معصوم بیوی کو دولت آتے ہی سبز جھنڈی دکھا دی جاتی ہے،نچلے گھرانوں میں پہلی بیوی کو دودھ میں مکھی کی مانند گھر سے نکال دیا جاتا ہے مگر اونچے گھرانے پیسہ دیتے رہتے ہیں جس سے سماجی المیے جنم نہیں لیتے اور نہ ہی دوسری شادی منظر عام پر آتی ہے

۔یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ پیسہ آنے پر بہت سے غریبوں نے دوسری شادی کر لی۔ایسا کوئی اشاریہ ملک گیر سروے میں شامل نہیں ہوامگر کئی طلبا نے بتایا کہ انہوں نے سروے رپورٹس مرتب کرتے وقت اس بات کو شدت سے محسوس کیا ہے کہ بعض غریب لوگ پیسہ آتے ہی پہلا شکاراپنی بیوی کوبناتے ہیں اور اس سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بسا اوقات لڑکی کو باپ کی عمر کے برابر’’لڑکے‘‘سے بیاہ دیا جاتا ہے۔شادی شدہ لڑکے اور لڑکی کی عمروں میں پانچ سے نو سال کا فرق تو عام سی بات ہے۔30فیصد شادیوں میں ایسا ہی ہوتا ہے،لڑکی لڑکے سے کہیں چھوٹی ہوتی ہے۔پنجاب میں 20.4فیصد شادیوں میں لڑکے لڑکی سے دس سال یا اس سے بھی زیادہ بڑے پائے گئے۔ جبکہ تقریباَََ نصف شادیوں میں ایک سے چار سال تک کا فرق تو ہوتا ہے۔یہ تناسب مختلف علاقوں میں 32سے 44.4فیصد تک پایا جاتا ہے۔

20سے24 سال کی 30.4فیصد شادیوں میں لڑکے کی عمر لڑکی سے پانچ سے نو سال زیادہ تھی۔اسی عمر کی جن پیاری بچیوںمیں عمر کا فرق ایک سے چار سال تک تھا ان کا تناسب 44فیصد تک تھا۔یعنی44فیصد لڑکے اپنی بیگم سے چار سال تک بڑے تھے۔غیر تعلیم یافتہ طبقے میں اس عمر کے فرق کے ساتھ50فیصد اور غریب طبقوں میں 56فیصد تک شادیاں اس عمرمیں کر دی جاتی ہیں۔

دوسری شادی کا سبب بننے والی چائلڈ میرج لڑکوں سے زیادہ لڑکیوں میں پائی جاتی ہے،پاکستان میں ہونے والے ایک سروے میں لاتعداد بچیاں ایسی عمروں میں بیاہ دی گئیں جب ان کو یہ معلوم ہی نہ تھا کہ شادی ہوتی کیا ہے۔اسی لئے 15سے 19برس کی لڑکیوں کی موت کا سب سے بڑا سبب بھی یہی ہے۔ بے شمار لڑکیاں چھوٹی عمر میں بیاہ دینے کے باعث کئی بیماریوں میں مبتلاہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ایک اور جائزہ رپورٹ کے مطابق ایسی بہت سے بچیاںہوم سک ہو جاتی ہیں اور اندر ہی اندر بیماریاں انہیں جکڑلیتی ہیں۔کسی بھی ادراک کے بغیر وہ اندر ہی اندر کڑھتے کڑھتے موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں کہ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔یہ سماجی بے چینی بھی گھر ٹوٹنے اور دوسری شادی کا سبب بنتی ہے۔سندھ اور اندرون پنجاب میں ہلاک ہونے والی بچیوں کی تعداد دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چھوٹی عمر میںشادیوں کی خرابی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔یہاں تقریباََ ساڑھے چار فیصد شادیاں 15برس کی عمر تک پہنچے سے پہلے ہی کر دی جاتی ہیں۔

یوں سمجھ لیجئے کہ اگرصوبے میں دن بھر میں ایک سو شادیاں ہوئی ہیں تو ان میں تقریباََ پانچ بچیوں کی عمریں پندرہ برس سے کم تھیں۔کراچی میں یہ تناسب چار فیصد بتایا جاتا ہے۔دیگر صوبوں کے بارے میں 2011ء کے بعد سے کوئی اعدا و شمار ہی مرتب نہیں کئے گئے لہٰذا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔لیکن اگر ہم سولہ، سترہ یا اٹھارہ سال سے کم عمر بچیوں کی شادیوں پر نظریں ڈالیں تو صورتحال رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہے۔19فیصد بچیاں اٹھارہ برس تک پہنچنے سے پہلے پیا کے گھر سدھاردی جاتی ہیں ۔جبکہ دیہات میں یہ تناسب 21فیصد اور شہروں میں 14فیصد ہے اسی لئے دیہات میں دوسری شادی کا تناسب بھی شہروں سے زیادہ ہے۔ان گھروں میں اکثر ہی ذہنی ہم آہنگی پیدا نہ ہونے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے معمول بن جاتے ہیں۔ہاتھ پیلے کرنے کے شوقین حضرات کے پاس بھی ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہوتا۔ اب دیکھتے ہیں کہ کتنے فیصد بچیوں کی شادیاں درست عمر میں کی جاتی ہیں۔تو سن لیجئے، ان کا تناسب بعض علاقوں میں صرف اور صرف60فیصد ہے ۔ 60سے 80فیصد تک شادیاں 20برس سے49برس کی عمر میں کی جاتی ہیں۔ اکثر شادیاں مالی وسائل کی وجہ سے بہت تاخیر کا شکار ہو جاتی ہیں ،جس سے کئی الجھنیں جنم لیتی ہیں،ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت برتن کھڑکتے رہتے ہیں۔

کیا مردوں کو بھی ایسے ہی مسائل کاسامنا ہے؟جی نہیں۔ صرف 6.7فیصد شایدیوں میںلڑکوں کی عمریں لڑکیوں سے کم پائی گئی ہیں یعنی ہر ایک سو میں کم از کم چھ سے سات فیصد شادیوں میں لڑکاعمر میں لڑکی سے چھوٹا پایا گیا۔کم عمری میں مرد کی شادیاں کم ہی کی جاتی ہیں، کیونکہ کئی برادریاں بچی کے بالغ ہونے پر شادی کرتے ہیں۔ دو فیصد تک لڑکوں کی شادیاںپندرہ سال سے کم عمر میں کی جاتی ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں یہ تناسب 1.1 فیصد سے 2فیصد تک ہے۔جبکہ صرف 5سے 6فیصد تک لڑکوں کی شادیاں18سال سے کم عمر میں کی جاتی ہیں بچیوں کے مقابلے میں یہ تعداد ایک تہائی سے بھی کم ہے۔زیادہ تر لڑکوں کی شادیاں 20 سے 49برس کی عمر میں کر دی جاتی ہیں۔کبھی کبھی عمروں کایہ فرق پہلی شادی کو لے ڈوبتاہے۔

 

دوسری شادی سے متعلق قانون کیا ہے؟

سپریم کورٹ کے جسٹس(ر) دوست محمد خان،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مقبول بابرپر مشتمل ایک بینچ نے دوسری شادی سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا تھا۔ درخواست گزار نے دوسری شادی کرنے پر فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے سیکشن 6(5بی)تحت کے ایڈیشنل سیشن جج تونسہ شریف کی جانب سے سنائی جانے والی سزا منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ میں تسلیم کیا کہ رقیہ حمید سے شادی کے باوجود اس نے دوسرا بیاہ رچا لیا۔درخواست دہندہ نے یہ موقف اختیار کیا کہ ’’فیملی لاز کے تحت اسے چار شادیاں کرنے کا حق حاصل ہے۔اور دوئم یہ کہ پہلی بیوی نے اسے دوسری شادی کی اجازت دے دی تھی۔اس لئے مذکورہ آرڈیننس کے سیکشن 6(2) کے تحت ثالثی کونسل سے اجازت لینا ضروری نہیں۔اور پھر کونسلرز کے ادارے مدت ختم ہونے کے باعث قائم نہیں ہیں،اب نہ تو ثالثی کونسل موجود ہے اور نہ ہی کوئی چیئرمین ہے۔

عدالت عظمیٰ نے دوسری شادی کے بارے میں قانون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 

فیملی لاز مجریہ 1961ء کے سیکشن 6 کے مطابق

(1)کوئی بھی شخص دوسری شادی ثالثی کونسل کی تحریری اجازت کے بغیر نہیں کر سکتا۔اور نہ ہی اس آرڈیننس کے تحت اس قسم کی اجازت کے بغیر ہونے والی شادی رجسٹر کی جائے گی۔

(2)سب سیکشن (1) کے تحت اجازت کے حصول کی درخواست طے شدہ طریق کار کے مطابق چیئرمین آفس میں داخل کی جائے گی۔جس میں وہ لازمی طور پر دوسری شادی کی وجوہات کا بھی ذکر کرے گا۔یہ بھی لکھے گا کہ پہلی بیوی(یابیویوں)کی اجازت حاصل کی گئی ہے یا نہیں۔طے شدہ فیس جمع کرانا لازم ہو گا۔

(3)درخواست ملنے کے بعد چیئر مین پہلی بیوی( بیویوں) کو طلب کرے گا،وہ اپنا ایک ایک نمائندہ نامزد کریں گے، اس طرح ثالثی کونسل وجود میں آ جائے گی،اگر ثالثی کونسل اس نتیجے پر پہنچی کہ تجویز کردہ شادی ناگزیر اور منصفانہ ہے ،شرائط پہ پورا اترتی ہے،تو پھر اجازت مل جائے گی۔

(4) ثالثی کونسل اپنے فیصلے کی وجوہات بھی درج کرے گی۔مطمئن نہ ہونے کی صورت میں کوئی فریق متعلقہ کلکٹر سے رجوع کر سکتا ہے،جس کا فیصلہ حتمی ہو گا اور اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

(5)ثالثی کونسل کے فیصلے کے بغیر شادی دوسری شادی کرنے والا کوئی بھی شخص (a)مہر معجل کی تمام رقم فی الفور ادا کرے گا۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں یہ مہر معجل کی رقم لینڈ ریونیو (جائیداد کی ضبطی ) کے ذریعے وصول کی جائے گی ۔(b) اس جرم میں اسے زیادہ سے زیادہ ایک سال سادہ سزا(بامشقت نہیں) ،پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیںگی۔

وفاقی شرعی عدالت نے ’’اللہ رکھا مقابلہ ریاست ‘‘میں قرار دیا کہ فیملی آرڈیننس مجریہ 1961ء کی دفعہ 6اسلام کے مطابق ہے۔ وفاقی شریعت کورٹ نے سورہ النسا کا بھی حوالہ دیا جس میں دوسری شادی کے بارے میں عدل کرنے کا حکم ہے۔ 

اسی طرح کا ایک اور اہم کیس ’’فہیم الدین مقابلہ صبیحہ بیگم ‘‘کاہے جس میں شوہر نے اپنی پہلی بیوی سے دوسری شادی چھپائی، اور عدالت عظمیٰ میں یہ موقف اختیار کیا کہ چار شادیوں ی اجازت ہونے پر اس کی پہلی بیوی اس سے دوسری شادی کے بارے میں کچھ پوچھنے کی مجاز نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ چیئرمین کی عدم موجودگی میںمتبادل قانون موجود تھا۔یہ درخواست ایڈمنسٹریٹر یونین کونسل کے توسط سے مجسٹریٹ کو بھیجی جانی چاہیے تھی۔سی آر پی سی کی دفعہ 340(2) کے تحت حلفیہ بیان دینا لازم تھا ۔طریق کار کے تحت بیوی سے دوسری شادی کی اجازت حاصل کی جا سکتی تھی ۔عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ شادی ایک نہایت مقدس معاہدہ ہے ۔غلط بیانی سے اس میں دراڑ پڑ سکتی ہے جو زندگی کو اجیرن بھی بنا سکتی ہے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عالمی ممالک نے دنیا کی چونکا دینے والی تصویر پیش کی ہے، کہتے ہیں کہ2050ء میں دنیا کی آبادی9ارب ہوجائے گی، ہمارا ہمسایہ بھارت 2050ء میں ایک ا ...

مزید پڑھیں

میڈیکل پروفیشن کا ریگولیٹر اپنی موجودہ شکل میں آخری سانسیں لے رہاہے، موجودہ پی ایم ڈی سی کا آخری اجلاس 29اگست کو ہوگا۔ پی ایم ڈی سی آرڈ ...

مزید پڑھیں

موجودہ حکومت کا پہلا جامع بجٹ قومی اور سینیٹ سے شرف قبولیت حاصل کر نے کے بعد نافذ ہو چکا ہے۔ بجٹ پر بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہر کسی ...

مزید پڑھیں