☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل صحت فیچر کیرئر پلاننگ رپورٹ ہم ہیں پاکستانی فیشن سنڈے سپیشل کچن کی دنیا کھیل خواتین متفرق روحانی مسائل ادب
میڈیکل کی تعلیم کا ریگولیٹر پی ایم ڈی سی ’’نیب‘‘ کی طرز پر سخت فیصلے کریگی؟

میڈیکل کی تعلیم کا ریگولیٹر پی ایم ڈی سی ’’نیب‘‘ کی طرز پر سخت فیصلے کریگی؟

تحریر : صہیب مرغوب

07-28-2019

میڈیکل پروفیشن کا ریگولیٹر اپنی موجودہ شکل میں آخری سانسیں لے رہاہے، موجودہ پی ایم ڈی سی کا آخری اجلاس 29اگست کو ہوگا۔ پی ایم ڈی سی آرڈیننس 5ستمبر کو ختم ہو جائے گا۔ سینیٹ کی جانب سے منظوری نہ ملنے پر یہ باڈی تحلیل ہوجائے گی ، نئی پی ایم ڈی سی پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے چند افراد پر مشتمل عارضی پی ایم ڈی سی بنے گی ۔ہو سکتا ہے کہ اس باڈی میں موجودہ پی ایم ڈی سی کے بھی کچھ لوگ شامل ہوں۔اس پی ایم ڈی سی کاکام موجودہ فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔

کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، یہ تنظیم بہت جلدی میں ہے اور اسلام آباد کی ایک شخصیت نے مجھے بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی موجودہ باڈی کو ’’نیب ‘‘کی مانند ٹاسک دیا گیا ہے، یہ سچ ہے کہ موجودہ باڈی کو نیب کی طرز پر میڈیکل کے پیشے نااہلی اور کرپشن کو ختم کرنے کا ٹاسک ملا تھا۔ نیب سے ہماری مراد یہ ہرگزنہیں ہے کہ اب ڈاکٹروں کو بھی جیلوں میں ڈالا جائے گا بلکہ اس سے مراد طب کے پیشے میں لاپرواہی اور پیسے کے ناجائز عمل دخل کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔جو کسی حد تک درست ہیں ۔اسی لئے پی ایم ڈی سی نے کئی ایکشن بھی لئے ہیں اور درجنوں ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔پی ایم ڈی سی نے برق رفتاری سے ملک بھر میں ڈاکٹروں کے خلاف زیر التوا کیسز پر سماعت کی ۔ کارروائی کے بعد قانون کے مطابق درجنوں ڈاکٹروں کو ڈگری کے استعمال سے روک دیا۔ یہ کام چاروں صوبوں میں کیا گیا۔اگلے مرحلے میں میڈیکل کالجوں کی باری ہے۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پرچند ارکان کو پی ایم ڈی سی سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تین صوبوں کے اہم ڈاکٹروں کی علیحدگی کے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔پنجاب میں ایک ڈاکٹر کی چھٹی کی خبر سامنے آ گئی ۔یہ فیصلہ کہاں ہوا ،کچھ معلوم نہیں۔ کیونکہ مستقل صدر تو بیرون ملک دورے پر تھے۔ لیکن ہم نے بعض ممبران کو پی ایم ڈی سی ہٹانے کی خبریں بھی سن لیں ۔

 

 ان کی جگہ کون لے یا کون نہیںلے گا، اس کا ہمیں علم نہیں ۔شاید اس لئے کہ خود سیکرٹریٹ کو بھی علم نہیں ہے۔دوسرے صوبوں کو بھی پی ایم ڈی سی کے ممبران کو کونسل سے الگ کرنے کے لیٹرز بھیجے گئے تھے مگر انہوں نے ابھی تک لبیک نہیں کہا۔ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں پی ایم ڈہی سی ممبران کو الگ کرنے سے متعلق قائم مقام چیئرمین آفس سے ملنے والے احکامات پر عمل درآمد کے لئے تیا رنہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب تک پی ایم ڈی سی کی جانب سے ہٹانے کے لئے بھیجی گئی سفارشات پر عمل نہیں ہوا ہے لیکن یہ ڈاکٹراجلاسوں میں نہیں آ رہے ۔ اس معاملے پر پی ایم ڈی سی اور باقی دو حکومتیں آمنے سامنے آ گئی ہیں۔جن ممبرز کو ہٹانے کے لئے خطوط لکھے گئے ہیں ان کی تقرری بھی موجودہ دور میں ہی کی گئی تھی۔ پی ایم ڈی سی کے موجودہ صدر کے کہنے پر ہی انہیں نامزد کیا گیا تھا مگر اس وقت تو چاروں حکومتوں نے ان کے کہنے پر نامزد افراد کی تقرری کے خطوط جاری کر دئیے تھے مگر اب نہیں کئے۔اب سینیٹ نے بھی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوچ بچار کے لئے حد سے زیادہ وقت چاہیے، سندھ حکومت کے ایک رہنما نے مجھے بتایا کہ ’’اب پی ایم ڈی سی کے فیصلوں کی حمایت نہیں کی جائے گی کیونکہ ان کے مقاصد کچھ اور ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسرا اہم سیٹوں اور داخلوں کے نظام میں تبدیلی کرناہے۔ جس سے پنجاب دس فیصد نشستوںسے محروم ہو جائے گا۔پی ایم ڈی سی نے صوبوں کی نشستوں کا کوٹہ100فیصد سے گھٹا کے 90فیصد کر دیا ہے۔ ہر کالج کومیرٹ سے ہٹاکے بھی دوسرے صوبوں کو 10فیصد نشستیں دینا ہوں گی۔ اس فیصلے سے صرف پنجاب متاثر ہو گاکیونکہ یہاں سے کوئی بھی سندھ یا بلوچستان جانا نہیں چاہتا ، نہ ہی آج تک گیا ہے۔ دوسرے صوبوں میں یہ نشستیں خالی پڑی رہتی ہیں جن پر وہاں کے مقامی لوگ بھی داخلہ نہیں لے پاتے جس سے میڈیکل کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔نشستوں کا کوٹہ پہلے ہی نظرثانی کا محتاج تھا ،نشستیں بڑھانے کی بجائے ایک طرح سے کم کر دی گئی ہیں۔اس دوسرے صوبوں میں مزید نشستیں خالی رہ جائیں گی ،وہاں پنجاب میں بھی داخلوں کے لئے مقامی طلبا کا میرٹ مزیدبلند ہو جائے گا۔اس کا اطلاق پبلک سیکٹر کے میڈیکل کالجوں کے پر ہوگا۔ اس طرح پنجاب میں سستی نشستوں کی تعدا دمیں کمی مزید مشکلات کا باعث بنے گی۔نشستیں ایک اور فیصلے سے بھی متاثر ہوں گی ،وہ یہ کہ پی ایم ڈی سی نے کئی کالجوں کی نشستیں براہ راست کم کردی ہیں جیسا کہ نشتر میڈیکل کالج کی نشستوں کی تعداد میں 75کی کمی کر دی گئی ہے،کونسل کا کہنا ہے کہ سابقہ پی ایم ڈی سی نے جتنی بھی نشستیں بڑھائی تھیں،وہ سب واپس لی جا رہی ہیں کیونکہ انہیں جائز باڈی نے نہیں بڑھایا تھا۔ اس سے پنجاب کے بڑے کالج متاثر ہوں گے۔

پی ایم ڈی سی میں ایک اور’’ سنگین‘‘معاملے کا سامنا ہے۔وہ ہے میڈیکل کالجوں کی انسپکشن کا۔ حکومت میں شامل کئی شخصیات کا خیال ہے کہ بعض نجی میڈیکل کالجوں میں میعاری تعلیم نہیں دی جارہی، ان کے پاس فیکلٹی ہے اور نہ ہے وہ مطلوبہ میعار پر پورا اترتے ہیں۔ہسپتال بھی میعار کے مطابق نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی میڈیکل کالجوں کے پاس تین سو سے زائد طلبا کے مطابق فیکلٹی نہ تھی۔اسی لئے کئی کالج خطرے میں ہیں، اور انہیں انسپکشن میں قانون کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی کے کچھ حکام اس قدر سنجیدہ ہیں کہ انہوں نے انسپکٹرز رکھ لئے ہیں۔ 300انسپکٹرز میں سے جنوبی پنجاب کو تین ملے ہیں۔اگرچہ انسپکٹرز کی تعیناتی صوبائی یا علاقائی سوچ سے باہر رہ کر کرنا چاہیے ۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس ضمن میں نشتر ہسپتال کے وائس چانسلر نے بھی کچھ نام بھجوائے تھے جنہیں شامل نہیں کیا گیا یا ان پر غور ہی نہیں کیا گیا۔یہاں یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ماضی میں سینئرزکو انسپکشن کے لئے چنا جاتا تھا مگر اس مرتبہ ایک خاص شعبے کوزیادہ اہمیت دی گئی ہے۔اسلام آباد کے حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس بات پر پی ایم ڈی سی کے گزشتہ اجلاسوں میں بات ہوئی تھی کہ انسپکشن کن کن لوگوں کو کرنا چاہیے اور کس میعار کے ڈاکٹرز انسپکشن ٹیم میں شامل کئے جائیں۔لیکن یہ بات طریق کار پر آ کر رک گئی تھی ۔بعض ممبران نے ناموں سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا، اس موقع پر دونوں سوچ کے حامل ممبران نے اپنے اپنے دلائل دیئے۔کچھ کے مطابق ناموں سے پی ایم ڈی سی کو آگاہ کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری رائے کے مطابق ایسا کرنا ضروری نہیں۔

