☰  
× صفحۂ اول (current)

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں