☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا محمد الیاس گھمن) صحت(ڈاکٹر فراز) خصوصی رپورٹ(عبدالماجد قریشی) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() تاریخ(ایم آر ملک) غور و طلب(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) متفرق(عبدالمالک مجاہد) روحانی مسائل(مولانا محمد یونس پالن پوری)
تم اپنی روح کی گہرائیوں میں اب بھی ویسی خوبصورت ہو ۔۔۔۔

تم اپنی روح کی گہرائیوں میں اب بھی ویسی خوبصورت ہو ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

02-02-2020

اسلم انصاری نے کیا خوب کہا تھا

بہت مدت ہوئی 

جب میری آنکھیں خواب بنتی تھیں 

وہ اِک ہجراں زدہ عہدِ بہاراں تھا 

مجھے پھولوں بھری راہیں بلاتی تھیں 

مگر میں ایک نوکِ خار کی گہری چبھن کو 

حاصلِ ہستی سمجھتا تھا !

تمہیں نا مہرباں کہتے نہ تھکتا تھا 

بہت دن تک تمہیں بے مہریائی ایام کا پیکر سمجھتا تھا 

میں اس شائستہ اندازِ تکلم کو 

صریحاً سنگدل ، مغرور لہجہ ہی سمجھتا تھا 

تمہاری تمکنت میں عجز کی جو رزم تھی 

اس کو نہ سمجھا تھا !

ہوائوں سے اُلجھتا ، موسموں کی دین سے انکار کرتا 

میں تمہیں الزام دیتا تھا 

وہ سب اشجار جن کی مہرباں چھائوں 

مجھے کیکٹس سے بدتر تھے !

وہ ساری دلکشا راہیں ، جو منزل کا اشارہ تھیں 

مجھے اُلجھی ہوئی پگڈنڈیوں کا جال لگتی تھیں 

(مگر میں اب یہ کہتا ہوں )۔۔۔۔۔۔

نہیں ، تم مہرباں ہی تھیں 

تم اپنی روح کی گہرائیوں میں اب بھی ویسی خوبصورت ہو 

تمہارے دلنشیں لہجے میں جو آواز گاتی ہے 

کسی بے مہر کے ہونٹوں پہ کیسے ناچ سکتی ہے ؟

نہیں ۔۔۔۔۔تم مہرباں ہی تھیں !

اقراء کہتی ہیں ’’ خوبصورتی کا تعلق آپ کے چہرے یا سمارٹنس سے نہیں آپ کے اخلاق اور آپ کی صفات سے ہوتا ہے ، جب آپ کے اندر ہی بے چینی اور عداوت ہو گی تو آپ کے کام میں اور آپ کی شخصیت میں نفاست کیسے آسکتی ہے ۔

میں فیشن انڈسٹری کو ذرا الگ نظر سے دیکھتی ہوں مجھے کامیابی کیلئے یا آگے بڑھنے کیلئے کسی کو پیچھے دھکیلنا یا کسی کیخلاف سازشیں کرنا اچھا نہیں لگتا ، اپنے کام اور معیار پر ساری توجہ مرکوز رکھتی ہے ، جب کام میں مصروف ہوتی ہوں تو میرے کام سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں ہوتا ، کھانا ، پینا سب بھول جاتی ہوں ۔ کام سے فرصت ہو تو پھر سارا وقت گھر اور دوستوں کیساتھ گزارنا اچھا لگتا ہے ۔ آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کیلئے میں نے اپنی پسند کے ملبوسات کے چند خوبصورت ٹرینڈز اور کلرز کا انتخاب کیا ہے ، امید ہے آپ کو میری کولیکشن ضرور پسند آئیگی ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں