☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا دنیا اسپیشل انٹرویوز عالمی امور سنڈے سپیشل فیشن کچن کی دنیا خصوصی رپورٹ کھیل کیرئر پلاننگ ادب
کروڑوں پاکستانی غذائی بحران کی لپیٹ میں

کروڑوں پاکستانی غذائی بحران کی لپیٹ میں

تحریر : صہیب مرغوب

08-04-2019

عالمی ممالک نے دنیا کی چونکا دینے والی تصویر پیش کی ہے، کہتے ہیں کہ2050ء میں دنیا کی آبادی9ارب ہوجائے گی، ہمارا ہمسایہ بھارت 2050ء میں ایک ارب 73کروڑنفوس پر مشتمل ہو گا۔ہماری آبادی بھی 40کروڑ سے زیادہ ہی ہوگی۔ہم سے کہیں بڑے اور ترقی یافتہ ملک امریکہ کی آبادی ہم سے کچھ کم (39.8)کروڑ ہوگی۔ایتھوپیا جیسا بحران کے شکار ملک میں بھی 18.9کروڑ نفوس افراد زندگی کی نعمتوںکو ترس رہے ہوں گے۔

یہ لوگ کہاں سے کھائیں گے؟ اسی زمین سے 2050ء کے بعد مزید دو ارب انسانوں کی خوراک کابندوبست کرنا پڑے گا۔ ماہرین کوکرہ ارض پر غذائی بحران منڈلا تانظرآ رہا ہے، بچے کہاں سے روٹی کھائیں گے، اگر کل کی فکر نہ کی تو آنے والی نسلیں بھوک سے مر جائیں گی۔ دنیابھر میں 85کروڑ افراد کو روٹی کی کمی کا مسلہ درپیش ہے ۔ ہمارے ہاں2.2کروڑ افرادبھوکا سوتے ہیں ۔ انہیں دو وقت کی روٹی میسرنہیں۔ یہ فکر یورپ سے امریکہ تک سائنس دانوںکو کھائے جا رہی ہے۔اور ہم؟

 

26فیصد قومی جی ڈی پی اور 40فیصد لیبر فورس کی وجہ سے ہی زراعت کو ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے ۔دنیا کا سب سے منفرد نظام آبپاشی ہمارے ہاں ہی قائم ہے،جو دو کروڑ دس لاکھ ایکڑ اراضی کو زیر کاشت لانے میں مدد دے رہاہے۔ایک طرف تو ملک کو سیلاب اور قدرتی آفات کا سامنا ہے جس سے زرعی پیداوار خطرے میں رہتی ہے اور دوسری طرف پانی کی شدید کمی سے چاول اور کپاس کی فصلیں متاثر ہو رہی ہیں۔ہمارا آبپاشی کا سسٹم کئی عشروں کی بوسیدگی کا شکار ہے، جن کی تبدیلی کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔اس نظام کی تعمیر ومرمت پر جتنی توجہ دینی چاہے تھی، اتنی نہیں دی گئی، یہی وجہ ہے کہ اب بیراجوں او ردوسرے نیٹ کی تبدیلی پر کم از کم 1600ارب روپے خرچ ہوں گے، مزید 200ارب روپے تعمیر و مرمت پر درکار ہوں گے۔اس کام کے لئے صوبائی حکومت نے 23.7ارب روپے مختص کئے ہیں۔

ابھی حال ہی میں آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں غربت کا تناسب30فیصد ہو گیا ہے ۔ پہلے یہ سرکاری طور پر 19فیصد بتایا جاتا تھا ۔یعنی اب ہر تیسراآدمی دن میںا یک نہ ایک مرتبہ بھوکاسوتا ہے، اسے پوری روٹی میسر نہیں۔ ہمیں اپنے کل کی فکر نہیں۔اوپر تلے سیاسی بحران ہی جان نہیں چھوڑتے ، کبھی سینیٹ میں عدم اعتماد تو کبھی باہر مظاہرے ۔ کبھی ایک سڑک بند تو کبھی دوسری۔ ہمیں ملک کے لئے دیرپا پالیسیاں بنانے کا وقت ہی نہیں ملتا ۔ سیاسی مسائل سے نکلنے اور سر کھجانے کی فرصت ملے گی تو اگلی نسل کا سوچیں گے۔چلیے، ہم حکومت کے لئے آسانیاں پیداکرتے ہوئے انہیں یہ بتاتے ہیں کہ کل کیسا ہو گا، انہیں آج کیا کرنا چاہیے ۔ یاد رکھیے، مسائل سنگین ہیں، ان سے نمٹنا حکومت کے بس میں نہیں۔عوام و خواص کو بھی آگے آنا ہو گا ،تب جا کر مسائل حل ہوں گے۔ 

