☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل(محمد ندیم بھٹی) خصوصی رپورٹ(محمد نعمان چشتی) عید اسپیشل(طیبہ بخاری ) عید اسپیشل(سید علی شاہ نقوی) عید اسپیشل(ڈاکٹر آئی اے خان) عید اسپیشل(مولانا مجیب الرحمن انقلابی) عید اسپیشل(عبدالحفیظ ظفر) عید اسپیشل() غور و طلب( عبدالماجد قریشی ) فیشن(طیبہ بخاری ) صحت(حکیم قاضی ایم اے خالد) دین و دنیا(ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) کیرئر پلاننگ(پرفیسر ضیا ء زرناب) ادب(الیکس ہیلی ترجمہ عمران الحق چوہان)
عیدالفطر کی فضیلت

عیدالفطر کی فضیلت

تحریر : ڈاکٹر آئی اے خان

06-02-2019

عید مسلمانوں کے دو تہواروں کا نام ہے۔ یہ خوشی اور فرحت کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے کہ عید سے مراد وہ دن ہے جو ہر سال اپنے ساتھ نئی خوشیاں لائے۔ یکم شوّال المکرم کو عیدالفطر منائی جاتی ہے جس کا خاص روحانی اور مذہبی پس منظر ہے۔ عیدالفطر روزوں کے اہم فریضے کے ادا کرنے کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ روحانی اور معاشرتی لحاظ سے عیدالفطر کی بہت اہمیت ہے۔ عید کے ایام میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں کی خطائوں کی معافی کا اعلان فرماتے ہیں۔

عید کے دن دوسروں کی خوشیوں میں شامل ہونا دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ غمزدہ عزیز و اقارب کے دکھ میں شرکت ان کے زخموں کو مندمل کرتی ہے۔ الغرض عید اسلام میں ایک عظیم معاشرتی اور روحانی برکتوں والا تہوار ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے 2ہجری میں پہلی دفعہ عیدالفطر کی نماز ادا فرمائی۔ یہ نماز سنت مؤکدہ ہے۔ عید کی اصل روح دو رکعت نفل ہے جو انسان ادا کرتا ہے۔

عید خوشیوں اور مسرتوں کا پیغام لاتی ہے۔ یہ عبادت اس عہد کو تازہ کرتی ہے کہ زندگی بھر کی ہر خوشی و غمی کے لمحات یادِ الٰہی سے خالی نہیں ہونے چاہئیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے دو دن کھیل تماشے کے لیے مختص کررکھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے پوچھا کہ ’’دونوں کی حقیقت کیا ہے‘‘؟ لوگوں نے بتایا کہ زمانہ جاہلیت سے ہم نے ان دنوں کو کھیل تماشے کے لیے مختص کیا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا کہ’’ اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان دنوں کی بجائے دو بہتر دن عطا فرمائے ہیں‘‘۔

امام غزالی رحمۃ اللہ رقمطراز ہیں: ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تکبیروں کے ساتھ اپنی عیدوں کو آراستہ کرو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے عید کے تین دن سو بار یہ درود پڑھا سبحان اللہ وبحمدہ (اللہ پاک ہے اور اس کی حمد ہے) پھر اس کا ثواب تمام مسلمانوں مُردوں کو بخش دیا جائے، تو ہر قبر میں ایک ہزار نور داخل ہوگا اور جب یہ آدمی فوت ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار نور داخل کرے گا۔‘‘ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہر عید کے دن ابلیس چلا کر روتا ہے، دوسرے شیاطین اس کے پاس جمع ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں: اے ہمارے سردار کیوں ناراض ہو؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دن میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی امت کو معاف کردیا۔ اب تم پر لازم ہے کہ انہیں شہوات و لذات میں ڈال کر غافل کردو۔ حضرت وہب رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیدالفطر کے دن جنت کو پیدا کیا اور عیدالفطر کے دن ہی اس میں طوبیٰ (فرحت) کا درخت لگایااور عیدالفطرکے دن ہی حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر پہلی بار آئے اور عیدالفطر کے دن فرعون کے جادوگروں کی توبہ قبول ہوئی۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’جو عید کی رات کو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے قیام شب کرے اس کا دل اس دن نہیں مرے گا جس دن سب دل مرجائیں گے۔‘‘ حضرت ابوالحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے عمر بن حزم کو جب وہ نجران میں تھے لکھا کہ بقر عید کی نماز جلد پڑھو اور عیدالفطر کی نماز دیر سے پڑھو اور لوگوں کو وعظ سنائو۔ حضرت جابر بن معمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھی۔

ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدالفطر کے دن جب تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم چند کھجوریں نہ کھالیتے عید گاہ کو تشریف نہ لے جاتے اور آپ طاق کھجوریں تناول فرماتے۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عیدالفطر کے دن جب تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ تشریف نہ لے جاتے اور عیدالاضحی کے دن اس وقت تک کچھ نہ کھاتے جب تک نماز نہ پڑھ لیتے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم عید کے دن دو مختلف راستوں سے جاتے تھے۔ نماز عید کو طلوع آفتاب کے بعد سویرے ادا کرنا مسنون ہے۔ عید کے روز نماز عید سے پہلے گھر میں، مسجد میں یا عید گاہ میں کسی قسم کے نوافل مسنون نہیں۔

