☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(مولانا فضل الرحیم اشرفی) سنڈے سپیشل(صہیب مرغوب) خصوصی رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کلچر(ایم آر ملک) فیچر( طارق حبیب مہروز علی خان، احمد ندیم) متفرق(محمد سعید جاوید) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() خواتین(نجف زہرا تقوی) دنیا اسپیشل(طاہر محمود) سپیشل رپورٹ(نصیر احمد ورک) کھیل(عبدالحفیظ ظفر) سیاحت(نورخان سلیمان خیل)
ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں ۔۔۔۔

ستارے جو دمکتے ہیں کسی کی چشمِ حیراں میں ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

02-09-2020

منیر نیازی نے کیا خوب کہا تھا کہ 
 

 

ستارے جو دمکتے ہیں 
کسی کی چشمِ حیراں میں 
ملاقاتیں جو ہوتی ہیں 
جمالِ ابرو باراں میں 
یہ نا آباد وقتوں میں 
دلِ ناشاد میں ہو گی 
محبت اب نہیں ہو گی 
یہ کچھ دن بعد میں ہو گی 
گزر جائیں گے جب یہ دن 
یہ اُن کی یاد میں ہو گی 
طالبیہ کہتی ہیں ’’مجھے موسم سرما بہت پسند ہے اور اس بار تو قدرت نے بہت مہربانی کی برفباری سے بہت لطف انداز ہونے کا موقع ملا ، ہمارے پیارے دیس کو خدائے بزرگ و برتر نے قدرتی حسن سے مالا مال کر رکھا ہے اور ہم بھی کتنے عجیب لوگ ہیں اپنی جنت کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں ۔
مجھے سیاحت کا بہت شوق ہے اور اس بار میں نے اپنے شوق کو جی بھر کر پورا کیا ۔گلیات اور دیگر خوبصورت مقامات کی خوب سیر کی ۔ میرا آپ سب کو مشورہ ہے کہ جب کبھی فرصت ملے تو سیاحت ضرور کریں ۔اس سے آپ کی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ رہی بات ملبوسات کی تو مجھے کوٹ ، پینٹ ، جیکٹس ، ٹائیٹس ، جینز ، فلیپر ، لانگ اور شارٹ شرٹس بہت پسند ہیں آج ’’ دنیا ‘‘ سے ملاقات میں میں نے آپ کیلئے اپنی پسند کے چند ٹرینڈز کا انتخاب کیا ہے جو آجکل بہت اِن ہیں امید ہے آپ کو بھی یہ سب بہت پسند آئیں گے ۔ ‘‘
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں