☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) خصوصی رپورٹ(محمد نعمان چشتی) عید اسپیشل(طیبہ بخاری ) عید اسپیشل(سید علی شاہ نقوی) عید اسپیشل(ڈاکٹر آئی اے خان) عید اسپیشل(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) عید اسپیشل(عبدالحفیظ ظفر) عید اسپیشل() غور و طلب( عبدالماجد قریشی ) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
سرائیکی وسیب میں میٹھی عید کے میٹھے پکوان

سرائیکی وسیب میں میٹھی عید کے میٹھے پکوان

تحریر : سید علی شاہ نقوی

06-02-2019

یوں تو پاکستان بھر میں عیدالفطر جسے میٹھی عید کہا جاتا ہے بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے مگر دوسرے صوبوں یا علاقوں کی طرح سرائیکی خطے میں بسنے والے لوگ میٹھی عید ذرا مختلف انداز سے مناتے ہیں۔ وسیب میں میٹھی عید کو میٹھے پکوان انتہائی ذوق و شوق سے پکائے اورکھائے جاتے ہیں ۔

ایسے پکوانوں کے عارضی سٹالز بھی سجھتے ہیں جہاں خریدنے والوں کا رش رہتا ہے۔ وسیب میں عید کا آغاز لوگ صبح سویرے فجر کی نماز کی ادائیگی سے کرتے ہیں اور اس کے فوری بعد اپنے عزیز و اقارب کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ قبرورں کی صفائی، ستھرائی کر کے پھول چڑھاتے ہیں پانی کا چھڑکاؤ کرنے کے علاوہ خوشبو عام کرنے کے لئے اگر بتیوں کابھی استعمال کرتے ہیں۔ غسل کر کے نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ مسواک کا استعمال بھی کرتے ہیں اور پھر کپڑوں پر خوشبو لگا کر اپنے بچوں، والدین یا بھائیوں کے ہمراہ نماز عید کی ادائیگی کے لئے ٹولیوں کی شکل میں گھر سے نکل آتے ہیں۔ گرمیوں میں لوگ، بچے، بوڑھے اور جوان، دھوپ کی شدت سے بچنے کے لئے سر پر کپڑا رکھتے،

عینکوں اور ٹوپیوں (Cap) کا استعمال کرتے ہیں۔ آج کی نئی نسل جینز زیادہ استعمال کر رہی ہے۔ پینٹ اور شرٹ کے عجیب نمونے دکھا ئی دیتے ہیں۔ سرائیکی وسیب کے نوجوان لڑکے اس فیشن کو بے حد اپنائے ہوئے ہیں اور یہ رجحان تیزی کے ساتھ فروغ پا رہاہے۔ عیدالفطر کے تین روز تو یہ فیشن عروج کو چھو رہا ہوتا ہے۔ بحر کیف نماز عید کی ادائیگی کے بعد لوگ اٹھ کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔

عید ملنے کے بعد جیسے ہی مسجد سے باہر آتے ہیں۔ بچے والد کو یا بھائی کو گھیر لیتے ہیں اور عید کے حوالے سے خصوصی طور پر تیار کئے گئے آیٹم خرید کر ہی سانس لیتے ہیں۔ لکڑی کی ٹانگوں والے بھوسے سے تیار اور رنگین کاغذ کی تہہ میں مکمل ہونے والے گھوڑے بڑی مقدار میں خریدے جاتے ہیں۔ اسی طرح گھمانے والی چڑخی اور سوت کے دھاگوں سے بنا ہوا جھولا کاغذی گتے اور سر کنڈے سے بنی ہوئی دلکش ڈگڈگی بچوں کے لئے ایک خاص تفریح کا سامان ہوتی ہے اور یہ وہ آیٹم ہیں جو صرف عیدالفطر یا عیدالاضحی کو ہی فروخت ہوتے ہیں۔

اس کے بعد یہ آیٹم سارا سال کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ خرید و فروخت کے بعد مرد حضرات گھر آتے ہیں اپنی والدہ کی قدم بوسی کرتے ہیں اور بزرگوں کی دعائیں لیتے ہیں اور ساتھ ہی میٹھے پکوانوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے سویوں کی باری آتی ہے۔ میٹھی سوئیاں اور ساتھ دودھ کا استعمال ہوتاہے۔ اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا جاتا ہے، کھیر، دودھ میں بنے ہوئے رس گلے، رس ملائی، ملتانی سوہن حلوہ، مختلف اقسام کے کیک، مٹھائی اور ساتھ ہی ساتھ کولڈ ڈرنکس، جوسز، شربت، ملک شیک کا خوب استعمال ہوتا ہے۔ مہمانوں کی خوب خاطر تواضع کی جاتی ہے۔ وسیب میں عید کے دن کچھ مزید خصوصی سٹالز، ریڑھیاں اور دکانیں بھی عارضی طور پر لگائی جاتی ہیں۔ جہاں عوام کا رش رہتاہے اور مختلف جگہوں پر ڈولی روٹی، گول گپے، تازہ آلو چھولے، عام روٹین سے ہٹ کر بنائے جانے والے دہی بھلے اور دیگر نمکین پکوان بھی فروخت ہوتے ہیں۔ گرمیوں کی وجہ سے لوگ اپنے اپنے گلی محلوں اور کالونیوں میں مل بیٹھنے کے لئے عارضی طور پر تمبو قناتیں لگا لیتے ہیں اور کسی گھر سے تار کھینچ کر پنکھا بھی لگا لیتے ہیں اور ٹینٹ ہاؤس سے کرائے کی کرسیاں لے لی جاتی ہیں تاکہ لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھ سکیں اور گپ شپ کر کے ساتھ ساتھ عید کو بھر پور طریقے سے انجوائے کر سکیں۔

خواتین کی تیاری تو چاند رات کو مہندی لگانے سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ بیوٹی پارلرز پر خواتین کا رش رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ اور پھر صبح رنگ برنگے کپڑے پہننے کے ساتھ ساتھ رنگ برنگی چوڑیوں اور جیولری کا بھی خوب استعمال ہوتاہے گھر کی فضا مہمانوں، کھانوں اور خوشبوؤں سے معطر ہو جاتی ہے۔ دیہاتی علاقوںمیں شام کے وقت علاقائی رقص اور بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں، بعض علاقوں میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کے ساتھ ساتھ شہنائیاں بھی بجائی جاتی ہیں، فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ایک دوسرے سے گانے سنتے اور سناتے ہیں۔

دیہاتی لوگ گھوڑا سواری اور گھوڑا رقص سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایسی محافل میں کچھ بزرگ پرانی یادیں بھی تازہ کرتے ہیں ان کے ہاتھ میں سگار یا سگریٹ کی بجائے پرانے دور کے حقے ہوتے ہیں۔ جسے وہ عید کے دن خصوصی صفائی کر کے اس کی چمک دمک میں اضافہ کر کے لمبی سی لڑی کے ذریعے دھواں اپنے جسم میں اتار کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور پرانے زمانے کی باتیں نئی نسل سے شیئر کرتے ہیں۔ ہمارے دور میں آٹا ایک رورپے کلو ہوا کرتا تھا ۔ بجلی کا بل 20 روپے آتا تھا۔ گھی 10 روپے کلو ملتا تھا۔ چینی 3 روپے کلو ملا کرتی تھی تو نوجوان ایسی باتیں سنکر حیران ہو جاتے ہیں۔

دیہاتی زندگی میں عید کے رنگ شہری زندگی سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی بساط کے مطابق مختلف طریقوں سے عید مناتے ہیں۔ اور پھر دیہاتی علاقوں کی اکثریت بڑے شہروں کا رخ کرتی ہے جس سے تفریحی مقامات اور سڑکوں پر بے پناہ رش ہو جاتا ہے۔ دیہاتی علاقوں سے آنے والی خواتین ٹریکٹر ٹرالی اور گدھا گاڑی کا بھی استعمال کرتی ہیں۔ یوں یہ لوگ دیہاتی رنگ دیکھنے کے ساتھ ساتھ شہری رنگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ اس تہوار کی ایک برکت یہ بھی ہے کہ موجودہ گھٹن زدہ ماحول میں جہاں پر دوسرا آدمی ذہنی پریشانی میں مبتلاہے وہاں اسے خود کو تروتازہ کرنے کا موقع بھی میسر آتاہے۔ پارکوں کے ساتھ ساتھ سوئمنگ پول، نہریں اوردریا کے کنارے بھی عوامی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔کئی فیملیاں تو شہر کے قریب میں واقع ٹیوب ویلوں کا رخ کر کے گرمی سے بچنے کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کو بھی دوبالا کرتی ہیں۔ امیر لوگ بڑے بڑے ہوٹلوں میں جا کر دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں،

جبکہ غریب لوگ چھوٹی چھوٹی دکانوں، ریڑھی اور پھٹوں پر بیٹھ کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے عید کو بھر پور انجوائے کرتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے دیہاتی علاقوںمیں کلچر کا ذرا اپنا ہی رنگ ہے۔ اس کلچر کے بارے میں جہاں اتنا ذکر کیا وہاں یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ وہاں ایک پرانی روایت چلی آرہی ہے کہ ایک ٹرے میں چینی یا مٹھائی، شربت کی بوتل۔ سویوں کا پیکٹ ایک دوپٹہ اور چند سو روے بطور جیب خرچ بھیجے جاتے ہیں۔ ایسے علاقوںمیں ڈیرے آباد رہتے ہیں۔ جھوک، بھیڑیں ، مور و دیگر پرندوں کو خاص طور پر روزِ عید آراستہ کرتے ہیں۔

سیاسی لوگوں کے ڈیروں پر بھی خوب گہما گہمی رہتی ہے۔ شہر ملتان جو کہ مدینۃ الاولیاء کہلاتا ہے۔ یہ سرائیکی وسیب کا مرکزی شہر ہے۔ اور عید کے تینوں دن مزارات پر بھی عقیدت مندوں کا رش رہتاہے۔ ملتان کا قدیمی قلعہ تو عوام سے بھر جاتا ہے۔ شہر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں سے بھی لوگ ادھر آتے ہیں۔ قلعہ پر موجود حضرت غوث بہاء الدین زکریاؒاور حضرت شاہ رکن عالمؒ کے مزارات موجود ہیں۔ جو فن تعمیر کا شاہکار ہیں۔ اس کے علاوہ اس تاریخی قلعہ پر ایک بڑاا سٹیڈیم، تاریخی دمدمہ و دیگر تاریخی چیزیں ہیں جس کی وجہ سے روز ِ عید سب سے زیادہ رش ملتان کے اسی تاریخی قلعہ پر ہوتاہے۔

مزید پڑھیں

عید کیک

اجزاء:۔ماارجرین یا مکھن250گرام(سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)،لیموں کے ...

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے بعد ’’عید الفطر‘‘ کا مبارک دن بھی آ گیا ہے، حقیقی عید تو آج انہیں خوش نصیب لوگوں کی ہے جنھوں ن ...

مزید پڑھیں

عید مسلمانوں کے دو تہواروں کا نام ہے۔ یہ خوشی اور فرحت کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے کہ عید سے مراد وہ دن ہے ج ...

مزید پڑھیں

مہنگائی کے بھنور میں پھنسے مفلوک الحال عوام کی عید کیا ہو گی ۔

غربت کی دلدل میں دھنسے عوام کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

لبوں پہ رنگ تبسم ن ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی خواتین کی تیاری بھر پور ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ پارلرز کے چکر تو لگاتی ہی ہیں لیکن اگر آپ کے پاس پارلر جانے کا وقت ن ...

مزید پڑھیں

عیدِ قُرباںکے موقع پر گوشت کو احتیاط سے کھائیں۔دن بھر میں صرف ایک پائو گوشت نقصان نہیں دیتا ،تاہم ذیا بطیس اور امراضِ قلب کے مریض گائے کے ...

مزید پڑھیں

عیدالاضحی ایک اجتماعی تہوار ہے مگر افسوس کہ ہم اجتماعیت سے پرہیز کرتے ہیں تین دن جاری رہنے والے اس تہوار کے اثرات کئی ہفتوں اور اور مہینو ...

مزید پڑھیں