 اس بات کا بھی سراغ ملا ہے کہ انسپکٹرز کے انتخاب کیلئے 75سے زائد ڈینٹل اداروں سے رابطہ کیا گیا مگر ان میں ایک بھی سینئر ممبر شامل نہ تھا۔اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسروں کی بطور انسپکٹرز تقری پر بھی ایک دو ممبران نے انگلیاں اٹھائیں۔میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رولز کے مطابق اسٹنٹ پروفیسر انسپکشن کا مجاز ہی نہیں ہے۔دوسری رائے کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے۔ اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔وہ اس عمل کو شفاف رکھنے کے لئے ہرصورت میں خفیہ رکھنا چاہتے ہیں اس رائے کے مطابق اگر پی ایم ڈی سی ممبران کو بھی ان کے ناموں سے آگاہ کیا گیا تو بات آگے نکل جائے گی اور پھر انسپکشن کا عمل بے کار ہو جائے گا۔اس میں بھی دم ہے مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ رولز کیا کہتے ہیں ، رولز سے انحراف بعد میں قانونی جھمیلوں میں پھنسا دئے گا ۔عدالت یہ نہیں دیکھے گی کہ انسپکشن کے عمل کو شفاف رکھنے کے لئے ممبرز کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا یا یہ کہ جونئیر ممبرزشفافیت کے لئے چنے گئے تھے ۔عدالت تو صرف اور صرف قانون کو دیکھے گی۔مجھے شک ہے کہ قانون کے مطابق نہ چلنے سے انسپکشن کا عمل خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ انسپکشن کو خفیہ رکھنے اور فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ویسے ہی تاخیر کا شکار ہے جس کی وجہ سے بعض میڈیکل کالجوں میں میعار گر گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پی ایم ڈی سی کو کچھ کالجوں کی ریٹنگ بھی تبدیل کرنا پڑی ہے۔فوری انسپکشن کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔لیکن قانون بھی کوئی چیز ہوتا ہے اس کو نظرانداز کرنا ٹھیک نہیں۔

ہم آپ کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ میڈیکل کالجوں کی انسپکیشن کے رولز بھی بدل دئیے گئے ہیں۔اس سلسلے میں’’Recognition Framework 2019‘‘بنا دیئے گئے ہیں نئی نگرانی ان رولز کی روشنی میں ہوگی۔ اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔اسی سے متعلق ’’Performance Evaluation Framework ‘‘ بھی بنا دیئے گئے ہیں ۔یہ تمام میڈیکل کالجوں کے پاس بھی ہوں گے،انہیں کہا گیا تھا کہ اسی کے مطابق تیاری کر لیں لہٰذا میں یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا کہ اب میڈیکل کالجوں کی پڑتال نسبتاََ سخت میعار پر ہو گی، انہیں خود کو ثابت کرنا ہوگا ورنہ ان کی نشستوں کی تعدا دگھٹانے سے لے کر کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔انہیں اس میعار پر لانے کے لئے چھ مہینے سے ایک سال تک کا عرصہ مل جائے گا۔کچھ نے کہا ہے کہ یہ نگرانی اور جانچ پڑتا 2020ء تک جاری رہے گی۔

اس سلسلے میں ایک دل چسپ حقیقت بھی سامنے آئی۔وہ یہ کہ فی انسپکشن ساڑھے سات کالاکھ روپے خرچہ آتا ہے جو میڈکل کالجوں کو ادا کرنا پڑتا ہے ان کی طرف سے عدم ادائیگی پر انسپکشن نہیں ہو سکتی۔میری رائے میں پی ایم ڈی سی کو میڈیکل کالجوں کی جانب سے فیس جمع کرانے کے عمل کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اس ضمن دو تین سال کی انسپکشن کی فیس ایڈوانس میں ہی لے لینا چاہئے۔ اس فیس کی ادائیگی کو سیٹوں کی الاٹ منٹ وغیرہ سے مشروط کر دیا جائے۔جس طرح حکومت لینڈ ریوینیو کی طرز پر وصول کرتی ہے اسی پی ایم ڈی سی کو بھی کوئی طاقت ور طریقہ استعمال کرنا چاہیے ۔ہماری تجویز یہ ہے کہ کونسل کے پاس میڈیکل کی تعلیم دینے والے اداروں کو ریگولیٹ کرنے کا پورا ختیارحاصل ہے وہاں اختیارات کو استعمال کرے اور کسی دبائو میں آنے کی بجائے انے فرائض سرانجام دے۔اور یہ عمل کسی ایک خاص وقت سے مشروط نہیں ہونا چاہئے، اچانک اور ہر وقت جاری رہنا چاہیے۔ ماضی میں انسپکشن کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی گئی تھی۔زیادہ تر اداروں کی انسپکشن2012ء کے قوانین کے تحت کی گئی تھی۔2019ء میں نئے رولز بنے ہیں۔جن پر عمل کرنے سے بہتری آئے گی۔

اس وقت ملک بھر میں169میڈیکل کالجز کام کر رہے ہیں جن میں سے 19کے خلاف مختلف الزامات میں انکوائریاں چل رہی ہیں۔پی ایم ڈی سی کو ان میں سے کچھ اداروں کے خلاف ان کے ہی طلبا کی جانب سے بھی شکایا ت ملی ہیں جن پر کام کیا جا رہا ہے۔ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد پہلے ہی بہت کم ہے ۔جو تمام شہریوں کو سہولتیںمہیا کرنے سے قاصر ہیں۔21کروڑ کی آبادی والے ملک میں ڈاکٹروں کی تعداد صرف ڈھائی لاکھ ک لگ بھگ ہے، جن میں سپشلسٹ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہر سال اس تعداد میں معمولی اضافہ ہو رہا ہے،نئے اقدامات کے بعدپنجاب میں بننے والے داکٹروں کی تعداد میں کم و پیش دس فیصد کمی کا امکان ہے۔اس موقع پر ہماری حکومت سے استدعاہے کہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں میں فوری طور پر فیکلٹی کی تعداد بڑھائے تاکہ وہاں مزید نشستیں بڑھائی جا سکیں۔ایسا نہ کرنے کی صورت میں ’طبی بحران‘ بھی جنم لے سکتا ہے۔

 

پاکستان میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایجوکیشن کے ادارے

پنجاب :

 سرکاری:میڈیکل 19،ڈینٹل 4

غیر سرکاری:میڈیکل43،ڈینٹل22

سندھ:

 سرکاری:میڈیکل 11،ڈینٹل6

غیر سرکاری:میڈیکل15،ڈینٹل12

خیبر پختونخوا:

 سرکاری:میڈیکل 19،ڈینٹل 4

غیر سرکاری:میڈیکل10،ڈینٹل6

بلوچستان:

سرکاری میڈیکل 1،ڈینٹل1

غیر سرکاری:میڈیکل1،ڈینٹل0

 آزاد کشمیر:

سرکاری:میڈیکل3،ڈینٹل0

غیر سرکاری:میڈیکل1،ڈینٹل0

کل:169

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عالمی ممالک نے دنیا کی چونکا دینے والی تصویر پیش کی ہے، کہتے ہیں کہ2050ء میں دنیا کی آبادی9ارب ہوجائے گی، ہمارا ہمسایہ بھارت 2050ء میں ایک ا ...

مزید پڑھیں

ابھی حال ہی میں لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے بلا اجازت دوسری شادی کرنے پر بیگم کی درخواست پراس کے شوہر رشید کو 11مہینے کے لئے جیل بھجوا دیا ...

مزید پڑھیں

موجودہ حکومت کا پہلا جامع بجٹ قومی اور سینیٹ سے شرف قبولیت حاصل کر نے کے بعد نافذ ہو چکا ہے۔ بجٹ پر بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں۔ ہر کسی ...

مزید پڑھیں