☰  
× صفحۂ اول (current) عید اسپیشل آزادی اسپیشل فیشن خصوصی رپورٹ سنڈے سپیشل متفرق ادب
سرائیکی وسیب میں عیدالاضحی کے رنگ

سرائیکی وسیب میں عیدالاضحی کے رنگ

تحریر : سید علی شاہ نقوی

08-11-2019

عیدالاضحی ایک اجتماعی تہوار ہے مگر افسوس کہ ہم اجتماعیت سے پرہیز کرتے ہیں تین دن جاری رہنے والے اس تہوار کے اثرات کئی ہفتوں اور اور مہینوں تک رہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اجتماعیت کا تصور نظر انداز کر دیتے ہیں۔ فریضہ قربانی انفرادی طور پر ادا کیا جا تا ہے۔

یعنی قربانی کا جانور خریدا اور گھر لائے، ذبح کیا حصے تقسیم کئے۔ من پسند گوشت، تکہ، بوٹی، پائے، چانپ وغیرہ خود یا اپنے کسی خاص کے لئے رکھ لیے اور باقی بچا کھچا تقسیم کر ڈالا۔

 

بہت کم لوگ ایسے ہیں جو قربانی کے تمام تر تقاضوںکو پوراکرتے ہیں۔ ملک کے تمام علاقوں کی طرح سرائیکی وسیب میں بھی قربانی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جاتا ہے یہاں کے لوگ کئی دن پہلے ہی جانور خرید لیتے ہیں اور ان کی خوب خدمت کرتے ہیں کھلے گھروں اور دیہاتی علاقوں میں یہ رجحان شدید ہے جبکہ شہری علاقوں میں اس کا رجحان کم ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ یہاں کے لوگ اونٹ کی قربانی انتہائی کم کرتے تھے مگر اب یہ رجحان بہت بڑھ چکا ہے جس کی وجہ بچے ہیں جو بڑوں سے اونٹ کی ضد بھی کرتے ہیں اور فرمائش بھی۔ وسیب کے گلی محلوں میں اونٹ کی قربانی عام ہوچکی ہے تا ہم پھر بھی کسی اونٹ کرنے والے کے لئے گوشت کی تقسیم کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ گوشت جوڑوں کے درد اور دیگر بہت سی بیماریوں کے لئے سود مند بتایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے لوگ قربانی کے گوشت کا کئی روز قبل ہی کہہ دیتے ہیں کہ بھائی صاحب ہمارے لئے بھی اونٹ کا گوشت ضرور رکھنا میں خود لینے آؤں گا۔ جب اونٹ کی قربانی کی جاتی ہے تو میلے کا سماں ہوتاہے لوگوں کی بڑی تعداد اسے قربان ہوتا ہوا دیکھنے آجاتی ہے۔ بچے اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر اس کا نظارہ کرتی ہیں قربانی سے کچھ روز قبل خریدے گئے اس جانور کو بچے سواری کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ بچوں کا شوق پورا ہوتے اور انہیں خوش ہوتا دیکھ کر اونٹ خریدنے والا بھی خوش ہے اور یہی خوشی دیکھتے ہوئے دوسرے لوگ بھی خوشی محسوس کرتے ہیں اور ان کے اندر بھی یہ خواہش انگڑائی لینے لگتی ہے کہ آئندہ سال وہ بھی اونٹ لانے کی کوشش کریں گے۔ 

وسیب میں تمام چھوٹے بڑے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اس کا گوشت خانہ بدوشوں، غریبوں اور ضرورت مندوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے لوگوں کی اکثریت فرمائش پوری کرتی ہے کسی نے بہن کے گھر سری بھیجی تو کسی نے پائے۔ کسی کو بیٹی کے گھر چانپ بھیجنی پڑی تو کسی کو ران، اسی طرح کسی عزیز کو قیمہ بنوا کر بھیجنا پڑتا ہے تو کسی کو پکا ہوا گوشت، اس خطے میں قربانی سے فارغ ہوتے ہی تمام گھر والوں کا اکھٹے مل بیٹھ کر قربانی کے گوشت کو کھانے کی روایت آج بھی موجود ہے۔ کھانے کے ساتھ میٹھے پکوانوں کا دور بھی چلتا ہے ہر کوئی اپنی پسند اور بساط کے مطابق میٹھے پکوان تیار کرتا ہے۔ دعوتوں کا سلسلہ بھی چلتا ہے۔ تین دن جاری رہنے والے اس تہوار میں جہاں سنت ابراہیمیؑ ادا کی جاتی ہے وہاں عوام تفریح سے بھی لطف اندوز ہوتی ہے شام کے و قت تفریح گاہوں پر بے انتہا رش ہو جاتا ہے ۔ دیہاتی علاقوں کے لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں تو شہر کا رنگ ہی تبدیلی ہو جاتا ہے۔ ہر طرف خوشیوں کا سماں ہوتا ہے اور خوشیوں کے یہی رنگ بھلے لگتے ہیں ۔ جیسے عیدالفطر پر عورتیںاور بچے اپنی تیاری کرتے ہیں۔ عیدالاضحی کو بھی ایسا ہی ہوتاہے۔ عورتیں رنگ برنگے لباس، چوڑیاں، مہندی، جوتے، جیولری اور دیگر من پسند اشیاء خرید کر عید کی خوشیوں کو دوبالا کرتی ہیں۔ مہمانوںکے آنے جانے کا سلسلہ تینوں روز جاری رہتا ہے۔ بعض لوگ زیادہ جانور خرید لیتے ہیں اور وہ عید کے تینوں روز ہی قربانی کرتے ہیں۔

عمومی طورپر قربانی کے جانور ہر لحاظ سے صحت مند ہوتے ہیں کہ انہیں خریدتے ہوئے تمام تر اسلامی اصول مد نظر رکھے جاتے ہیں جب کہ اس کے برعکس مارکیٹ سے خریدا جانے والا گوشت صحت مند جانور کا ہے یا بیمار جانور کا یہ جاننے کے لئے کسی بھی عام انسان کے پاس کوئی فارمولا یا پیمانہ نہیں ہوتا۔ البتہ چند علامات سے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ گوشت کسی تندرست جانور کا ہے یا کسی بیمار جانور کا۔ جانور خریدتے ہوئے فراخدلی اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تندرست جانور خریدنا چاہیے۔

عید قربان کے موقع پر چونکہ گوشت عام ہوتاہے اس لئے اس کا استعمال بہت بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ کھانے سے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے ضرورت سے زیادہ مت کھائیں۔قربانی کا گوشت کھانا ضرورچاہیے مگر جو مریض ہیں انہیں اعتدال کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے۔ خاص طورپر امراض ِ قلب، جوڑوں کے درد اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے احتیاط لازم ہے۔قربانی کے حوالے سے ہمیں تمام تر اسلامی تقاضوں کو محلوظ خاطر رکھنا چاہیے اور جتنا حصہ عزیز و اقارب اور غریبوں و فقیروں کابنتا ہے اس کی مکمل پاسداری سب پر لازم ہے۔ لوگوں کی اکثریت اچھا گوشت خود کھا جاتی ہے اور باقی فقیروں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ فریج بھرنا عام روایت بن چکا ہے ایسا ہر گز نہیں ہوناچاہیے۔

سرائیکی وسیب میں خواجہ سراؤں کی اکثریت موجود ہے اور یہ لوگ بھی سنت ِ ابراہیمی ؑ بطریق احسن ادا کرتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ؐکی خوشنودی کے لئے یہ لوگ تینوں دن ذوق و شوق سے نہ صرف جانور ذبح کرتے ہیں بلکہ گوشت پکا کر بھی لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ کچا یعنی بغیر پکا ہوا گوشت بھی فراخدلی سے فقیروں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ عید قربان کے موقع پر سرائیکی وسیب کے دو شہروں میں خواجہ سراؤں کے بڑے اجتماع ہوتے ہیں جہاں اجتماعی قربانی کی جاتی ہے ملتان شہر میں خواجہ سراؤں کے سرپرست الحاج سعید نرگس کی بڑی حویلی میں سینکڑوں خواجہ سرا جمع ہوتے ہیں۔ جو عید کے تینوں روز وہاں گزارتے ہیں اس حویلی میں بیک وقت تین سو سے زائد خواجہ سراء قیام کر سکتے ہیں۔ اسی طرح مظفر گڑھ میں شی میل ایسوسی ایشن کی صدر شایانہ عباس شانی کے یہاں بھی عید قربان کے موقع پر ایسے ہی مناظر ہوتے ہیں ۔ جہاں یہ لوگ سنت ِ ابراہیمیؑ ادا کرتے ہیں وہاں اکٹھے ہو کر عید کی خوشیوں کو بھی دوبالا کرتے ہیں۔مختلف علاقوں سے آئے خواجہ سرا جب ایک جگہ اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسا ماحول بن جاتا ہے جو ان پر کئی ماہ تک مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اپنوں کے برخی اور بے اعتنائیوں کا شکار جب یہ خواجہ سرا آپس میںمل بیٹھتے ہیں تو انہیں بھی اپنے اندر زندگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ بھی انسانی مخلوق ہیں ہم سب کو انہیں عزت دینی چاہیے۔ ان کے ہاں جو قربانی کا گوشت ہوتاہے اگر وہ لوگوں کے گھروں میں بھیجا جائے تو لوگوں کی اکثریت انہیں لینے سے انکار کر دیتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ لوگ جذبے سے سنت ِ ابراہیمیؑ اداکرتے ہیں۔ ان کے پاس جو گوشت ہوتا ہے وہ دیگوں میں خود ہی پکاتے اور کھاتے ہیں اور دیگر لوگوںمیں تقسیم کرنے کے لئے چند ایسے لوگوں کی مددلیتے ہیں جو خواجہ سراء نہ ہوں ان کے ذریعے یہ گوشت لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔

فی زمانہ قربانی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جن لوگوں کی آمدنی میں اللہ تعالیٰ نے کشادگی عطا فرمائی ہے وہ ایک ساتھ کئی جانور ذبح کرتے ہیں اور محدود آمدنی والے بھی جیسے تیسے کوشش کر کے ایک قربانی کر ہی لیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اس خالص مذہبی فریضے کی ادائیگی میں نام و نمود اور نمائش کا عنصر بھی عام ہو رہا ہے جو سراسر غلط ہے جو لوگ نام و نمود اور نمائش کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں وہ یقینا خسارے میں جاتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی کھالیں مدرسوں، یتیم خانوں اور دیگر مستحق فلاحی اداروں کو بھیجنا بہترین عمل ہے۔

 

مزید پڑھیں

عید چاہے چھوٹی ہو یا بڑی خواتین کی تیاری بھر پور ہوتی ہے۔اس کے لیے وہ پارلرز کے چکر تو لگاتی ہی ہیں لیکن اگر آپ کے پاس پارلر جانے کا وقت ن ...

مزید پڑھیں

عیدِ قُرباںکے موقع پر گوشت کو احتیاط سے کھائیں۔دن بھر میں صرف ایک پائو گوشت نقصان نہیں دیتا ،تاہم ذیا بطیس اور امراضِ قلب کے مریض گائے کے ...

مزید پڑھیں

مٹن کٹا کٹ

اجزاء:مٹن گردے دس عدد،مٹں مغز پانچ عدد،مٹن دل آٹھ عدد،مٹن چان ...

مزید پڑھیں

ہم قربانی کیوں کرتے ہیں ؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہم قربانی اس لیے کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کی اور قربانی کرنے کا حکم دیا۔آپ ...

مزید پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنْ الصبَّرِیْنَ۔’’اللّٰہ نے چاہاتوقریب ہے کہ آپ مجھے صابر کرنے والوں م ...

مزید پڑھیں

عید الاضحی کا تہوار مسلمانوں کے لیے بڑا اہم ہے۔ استطاعت رکھنے والے مسلمان حج کے لیے جاتے ہیں ۔ حج پہ نہ جانے والے مسلمان اللہ کی راہ میں ج ...

مزید پڑھیں

اس دن قربانی ادا کی جاتی ہے اور مسلمانانِ عالم کو قربانی کا فریضہ سرانجام دے کر اتنی خوشی نصیب ہوتی ہے کہ سارے سال میں کسی اور دن نہیں ہوت ...

مزید پڑھیں

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید کیک

اجزاء:۔ماارجرین یا مکھن250گرام(سو گرام والی اڑھائی ٹکیہ)،لیموں کے ...

مزید پڑھیں

ہر سال عید کے موقع پر ہم لوگ صاحب ثروت افراد سے یہی درخواست کرتے ہیں کہ وہ سعید کی خوشیوں میں غریب اور نادار لوگوں کو بھی شریک کریں کیونکہ ...

مزید پڑھیں

رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کے بعد ’’عید الفطر‘‘ کا مبارک دن بھی آ گیا ہے، حقیقی عید تو آج انہیں خوش نصیب لوگوں کی ہے جنھوں ن ...

مزید پڑھیں