☰  
× صفحۂ اول (current) دین و دنیا(علامہ مفتی ابو عمیر سیف اﷲ سعیدی ) دنیا اسپیشل(صہیب مرغوب) جرم و سزا(سید عبداللہ) صحت(خالد نجیب خان) سنڈے سپیشل(طیبہ بخاری ) فیشن(طیبہ بخاری ) کچن کی دنیا() فیچر(ایم آر ملک) سپیشل رپورٹ(محمد ندیم بھٹی) کھیل(پروفیسر عثمان سرور انصاری) خواتین(نجف زہرا تقوی)
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اُسے چپکے چپکے پڑھا کرو ۔۔۔۔۔

وہ غزل کی سچی کتاب ہے اُسے چپکے چپکے پڑھا کرو ۔۔۔۔۔

تحریر : طیبہ بخاری

03-15-2020

 بشیر بدر نے کیا خوب کہا تھا کہ 

 

 

    

 
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو ، کوئی شام گھر میں رہا کرو 

  وہ غزل کی سچی کتاب ہے اُسے چپکے چپکے پڑھا کرو 

  کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے

  یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو 

  ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا 

  تمہیں جس نے دل سے بھُلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو

  مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں 

  جو کہا نہیں وہ سنا کرو ، جو سنا نہیں وہ کہا کرو 

  کبھی حسنِ پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں 

  جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو 

  نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو 

  اسے اتنی گرمی ٔ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو 

  یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے 

  یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوئوں سے ہرا کرو 

عائشہ کہتی ہیں ’’ شاعر جو لکھتے ہیں وہ سب پڑھتے ہیں لیکن شاعر اپنے کلام سے جو سمجھانا چاہتے ہیں اسے بہت کم لوگ سمجھ پاتے ہیں ، کچھ ایسا ہی حال ہماری فیشن انڈسٹری کا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ فیشن انڈسٹری میں کام کرنا کوئی بڑی بات نہیں ، ماڈلز کا کام صرف اچھے کپڑے پہن کر تقریب میں چند لوگوں کے سامنے کیٹ واک کرنا ہی تو ہوتا ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل ایک ماڈل کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے آپ کی شخصیت کیلئے اچھے ٹرینڈز ، ڈیزائینز اور کلرز کا انتخاب کا ایسا خاکہ پیش کرے کہ آپ ان ملبوسات کے اپنے لئے منتخب کرنے پر مجبور ہو جائیں یا آپ کو ایک ماڈل کے ذریعے اپنے لئے ملبوسات کی تیاری مین آسانی میسر آ سکے اور اپنی تقاریب کی خوبصورتی کومزید چار چاند لگا سکیں ۔ یہ تو ایک ہلکی پھلکی سی مثال تھی کی اس کے علاوہ اور بھی بہت سی مثالیں ہیں مثلاً اپنی ثقافت کی نمائندگی اور اسے دیگر ممالک اور تہذیبوں سے متعارف کروانا بھی ہمارا کام ہے ۔ اس موضوع پر تفصیلی گفتگو پھر کبھی آج ’’دنیا ‘‘ سے ملاقات کے ذریعے میں نے جن ٹرینڈز کا انتخاب آپ سب کیلئے کیا ہے امید ہے آپ کو بہت پسند آئیں گے ۔ ‘‘
 
 

گذشتہ شماروں سے پڑھیں

  میں نے … کچھ لفظ لکھے ہیں لہروں پر جب دریا تیرے شہر سے گزرے ، پڑھ لینا میں نے … اک بات کہی ہے خوشبو سے جب موسم تیرے صحن سے گزرے سن لینا جب چاند تری کھڑکی میں رکے اور تارے جھلمل کرتے ہوں، کانوں میں ہوا کچھ کہہ کے چلے آنگن میں خواب اترتے ہوں ، اس وقت جو باتیں دل میں ہوں وہ ساری باتیں کر دینا میں نے …کچھ لفظ لکھے ہیں لہروں پر جب دریا تیرے شہر سے گزرے ، سن لینا

مزید پڑھیں

عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں پھر یہ سوچا کہ۔۔۔ کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہوں مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔ 

مزید پڑھیں

 ’’حِجاب‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ہیں آڑ، وہ پردہ جس کے پیچھے کوئی شے چھپی ہوئی ہو۔ عبایا کا رواج دراصل عرب سے ہم تک پہنچا۔ عرب ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی حجاب اور عبایا کو خواتین پسندیدہ پہناوا سمجھتی ہیں۔ گذشتہ چند سال سے حِجاب اور عبایا کا رجحان اِتنا عام ہوچکا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں اسے استعمال کر رہی ہیں۔ پہلے جہاں خواتین بْرقع میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی تھیں وہاں آج کل بْرقع سے زیادہ حِجاب کو ترجیح دی جاتی ہے اور رمضان المبارک میں عبادات کیلئے تو عبایا کا خاص استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں