☰  
× صفحۂ اول (current) کچن کی دنیا غور و طلب دنیا اسپیشل سنڈے سپیشل تاریخ کیرئر پلاننگ خصوصی رپورٹ کھیل ادب خواتین فیشن صحت روحانی مسائل دین و دنیا
بسنتی موسموں ، بھیگی رُتوں میں اُس کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

بسنتی موسموں ، بھیگی رُتوں میں اُس کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

03-31-2019

عائشہ کہتی ہیں ’’ مجھے مشرقی ملبوسات سے والہانہ لگاؤ ہے کیونکہ ان میں وہ خوبصورتی ، انداز اور وقار ہے جو کہیں اور نہیں ملتا ۔ پہلے یہ شادیوں وغیرہ پر ہی پہنا جاتا تھا جیسے دلہن کے لباس کا حصہ ہوتا یا مہندی کی تقریب میں زیادہ پہنا جاتا تھا لیکن اب فارمل اور کیژیول دونوں طرح سے استعمال کا فیشن بڑھ گیا ہے۔

محسن نقوی نے کیا خوب کہا تھا کہ

حسیں لگتا تھا ہم نے جِن دنوں میں اُس کو دیکھا تھا

بسنتی موسموں ، بھیگی رُتوں میں اُس کو دیکھا تھا

اُسی کے عکس نے آنکھیں خمارِ خواب سے بھر دیں

چمکتے چاند جیسے آئینوں میں اُس کو دیکھا تھا

جسے اب ریت کے کچے گھروندوں سے محبت ہے

سمندر کے سنہرے پانیوں میں اُس کو دیکھا تھا

جو تنہائی کی چادر اوڑھ کر سوتا ہے رستوں میں

کبھی اِس شہر کی سب محفلوں میں اُس کو دیکھا تھا

بگولوں کو پہن کر اب جو صحرا میں بھٹکتا ہے

گُلاب و یاسمن کے جنگلوں میں اُس کو دیکھا تھا

جو اپنے قرئیہ دل کی اُداسی سے بہلتا ہے

گھٹاؤں میں گھِری گُم بستیوں میں اُس کو دیکھا تھا

ضرورت ہے جسے اب دھوپ کا اُجلا کفن محسن

بدن پر برف اوڑھے پربتوں میں اُس کو دیکھا تھا

اب لان اور کاٹن کے غرارے بھی بازار میں نظر آتے ہیں، خواتین اور لڑکیاں بھی انہیں پہنے ہوئے نظر آتی ہیں۔غرارے کے دو پائنچے ہوتے ہیں اوپر سے شلوار کی طرح لیکن نیچے جھالر لگی ہوتی ہے۔پہلے جامعہ وار کمخواب یا ٹشو کے پہنے جاتے تھے لیکن اب ہر طرح کی ورائٹی میں دستیاب ہیں ۔ بہت پہلے نانیاں دادیاں پہنتی تھیں وہ بھی ہر طرح کے، سوتی بھی اور چمکیلے بھی لیکن پھر یہ فیشن صرف دلہنوں اور شادیوں کے ملبوسات تک محدود ہوگیا تھا جبکہ اب یہ فیشن پھر سے لوٹ آیا ہے۔

غرارہ یا لہنگا بہت پہلے سے مسلم خواتین کا مخصوص پہناوا تھا خاص طور پر لکھنؤ اور دہلی کی خواتین کا لباس تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد جو خواتین انڈیا سے ہجرت کرکے آئیں ان کا لباس کافی عرصے تک غرارہ رہا، محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کا پہناوا بھی غرارہ ہی رہا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ختم ہوگیا ۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ آج کل جو غرارے فیشن میں اِن ہیں

وہ اصل غرارے سے بہت مختلف ہیں جوکہ اصل شکل کو بگاڑ کر مختلف طریقے سے بنائے گئے ہیں۔ لہنگا‘غرارہ اور شرارہ کے علاوہ ساڑھی ایسے پہناوے ہیں جو شادی کی تقریب کے ساتھ عید اور دیگر تقریبات پر بھی زیب تن کئے جاتے ہیں،اِن تینوں کے ساتھ بلاؤز یا کُرتی پہنی جاتی ہے۔ بلاؤز یاچولی پر کڑھائی یا زری کا کام ہو تو پھر کیا کہنے۔اگرچہ لباس کی یہ تینوں اقسام قدیم تہذیب کے آئینہ دار ہیں لیکن موجودہ دور میں بھی انہیں بے حد شوق سے پہنا جاتا ہے اپنی پسند کی ہلکی پھلکی تبدیلیوں کیساتھ ۔۔۔آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات میں آپ کیلئے میں نے اپنی پسند کے چند ٹرینڈز کا انتخاب کیا ہے امید ہے آپ کو یہ سب ضرور پسند آئیں گے ۔ ‘‘

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

سونیا کہتی ہیں ’’حیا آنکھو ں کا لباس ہے ، قدرت کا عطا کردہ یہ انمول پہناوا جس قدر شرمیلا ، با حیا اور باوقا ...

مزید پڑھیں

عائشہ کہتی ہیں ’’موسم تیزی سے بدل رہا ہے موسم بہار تمام موسموں کی جان اور قدرت کا سب سے حسین تحفہ ہے ۔ بہار میں چہرے پھولوں کی طرح کھ ...

مزید پڑھیں

اسماء کہتی ہیں ’’ شاعری اپنے دل کی بات کہنے کا بہت بہترین اور با ادب قرینہ ہے بالکل اسی طرح آنکھیں آپ کے ذوق اور شخصیت کی آئینہ دار ہ ...

مزید پڑھیں