ایک طرف تو عالمی ادارے زرعی ٹیکس لگانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور دوسری طرف ورلڈ فوڈ پروگرام نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ’’پاکستان، چین اور بھارت میں زرعی شعبہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ ان پر 1970سے 1990تک بھاری ٹیکس نافذ کئے گئے ، بعد میںبھی ٹیکس جاری رہے ۔دوسری طرف حالت یہ ہے کہ سرکاری طور پر وصول ہونے والی پانی کی قیمت ( آبیانہ) سے سسٹم کی مرمت کرنا ممکن نہیں۔ آبیانہ کی رقم افسران کی تنخواہوں کے لئے بھی کافی نہیں۔ہمارے ہاں نظام آبپاشی کی اونر شپ لینے پر کوئی آماد ہ نہیں ۔اسے نجی شعبے کو دینے کی ایک تجویز مشرف دور میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے پیش ہوئی تھی۔مذکورہ بینک نے کئی بیراجوں کی مرمت سے متعلق پروگرام میں مختلف علاقوں میں نہروں اور بیراجوں کی مرمت کا کام وہاں کے مقامی باشندوں کے سپرد کرنے کی تجویز دی تھی جس کے تحت کئی ہزار تنظیمیں قائم کر کے اس نظام کو چھوٹے چھوٹے مقامی گروہوں کے سپرد کیا جانا مقصود تھا، مگر یہ منصوبہ آگے نہ چل سکا۔ یوںیہ تجویز اپنی موت آپ مر گئی۔عمل درآمد میں ناکامی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہا تھا کہ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ ہی اس نظام کی مرمت کے اخراجات بھی ادا کریں۔یعنی ایک آدمی جس کا اس نظام کو فائدہ ہی نہیں پہنچ رہا وہ کیوں اس کی مرمت میں حصہ ڈالے۔ مستقبل میں ایشیائی ترقیاتی بینک ادارہ جاتی اصلاحات کے لئے 33.7کروڑ روپے دے گا۔ آبی وسائل کی مینجمنٹ کے لئے بھی مذکورہ بینک89کروڑ روپے کے قرضے مہیا کرے گا۔اس سے آبی وسائل کی مینجمنٹ بہتر بنانے میں مدد ملے گی یہ بھی وقت کی ضرورت ہے اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے پاکستان کو بھاری مقدار میں غذائی مصنوعات درآمد کرنے والے ممالک میں شامل کیا ہے۔ اس سے عالمی ادارے کی مراد یہ ہے کہ پاکستان زرعی طور پر خود کفیل ممالک میں نہیں ہے۔ ہم نے گزشتہ دنوں میںدیکھا کہ ملک میں ’’ٹماٹر ٹماٹر ‘‘ ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی اب ہم خود کفالت کی منزل کھو رہے ہیں۔ اعدا دو شمار پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی یہ بات کھل کر سامنے آ جائے گی کہ ہم تقریباََچار ارب ڈالر کی غذائی مصنوعات درآمد کرتے ہیں لیکن یہ چار ارب ڈالرقومی معیشت پر اس لئے بوجھ نہ تھے کہ ہم چارہی ارب ڈالر کی غذائی مصنوعات کی برآمدات بھی کر رہے تھے۔بعض برسوں میں برآمدات کا حجم درآمدات سے زیادہ تھا۔مالی سال 2013میں ہم نے 4.7ارب ڈالر کی غذائی مصنوعات برآمد کیں ،جو درآمدات سے 50کروڑ ڈالر زیادہ تھیں۔رواں برس سے یہ بڑے بوجھ کی شکل میں ہمارے سامنے ہے کیونکہ غذائی مصنوعات کی درآمدات کے لئے چار ارب ڈالر کے لگ بھگ ہی ہیں مگر برآمدات کا حجم نصف سے بھی کم رہ گیا ہے۔اس میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی واقع ہونا افسوسناک ہے۔ 

غذائی بچت کے منصوبے

ان حالات میں سب سے پہلے ہمیں غذائی بچت کے کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔جن پر عمل کرنے سے ہمارے ہاں غذائی مصنوعات کی فراہمی دگنی ہو سکتی ہے۔مگر ان پر عمل کرنا آسان نہیں۔ پختہ اردوں ، ہمت اور محنت کے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتے ، سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہو گی۔ماضی میں ہم لوگ سبز انقلاب کے سب سے بڑے داعی تھے۔یہ تحریک ایوب خان کے زمانے میں شروع ہوئی اوراب تک جاری ہے، گندم میں خود کفالت ہی ہمارا سب سے اہم نعرہ تھا، ہم نے منزل حاصل کر لی مگر اب کھو رہے ہیں۔ 

سب سے پہلے تو ہمیں خود ہی ذمہ دار قوم بننا ہوگا، جس کے بغیر خوراک کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔اگلی منزل کی جانب بڑھنے سے پہلے ہمیں پلیٹ میں موجود اشیا کا سوچنا ہو گا۔ حکومت ہوٹلوں (خاص طور پر شادی اور دوسر ی تقریبات کے موقع پر )، گھروں اور مارکیٹوں میں ضائع ہونے والی خوراک کی حفاظت کے لئے کوئی لائحہ عمل ترتیب دے ۔پلیٹوں میں کھانا ضائع کرنے والوں کو جرمنی اور دوسرے ممالک کی طرح بھاری جرمانے بھی کئے جا سکتے ہیں۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔دنیا بھی انہی خطوط پر سوچ رہی ہے۔اگر ہم نے بھی ان تجاویز پر عمل نہ کیا تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ 

اسی طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے زرخیز زمین چھوڑ کر جاسکتے ہیں ورنہ زمین کی زرخیزی کم ہو رہی ہے، جسے واپس لانا مہنگا عمل ہے۔ہمارے بس میں نہیں ہوگا۔ہم نے اندھا دھندزمین کا سینہ چاک کر کے اس کی زرخیزی کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں۔سب سے پہلے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لئے رقبوں کو محفوظ رکھنا ہو گا۔ ایسا کرکے ہی ہم مغرب کے برابر آئیں گے ،اہل مغرب بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں ، ہم ان سے الگ نہیں ہوں گے، بلکہ ان کے قدم سے قدم ملا کر چلیں گے۔

 کلوریز بڑھانے کا طریقہ 

ذرا سوچیے ،ہم اپنی ضروریات کا زیادہ حصہ کن اجناس یا سبزیوں وغیرہ سے حاصل کر رہے ہیں۔اگر ہم یہ جان لیں تو22کروڑ تو کیا 40کروڑ افراد کاپیٹ بھی آسانی سے بھرسکتے ہیں،دنیابھرمیں 55فیصد لوگ اپنی کلوریز اجناس سے حاصل کرتے ہیں۔ لائیو سٹاک سے 36فیصداورصنعتی مصنوعات پر 9فیصد افرادگزارہ کر رہے ہیں۔ہمارے ہاں مکس ڈائٹ کی روایت ہے۔لوگ سبھی کچھ کھا رہے ہیں۔یہ بھی حیرت ناک بات ہے کہ ہم انڈے اور مرغیاں تو خوب خوب کھا رہے ہیں مگریہ نہیں سوچتے کہ ان مرغیوں کو ہم کھلا کیا رہے ہیں؟۔ہم انہیں بہت کم محدود سی مقدار میں پروٹین کھلانے کے بعد ان سے توانائی سے بھرپور انڈوں اور گوشت کی توقع کرتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ غیرمیعاری غذا کھا کر مرغی طاقت سے بھر پور انڈہ دے سکتی ہے۔جسے کھا کر قو م جھاراپہلوان بن جائے گی۔ایسا ممکن نہیں۔ہمیں جانوروں کو کھلائی جانے والی خوراک کو فوڈ میں بدلنے کے عمل کو بھی سمجھ لینا چاہیے ۔اگر ہم نے گائے کو ایک سو کلوریز کھلائی ہیں تو ہمیں اس سے 40کلوریز دودھ اور 22 کلوریز انڈے کی صورت میں واپس ملیں گی ۔کیا دودھ نہ دینے والے جانوروں (مرغی)میں اضافی کلوریز دودھ کی جگہ انڈے میں ہو جائیں گی ؟جی نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ یہ قدرت کا خوبصورت نظام ہے کہ کھائی جانے والی خوراک کا کتنا حصہ دودھ میں تبدیل ہو گا اور کتنا حصہ گوشت میں بدلے گا، مرغی کے گوشت میں 12 فیصد خوارک پروٹین میں تبدیل ہوتی ہے ۔ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرح خوراک کے بھی متبادل ذرائع پر غور کرنا ہوگا۔بہترین فصل اور میعاری زرعی پیداوار حاصل کرنے والی کمپنی نے انعام حاصل کر لیا ہے۔ہم بھی ا س کی تحقیق سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

