☰  
× صفحۂ اول (current) دنیا اسپیشل خصوصی رپورٹ عید اسپیشل غور و طلب فیشن صحت دین و دنیا کیرئر پلاننگ ادب
خوفناک مہنگائی میں غریبوں کی عید

خوفناک مہنگائی میں غریبوں کی عید

تحریر : عبدالحفیظ ظفر

06-02-2019

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ یہ اسلام کی روح کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے امرا نے ہمیشہ عید پر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفلسوں اور ناداروں کی مالی امداد کی ہے

لیکن اس بار عید پر صاحب حیثیت لوگوں کو پہلے سے کچھ زیادہ غربا اور مساکین کی امداد کرنا ہوگی کیونکہ اس بار خوفناک مہنگائی کے مہیب سنائے منڈلا رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مہنگائی کے سیلاب میں درمیانے طبقے کی خوشیاں بھی بہہ گئی ہیں اور اب تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ ان کے لئے عید کی خریداری بھی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔ ان حالات میں درمیانے طبقے سے یہ امید وابستہ کرنا کہ وہ غربا کی عید کے حوالے سے مالی امداد کریں، ایک نامناسب بات ہے۔ ان کے تو اپنے حالات اتنے ناگفتہ بہ ہیں کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بھی عید کی خوشیاں پہلے کی طرح منانے کے قابل ہیں یا نہیں۔

اس لیے اب صرف دولت مند طبقہ ہی رہ جاتا ہے جس سے یہ توقع لگائی جا سکتی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ ایثار کا مظاہرہ کریں۔ ہمارے صاحب ثروت لوگوں کی اکثریت کا دل انسانیت کے درد سے معمور ہے اور وہ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا ہیں کہ ناداروں کی زیادہ سے زیادہ امداد کرنا ان کا نہ صرف اخلاقی فرض بلکہ دینی فرض بھی ہے۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی میں فرق یہ ہے کہ عیدالاضحی کے موقع پر غربا اور مساکین میں قربانی کی کھالیں اور قربانی کا گوشت وافر مقدار میں تقسیم کیا جاتا ہے لیکن عیدالفطر کے موقع پر غربا کی امداد انہیں نئے کپڑے دینے اور نقد رقوم تقسیم کرنے کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی امداد کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اس مرتبہ چونکہ مہنگائی کی لہر ہے جس نے نہ صرف نچلے طبقے کو بلکہ درمیانی طبقے کے لیے بھی بے حد مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

کیا یہ ہمیں اچھا لگے گا کہ ہمارے علاقے میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ عید منانے سے محروم رہیں۔ کیا اب وہ وقت تو نہیں آ گیا کہ غڑبا قرض کی رقم سے عید کی خوشیاں منائیں؟ ویسے تو قرض لے کر بہت سی ضرورتیں پوری کی جا رہی ہیں۔ باقی ضروریات زندگی کو چھوڑیں یہاں تو اب یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام حقائق کس بات کی غمازی کر رہے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو اس بات سے انکار شائد مشکل ہو کہ ہم لوگ معاشرتی انتشار کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور اس انتشار کی علامات نظر بھی آنا شروع ہو گئی ہیں۔

طبقاتی تضادات بڑھتے جا رہے ہیں اور لوگوں کی اکثریت مذہبی تہواروں سے بے نیاز ہو کر دال روٹی کے چکر میں پڑ گئی ہے۔ ایک عام آدمی تو اپنی مجبوریوں کا غلام ہے اور وہ ضبط کیے جاتا ہے لیکن آخر کب تک؟ آخر ضبط کی زنجیریں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ اب عید کی آمد آمد ہے تو غربا کو اپنے سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر دامن گیر ہے۔ وہ یہی سوچتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کیسے سمجھائیں کہ انہیں وہ خوشیاں نہیںمل سکتیں جن کی وہ آرزو کر رہے ہیں۔ طبقاتی فرق جب حد سے زیادہ ہو جاتا ہے تو سنگین احساس محرومی پیدا ہونے کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔

یہ احساس محرومی بچوں کی نفسیات بری طرح تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے دو راستے نکلتے ہیں یا تو وہ خاموش رہ کر اپنی قسمت کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں یا پھر ان کے دل میں بغاوت کی چنگاریاں بھڑکنا شروع ہوجاتی ہیں اور انجام کار یہ چنگاریاں شعلوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آخری نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ صرف اور صرف یہ کہ جرائم میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے اور معاشرتی انتشار پر قابو پانا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اگر عوام کی ایک بڑی اکثریت کو دن رات روٹی کے لالے پڑے رہیں تو وہ عید جیسا مذہبی تہوار کیا منائیں گے۔ ظاہر ہے جب آمدنی کم اور اخراجات بہت زیادہ ہوں اور اس کے علاوہ وسائل میں اضافے کی بجائے کمی کا سامنا ہو تو صورتحال کی زبوں حالی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ منطقی نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ یہی کہ عید سادگی سے منائی جائے۔ اب یہاں سادگی سے کیا مراد ہے؟

سادگی سے یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ عید نہ ہی منائی جائے۔ پرانے کپڑے اور پرانے جوتے خود بھی پہنیں اور بچوں کو بھی قائل کیا جائے کہ وہ حالات کے ساتھ سمجھوتہ کریں۔ بچوں کی شعوری سطح اگرچہ اتنی بلند نہیں ہوتی لیکن والدین کی مجبوریوں کو وہ دیکھ بھی رہے ہوتے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں لیکن جب ان کے والدین خود ہی بے بسی کی تصویر بن جائیں تو وہ بے چارے کیا کر سکتے ہیں۔ اپنی حسرتوں کا لہو ہی پی سکتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔ غم زمانہ ہو اور چند حسرتوں کا لہو یہی غذائیں ضروری ہیں زندگی کے لیے راقم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد اس بار سحر و افطار کا صحیح اہتمام کرنے سے بھی قاصر رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف مہنگائی کا وہ عفریت ہے جس نے سب کچھ ختم کر دیا ہے۔ اب کیا عوام سے یہ کہا جائے کہ اگر افلاس کے باعث وہ سحروافطار کا مناسب انتظام کر نہیں سکتے تو ماہ صیام میں روزے نہ رکھیں۔

ایسا ہونا ناممکن ہے۔ اگر کوئی بیماری نہ ہو تو ایک سچا مسلمان روزے رکھے گا اور کوئی رکاوٹ اس کے ایمان کو کمزور نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا کہ وہ مالی تنگدستی کی وجہ سے ماہ رمضان میں روزے رکھنا چھوڑ دے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی کم سے کم استطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سحروافطار کا انتظام کر لے۔ لیکن صبرو تحمل سے کام لیتے ہوئے جب وہ یہ سوچتا ہے کہ عید کی مسرتیں کیسے سمیٹی جائیں اور خاص طور پر بیوی بچوں کی آرزوئوں کی تکمیل کیسے ہو تو یقینا کئی سوالات ہتھوڑے کی طرح اس کے ذہن پر برسنے لگتے ہیں۔

اب ذرا غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ غربا کے بچے سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ اول تو سرکاری سکولوں کی حالت زار ہی ایسی ہے کہ کوئی ذی شعور شخص وہاں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا خواہاں نہیں اور اگر ہے تو وہ اس کی مجبوری ہے۔ تعلیمی اخراجات کے علاوہ مکان کا کرایہ اور روزمرہ کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کسی تفریحی مقام پر بھی نہیں لے جا سکتا۔ اب حالت یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جونہی قریب آتا ہے غربا خوش تو ہوتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ ماہ رمضان میں ہونے والے اخراجات کے بعد اگلامرحلہ عیدالفطر کا ہے۔ ماہ رمضان کے دوسرے عشرے کے دوران ہی عید کی خریداریاں شروع ہو جاتی ہیں۔

ظاہر ہے عید جب قریب آ رہی ہو تو ہر چیز مہنگے داموں فروخت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اب یہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نچلے طبقات کے لوگ اول تو بڑی مارکیٹوں کا رخ ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کی معاشی حالت انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اونچی دکانوں کا رخ کریں۔ اپنی مالی حالت کے پیش نظر وہ سستے بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ ہم جنہیں سستے بازار کہتے ہیں دراصل وہ غربا کے لئے سستے بازار نہیں رہے۔ وہاں خریداری کرنے سے پہلے یہ لوگ وہاں جا کر اشیا کے دام پوچھتے ہیں۔ پھر واپس آ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں یہاں جانا چاہئے یا نہیں اور اگر جانا چاہیے تو کس چیز کی خریداری کرنا چاہئے۔

یہاں ایک اور پہلو کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ لاتعداد لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی بھی صورت میں عید کی خریداری کرنے کے قابل نہیں۔ وہ یہ رسک بھی نہیں لے سکتے کہ عید کی خوشیاں خریدنے کیلئے دوستوں یا عزیز و اقارب سے قرض لے لیں کیونکہ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ اس قرض کو واپس بھی کرنا ہے۔ یہی فکر ان کو عید کے روز بھی لاحق رہتی ہے کہ قرض کی رقم کیسے واپس کی جائے گی تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرض کی رقم سے عید کی مسرتیں حاصل کرنے کا کیافائدہ؟ لیکن نچلے طبقے کے سارے لوگ ان خطوط پر نہیں سوچتے۔ ان میں خاصی بڑی تعداد میں لوگ یہ سوچ کر قرض لیتے ہیں کہ عید تو بہرحال منانی ہے۔ معاشی تنگدستی کی آڑ میں یہ مناسب نہیں کہ عید کی خوشیاں قربان کر دی جائیں اور پھر عید کونسی روز روز آتی ہے۔

مفلوک الحال طبقات کے وہ لوگ جو ایسی سوچ نہیں رکھتے وہ عید نہ منانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ عید کے روز سویوں پر گزارا کرتے ہیں۔ بچوں کو عیدی کے طور پر تھوڑے سے نقد پیسے دے دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ اب نچلے طبقے کے سرکاری ملازمین کی طرف آئیے۔ ان کا شمار بھی غربا اور مساکین میں ہوتا ہے۔ کچھ محکموں کے ایسے ملازمین ’’دیگر ذرائع‘‘ سے یہ اخراجات پورے کر لیتے ہیں لیکن نچلے درجے کے ان سرکاری ملازمین کی حالت بھی ٹھیک نہیں ہوتی جو ایمانداری کو اپنا شعار سمجھتے ہیں۔ ان کیلئے دہرا عذاب ہے۔ ایک تو تنخواہ قلیل اور دوسرا ایماندار ہونا۔ جن ملازمین کی بیویاں بھی نوکری پیشہ ہیں وہ تو گزارا کر لیتے ہیں لیکن جہاں معاشی معاملات کی ذمہ داری صرف شوہر پر ہی ہو وہاں مسائل کا پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ یہ لوگ بھی اپنے دفتر کے ساتھیوں سے ادھار رقم لیتے رہتے ہیں اور پھر واپس کرنے میں بھی ایک عرصہ لگا دیتے ہیں۔ مسائل کم نہیں ہوتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے حکومتی ادارے نہیں جو مذہبی تہواروں کے موقع پر ناداروں کی امداد کرتے ہیں۔ کچھ پرائیویٹ ادارے البتہ ایسے ہیں جو یہ نیک کام کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔

لیکن اصلی کام تو ان صاحب ثروت اور لوگوں کا ہے جو دل کھول کر نادارں کی امداد کرتے ہیں۔ لیکن اس سال ہمارے ان لوگوں کو پہلے کی نسبت زیادہ فیاضی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کیونکہ غربا اور مساکین کی حالت اس بار زیادہ دگرگوں ہے۔ خوفناک مہنگائی نے ان کی سوچ کے دروازے بھی بند کر دیتے ہیں۔ ان میں چونکہ سفید پوشوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اس لئے ان کی امداد بھی اس طریقے سے کرنی چاہئے کہ ان کی سفید پوشی کا بھرم بھی رہ جائے اور انہیں عید کی مسرتیں بھی مل جائیں چاہے وہ محدود پیمانے پر ہی کیوں نہ ہوں۔ امید واثق ہے کہ ہمارا دولت مند طبقہ اپنے دینی فرائض کے ساتھ ساتھ اخلاقی فرائض کی تکمیل میں بھی کوئی دقیقہ فردگزاشت نہیں کرے گا۔ مہنگائی کے حوالے سے غربا اور مساکین کی حالت زار پر ہماری کچھ معروف شخصیات نے بھی اظہار خیال کیا ہے۔ مشہور ڈرامہ نگار اور شاعر ڈاکٹر اصغر ندیم سید نے کہا کہ اصل ذمہ داری تو حکومت کی ہے کہ غربا اور مساکین کو عید کی خوشیاں کیسے دی جائیں لیکن حکومت تو خود معاشی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسے دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے۔

حکومتی اہلکار بار بار اور وزیراعظم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر سخت تشویش ہے اور اس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ نچلے طبقے کے لوگ بہت زیادہ پریشان ہیں لیکن ان بیانات سے یہ تو نہیں ہو سکتا کہ غربا اور مساکین کو عید کی مسرتیں حاصل ہو جائیں گی۔ اصل فرض ہمارے ان مخیر حضرات کا ہی ہے کہ وہ پسے ہوئے طبقات کی کتنی زیادہ مدد کرتے ہیں۔ اس بات کا تو انہیں بھی ادراک ہوگا کہ غربا کے معاشی مسائل پہلے سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں اور اس دفعہ انہیں نچلے طبقے کے لوگوں کی پہلے سے زیادہ مالی امداد کی ضرورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ افتادگان خاک تو پہلے ہی خاک چاٹ رہے ہیں۔ وہ مذہبی تہواروں سے بے نیاز ہو چکے ہیں۔ ہر تہوار منانے کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پیسہ ہی ان کے پاس نہیں۔ غربا کے بچے تو باآواز بلند یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ عید آ رہی ہے یا ہم جوش و خروش سے عید منائیں گے۔

پنجابی میں کہتے ہیں ’’پلے نہیں دھیلا تے کردی اے میلا میلا‘‘ باقی رہی حکومت تو اس نے کیا کرنا ہے۔ یہ بھی میڈیا کے ذریعے صاحب ثروت لوگوں سے ہی اپیل کرے گی کہ غربا اور مساکین کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کریں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اب عید اور دیگر ایسے تہواروں کا نام سنتے ہی غربا اور مساکین پر گھبراہٹ طاری ہونے لگتی ہے یا وہ بالکل بے نیازی سے کام لیتے ہیں۔ ہمارا ملک کوئی فلاحی ریاست تو ہے نہیں۔ پھر بھلا مجموعی طور پر عوامی مفاد کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔ فلمساز و ہدایتکار حسن عسکری کا کہنا تھا کہ انہوں نے زیادہ تر فلمیں طبقاتی تضادات کے حوالے سے بنائی ہیں اور ان فلموں میں ایسے مناظر بھی دکھائے ہیں کہ غریب آدمی عید کی خوشیاں بھی نہیں منا سکتا۔

اس کا سبب صرف اور صرف طبقاتی تقسیم ہے۔ جب تک معاشی نظام تبدیل نہیں ہوگا‘ غربا اور مساکین مسرتوں کیلئے ترستے رہیں گے۔ باقی رہا یہ کہ دولت مند طبقہ پسے ہوئے طبقات کی مدد کرے تو وہ تو ہمیشہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے مخیر حضرات بڑی فراخدلی سے یہ فرض ادا کرتے ہوئے نظر آٹے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ اس سے بھی غربت کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس سے غربت و افلاس کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو جائے۔

مزید پڑھیں

عید کیک

اجزاء:۔ماارجرین یا مکھن250گرام(سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)،لیموں کے ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے بعد ’’عید الفطر‘‘ کا مبارک دن بھی آ گیا ہے، حقیقی عید تو آج انہیں خوش نصیب لوگوں کی ہے جنھوں ن ...

مزید پڑھیں

عید مسلمانوں کے دو تہواروں کا نام ہے۔ یہ خوشی اور فرحت کے لوٹ آنے کا موسم ہے۔ ابن منظور نے لسان العرب میں لکھا ہے کہ عید سے مراد وہ دن ہے ج ...

مزید پڑھیں

یوں تو پاکستان بھر میں عیدالفطر جسے میٹھی عید کہا جاتا ہے بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے مگر دوسرے صوبوں یا علاقوں کی طرح سرائیکی خطے م ...

مزید پڑھیں

مہنگائی کے بھنور میں پھنسے مفلوک الحال عوام کی عید کیا ہو گی ۔

غربت کی دلدل میں دھنسے عوام کی عید کیا ہو گی ۔۔۔

لبوں پہ رنگ تبسم ن ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی خواتین کی تیاری بھر پور ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ پارلرز کے چکر تو لگاتی ہی ہیں لیکن اگر آپ کے پاس پارلر جانے کا وقت ن ...

مزید پڑھیں

عیدِ قُرباںکے موقع پر گوشت کو احتیاط سے کھائیں۔دن بھر میں صرف ایک پائو گوشت نقصان نہیں دیتا ،تاہم ذیا بطیس اور امراضِ قلب کے مریض گائے کے ...

مزید پڑھیں

عیدالاضحی ایک اجتماعی تہوار ہے مگر افسوس کہ ہم اجتماعیت سے پرہیز کرتے ہیں تین دن جاری رہنے والے اس تہوار کے اثرات کئی ہفتوں اور اور مہینو ...

مزید پڑھیں