عید کے موقع پر مندرجہ ذیل امور سنت ہیں:(1) غسل کرنا، (2) مسواک کرنا، (3) خوشبو لگانا، (4) نئے یا صاف کپڑے پہننا، (5) عیدالفطر کے روز کچھ (خاص طور پر میٹھی چیز) کھانا، (6) عیدالفطر کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کردینا، (7) تکبیرات تشریق: اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمد، پڑھتے ہوئے عید گاہ کو جانا اور واپس لوٹنا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: المرغینانی: الھدایۃ)۔ عید کے موقع پر خوشی کے اظہار کے لیے بغلگیر ہونا اور خندہ پیشانی سے پیش آنا بھی مستحب ہے۔

عید کے دن صدقہِ فطر بھی ادا کریں جو صاحب نصاب پر واجب ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ فطر روزوں کو لغو اور گندی باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کی روزی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔(بحوالہ: ابودائود) صدقہ فطر کی ادائیگی کے بغیر روزے قبول نہیں ہوتے۔ فطرانہ کی ادائیگی کے بغیر روزے آسمان میں معلق رہتے ہیں۔طلوع آفتاب سے کچھ بعد بغیر اذان و اقامت کے چھ زائد تکبیروں کے ساتھ دو رکعت نماز عید جماعت پڑھی جاتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیدین کی چار تکبیریں ہیں۔ نماز عیدین کی طرح پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء پڑھ کر فاتحہ سے پہلے تین تکبیریں زائد ہیں پھر رکوع کی تکبیر سمیت پہلی رکعت میں پانچ تکبیریں ہوئیں۔ دوسری رکعت میں فاتحہ و سورت کے بعد تین تکبیریں زائد کہیں اور چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عیدین کی نماز میں نو تکبیریں یوں ہیں۔ پہلی رکعت پانچ تکبیریں قرأت سے پہلے اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں قرأت کے بعد رکوع کی تکبیر سمیت اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے بہت سے دیگر صحابہ کرامؓ کا بھی یہی مسلک ہے۔

حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ آولہٖ وسلم کی سنت کے مطابق نماز کے بعد خطبہ دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اس خطبہ میں وعظ و نصیحت فرماتے اور دو خطبوں کے درمیان ذرا سا بیٹھ جاتے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم عیدالفطر اور عیدالاضحی کو مصلی کی طرف نکلتے۔ سب سے پہلے نماز پڑھاتے پھر نماز سے فارغ ہوکر لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر کھڑے ہوجاتے اور لوگ اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، احکامات جاری فرماتے اور اگر کسی لشکر کو روانہ کرنا ہوتا تو اسی وقت روانہ فرماتے اور حکم صادر کرنا ہوتا تو حکم صادر فرماتے اور پھر تشریف لے جاتے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کھڑے ہوکر دو خطبے دیا کرتے تھے اور دونوں کے درمیان فرق کے لیے ذرا بیٹھ جاتے۔ عید کے دن روزہ رکھناحرام ہے۔ آج کے دن روزہ نہ رکھنا عبادت ہے۔ عید کے موقع پر خاص طور پر خوشی کے اظہار پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اس دن کی فیوض و برکات بہت زیادہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس دن اپنے بندوں کے احوال کا خاص طور پر مشاہدہ فرماتے ہیں اور فرشتوں کے ساتھ بندوں کی لغزشوں کی معافی کا اعلان ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

عید کیک

اجزاء:۔ماارجرین یا مکھن250گرام(سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)،لیموں کے ...

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے بعد ’’عید الفطر‘‘ کا مبارک دن بھی آ گیا ہے، حقیقی عید تو آج انہیں خوش نصیب لوگوں کی ہے جنھوں ن ...

مزید پڑھیں

یوں تو پاکستان بھر میں عیدالفطر جسے میٹھی عید کہا جاتا ہے بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے مگر دوسرے صوبوں یا علاقوں کی طرح سرائیکی خطے م ...

مزید پڑھیں

مہنگائی کے بھنور میں پھنسے مفلوک الحال عوام کی عید کیا ہو گی ۔

غربت کی دلدل میں دھنسے عوام کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

لبوں پہ رنگ تبسم ن ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی خواتین کی تیاری بھر پور ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ پارلرز کے چکر تو لگاتی ہی ہیں لیکن اگر آپ کے پاس پارلر جانے کا وقت ن ...

مزید پڑھیں

عیدِ قُرباںکے موقع پر گوشت کو احتیاط سے کھائیں۔دن بھر میں صرف ایک پائو گوشت نقصان نہیں دیتا ،تاہم ذیا بطیس اور امراضِ قلب کے مریض گائے کے ...

مزید پڑھیں

عیدالاضحی ایک اجتماعی تہوار ہے مگر افسوس کہ ہم اجتماعیت سے پرہیز کرتے ہیں تین دن جاری رہنے والے اس تہوار کے اثرات کئی ہفتوں اور اور مہینو ...

مزید پڑھیں