زرعی زمین کی حفاظت اور اضافی پیداوار

ہم نے دیکھا کہ سبز انقلاب لانے میں بہت سا پانی اور رقبے استعمال ہوئے ۔1960کے عشرے کے بعد ہمیں جب بھی ضرورت پڑی ہم نے کبھی جنگلوںکو کاٹ ڈالااو رکبھی بے آباد زمین کو زیر کاشت لے آئے۔ گزشتہ 60برسوں میں درجنوں لاکھ ایکڑ رقبہ زیر کاشت لائے۔ مزید بھی زیر کاشت لانے کی تیاری ہور ہی ہے، یہ عمل فوری طور پر روک دیا جائے۔یہ بھی دھیان میں رہے کہ گزشتہ چند عشروں میں ہم جتنی بھی اضافی زمین زیر کاشت لائے ہیں اب پانی ہے نہ زمین۔لہٰذااس عمل کومحتاط کرنا ہوگا۔سائنس دان کہتے ہیں کہ اب ہمیں اس عمل کو الٹا کرنا ہوگا۔ پانی اور زمین دونوں کی بچت سے ہی ہم اپنے مستقبل کو محفوظ کر سکتے ہیں۔لاطینی امریکہ ، افریقہ، اور مشرقی یورپ بھی اپنی زمینوں کو کل کے لئے بچا رہے ہیںوہ لینڈ بینک کا تصور اپنا رہے ہیں۔ورنہ ماضی میںدنیا نے افریقہ سے بھی بڑے علاقے کو زرعی پیداوار کے لئے مخصوص کر دیا ۔ اس سے بھی زیادہ بڑے رقبوں پر لائیوسٹاک پال لیے۔اس کا ایک بڑا حصہ کوئی قابل ذکر پیداوار کے قابل نہیں، لہٰذا اسے محفوظ کر لیا جائے۔ او رپانی کی فراہمی کے جدید طریقوں اور جدید مشنری کو تلاش کیا جائے۔سوال یہ ہے کہ ہم اس کو الٹا کیسے کر سکتے ہیں؟ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اس وقت دنیا میں کاشت کاری کو جدید ترین شکل میں سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔یہ اب زمین پر پھیلنے کی بجائے افقی نوعیت کی ہے یعنی ایک ہی رقبے پر اسے اوپرکی جانب اٹھایا جائے اور ایک ہی جگہ پر زمین سے آسمان تک کئی فصلیں حاصل کی جائیں۔ اب بڑے بڑے پائپوں میں مٹی بھر کر جدید نظام کی مدد سے کاشت کاری کی جا رہی ہے،یونین آف زرعی سائنس دانوں نے اسے ہی مالی طور پر قابل برداشت کاشت کاری قرار دیا ہے۔ماضی میں ہم نے بڑی مقدار کی زمینوں پر کھادوں کی بارش کر کے صنعتی انداز میں فصلیں حاصل کیں۔ یہ دور ختم ہو رہا ہے۔اس سے مٹی کبھی خراب ہوئی اور فضائی تبدیلیوں نے بھی جنم لیا۔ اب سائنس دان کہتے ہیں کہ ہم ایک ہی جگہ پر قریب قریب مختلف فصلیں کاشت کر سکتے ہیں مگر اس کے لیئے سب سے پہلے رقبوں پر تحقیق کرنا ہو گی۔یہ دونوں فصلیں ایک دوسرے کو سپورٹ بھی کریں گی اور پیداروار بھی بہتر ملے گی۔

سائنس دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ زمین خالی چھوڑنے کی بجائے اس پر ’’حفاظتی فصل‘‘اگا دی جائے ۔ ہم (cloverیا hairy vetch)بھی اگا سکتے ہیں۔یہ فصلیں خالی زمینوں کو خراب ہونے سے بچائیں گی ۔سائنس دانوں کے مطابق بلا ضرورت یا ضرورت سے زیادہ ہل زمین کو خراب کر دیتا ہے ،یہ کام سائنس دانوں نے ا یسی مشینوں کو سونپ دیا ہے جو زمین کو نقصان پہنچائے بغیر بیج ڈال دیتی ہیں۔زیادہ سے زیادہ کیڑے مار ادویات استعمال کرنے کا وقت بھی ختم ہو گیا۔اب ایسی مشینیں آ گئی ہیں جو کیڑے مار ادویات کا چھڑکائو اس طرح کرتی ہیں کہ ’’سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘‘یعنی زمینی کیڑے بھی مرجائیں اورفصل نسل انسان کے لئے محفوظ رہے۔

پیداوار کا ضیاع

اگلے مرحلے میں حکومت فارم ٹو مارکیٹ جائع ہونے والی پیداوار کو محفوظ بنانے کے لئے کام کرے۔ ہماری لگ بھگ 40فیصد خوراک فارم سے مارکیٹ تک پہنچنے میں ضائع ہوجاتی ہے، اتنی ہی خوراک مارکیٹوں سے گھروں تک نہیںپہنچ پاتی ۔دنیا آج بے قیمت ہے، کل نہیں ہوگی ،ہمیں اس کی قیمت کا انداز کل ہی ہوگا۔ لیکن پھر یہ وقت ہمارے ہاتھ میں نہیں ہو گا ، ہم ماسوا پچھتانے کے، کچھ نہیں کرپائیں گے۔اس بارے میں حکومت بھی کوئی حکمت عملی ترتیب دے سکتی ہے، اس نیک کام میں حصہ ڈالنے کے لئے اس پر کوئی پابندی نہیں ۔ کھیتوں سے منڈیوں تک اور منڈیوں سے گھروں تک ’’دھڑی‘‘ کی قیمت کا فرق رکھا جاتا ہے یعنی دونوں مرحلوں میں قیمت میں پانچ پانچ سو فیصد کا فرق رکھا جاتا ہے اسی لیے دکاندار اور آڑھتی کو ضائع ہونے والے پھلوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ آدھے پھل اورسبزیاں ضائع ہو جائیں تب بھی منافع کم نہیں ہوتا۔دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی مدد سے کم سے کم جگہ پر ایک سے زیادہ فصلیں حاصل کر رہی ہے ،ہمیں بھی ان کے زرعی طور طریقے اپنا ناہوں گے ۔لہٰذاآج ہی سے مغرب کو سامنے رکھتے ہوئے خوراک کی حفاظت اور پیداوار میںاضافے پرکام کرنا ہوگا۔ 

نت نئی ٹیکنالوجی کا استعمال

 

 

سات قسم کی ٹیکنالوجیز زراعت کی شکل ہی بدل دیں گی۔جن میں بیجوں کی ٹیکنالوجی سب سے اہم ہے۔کم سے کم پانی میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیج پیداوار دینے میں سب سے بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ ہمیں مزید 20کروڑ افراد کوپوری روٹی دینے کے لئے ٹیکنالوجی کاسہارا لینا پڑے گا، اس کے علاوہ کوئی اور حل موجود نہیں۔اس کام میں ہم کہیں پیچھے ہیں۔ایک کمپنی نے امریکہ ، پاکستان اور آسٹریلیا کے موسم میں سویابین سے دس گنا زیادہ پیداوا دینے کی صلاحیت کے حامل بیج تیار کر لئے ہیں۔جن سے خطے میں سویابین کی دروآمد کا مسلہ حل ہو سکتا ہے۔ہم بھی ایسی ٹیکنالوجی تیار کر سکتے ہیں۔

Trace Genomics

کوئی زمین اس وقت تک زیادہ سے فصل دے ہی نہیں سکتی جب تک کہ اس میں مٹی کے مطابق دیگر مداخل استعمال نہ کئے جائیں ۔ سائنس دانوں نے مٹی کی ساخت اور اس کی ضروریات معلوم کرنے کے لئے (Trace Genomics) کے نام سے ایک مشین تیار کر لی ہے، یہ زیر کاشت رقبوںکی جینیاتی ساخت کے بارے میں بھی آگاہ کرے گی۔مشین سے یہ بھی پل بھر میں پتہ چل جائے گاکہ زمین میںجراثیم کون کون سے پائے جاتے ہیں ۔اس سے فصل اگانے میںآسانی ہو گی اور مداخل کا استعمال کم بھی کم ہو جائے گا ، کئی مداخل بلاضرورت یا زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے وزمین میں جذب ہو جاکر پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔

پانی اور کھاد کا کم سے کم استعمال:

ایک لیب نے مخصوص لہریں چھوڑنے والا آلہ تیا کرلیا ہے، اس سے نکلنے والی لہروں کی مدد سے پانی اور دوسرے مداخل کا استعمال بھی کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔یہ آلہ کاشت کار کو بتا سکتا ہے کہ کس زمین کو کس وقت کتنے پانی اور کھاد کی ضرورت ہے، اس آلے کی مدد سے پانی بروقت لگانے میںمدد ملتی ہے۔اس سے کھاد اور دوسرے اجزا کی بچت ہو گی ۔اسے فصلوں کے درمیان میں کہیںرکھ دیا جاتاہے۔

 کیڑوں اورسنڈیوں کی بر وقت اطلاع:

سائنس دانوں نے کیڑوں اورسنڈیوں کی ابر وقت اطلاع دینے والہ آلہ تیار کر لیا ہے۔اس کی مدد سے صرف چھ منٹ میںفصلوں کے لگنے والے کیڑے مکوڑود ں اور سنڈیوں کا پتہ چل جائے گا۔ جیسے ہی فصل پر کسی نقصان دہ کیڑے کا حملہ ہوتے ہی یہ جلد از جلد سگنل دیگی، یوں یہ آلہ فصل کو مزید نقصان سے بچا لے گا، سنڈی ، مکھیاں اور تیلے چھ سات منٹ سے زیادہ دیر تک نقصان نہیں کر سکیں گے۔

Spensa Technology

یہ ایک سافٹ ویئر ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے کاشت کاراپنے رقبوں کا مکمل ریکارڈ رکھ سکیں گے۔انہیں پتہ چل جائے گا کہ کس موسم میں انہوں نے کون کون سی فصل کاشت کرنی ہے۔ زمین کی ساخت ،کھاسدوں اور دوسرے زرعی مداخل کے بارے میں بھی جب چاہیں گے، اس آلہ کی مدد سے سب کچھ جان جائیں گے ۔

 

زراعت صوبائی معاملہ ہے مگر وفاق بھی کچھ کرنا چاہتا ہے؟

 

ہمرے ہاں زرعی شعبے میں چار فیصدزوال آیا ہے،اسی لئے وفاقی حکومت نے کئی درجنوں ارب روپے کے منصوبوں کے لئے سالانہ پی ایس ڈی پی میں 12ارب روپے رکھے ہیں ۔جبکہ کئی سو ارب روپے ریلیف کی شکل میں دیئے گئے ہیں جو آئی ایم ایف کے پیکج کے بعد ختم ہو سکتا ہے۔حکومت نے صوبوں کی معاونت سے 280ارب روپے کا پانچ سالہ زرعی ترقیاتی پروگرام بنایاہے ۔پانی کے تحفظ اور ذخیرہ کرنے والی چھوٹی سکیموں پر 218ارب روپے روپے خرچ ہوں گے۔ گندم، چاول،کپاس کی فی کس پیداوار میں اضافے پر 44.8ارب روپے رکھے جائیں گے ۔بچھڑوں کی افزائش اور لایئوسٹاک سیکٹرکے چھوٹے اور درمیانے فارمز کی مددپرمزید 5.6اروب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔وفاقی حکومت زرعی ٹیوب ویلوں کو آئی ایم ایف کے دبائو کے باوجود بلوچستان کے کاشت کاروں کو سبسڈی جاری رکھی جائیگی۔ چھوٹے کاشت کاروں کو فصلوں کی انشورنس کی سہولت بھی حاصل ہو گی، قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصان کو آئندہ حکومت برداشت کرے گی۔ اس سلسلے میں دو ارب روپے تو اسی سال میں خرچ ہوں گے۔

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں روٹی کی فراہمی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے کئی منصوبے جاری کئے ہیں۔محکمہ نیشنل فوڈ سکیو رٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کے ماتحت 22سکیموں پر چند سال میں کم از کم گیارہ ارب روپے خرچ ہوں گے۔ان میں شامل 40کروڑ روپے کا ایک منصوبہ بچھڑوں کی افزائش سے متعلق ہے۔دس کروڑ روپے جاری بھی کر دیئے گئے ہیں۔(Calf Feedlot in Pakistan)نامی اس منصوبے کا مقصد ملک میں گوشت کی کمی کو دور کرنا ہے۔تاہم یہ بالکل نیا منصوبہ ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکاہے۔ بھچڑوں کی حفاظت سے متعلق ایک اور پروگرام پر 86کروڑ روپے خرچ ہوں گے، رواں برس کے لئے 20کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ایک اور بڑا اور اہم منصوبہ بارانی ایریا میں جاری کیاگیا ہے ۔ 3.5ارب روپے کے اس منصوبے کی مدد سے خیبر پختونخوا میںکے بارانی علاقے میں پانی کی بچت اور موثر استعمال کے کام کو فعال اور قابل عمل بنایا جائے گا۔اسے پانچ سال میں مکمل کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے ۔بارانی علاقے کے کمانڈ ایریا میں میں منی ڈیمزکی تعمیر پر بھی کام ہو رہا ہے۔یہ 11ارب روپے کامنصوبہ ہے جس کے دس فیصد فنڈز جاری کئے جاچکے ہیں۔سابق جنرل پرویز مشرف نے نہروں سے کھیتوں تک آبی راستوں اور کھالوں کو پکا کرنے کے لئے کئی منصوبے جاری کئے تھے۔ آپ اسے اس دور کے میگاپراجیکٹس میں شامل کر سکتے ہیں ۔پنجاب میں ان منصوبوں کا حجم 28ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔فیز ٹو56ارب روپے سے مکمل ہو گا۔ رواں مالی سال میں اس منصوبے پر ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ ہوں گے۔منصوبہ اچھا ہے مگر اس کی نگرانی کرنا ہو گی کیونکہ سیاسی مداخلت منصوبے کی افادیت کو کم کر دیتی ہے۔اسی برس سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے سوا چار ارب روپے کا ’’نیشنل آئل سیڈز بڑھوتری پروگرام‘‘ منظور کیا ہے ۔’’شرمپ فارمنگ کلسٹر‘‘ کا پائلٹ پراجیکٹ بھی جاری رکھا جائے گا۔اس پر 1.4ارب روپے خرچ ہوں گے۔ہم طویل عرصے چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں قابل ذکر اضافہ کرنے میںکامیاب نہیں ہو سکے۔دنیا کی بہترین اقسام کے چاول کا گھر ہونے کے باوجود کئی سال پابندیوں کی نظر ہو جاتے ہیں۔ اس کے لئے حکومت نے چار ارب کا ایک پانچ سالہ پروگرام شروع کیا ہے۔ 20کروڑ روپے رکھ دیئے ہیں۔گندم کی پیداوار میں اضافے کے منصوبیت پر 7ارب روپے(رواں برس میں65کروڑروپے)،گنے کی پیداوار میں اضافے پر 1.23ارب روپے(رواں برس میں20کروڑروپے)،کپاس کی پیداوار میں اضافے پر 30کروڑروپے(رواں برس میں5کروڑروپے)،اجناس کی پیداوار میں اضافے پر 2.6ارب روپے(رواں برس میں10کروڑروپے)،شمالی علاقی جات میں ٹرائوٹ مچھلی کی فارمنگ پر1.5ارب روپے(رواں برس میں20کروڑروپے)،مویشیوں کے منہ کھر کی بیماریوں کے علاج پر76کروڑ روپے(رواں برس میں11.4کروڑروپے)اور مویشیوں اور پودوں کی افزائش کے لئے جینوم ٹیکنالوجی کے استعمال پر44کروڑ روپے(رواں برس میں17کروڑروپے) خرچ ہوں گے۔

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

ممی ڈیڈی گندم

ہم من حیث القوم دراصل اتنے سست ہیں کہ ممی ڈیڈی بچوں والی شکل اختیار کر چکے ہیں،

...

مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ سورہ نسا میں ارشاد فرماتا ہے کہ،

...

مزید پڑھیں

پچھلے دنوں کئی واقعا ت میں قاتل ڈور نے متعدد افراد کی جان لے لی، کراچی سے لاہور تک ان کے قاتل کہیں چھپے ہوئے ہیں، جنہیں اب تک پکڑا نہیں جا ...

مزید پڑھیں