☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(صاحبزادہ پیر مختار احمد جمال تونسوی) دین و دنیا(صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی) دین و دنیا(فقیر اللہ خاں) خصوصی رپورٹ(پروفیسر ڈاکٹر بصیرہ عنبرین ) غور و طلب(ڈاکٹر یمنیٰ نایاب) متفرق(محمد سعید جاوید) سنڈے سپیشل() فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() کھیل(عبدالحفیظ ظفر) شوبز(مرزا افتخاربیگ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) گھریلو مشہورے(حکیم نیازاحمد ڈیال) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
تابشِ خورشید نور ِماہ پانی کی جھلک ۔۔۔

تابشِ خورشید نور ِماہ پانی کی جھلک ۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

11-03-2019

تابش خورشید نور ماہ پانی کی جھلک

خندہ ٔقلقل صدا کوئل کی غنچوں کی چٹک 

لرزش سیماب بجلی کی تڑپ شاخوں کا لوچ 

عقل کی تیزی طبیعت کی اپچ شاعر کی سوچ 

اضطراب موج کانٹوں کی خلش ناگن کے بل 

تیر کی سرعت کماں کا عجز شمشیروں کے پھل 

آب موتی کی چمک کندن کی ہیرے کی دمک 

اشرفی کا روپ ٹکسالی محاصل کی کھنک 

دامن کہسار کے منظر نوائے آبشار 

شور دریا کروٹیں لہروں کی ساحل کا قرار 

زمزمے کا عطر کیف نغمہ لے کی پختگی 

شورش مے ،لغزش مے نوش، جوش بے خودی 

وادیٔ کشمیر کی نزہت گلوں کا رنگ و بو 

سرو کا قد کبک کی رفتار قمری کا گلو 

ظلمت شام اودھ صبح بنارس کا نکھار 

آگرے کے تاج کی عظمت ہمالہ کا وقار 

تلخی انجام جب سب کوششیں ناکام ہوں 

خوش نما سیبوں کی ہلکی ترشیاں جب خام ہوں 

دیکھ کر یہ اقتباس کار گاہ انس و جاں 

کار پردازان قدرت میں ہوئیں سرگوشیاں 

ایک بولا امتزاج ان کا قیامت ساز ہے 

دوسرا کہنے لگا خاموش کوئی راز ہے 

یہ عناصر ایک مدت تک رہے گرم عمل 

آخری تحریک عصمت سے ہوئے آپس میں حل 

صبح دم جب گوشہ گوشہ مطلع انوار تھا 

ذرہ ذرہ عالم نیرنگ کا سرشار تھا 

اس مرکب کو اصولی جنبشیں ہونے لگیں 

یہ ہیولیٰ ارتقائی منزلیں طے کر گیا 

شہ پر پرواز عفت سے بلندی پر گیا 

اعتدال عنصری پر پا لیا جب اقتدار 

عین فطرت کے مطابق شکل کی اک اختیار 

آئی اعضا میں گدازی اور گرمی جسم میں 

آئی رخساروں پہ سرخی اور نرمی جسم میں 

پایۂ تکمیل کو پہنچا جوں ہی یہ شاہکار 

دست قدرت نے ٹٹولی نبض اس کی بار بار 

بستر نکہت پہ یہ پتلی جو محو خواب تھی 

مست انگڑائی کے ہاتھوں جاگ اٹھی شرما گئی 

دیکھ کر شاعر نے اس کو نکتۂ حکمت کہا 

اور بے سوچے زمانے نے اسے’’عورت‘‘ کہا 

ریشم کہتی ہیں ’’رب کائنات نے دنیا میں کوئی شے بے مقصد پیدا نہیں کی اور ہر شے کو خوب سے خوب تر بنایا اور انہی ان گنت خوب تر تخلیقات میں سے ایک عورت ہے ۔تصویر ِ کائنات میں رنگ وجودِ زن سے ہے ، زمین پر جنت بسانے والی گھروں کو آباد کرنیوالی ہستی عورت کی ہے ، قدموں تلے جنت رکھنے والی عظیم المرتبت ہستی ماں بھی توعورت ہے جسکی گو دبچے کی پہلی یونیورسٹی ہے جو صنفِ نازک ہونے کے باوجود قدم قدم پہ اپنے بال بچوں اور گھر بار کی تربیت، نگہداشت اور حفاظت کیلئے ہر مصیبت و پریشانی کے سامنے ڈٹ جاتی ہے وہ عورت ہی تو ہے ۔ اور آج کی عورت تو اپنے وطن کی سرحدوں اور فضائوں کی حفاظت کی عظیم خدمات بھی انجام دے رہی ہے ۔

آج ’’دنیا ‘‘ نے مجھ سے ملاقات کے حوالے سے جس کلام کا انتخاب کیا اس کے حوالے سے میں نے بھی مختصراً الفاظ میں عورت کے حوالے سے اپنے جذبات کی عکاسی کی کوشش کی۔ اب ذکر کرتے ہیں فیشن کی دنیا کا تو جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات کا سیزن شروع ہو چکا ہے ۔ آپ کو ان رنگوں اور خوشیوں بھری تقریبات میں کس سج دھج کیساتھ شرکت کرنی چاہئے اس کے حوالے سے میں نے ڈریس ڈیزائننگ ، کلر ، بالوں کا سٹائل ، میک اپ ، جیولری کی سلیکشن ان سب کو مد نظر رکھتے ہوئے چند خوبصورت ٹپس کا اہتمام کیا ہے امید ہے آپ کو یہ ٹپس ضرور پسند آئیں گی ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

حال اس کا تیرے چہرے پہ لکھا لگتا ہے

...

مزید پڑھیں

وہی گلیاں وہی کوچہ وہی سردی کا موسم ہے

...

مزید پڑھیں