☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) خصوصی رپورٹ(محمد نعمان چشتی) عید اسپیشل(طیبہ بخاری ) عید اسپیشل(سید علی شاہ نقوی) عید اسپیشل(ڈاکٹر آئی اے خان) عید اسپیشل(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) عید اسپیشل(عبدالحفیظ ظفر) عید اسپیشل() غور و طلب( عبدالماجد قریشی ) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
عوام کیسے منائیں عید

عوام کیسے منائیں عید

تحریر : طیبہ بخاری

06-02-2019

مہنگائی کے بھنور میں پھنسے مفلوک الحال عوام کی عید کیا ہو گی ۔

غربت کی دلدل میں دھنسے عوام کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

لبوں پہ رنگ تبسم نہ دل میں موجِ سرور ۔۔۔

میرے وطن کے غریبوں کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

جب تک تمام شہر مہکتا نہ پائیں ہم ۔۔۔

کیسے یہ عید کی خوشیاں منائیں ہم ۔۔۔

کیسے عید کی خوشیاں منائیں ہم ۔۔۔جبکہ اعدادو شمار یہ بتا رہے ہیں کہ قومی ایئر لائن(پی آئی اے) اسٹیل ملز اور واپڈا سمیت دیگر سرکاری اداروں پر قرضوں کا بوجھ 1593ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے سرکاری ادارے عوام کی جیبوں پر بھاری پڑنے لگے ہیں ۔ ۔ رواں مالی سال کے 9 ماہ میں سرکاری ادارے مزید 294 ارب روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔سٹیٹ بینک کے مطابق سرکاری اداروں کے قرضے 1593 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔مارچ 2019 ء تک قومی ائیرلائن پر واجب الادا قرضے 156 ارب روپے، واپڈا کے قرضے 88 ارب روپے، پاکستان اسٹیل ملز جو گذشتہ4 سال سے مکمل بند ہے، قرضوں کا حجم 43 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اس کے علاوہ دیگر سرکاری ادارے اس وقت 1084 ارب روپے کے مقروض ہیں۔

کیسے عید کی خوشیاں منائیں ہم ۔۔۔۔۔کہ کہا جا رہا ہے کہ ’’تبدیلی ‘‘ کے خواہشمند عوام کو ابھی مزید 2ماہ مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان تسلیوں کیساتھ ساتھ حوصلہ بھی دے رہے ہیں ، گورنر ہائوس کراچی میں پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات میں انکا کہنا تھا کہ ’’قوموں پر ہم سے زیادہ بُرا وقت آیا ہے‘ ہمارے لئے مزید 2 ماہ مشکل ہیں ،آپ کو یقین دلاتا ہوں یہ ملک آپ کے سامنے کھڑا ہوگا ‘دنیا ہماری مثال دے گی‘وہ دن دور نہیں جب لوگ باہر سے یہاں نوکریاں کرنے آئیں گے‘قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھی جلدقوم سے رجوع کروں گا ‘8ماہ میں بجلی بلوں کی وصولی میں 81ارب روپے کا اضافہ ہوا‘ سرکلر ڈیٹ پہلے ہی 38 ارب روپے ماہانہ سے کم ہو کر 26 ارب روپے تک آ چکا ہے اور آئندہ دسمبر تک یہ صفر ہو جائے گا

80فیصد علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی‘ سابقہ حکمرانوں نے معیشت کو کرپشن سے تباہ کر دیا‘میرا مشن پاکستان سے غربت مٹانا ہے جس میں تاجر برادری میرا ساتھ دے ‘تاجر برادری سے التماس ہے کہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں‘ 22سال سیاسی جدوجہد اس لئے نہیں کی کہ دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالیں بلکہ اس لئے کی ہے کہ پاکستان کو چوروں اور ڈاکوئوں سے بچائیں،ملکی وسائل لوٹنے والے چوروں کو نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ تبدیلی سرکار نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ حکومتی خرچے اور پروٹوکول کم کریگی اور اس نے اس سلسلے میں کچھ کوشش بھی کیں لیکن 9ماہ میں اخراجات اور پروٹوکول میں اتنی تیزی سے کمی نہیں آئی جتنی شدت سے دعوے کئے جا رہے تھے ۔ عوام میں پائے جانیوالے انہی خدشات اور شکایات کے مد نظر شائد اسی لئے ایک بار پھرکپتان کی حکومت نے فوجی و سول اخراجات کم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا حاصل کرلیاہے، بجلی ،گیس ، تیل پر سبسڈی دیں گے،آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے پہلے معاہدہ عام نہیں کرسکتے، تنقید کرنیوالے یہ بتائیں کون آئی ایم ایف نہیں گیا،5550ارب روپے کا بجٹ دیں گے،ہائوسنگ پروجیکٹ سے 28 شعبوں میں نوکریاں پیدا ہونگی، 12ماہ میں ملک استحکام کی طرف جائیگا، گردشی قرضوں کو 2020ء تک صفر کر دیں گے۔

رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے خسرو بختیار، عمرا یوب اورفردوس عاشق کیساتھ پریس کانفرنس میںعوام کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ 12ماہ میں ملک استحکام کی طرف جائیگا، اخرجات کم اور بچت کو فروغ دیں گے حالات بگڑنے سے روکنے کے اقدامات کر لئے ہیں ،بجٹ سے پہلے اور بعد میں اہم فیصلے کریں گے ، غریب طبقے کو سبسڈی دیں گے ، زیادہ سے زیادہ نوکریاں دینے کی کوشش بھی کی جائیگی 1لاکھ 52 ہزار ٹیکس نادہندگان کا ڈیٹا حاصل کر لیاہے،ہمارا سیاسی نعرہ ووٹ کو عزت دو والا نہیں، فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں ، سرحدوں کی حفاظت سب سے اہم کام ہے، ہمارے لئے چیلنج بات کم اور کام زیادہ کرنا ہے، امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی 2017ء میں شروع ہوئی تھی، آنے والے دنوں میں معیشت کے حالات بہتر ہو جائیں گے،

پاکستان کیلئے اختلافات کو پس پردہ رکھنا ہو گا، پی ایس ڈی پی پروگرام کو بڑھایا جائے گا۔ فاٹا کیلئے اضافی 46ارب روپے رکھیں گے۔ اخراجات کم کرنے سے متعلق حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے سول و فوجی اخراجات کم کیے جائیں گے۔ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ یہ سال ملکی معیشت کے استحکام کا سال ہے، بجلی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے بجٹ میں 316ارب روپے مختص ہونگے، احساس پروگرام کمزور طبقے کیلئے بنایا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں تو ہم بھی قیمتیں بڑھانا کیلئے مجبور ہونگے، تیل کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی مہنگی ہوتی ہے، 300 یونٹ استعمال کرنے والوں پر بوجھ نہیں ڈالیں گے، آئی ایم ایف میں جانا نئی بات نہیں، پاکستان کئی بار جا چکا ہے، آئی ایم ایف کو ممبر ممالک کی مدد کیلئے بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی اسکیم بہت آسان بنائی، فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اثاثہ جات سکیم کے تحت نقد رقوم بینک میں ظاہر کرنا ہونگی، 28 ممالک سے پاکستانیوں کے بینک اکائونٹس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، ایمنسٹی اسکیم سے ٹیکس نادہندگان خزانے کاحصہ بن سکیں گے، درآمدات میں 4 ارب ڈالرز کی کمی کی گئی، ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا، آئندہ چند ہفتوں میں معیشت سے متعلق مزید اچھی خبریں آئیں گی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے حوالے سے اچھی رپورٹس آ رہی ہیں سٹاک مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ملک میں ہسپتال، سڑکیں بنانا چاہتے ہیں اس کیلئے ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہے، پہلے ہی ٹیکس بھرنے والے پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے، ریونیو بڑھانے کیلئے ایف بی آر کی کمان شبر زیدی کے حوالے کی ہے معیشت کو کئی مسائل در پیش تھے، ایکسپورٹ کی گذشتہ 5 سال میں گروتھ صفر تھی جب حکومت سنبھالی تو ملک پر31ہزار ارب قرضہ تھا، دوست ممالک سے 9ارب ڈالرز سے زائد کی امداد ملی۔

چیئر مین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے مطابق بے نامی ایکٹ کے تحت اثاثے ضبط اور سزا ہو سکتی ہے، یکم جولائی کے بعد بے نامی اثاثوں کے خلاف ایکشن ہو گا، بینک اکائونٹ منجمد کرنے سے 24 گھنٹے پہلے آگاہ کیا جائے گا، ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا، کاروباری افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں،ہمارا بنیادی فلسفہ کاروباری افراد کا اعتماد ہر حال میں بحال کرنا ہے، کاروباری طبقے کو ٹیکس ادائیگی کیلئے سہولیات دیں گے۔

وفاقی وزیر عمر ایوب خان کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن )کی حکومت نے الیکشن جیتنے کیلئے بجلی بل نہ بھرنے والوں کو بھی بجلی دی، تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر روکے رکھا گیا، سابق حکومت نے پاور سیکٹر، پلاننگ اور معیشت کیلئے ہمارے آگے بارودی سرنگیں بچھائیں، ہم انہیں آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں، (ن) لیگ کی نااہلی سے گردشی قرضہ 450 ارب روپے تک پہنچا، 31دسمبر 2020ء تک گردشی قرضوں کو صفر کر کے دکھائیں گے، بلوں کی وصولی میں 8ماہ کے دوران 81ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، آج 80 فیصد علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو چکی ہے۔

یہاں یہ یاد رہے کہ آئندہ مالی سال 20 - 2019کا وفاقی بجٹ 11جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا قومی اقتصادی سروے 10جون کو جاری کیا جائیگا جس کے اگلے روزوفاقی بجٹ پیش کیا جائیگا۔ اے پی سی سی میں آئندہ مالی سال 2019-20کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں انفراسٹر کچر کیلئے371ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس میں سے توانائی کے شعبے کیلئے 80ارب روپے ، ٹرانسپورٹ و کمیونیکیشن کیلئے 200ارب روپے ، پانی کے شعبے کیلئے 70ارب روپے ، فزیکل پلاننگ و ہائوسنگ کیلئے 21ارب روپے جبکہ پی ایس پی ڈی کیلئے 925ارب روپے مختص کرنیکی سفارش کی گئی ہے جسکی حتمی منظوری قومی اقتصادی کونسل دے گی ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال 2018-19میں اہم فصلوں کے مقررہ ہدف 3فیصد کی مقابلے میں شرح نمومنفی 6.5فیصد ، لائیوسٹاک کے مقررہ ہدف 3.8فیصد کے مقابلے میں 4فیصد، جنگلات کے ہدف 8.5فیصد کے مقابلے میں 6.5فیصد ، فشریز کے ہدف 1.8فیصد کے مقابلے میں 0.8فیصد رہی ، کان کنی کے شعبے میں ہدف 3.6فیصد کے مقابلے میں شرح نمو منفی 1.9فیصد ، منیوفیکچرنگ کے ہدف 7.8فیصد کے مقابلے میں منفی 0.3فیصد ، لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے ہدف 8.1فیصد کے مقابلے میں منفی 2 فیصد رہی ، چھوٹی اور گھریلوصنعتوں کی پیداوار کاہدف 8.2فیصد حاصل کر لیا گیا ، بجلی کی پیداوار اور گیس ڈسٹربیوشن کے ہدف 7.5فیصد کے مقابلے میں 40.5فیصد شرح نمو رہی ، تعمیرات کے شعبے کے ہدف10فیصد کے مقابلے میں شرح نمو منفی 7.6فیصد رہی ، ٹرانسپورٹ ، سٹوریج اور کمیونکیشن کے ہدف 7.8فیصد کے مقابلے میں 3.1فیصد ، فنانس و انشورنس کے ہدف 7.5کے مقابلے میں شرح نمو 5.1فیصد رہی ،جنرل گورنمنٹ سروسز کے ہدف 7.2کے مقابلے میں 7.9فیصد اور دیگر خدمات کے شعبے میں ہدف 6.8فیصد کے مقابلے میں شرح نمو7فیصد رہنے کی توقع ہے۔ ۔۔۔۔

ان تمام حالات و واقعات کی روشنی میںعوام کے دلوں میں یہ جذبات ضرور جنم لیتے ہونگے کہ

عید کا چاند ہے خوشیوں کا سوالی اے دوست

اور خوشی بھیک میں مانگ سے کہاں ملتی ہیں

دست سائل میں اگر کاسئہ غم چیخ اٹھے

تب کہیں جا کے ستاروں سے گراں ملتی ہیں

عید کے چاند ! مجھے محرم عشرت نہ بنا

میری صورت کو تماشائے الم رہنے دے

مجھ پہ حیراں یہ اہل کرم رہنے دے

دہر میں مجھ کو شناسائے الم رہنے دے

یہ مسرت کی فضائیں تو چلی جاتی ہیں !

کل وہی رنج کے، آلام کے دھارے ہوں گے

چند لمحوں کے لیے آج گلے سے لگ جا

اتنے دن تو نے بھی ظلمت میں گزارے ہوں گے

 

 

4 نکاتی حکمت عملی اور 55 کھرب کا ہدف

میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے آئندہ مالی سال کے 5500ارب روپے کے ریونیو ہدف کے حصول کیلئے 4 نکاتی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ 4 نکاتی حکمت عملی کے تحت 500ارب روپے کے موجودہ ٹیکس استثنیٰ میں سے 300ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا جائیگا ، 775ارب روپے سے زائدنئے ٹیکس لگائے جائیں گے ، نان فائلر کو ٹیکس نظام میں لانے کیلئے سخت کارروائی کی جائیگی اور حکمت عملی کا چوتھا نکتہ یہ ہے کہ چھوٹے تاجروں ، دکانداروں کیلئے خصوصی سکیم لائی جائے گی اور ان پر فکسڈ ٹیکس نافذ کیا جائیگااور ہرشعبے پر مساوی بنیادوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائیگا، آئندہ مالی سال کیلئے ریونیو کے موجودہ ہدف میں 4398ارب روپے میں 1102ارب روپے اضافہ کر دیا گیا ہے اور ہدف 5500ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ صنعت کے 5 برآمدی شعبوں کا زیرو ریٹ کی سہولت بھی ختم کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے اور اس کی جگہ ان کو دیگر مراعات فراہم کی جائینگی، ٹیکسٹائل ، قالین بافی لیدر ، کھیلوں کے سامان اور آلات جراحی کے 5 برآمدی شعبوں کی مقامی فروخت پر ٹیکس عائد کیا جائیگا ۔مقامی مارکیٹ میں ان 5شعبوں کی فروخت کی آمد ن 10کھرب روپے سے زائد ہے اور اب ان کی مقامی سیل پر بھی ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے ، 5برآمدی شعبوں کے ریفنڈنظام کو بہتر کیا جائیگا تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں ، اور ایسے شعبے جن پر سیلز ٹیکس کی 17فیصد سے کم شرح نافذ ہے ان کے جی ایس ٹی کو بڑھا کر 17فیصد کرنے کی بھی تجویز ہے۔

 دوسری جانب معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ کہ ایف بی آر کو مالی وصولیوں کا ہدف دیا جائے اس کیلئے مالی وصولیوں میں 34 فیصد اضافہ کرنا ہو گا۔ ایسا ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ایف بی آر کو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کیلئے آئندہ مالی سال میں 1450 ارب روپے اضافی جمع کرنا ہوں گے۔ بھاری ٹیکس لگانے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو بجٹ خسارے کی بنیاد پر سہ ماہی ہدف حاصل کرنا ہو گا۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا حکومتی اقدام کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سال بھر میں مالی وصولیوں میں 34 فیصد اضافہ صاف ناممکن ہے جبکہ اقتصادیات پہلے ہی سے لڑکھڑا رہی ہے اور پائوں رگڑ رہی ہے۔ مالی اعدادوشمار بڑھا کر تمام تر اخراجات کو کھپانے کا یہ پرانا طریقہ ہے آخرکار اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق پاکستان دفاعی بجٹ میں کٹوتی کا متحمل نہیں ہوسکتا ، آئندہ بجٹ میں 55 کھرب روپے مالی وصولیوں کا ہدف ملکی اقتصادیات کو ہلا دے گا۔ 1837 ارب روپے تک ترقیاتی بجٹ، بجلی اور گیس صارفین پر 216 ارب کے اخراجات، 30 ارب روپے فوڈ سبسڈی اور 80 ارب روپے کے احساس پروگرام، 0.6 فیصد ابتدائی خسارہ کے ایڈجسٹمنٹ کا اثر دفاعی بجٹ پر پڑے گا۔ 55 کھرب روپے کا ہدف مذاق نظر آتا ہے ہر کسی کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ یہ ہدف کیونکر حاصل کیا جا سکے گا۔ 10 کھرب روپے کے اضافی ٹیکس کیسے نافذ کئے جا سکیں گے۔ موجودہ بجٹ پہلے ہی قابو سے باہر ہے یہ بھی عین ممکن ہے کہ تین چار ماہ بعد خامیاں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں۔ ٹیکسوں میں 34 فیصد بڑھوتری کا ہدف سمجھ سے بالاتر اور صاف ناممکن جبکہ 4 فیصد شرح نمو کا ہدف بھی مشکوک ہے۔ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی شرح نمو 2.7 اور2.8 فیصد کے درمیان بتائی ہے۔

ابتدائی معاشی بیانیے کی ناکامی کا اعتراف

 

ایک طرف مشکلات میں گھری معیشت اور مہنگائی کی زنجیروں میں جکڑے عوام ہیں اور دوسری جانب حکومتی ٹیم کے ’’اعترافات ‘‘ ہیں جو غریب عوام کے دکھوں اور خدشات میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث بن رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا یہ کہنا کہ’’ ہمارا ابتدائی معاشی بیانیہ کامیاب نہیں ہوا اسی لئے ٹیم تبدیل کی ۔ حکومت کا معاشی پلان ناکام ہے تو اپوزیشن کا پلان کہاں ہے؟حکومت کی معاشی کارکردگی بہتر نہ ہونے کا فائدہ اپوزیشن کو نہیں پہنچے گا بلکہ تیسری حکومت بن سکتی ہے۔‘‘

ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں وفاقی وزیر فواد چودھری ، پیپلز پارٹی کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر اور( ن) لیگ کے رہنما سینیٹر مصدق ملک شریک تھے۔مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ’’ وزراء کی تبدیلی سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کی حکومت پر گرفت کتنی ہے،سب کو پتا ہے وزارتوں میں تبدیلی کا آغاز کہاں سے شروع ہوا، تبدیلیوں کا یہ سفر پنجاب میں وزیراعلیٰ کی طرف بھی جانا ہے، حکومت معاشی اور خارجی چیلنجز سے نمٹنے میں مکمل ناکام ہے۔ پیپلز پارٹی دور میں حفیظ شیخ کو وزیرخزانہ لگانے میں آئی ایم ایف کا کچھ عمل دخل تھا۔حکومت کو عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ نہیں ہے، معیشت قومی سلامتی کا معاملہ بن گئی ہے۔ لوگوں کے حقیقی مسائل سے دور رہنا سیاسی جماعتوں کیلئے مشکل ہورہا ہے، عوام تقاضا کررہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں رمضان کے بعد حکومت سے جان چھڑائیں، عمران خان وزارت عظمیٰ نہیں چلاسکتے ان کی صلاحیتوں پر سوالات ہیں، پارلیمنٹ میں اِن ہائوس تبدیلی آجائے تو بہتر بات ہے، کو ئی بھی باصلاحیت شخص چاہے پی ٹی آئی سے کیوں نہ ہو اسے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالنی چاہئے، جو اپوزیشن کے ساتھ تعلقات ٹھیک کرسکے اور میثاق معیشت کرے، عمران خان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے کوئی تیار نہیں ۔‘‘

(ن) لیگ کے مصدق ملک کے مطابق ’’ کابینہ میں زیادہ تر تبدیلیاں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایجادات ہیں، کابینہ میں غیرسیاسی کرداروں کو لایا گیا ہے، فردوس عاشق اعوان اور فواد چودھری کی زبان برابر ہے مگر فواد زہریلے زیادہ ہیں، پی ٹی آئی سے حکومت نہیں چل سکتی جس سے چل سکتی ہے اسے لائیں۔ پچھلے 5سال میں ہر سال بیس سے پچیس فیصد ٹیکس بڑھ رہا تھا، کوئی ایسی پالیسی نہیں ہونی چاہئے جس سے مہنگائی اور بیروزگاری بڑھے۔ عمران خان نے 6 مہینے میں پانچ سال کی ترقی برباد کردی۔‘‘

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کے مطابق ’’ آئی ایم ایف کا ہمارا ماڈل وہی ہے جو پیپلز پارٹی اور (ن )لیگ کا ہے، وزیراعظم نے نئی معاشی ٹیم لگائی اس کی کارکردگی دیکھنی چاہئے، حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ بنانے سے ہمارے بیانیہ کو ضعف پہنچا ، دیکھنا ہوگا کہ نئی معاشی ٹیم ماضی سے کس طرح مختلف ہوگی، آصف زرداری کہتے ہیں کہ حفیظ شیخ ہماری پارٹی کے نہیں ہیں، وہ ٹیکنوکریٹس ہیں حکومتوں میں آتے ہیں کام کر کے چلے جاتے ہیں،( ن) لیگ کی کابینہ میں 59لوگ پرویز مشرف کے تھے۔ ہمارا ابتدائی معاشی بیانیہ کامیاب نہیں ہوا اسی لئے ٹیم تبدیل کی ۔ وزیراعظم بہت تحمل سے لوگوں کی بات سنتے ہیں، (ن )لیگ اور پیپلز پارٹی کے قرضوں کا بوجھ ہم اتار رہے ہیں، کسی حکومت کو جانچنے کیلئے ایک سال بہت کم وقت ہے۔‘‘

 

مزید پڑھیں

عید کیک

اجزاء:۔ماارجرین یا مکھن250گرام(سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)،لیموں کے ...

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے بعد ’’عید الفطر‘‘ کا مبارک دن بھی آ گیا ہے، حقیقی عید تو آج انہیں خوش نصیب لوگوں کی ہے جنھوں ن ...

مزید پڑھیں

عید مسلمانوں کے دو تہواروں کا نام ہے۔ یہ خوشی اور فرحت کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے کہ عید سے مراد وہ دن ہے ج ...

مزید پڑھیں

یوں تو پاکستان بھر میں عیدالفطر جسے میٹھی عید کہا جاتا ہے بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے مگر دوسرے صوبوں یا علاقوں کی طرح سرائیکی خطے م ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی خواتین کی تیاری بھر پور ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ پارلرز کے چکر تو لگاتی ہی ہیں لیکن اگر آپ کے پاس پارلر جانے کا وقت ن ...

مزید پڑھیں

عیدِ قُرباںکے موقع پر گوشت کو احتیاط سے کھائیں۔دن بھر میں صرف ایک پائو گوشت نقصان نہیں دیتا ،تاہم ذیا بطیس اور امراضِ قلب کے مریض گائے کے ...

مزید پڑھیں

عیدالاضحی ایک اجتماعی تہوار ہے مگر افسوس کہ ہم اجتماعیت سے پرہیز کرتے ہیں تین دن جاری رہنے والے اس تہوار کے اثرات کئی ہفتوں اور اور مہینو ...

مزید پڑھیں