☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(حاجی محمد حنیف طیب) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) متفرق(احمدعلی محمودی ) خصوصی رپورٹ(پروفیسر عثمان سرور انصاری) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() صحت(ڈاکٹر آصف محمود جاہ ) سپیشل رپورٹ(ایم آر ملک) فیچر(نصیر احمد ورک) انٹرویوز(مرزا افتخاربیگ) کھیل(محمد سعید جاوید)
محبت روشنی ہے جگمگانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔

محبت روشنی ہے جگمگانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

02-16-2020

محبت روشنی ہے جگمگانا چاہتی ہوں 
 

 

محبت راگنی ہے گنگنانا چاہتی ہوں 
محبت ہونٹوں پہ کھلتی ہنسی ہے 
محبت زندگی ہے یہ بتانا چاہتی ہوں 
محبت سب سے پیارا واسطہ ہے 
محبت دوستی ہے میں نبھانا چاہتی ہوں 
محبت خود فریبی ہے آزمانا چاہتی ہوں 
محبت دل لگی ہے دل لگانا چاہتی ہوں 
محبت روشنی ہے جگمگانا چاہتی ہوں 
محبت راگنی ہے گنگنانا چاہتی ہوں 
انیسہ کہتی ہیں ’’ آپ سب یہ جان کر حیران ہونگے کہ مجھے کسی سے نفرت کرنا آتا ہی نہیں ، مجھے معلوم ہی نہیں کہ نفرت کیسے کرتے ہیں ۔ میرے والدین نے مجھے ہمیشہ سمجھایا کہ ہماری زندگیوں میں محبت کیلئے جگہ بہت کم ہے لہٰذا نفرت کو اپنی زندگی سے نکال دو ۔ کتنے عجیب ہوتے ہیں وہ لوگ جوہر وقت لڑتے جھگڑتے اور رشتے ناطے توڑنے کی باتیں کرتے یا دھمکیاں دیتے رہتے ہیں جبکہ زندگی میں ان سب چیزوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔
میری رائے میں نفرت اور اس سے ملتے رویوں کی ہماری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔ محبت ہی وہ جذبہ ہے جس کیلئے طویل زندگی بھی بہت مختصر لگتی ہے ۔ فیشن اور ملبوسات کے ٹرینڈز کی بات کریں تو مجھے بہت زیادہ شوخ یا بھڑکیلے رنگ پسند نہیں ، معتدل مزاج ہوں اس لئے رنگوں کے انتخاب کے معاملے میں بہت محتاط ہوں ۔ آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے اپنی پسند کو آپ کیلئے منتخب کیا ہے ، امید ہے آپ کو میری یہ کوشش ضرور پسند آئیگی ۔ ‘‘
 

 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

  حجاب عربی اور پردہ فارسی زبان کا لفظ ہے لیکن دونوں الفاظ تقریباً ہم معنی ہیں۔اسلام نے عورت کو سب سے پہلے عزت بخشی ،معاشرے میں فخروانبساط کا باعث بنایا گیا تاکہ وہ فرد شیطانی اوہام سے محفوظ رہے۔ عورت کا مطلب ڈھکی ہوئی چیز ہے ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت گھر کی چوکھٹ کو اپنے مقاصد اور ضروریات پوری کرنے کیلئے پار کرتی ہے تو اس کے کردار پر انگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں بہت سے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ کتنا ہی تعلیم یافتہ کیوں نہ ہو ۔  

مزید پڑھیں